Wednesday, 22 October 2025

امام ابن رجب حنبلی کی کتاب The difference between Advising and Shaming ایک شاندار گائیڈ

اسلامی اخلاقیات میں نصیحت اور خیر خواہی کو بنیادی مقام حاصل ہے۔ دینِ اسلام نے جہاں برائی سے روکنے اور نیکی کا حکم دینے کی تلقین کی ہے، وہیں اس عمل کے آداب بھی واضح کیے ہیں۔ انہی آداب کی گہری تشریح امام ابن رجب حنبلیؒ نے اپنی مختصر مگر نہایت بصیرت افروز کتاب The difference between Advising and Shaming (نصیحت کرنے اور شرم دلانے میں فرق) میں کی ہے۔ یہ رسالہ بظاہر چھوٹا ہے مگر اپنے اندر اخلاقی اصلاح اور روحانی تہذیب کا ایک وسیع جہان سموئے ہوئے ہے۔ ابن رجبؒ فقہ و حدیث کے جلیل القدر عالم اور امام ابن تیمیہؒ کے فکری وارث ہیں۔ ان کی تصانیف میں ’’جامع العلوم والحکم‘‘، ’’لطائف المعارف‘‘ اور ’’ذیل طبقات الحنابلہ‘‘ جیسے علمی شاہکار شامل ہیں، مگر یہ مختصر کتاب اپنی نوعیت کے اعتبار سے دلوں کی اصلاح کا بیش قیمت نسخہ ہے۔

اس رسالے کا محرک وہ سماجی رویہ تھا جس میں لوگ اصلاح کے نام پر دوسروں کو شرمندہ کرنے، ان کی غلطیوں کو نمایاں کرنے اور اپنی علمی یا اخلاقی برتری جتانے کا رجحان رکھتے ہیں۔ امام ابن رجبؒ نے اس فکر کو قرآن و سنت کے تناظر میں پرکھتے ہوئے بتایا کہ نصیحت اور تعییر بظاہر ایک جیسے دکھائی دینے والے مگر حقیقت میں بالکل مختلف رویے ہیں۔ نصیحت کا سرچشمہ خیر خواہی ہے، جب کہ تعییر کا ماخذ نفس کی آلائش ہے۔ نصیحت وہ عمل ہے جو کسی بھائی کی اصلاح، عزت اور بہتری کے لیے کیا جائے، جبکہ تعییر کا مقصد اسے نیچا دکھانا یا رسوا کرنا ہوتا ہے۔ امامؒ فرماتے ہیں کہ جو اپنے بھائی کو خفیہ طور پر نصیحت کرے وہ دراصل اس کی عزت کی حفاظت کرتا ہے لیکن جو سرِعام تنقید کرتا ہے وہ خیر خواہی نہیں بلکہ رسوائی چاہتا ہے۔ اس ایک نکتے میں امام ابن رجبؒ نے اخلاقِ اسلامی کا وہ جوہر بیان کر دیا ہے جو آج کے شور انگیز دور میں مفقود ہوتا جا رہا ہے۔

ابن رجبؒ کے نزدیک نصیحت اور عیب جوئی کے درمیان اصل فرق نیت کا ہے۔ اگر نیت خالص ہو تو سخت ترین بات بھی نصیحت بن جاتی ہے، لیکن اگر نیت میں خودنمائی یا تکبر شامل ہو تو نرم سے نرم جملہ بھی تعییر بن جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مؤمن اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرتا ہے جو اپنے لیے کرتا ہے، اس لیے نصیحت کا محرک ہمدردی اور محبت ہونا چاہیے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ "دین خیر خواہی کا نام ہے"، اور یہی حدیث ابن رجبؒ کی پوری فکر کی بنیاد ہے۔ وہ سمجھاتے ہیں کہ نصیحت صرف الفاظ کا تبادلہ نہیں بلکہ دلوں کا رشتہ ہے اور اس کی قبولیت اس بات پر موقوف ہے کہ نصیحت کرنے والا خود کتنی دردمندی رکھتا ہے۔

کتاب کا اسلوب نہایت سادہ مگر اثر انگیز ہے۔ ابن رجبؒ قرآن کی آیات، احادیث اور اقوالِ سلف کو اس ترتیب سے پیش کرتے ہیں کہ ہر دلیل اگلی دلیل کے ساتھ مربوط دکھائی دیتی ہے۔ ان کی نثر میں ایک صوفیانہ نرمی اور فقیہانہ گہرائی کا حسین امتزاج ہے۔ کتاب پڑھنے والا محسوس کرتا ہے کہ امامؒ قاری سے خطاب نہیں کر رہے بلکہ اس کے دل میں اتار رہے ہیں۔ وہ ہر اس شخص کو مخاطب بناتے ہیں جو کسی کی اصلاح کا داعی ہے— چاہے وہ عالمِ دین ہو، استاد، والدین یا کوئی دوست۔

اس رسالے کی اہمیت آج کے زمانے میں دوچند ہو جاتی ہے، خصوصاً سوشل میڈیا کے اس عہد میں جہاں نصیحت کے بجائے شرمندگی، تمسخر اور کردار کشی کا کلچر عام ہو چکا ہے۔ لوگ اصلاح کے بجائے شہرت کے لیے دوسروں کی غلطیوں کو نمایاں کرتے ہیں۔ ایسے ماحول میں ابن رجبؒ کی یہ تعلیم ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصلاح صرف علم سے نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر نیت درست نہ ہو تو نصیحت بھی فتنہ بن جاتی ہے۔

یہ کتاب اپنی اختصار کے باوجود اخلاقی نفسیات پر ایک جامع درس ہے۔ اس میں ابن رجبؒ نے بتایا کہ حقیقی مصلح وہ ہے جو دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنے نفس کو قابو میں رکھے۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ نصیحت کا عمل نرم لہجے، خیر خواہانہ جذبے اور تنہائی میں ہونا چاہیے تاکہ مخاطب کے دل میں ضد نہیں بلکہ شکر اور ندامت پیدا ہو۔ یہی وہ انداز ہے جو نبی اکرم ﷺ کے اسوۂ حسنہ میں جھلکتا ہے۔

"نصیحت کرنے اور شرم دلانے میں فرق" دراصل دعوت و اصلاح کے فن کی بنیاد ہے۔ یہ کتاب ہمیں یہ شعور دیتی ہے کہ قولِ حق کا حق اس وقت ادا ہوتا ہے جب وہ دل سے نکلے اور دل تک پہنچے۔ ابن رجبؒ نے اپنی تحریر کے ذریعے یہ ابدی اصول دیا کہ مصلح اور معلم کا سب سے بڑا ہتھیار علم نہیں بلکہ خلوص ہے۔ یہ کتاب ہر اُس شخص کے لیے مشعلِ راہ ہے جو خیر پھیلانا چاہتا ہے مگر اس خیر کو تکبر، طنز یا خودنمائی سے آلودہ نہیں کرنا چاہتا۔ ابن رجبؒ کی یہ مختصر مگر ہمہ گیر تصنیف ہمیں یاد دلاتی ہے کہ نصیحت کا حق ادا کرنا زبان سے نہیں، دل سے ممکن ہے — اور جب دل خالص ہو تو نصیحت الفاظ سے بڑھ کر دعا بن جاتی ہے۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home