Saturday, 12 September 2026

کیا غصہ آپ کو تباہ کر رہا ہے؟


 کیا غصہ آپ کو تباہ کر رہا ہے؟

تحریر : ابو بکر صدیق
جیوگرافک چینل جانوروں کا بہت بڑا چینل ہے اس پہ آپ نے کبھی کچھوے کو غور سے دیکھا ہے؟
قدرت نے اس سست رفتار، خاموش اور بے ضرر سے جانور کو زمین پر بقا کا ایک ایسا گر سکھایا ہے جو بڑے بڑے فلسفیوں اور دانشوروں کی عقل کو دنگ کر دیتا ہے۔ کچھوا جب چلتا ہے تو آہستہ آہستہ، پھونک پھونک کر قدم رکھتا ہے۔ لیکن جونہی اسے فضا میں کسی خطرے، کسی شکاری یا کسی غیر مانوس آہٹ کا احساس ہوتا ہے، وہ لڑنے نہیں بیٹھتا، وہ سینہ تان کر چنگھاڑتا نہیں، اور نہ ہی خوف سے بدحواس ہو کر اندھا دھند بھاگنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ کمالِ ہوشیاری سے اپنے پاؤں، اپنی دم اور اپنی گردن کو سمیٹتا ہے اور اپنے سخت خول کے اندر چلا جاتا ہے۔ وہ پتھر بن جاتا ہے۔ باہر چیتا آئے، عقاب منڈلائے یا بھیڑیا پنجے مارے، کچھوے کا خول ڈھال بن کر اس کی جان بچا لیتا ہے۔ خطرہ ٹل جاتا ہے تو وہ دوبارہ اپنا سر باہر نکالتا ہے اور پُرسکون انداز میں اپنے سفر پر روانہ ہو جاتا ہے۔
ہم انسان بھی کتنے عجیب ہیں۔ ہم نے آسمان مسخر کر لیے، ایٹم توڑ دیے، مصنوعی ذہانت ایجاد کر لی، لیکن ہمیں اپنے اعصاب اور اپنے جذبات کو سنبھالنے کا وہ ہنر نہ آیا جو قدرت نے ایک حقیر سے کچھوے کو سکھا رکھا ہے۔
ہم صبح اٹھتے ہیں تو اخبارات کی سرخیاں، سوشل میڈیا کا طوفان، دفتر کی تلخیاں، بازار کی چیخ و پکار اور لوگوں کے طعنے تیر بن کر سیدھے ہماری روح میں پیوست ہوتے ہیں۔ کوئی ذرا سا تلخ جملہ بول دے، ہمارا پارہ چڑھ جاتا ہے۔ کوئی گاڑی آگے نکال لے، ہم گریبان پکڑنے پر اتر آتے ہیں۔ کسی نے فیس بک پر مخالفانہ تبصرہ کر دیا، ہم سارا دن اپنا خون جلانے لگتے ہیں۔ نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ بلڈ پریشر، ڈپریشن، بے خوابی اور اعصابی تناؤ۔ ہم ہر چنگاری پر پٹرول چھڑکنے کے عادی ہو چکے ہیں، کیونکہ ہم نے اپنے گرد باطنی خول بنانا سیکھا ہی نہیں۔
کچھوے کا یہ عمل دراصل "آرٹ آف وِد ڈراول" یعنی وقت پڑنے پر باطن میں سمٹ جانے کا فن ہے۔ صوفیا اور دانشور اسے مراقبہ، خود احتسابی یا انٹروسپیکشن کہتے ہیں۔
جب حالات قابو سے باہر ہونے لگیں، جب دنیا کا شور آپ کے ہوش اڑانے لگے، تو ہر بات پر ردِعمل دینا ضروری نہیں ہوتا۔ دانشمندی یہ ہے کہ انسان دو قدم پیچھے ہٹے، دنیا کے ہنگاموں سے لاتعلق ہو اور اپنے باطن کے غار میں چلا جائے۔ دن میں چند لمحے ایسے ضرور نکالیں جب آپ صرف اپنے آپ سے اور اپنے رب سے ملاقات کریں۔ جب آپ باہر کی آوازیں بند کر کے اندر کی خاموشی میں اترتے ہیں، تو آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ جس بات پر آپ کا خون کھول رہا تھا، وہ دراصل آپ کی انا کا مسئلہ تھا، حقیقت کا نہیں۔ آپ کو خبر ہوتی ہے کہ "لینے اور نوچنے" کی ہوس نے آپ کا سکھ چھین رکھا ہے، جبکہ سکون صرف "دینے اور خدمت کرنے" میں تھا۔
باطن کے خول میں اترنے والا شخص کبھی جذباتی فیصلے نہیں کرتا۔ وہ پرانے منفی سانچوں میں پھنس کر فوری اور غیر سنجیدہ ردِعمل نہیں دیتا۔ وہ پہلے معاملے کو ہر زاویے سے دیکھتا ہے، اپنی ذات کی نفی کرتا ہے، اور پھر پورے وقار کے ساتھ وہ فیصلہ کرتا ہے جو درست ہوتا ہے۔
آج شام جب آپ فارغ ہوں تو اپنے کمرے کی بتی گل کیجیے، موبائل فون کو ایک طرف رکھیے، آنکھیں بند کیجیے اور کچھوے کی طرح اپنے باطنی خول میں سمٹ جائیے۔ اپنے دل کی دھڑکنیں سنیے اور خود سے صرف ایک سوال پوچھیے: "میری وہ کون سی عادت یا ضد ہے جو میری زندگی کو جہنم بنا رہی ہے؟ اور میں کب تک اپنی انا کی اس آگ میں جلتا رہوں گا؟"
یقین جانیے، جس دن آپ کو اس سوال کا جواب مل گیا اور آپ نے خاموشی کا یہ خول اوڑھنا سیکھ لیا، اُس دن دنیا کی کوئی طاقت آپ سے آپ کا باطنی سکون نہیں چھین سکے گی۔ آپ طوفان کے بیچ میں کھڑے ہو کر بھی پُرامن رہیں گے۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home