پاکستان کا آخری حفیظ کاردار
یہ کالم پہلی بار 20 اگست 2016 کو پاکستان کے پہلی بار نمبر ون ٹیم بننے کے موقعہ پہ کپتان مصباح الحق کو اخراج عقیدت پیش کرنے کے لیے لکھا تھا آج یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر کیا جا رہاہے۔
پاکستان نے 1952 میں
انڈیا کے خلاف فیروزشاه کوٹلہ میں اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔ پاکستان سے قبل
انگلینڈ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، ویسٹ انڈیز، انڈیا اور ساوتھ افریکا کے پاس ٹیسٹ کر کٹ کھیلنے کا آئی۔سی۔سی کا پرمنٹ تھا۔
پاکستان اس وقت کرکٹ کے میدان میں بے.بی آف کرکٹ کا درجہ تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ
نے عبدالحفیظ کاردار کو ٹیم کا کپتان مقرر کیا۔ وه اس سے قبل متحده ہندوستان کی
طرف سے 1946 میں ٹیسٹ ڈیبو کر چکے تھے۔ ایک ایسی ٹیم جس کے پاس وسائل نہیں تھے,
گراونڈز نهیں تھیں کوچز کو ہائر کرنے کے
لیے کوئی پیسے نہیں تھے ۔یہاں تک کہ کھلاڑی
تک پورے نہیں تھے۔ ایک ہی خاندان سے دو تین بھائی کھلا کے کھلاڑی پورے کیے۔ اور
ٹیم کو دنیا کے ٹور پہ بھیج دیا۔ اس نئی ٹیم نے انڈیا کو انڈیا میں ہرایا، انگلینڈ جو کہ کرکٹ کا ہوم ہے اس کے ساتھ اپنے پہلے
ہی سیریز میں ایک ایک کے ساتھ برابر کھیلا۔ آسٹریلیا کے خلاف پہلا میچ پہلی سیریز میں نہ
صرف جیتا بلکہ سیریز بھی جیت لی۔ ویسٹ انڈیز جس کی طوفانی بولنگ کھیلنا کسی بھی
ٹیم کے لیے ڈراونا خواب سے کم نہ ہوتا تھا اسے ویسٹ انڈیز میں ہرا دیا۔
یہ سب کچھ عبدالحفیظ کاردار کے متحرک نڈر اور
جارحانہ قیادت کی بدولت تھا۔ جس میں حنیف محمد، فضل محمود ، نزد محمد، وقار حسن
جیسے معمولی کھلاڑی غیر معمولی پرفارمنس دینے لگے۔ جس مقام کو ٹیموں نے کئی عشرے
کرکٹ کھیل کر حاصل کیا وه مقام حفیظ کاردار نے پاکستان کو اپنی 6 سالا قیادت میں
ممکن کر دیا۔ پاکستان نے اس وقت کی ہر ٹیم کو اپنی پہلی پہلی سیریز میں شکست دے کر
ناقابل شکست ریکارڈ بنایا۔
پھر یوں ہوا کہ پاکستان
میں کرکٹ پہ پابندی لگ گئی۔ پاکستان کی ٹیم میں سرکردا کھلاڑی میچ فکسنگ کے جرم میں پانچ سال کے لیے باہر
ہو گئے کوئی ایسا کھلاڑی نہیں تھا جس پہ بھروسہ کیا جاتا۔ بورڈنے ایک ایسے کھلاڑی
کو کپتان مقرر کر دیا جس ٹیم میں جگہ نہیں تھی۔ جس نے 1999 میں اپنا ڈیبیو کیا اور
اسے کھیلتا دیکھ کر دنیاے کرکٹ کے نامور مبصر جیفری بائیکاٹ نے کہا کہ یہ شخص ایک کروڑ سال بعد بھی کھلنے قابل نہیں
ہو سکتا۔
اس ڈی مورالائزڈ ٹیم کی
قیادت عبد الحفیظ کی ٹیم کی قیادت سے کچھ مختلف نہ تھی۔ کھلاڑی کھلنے اترتے تو
تماشائی انہیں فکسرز کہتے کوئی عزت دینے
کو تیار نہ تھا۔مصباح الحق کی قیادت میں پہلے 6 برسوں میں ایک بار ٹیم کو هوم
گراونڈ پہ کھیلنے کا موقع نہیں ملا۔ مگر اس ٹیم نے آسٹریلیا، ساوتھ افریقا، سری لنکا، نیوزی لینڈ، ویسٹ انڈیز، انگلینڈ اور بنگلا دیش سمیت ہر ٹیم کو ملک سے باہر ره کر
سیریز پہ سیریز ہرائی اور آج 1952 میں عبد الحفیظ کاردار کا شروع کیا ہوا مشن مکمل
ہوا۔ کیونکہ انڈیا ویسٹ انڈیز کا تیسرا
میچ بارش کی نظر ہونے پر پاکستان پہلی بار دنیا کی نمبر ون ٹیم ڈیکلیر ہو گی۔ یہ وه ٹیم ہے جس کے پاس فضل محمود ،عمران خان ،سرفراز
نواز، وسیم اکرم اور وقار یونس جیسیا بولر نہیں تھا جو مخالف ٹیم کو ہلا کر رکھ دے
۔مصباح کے پاس حنیف محمد، ظہیر عباس، جاوید میانداد اور انضمام جیسا کوئی بیٹسمین
بھی نہیں تھا جو مخالف بولز کے سامنے دیوار بن جاتا۔ مصباح نے کامیابی کی نئی
تاریخ رقم کی ہے اس ایک ہی اصول ہے رکا رہا، لگا رہا اور جیت گیا۔ مصباح نے اس سفر میں مسٹر
ٹک ٹک کا طعنہ بھی برداشت کیا لیکن اس نے مخالفوں کو جواب زبان سے نہیں دیا بلکہ
اپنی کارکردگی سے دیا۔.اس نے ثابت کیا کہ کل جیفری بائیکاٹ بھی غلط تھا اور آج
مسٹر ٹک ٹک کہنے والے بھی۔ کامیابی کا ایک ہی اصول ہے لگن محنت اور مستقل مزاجی
کامیابی کو آپ تک ضرور آئے گی۔
ویلڈن مصباح الحق



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home