Friday, 19 December 2025

میجر جنرل اسکندر مرزا : پاکستان میں غیر آئینی اور غیر جمہوری اقدامات کا محور

قیامِ پاکستان کے بعد نو آموز ملک کو سیاسی، انتظامی اور آئینی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا۔ قائداعظم محمد علی جناح کی جلد رحلت کے بعد جمہوری اداروں کو مستحکم کرنے کا عمل رک سا گیا۔ ملک کو ایک طویل عرصے تک عبوری آئینی فریم ورک (Government of India Act 1935,) کے تحت چلایا جاتا رہا جس میں گورنر جنرل کو وسیع اختیارات حاصل تھے۔

میجر جنرل (ریٹائرڈ) اسکندر مرزا کا عروج اسی آئینی خلاء کا نتیجہ تھا۔ وہ ایک طاقتور بیوروکریٹ تھے جنہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز مشرقی پاکستان میں گورنر کے طور پر کیا اور پھر 1955ء میں گورنر جنرل کا عہدہ سنبھالا۔ یہ وہ دور تھا جب ملک شدید سیاسی عدم استحکام کا شکار تھا جماعتیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں اور حکومتیں تیزی سے بدل رہی تھیں۔

1956ء میں جب ملک کا پہلا متفقہ آئین منظور ہوا اور پاکستان اسلامی جمہوریہ بنا تو اسکندر مرزا گورنر جنرل سے ملک کے پہلے صدر بن گئے۔ آئینی طور پر 1956ء کے آئین نے صدر کا کردار ایک علامتی سربراہ (Constitutional Head) میں تبدیل کر دیا تھا جہاں اصل طاقت وزیراعظم اور پارلیمنٹ کے پاس تھی۔ لیکن اسکندر مرزا نے بیوروکریسی، فوج اور اپنے ذاتی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے علامتی عہدے کو بھی عملی حکومتی طاقت کا مرکز بنا لیا۔

عائشہ جلال اپنی کتاب 'The State of Martial Rule' میں اس ابتدائی دور کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ کس طرح بیوروکریٹک قیادت (جس کی نمائندگی مرزا کر رہے تھے) نے "قومی سلامتی" کو جواز بنا کر جمہوری عمل کو ابتدائی مرحلے پر ہی کمزور کرنا شروع کر دیا تھا۔ مرزا کا مقصد سیاسی استحکام لانا نہیں بلکہ سیاسی بے چینی کو برقرار رکھ کر اپنا ذاتی تسلط قائم رکھنا تھا جس کی جڑیں آئینی حدود سے باہر تھیں۔

مرزا کے غیر آئینی اقدامات کو سمجھنے کے لیے اس وقت کی سیاسی فضا کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ پاکستان کی ابتدائی سیاست جاگیردارانہ اور وڈیرانہ عناصر کے غلبے میں تھی  جہاں عوامی رائے کے بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دی جاتی تھی۔ اس دور میں بیوروکریسی اور فوج نے اپنے آپ کو ملک کے "محافظ" کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا تھا۔

لارنس زیڈرنگ اپنی کتاب 'Pakistan in the Twentieth Century: A Political History' میں لکھتے ہیں: ''مرزا کا پورا کیریئر ایک ایسے بیوروکریٹ کا تھا جو یقین رکھتا تھا کہ سیاست دان نااہل ہیں اور صرف انتظامیہ ہی ملک کو ترقی دے سکتی ہے۔" یہ ذہنیت ہی ان کی تمام آئینی خلاف ورزیوں کی بنیاد بنی۔

اسکندر مرزا نے پہلے گورنر جنرل بننے کے بعد اور پھر صدر بننے کے بعد پارلیمانی اکثریت پر بھروسہ رکھنے والے وزرائے اعظم کو اپنے صوابدیدی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے برطرف کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ ان اقدامات نے پارلیمنٹ اور کابینہ کی بالادستی کو مکمل طور پر ختم کر دیا۔

1953خواجہ ناظم الدین کی برطرفی اگرچہ غلام محمد کے دور میں ہوئی   لیکن مرزا اس وقت دفاعی سیکرٹری کے طور پر اہم اثر رکھتے تھے۔ اور وہ غلام محمد کی پشت پناہی کر رہے تھے ۔پھر 1955 ءمیں محمد علی بوگرہ کی برطرفی، 1956ءمیں چوہدری محمد علی کی برطرفی جنہوں نے 1956ء کا آئین دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔پھر 1957ءمیں حسین شہید سہروردی کی برطرفی۔اور آخر میں 1958ءمیں فیروز خان نون کی حکومت کا تختہ الٹنے کا منصوبہ، جو مارشل لاء سے قبل آخری جمہوری حکومت تھی۔

