حصہ دوم: ڈاکٹر امبیڈکر کی پاکستان کے بارے پیش گوئیاں
ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے اپنی مشہور کتاب “Pakistan or the Partition of India” (پہلی اشاعت: 1940ء) میں نہ صرف برصغیر کی مذہبی، سیاسی اور معاشرتی تقسیم کا تجزیہ کیا بلکہ پاکستان کے ممکنہ قیام کے بعد پیش آنے والے حالات کے بارے میں کئی ایسی پیش گوئیاں کیں جو بعد میں بڑی حد تک درست ثابت ہوئیں۔
امبیڈکر نے فوجی قوت کی مرکزیت کو برسوں پہلے محسوس کیا۔انہوں نے برطانوی فوج میں پنجابی اور پٹھان افواج کے تناسب کو ان کی آبادی سے زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ لکھا کہ فوج پر پنجابی اور پٹھان غلبہ رہے گا۔انہوں نے لکھا:
“The Muslims of Punjab and the North-West Frontier Province will dominate the army of Pakistan, and through the army, they will dominate Pakistan itself.”
“پنجاب اور شمال مغربی سرحد کے مسلمان پاکستان کی فوج پر غالب ہوں گے، اور فوج کے ذریعے وہ پورے پاکستان پر تسلط حاصل کر لیں گے۔”
تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو1947 کے بعد پاکستان کی فوج میں پنجابی اور پٹھان اکثریت رہی۔سیاسی طاقت بھی فوج کے ہاتھ میں آ گئی — ایوب خان (1958)، ضیاء الحق (1977) اور پرویز مشرف (1999) کے مارشل لاز اسی پیش گوئی کی تصدیق کرتے ہیں۔آج بھی ملک میں عسکری اداروں کا اثر و نفوذ اسی ساخت کی علامت ہے۔
امبیڈکر نے کہا کہ چونکہ پاکستان کے معاشرتی ڈھانچے میں جاگیردارانہ اور قبائلی سوچ غالب ہے اس لیے وہاں جمہوری ادارے کمزور ہوں گے اور بالآخر ملک فوجی یا شخصی آمریت کی طرف جائے گا۔
“In Pakistan, democracy is likely to fail. The social structure of the Muslims is essentially feudal and militaristic; it will not sustain parliamentary democracy.”
''پاکستان میں جمہوریت کے ناکام ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔ مسلمانوں کا سماجی ڈھانچہ بنیادی طور پر جاگیردارانہ اور عسکری ہے، جو پارلیمانی جمہوریت کو سنبھال نہیں سکے گا۔''
امبیڈکر نے درست پیش گوئی کی۔کیوں کہ پاکستان میں جمہوری تسلسل 1947 سے آج تک بار بار ٹوٹا — 1958، 1977، 1999 میں فوجی اقتدار، اور ہر بار پارلیمانی ادارے کمزور۔جاگیردارانہ ذہنیت اور خاندانی سیاست نے جمہوریت کو مزید کھوکھلا کر دیا۔
ڈاکٹر امبیڈکر نے قیامِ پاکستان سے کئی سال قبل یہ بھی کہا کہ اگر پاکستان بنا تو مشرقی بنگال کے بنگالی مسلمان اور مغربی پاکستان کے پنجابی و پٹھان مسلمان ایک دوسرے سے ہم آہنگ نہیں رہ سکیں گے۔
“There will be no common bond of language, culture or economic interest between the Muslims of Bengal and those of Punjab and the Frontier.”
''بنگال کے مسلمانوں اور پنجاب و سرحد کے مسلمانوں کے درمیان نہ زبان، نہ ثقافت، اور نہ ہی معاشی مفادات کا کوئی رشتہ ہوگا۔''
یہ جملہ تاریخ کے سب سے بڑے سانحے — 1971 میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی مکمل پیش گوئی تھا۔امبیڈکر نے زبان، ثقافت اور معیشت کے فرق کو "ریاستی عدمِ توازن" کہا تھا، جو بعد میں ڈھاکہ کے سقوط کا بنیادی سبب بنا۔
ڈاکٹر امبیڈکر نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان مذہب کی بنیاد پر قائم ہوا تو وہاں ہندو، سکھ اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جائے گا۔
“A State based on religion is bound to persecute those who do not belong to that religion.”