اسکندر مرزا کا یہ طریقہ کار پارلیمانی اصولوں کی صریح خلاف ورزی تھا۔ پارلیمنٹ کے پاس اعتماد کھونے پر ہی وزیراعظم کو ہٹایا جا سکتا تھا لیکن مرزا نے ذاتی عدم اطمینان اور سازشوں کی بنا پر جمہوری حکومتوں کا تیا پانچہ کر دیا۔ تاریخ دان ایان ٹالبوٹ اپنی کتاب 'Pakistan: A New History' میں دلیل دیتے ہیں کہ اسکندر مرزا کی یہ پالیسی "سیاسی اداروں کو اتنا کمزور کرنے کے لیے تھی کہ وہ اپنے اقتدار کے لیے کوئی خطرہ نہ بن سکیں،" اور اس طرح انہوں نے ایک جمہوری نظام کے اندر "بغاوت" (Coup within the system) کی طرح کام کیا۔

 ان کارروائیوں نے عوام میں جمہوری عمل پر اعتماد کو بری طرح مجروح کیا اور بالآخر مرزا کے لیے 1958ء میں آئین کو مکمل طور پر منسوخ کرنے کا جواز فراہم کرنے میں مدد کی۔

1956ء کے آئین نے پارلیمانی جمہوریت کو اپنایا تھا۔ اس نظام میں صدر کو عام طور پر وزیراعظم کے مشورے پر کام کرنا ہوتا ہے۔ لیکن اسکندر مرزا نے اس اصول کو مکمل طور پر نظرانداز کیا۔ ان کا مقصد کبھی بھی آئین یا پارلیمنٹ کے ذریعے ملک کو چلانا نہیں تھا۔ وہ ایک ایسے "صدر" بننا چاہتے تھے جو عملی طور پر مطلق العنان ہو۔

حسین شہید سہروردی ایک مقبول اور تجربہ کار سیاست دان تھے لیکن  1957ء میں اسکندر مرزا کی مخالفت کی وجہ سے وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ سہروردی ملک میں جمہوری استحکام چاہتے تھے اور مرزا کے طاقتور بیوروکریٹک حلقوں کے تسلط کے خلاف تھے۔مرزا نے سہروردی کو اس بنیاد پر برطرف کیا کہ انہوں نے "ملک کا اعتماد کھو دیا ہے" حالانکہ سہروردی نے خود کو پارلیمنٹ میں ثابت کرنے کے لیے وقت مانگا تھا۔ یہ عمل مکمل طور پر 1956ء کے آئین کی روح کے خلاف تھا۔ آئینی روایت کے مطابق وزیراعظم کو تب تک نہیں ہٹایا جا سکتا جب تک کہ وہ پارلیمنٹ میں واضح طور پر اعتماد کا ووٹ نہ ہار جائے۔ مرزا نے اس برطرفی کے ذریعے یہ واضح کر دیا کہ وزیراعظم کی تقرری یا برطرفی کا فیصلہ پارلیمنٹ نہیں بلکہ صدر کے صوابدید پر منحصر ہے۔

چوہدری محمد علی اپنی کتاب 'The Emergence of Pakistan' میں لکھتے ہیں کہ مرزا کو یہ خوف لاحق ہو گیا تھا کہ اگر آئندہ عام انتخابات (جو 1959ء میں ہونے تھے) منعقد ہو گئے تو ایک مضبوط عوامی حکومت ان کے لیے خطرہ بن جائے گی۔ لہٰذا ان کا مقصد انتخابات سے قبل سیاسی منظر نامے کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لانا تھا۔

اسکندر مرزا نے سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیا (مثلاً ریپبلکن پارٹی کی تشکیل)، اور ہر حکومت کو اندرونی سازشوں کے ذریعے توڑنے کی کوشش کی جس سے یہ تاثر عام ہوا کہ سیاسی رہنما ناکام ہو چکے ہیں اور صرف ایک "طاقتور ہاتھ" ہی ملک کو بچا سکتا ہے۔ اس تاثر کو تقویت دینا دراصل آنے والے فوجی مداخلت کا جواز تیار کرنے کی ایک دانستہ کوشش تھی۔

7 اکتوبر 1958ء کو اسکندر مرزا نے ملک میں پہلا مارشل لاء نافذ کرتے ہوئے آئین کو منسوخ، پارلیمنٹ کو تحلیل، اور تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا دی۔ انہوں نے جنرل ایوب خان کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا۔ یہ اقدام پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا غیر آئینی اور غیر جمہوری اقدام تھا جس نے جمہوریت کے ارتقا کے عمل کو بیس سال پیچھے دھکیل دیا۔

اسکندر مرزا نے اپنے اعلان میں دعویٰ کیا کہ سیاست دان بدعنوان اور نااہل ہیں۔ملک انتشار کا شکار ہو رہا ہے۔عوام جمہوریت سے مایوس ہو چکے ہیں۔حقیقت میں، یہ تمام مسائل خود مرزا کی پالیسیوں کا نتیجہ تھے۔ حامد خان اپنی کتاب 'Constitutional and Political History of Pakistan' میں لکھتی ہیں: "مرزا نے جان بوجھ کر سیاسی عدم استحکام پیدا کیا تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ جمہوریت پاکستان کے لیے موزوں نہیں ہے۔ مارشل لاء دراصل ان کی اپنی تخلیق کردہ بحران کا 'حل' تھا۔"

آئینی طور پر، صدر کے پاس آئین کو منسوخ کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ 1956ء کا آئین اپنے اندر ترمیم کا طریقہ کار رکھتا تھا لیکن منسوخی کا نہیں۔ اس لحاظ سے مرزا کا یہ اقدام سراسر بغاوت تھا۔

مرزا نے اپنا اقتدار مضبوط کرنے کے لیے ایک نیا سیاسی ہتھکنڈا استعمال کیا۔ انہوں نے "ریپبلکن پارٹی" کی تشکیل کی جس میں ان کے حامی سیاست دانوں کو جمع کیا گیا۔ اس پارٹی کا مقصد روایتی سیاسی جماعتوں کو تقسیم کرنا اور پارلیمنٹ میں ایک ایسی کٹھ پتلی جماعت بنانا تھا جو مرزا کے ایجنڈے کی تکمیل کرے۔

پاکستان کے نامور ماہر تعلیم فضل الرحمن اپنی کتاب 'Pakistan's Political Crisis' میں لکھتے ہیں: "ریپبلکن پارٹی دراصل بیوروکریسی کی سیاسی شاخ تھی، جس کا مقصد منتخب نمائندوں کے بجائے نامنظور شدہ اہلکاروں کے ذریعے حکومت کرنا تھا۔ یہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے منافی تھا۔"

اسکندر مرزا کے اقدامات کو تاریخی تناظر میں دیکھنے سے واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے پاکستان میں فوجی مداخلت کی روایت کی بنیاد رکھی۔ اگرچہ جنرل ایوب خان نے بعد میں انہیں ہٹا دیا، لیکن مرزا کا کردار اس سلسلے کا پہلا اہم باب تھا۔

حسن عسکری رضوی اپنی کتاب 'The Military and Politics in Pakistan' میں تجزیہ کرتے ہیں: "مرزا نے فوج کو سیاست میں لا کر نہ صرف جمہوریت کو نقصان پہنچایا بلکہ فوج کے اندر یہ تصور بھی پیدا کیا کہ وہ سیاست دانوں سے بہتر حکمرانی کر سکتی ہے۔ یہ ورثہ آج تک پاکستان کو متاثر کر رہا ہے۔"

میجر جنرل اسکندر مرزا کا دور پاکستانی تاریخ میں آئینی اخلاقیات کے زوال کی داستان ہے۔ انہوں نے آئین کی واضح خلاف ورزی کرتے ہوئے وزرائے اعظم کو برطرف کیا۔پارلیمانی نظام کو غیر موثر بنانے کے لیے سازشیں کیں۔سیاسی عدم استحکام کو دانستہ طور پر ہوا دی۔بالآخر آئین کو منسوخ کر کے مارشل لاء نافذ کیا۔

ان اقدامات کے نتیجے میں پاکستان میں جمہوریت کی جڑیں کمزور ہوئیں، فوج کی سیاسی مداخلت کو جواز مل گیا، اور ایک ایسی روایت قائم ہوئی جس کے اثرات آج تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔

اسکندر مرزا کا کے رویے نے ثابت کیا کہ جب آئینی ادارے کمزور ہوں اور ذاتی اقتدار کی خواہش قومی مفاد پر حاوی ہو جائے تو اس کے نتائج قوم کو طویل عرصے تک بھگتنا پڑتے ہیں۔ پاکستان کی آئینی تاریخ کا یہ سیاہ باب ہمیں آئین کی بالادستی، اداروں کے درمیان اختیارات کی علیحدگی اور جمہوری عمل کے احترام کی اہمیت کی طرف مستقل توجہ دلاتا رہے گا۔ 

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home