''ایک مذہب پر قائم ریاست لازماً اُن لوگوں پر ظلم کرے گی جو اس مذہب سے تعلق نہیں رکھتے۔''
امبیڈکر کا یہ خدشہ پاکستان کی تاریخ میں متعدد بار ظاہر ہوا۔1947–50 کے فسادات، 1953 کی احمدیہ مخالف تحریک، 1974 میں آئینی ترمیم، اور بعد میں توہینِ مذہب قوانین اور ان قوانین کا غیر مسلمانوں پہ استعمال سب نے یہ ثابت کیا کہ مذہب پر مبنی ریاست کو مذہبی رواداری برقرار رکھنے میں مشکلات پیش آئیں۔
امبیڈکر نے لکھا کہ چونکہ پاکستان کے پاس صنعتی ڈھانچہ، تجارتی سرمایہ اور بندرگاہی کنٹرول نہیں ہوگا (کیونکہ یہ سب ہندوستان کے حصے میں جائیں گے)، لہٰذا اسے معاشی طور پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
“Economically, Pakistan will be a poor country. It will have no industries worth the name. It will be dependent on India for trade and supplies.”
اقتصادی طور پر پاکستان ایک غریب ملک ہوگا۔ اس کے پاس کوئی قابل ذکر صنعت نہیں ہوگی اور اسے تجارت و سپلائی کے لیے بھارت پر انحصار کرنا پڑے گا۔”
قیامِ پاکستان کے وقت زیادہ تر صنعتیں، بندرگاہیں اور تجارتی مراکز بھارت میں تھے۔پاکستان نے جلد ہی غیر ملکی امداد، قرضوں اور درآمدات پر انحصار شروع کیا۔یہ انحصار آج تک ختم نہیں ہوا — آئی ایم ایف پروگرامز اسی کمزور بنیاد کی علامت ہیں۔
امبیڈکر نے لکھا تھا کہ چونکہ پاکستان ہندوستان کے مقابلے میں کمزور ہوگا، اس لیے وہ اپنی سلامتی کے لیے کسی بڑی طاقت (امریکہ یا برطانیہ) پر انحصار کرے گا۔
“Pakistan will be militarily weak and will have to depend upon some foreign power for its defence.”
“پاکستان عسکری لحاظ سے کمزور ہوگا اور اپنی دفاعی سلامتی کے لیے کسی غیر ملکی طاقت پر انحصار کرے گا۔”
امبیڈکر کی یہ بات بالکل درست نکلی۔1954 میں پاکستان نے SEATO اور CENTO میں شمولیت کی، پھر امریکی امداد پر دفاعی بجٹ قائم کیا۔
بعد میں چین پر انحصار بڑھا۔یعنی دفاعی حکمتِ عملی ہمیشہ خارجی سہارے پر کھڑی رہی۔
امبیڈکر نے یہ نکتہ اٹھایا کہ مسلمان ایک مذہب رکھتے ہیں، مگر ان کے اندر لسانی، علاقائی اور طبقاتی تقسیمیں گہری ہیں۔
“Islam may unite them in theology but not in sociology or economics.”
''اسلام انہیں عقیدے میں تو متحد رکھ سکتا ہے، مگر سماجی اور معاشی لحاظ سے نہیں۔''
پاکستان کے اندر مختلف لسانی و صوبائی شناختیں — پنجابی، سندھی، بلوچ، پشتون، سرائیکی — بار بار سیاسی اور عسکری تصادم کا سبب بنیں۔اسلامی شعائر کی وحدت کے باوجود معاشرتی و معاشی تفاوت برقرار رہا۔
ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ امبیڈکر نے ہندو نقطۂ نظر سے کہا کہ پاکستان کا قیام ہندوستان کے لیے سیاسی طور پر مفید ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے ہندو اکثریت مضبوط اور متحد ہو جائے گی۔
“Partition will be a blessing in disguise for Hindus; it will remove the eternal Muslim veto on national progress.”
امبیڈکر نے یہ نتیجہ سیاسی نفسیات کی بنیاد پر اخذ کیا۔پاکستان کے قیام کے بعد بھارت میں مسلم ووٹ اور شناخت کی سیاسی کمزوری بڑھ گئی، جبکہ ہندو اکثریت مضبوط تر ہو گئی۔نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت نے صنعتی اور سائنسی ترقی میں نمایاں برتری حاصل کی۔
امبیڈکر نے ان تحریک پاکستان کو قریب سے دیکھا تھا انہوں نے جان لیا تھا کہ اگرچہ مذہبی سیاسی جماعتیں قیام پاکستان کی مخالف ہیں لیکن قیام پاکستان کے بعد انہیں اقتدار کے ایوانوں سے دور رکھنا ممکن نہیں رہے گا اور یہ جدت پسند طبقوں کی مخالفت میں لازمی آئیں گی۔
“In Pakistan, there will arise a bitter conflict between the Mullahs who want a theocracy and the educated classes who want a modern state.”
پاکستان میں ایک تلخ تصادم پیدا ہوگا — ایک طرف وہ ملا ہوں گے جو مذہبی حکومت چاہتے ہیں، اور دوسری طرف تعلیم یافتہ طبقہ جو ایک جدید ریاست کا خواہاں ہوگا۔”
“Once religion becomes the basis of the State, it will divide the State itself on sectarian lines.”
“جب مذہب ریاست کی بنیاد بن جائے تو خود ریاست فرقہ واریت کی بنیاد پر بٹ جاتی ہے۔”
یہ تصادم پاکستان کی فکری تاریخ کا مستقل حصہ رہا۔1950–60 میں سر سید کے پیروکار طبقے اور مذہبی جماعتوں کے اختلافات،1977 میں بھٹو حکومت کے خلاف اسلامائزیشن تحریک،اور 1980–90 کی دہائی میں ضیاء الحق کی مذہبی پالیسیوں نے اس کشمکش کو گہرا کیا۔آج بھی لبرل ازم بمقابلہ مذہبی ریاست کا سوال پاکستان کی فکری سیاست کا محور ہے۔
قیام پاکستان کا منصوبہ پنجاب کے اردگرد تشکیل دیا جا رہا تھا جہاں کے کلچر کو انگریز نے ختم کر دیا تھا لیکن پاکستان میں شامل دیگر متوقع اکائیاں اپنے کلچر سے شدت سے جڑ ی ہیں اسی بنیاد پہ امبیڈکر نے مستقبل میں اس مسئلہ کو بھی پیش کیا ۔ انہوں نے لکھا:
“In the absence of a strong unifying principle other than religion, Pakistan will face tribalism and provincial rivalries.”
“مذہب کے علاوہ کوئی مضبوط متحد کرنے والا اصول نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کو قبائلیت اور صوبائی رقابتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔”
امبیڈکر کی یہ پیشن گوئی بلوچستان کی شورش، سندھ کارڈ، پشتون تحفظ موومنٹ اور دیگر لسانی سیاستوں میں پوری طرح نظر آتی ہے۔پاکستان کے وفاقی ڈھانچے میں صوبائی خودمختاری کا سوال آج بھی حل طلب ہے۔
پاکستان کو بطور سیکیورٹی اسٹیٹ رہنا پڑے گا ۔ اس امر کی پیش گوئی بھی کی تھی ۔ انہوں نے پاکستان کے متوقع محل وقوع کی بنیاد پہ کہا :
“Its strategic position will be vulnerable. Surrounded by India on three sides, Pakistan will never feel secure.”
''پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع اسے ہمیشہ غیر محفوظ رکھے گا۔ بھارت سے تین طرف سے گھرا ہونے کے باعث وہ کبھی خود کو محفوظ نہیں سمجھ پائے گا۔''
1947 کے بعد سے پاکستان کی دفاعی پالیسی بھارت کے خوف کے گرد گھومتی رہی۔1956، 1965، 1971 اور 1999 کی جنگیں اسی عدمِ تحفظ کے مظاہر ہیں۔
آج بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور یہی جغرافیائی خدشہ ہے۔
یہ تمام اقتباسات اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ امبیڈکر کی نگاہ صرف اُس وقت کے سیاسی مطالبات تک محدود نہیں تھی، بلکہ وہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک فکری آئینہ چھوڑ گئے۔اس سے ایک اور پہلو کی طرف بھی اشارہ ہوتا ہے کہ پاکستان کے قیام کے وقت موجود قیادت نہ یا تو ان مسائل کو صرف نظر کر دیا تھا اور اگر یہ ان کی نظر میں تھے تو انہوں نے ان کے سد باب کے لیے کچھ نہیں کیا دونوں صورتوں میں ناکامی کے ذمہ دار وہی ہیں ۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home