Thursday, 7 August 2025

کیا 1930 کی گول میز کانفرنس میں عمران خان کے آباؤ اجداد نے علامہ اقبال اور قائد اعظم کے ساتھ شرکت کی تھی؟

یہ آرٹیکل پہلی بار 8 اگست 2022 کو فیس بک پیج کے لیے لکھا گیا تھا یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر کیا جا رہا ہے۔ 

سابق وزیر اعظم عمران خان صاحب نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے کل ایک تصویر شئیر کی جس میں اس بات پہ فخر کیا گیا کہ 1930 کی گول میز کانفرنس میں علامہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح کے ہمراہ ان کے گرینڈ فادر (نانا یا دادا) کے بھائی زمان خان اور خالو جہانگیر خان بھی شامل تھے۔

یہ تصویر کافی زیادہ وائرل ہو رہی ہے لیکن اس میں تھوڑی بہت توصیح ہونا لازمی ہے۔ لوگ اسے عمران خان کی شئیر کردہ تصویر سمجھ کر شئیر کر رہے ہیں لیکن یہ تاریخی طور پہ کنفیوژن پیدا کر رہا ہے۔

پہلی بات یہ کہ قائد اعظم اور علامہ اقبال نے جو کانفرنس میں ایک ساتھ شرکت کی تھی وہ 1931 کی دوسری کانفرنس تھی۔ پہلی کانفرنس جو کہ 10 نومبر 1930 سے 10 جنوری 1931 تک جاری رہی اس میں علامہ اقبال کو پنجاب میں یونینسٹ پارٹی کے وزیر اعلیٰ سر فضل حسین کی مخالفت کے باعث مدعو ہی نہیں کیا گیا تھا۔

دوسرا یہ وہ ہی دورانیہ ہے جب وہ مسلم لیگ کے صدر بنے اور مشہور خطبہ آلہ باد دیا جو پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے مطابق تصور پاکستان کے ظہور کا باعث بنا۔ علامہ اقبال نے یہ خطبہ 29 دسمبر 1930 بروز سوموار دیا تھا جب برطانیہ میں پہلی گول میز کانفرنس چل رہی تھی۔ اسی سال کا حوالہ سابق وزیر اعظم نے اپنی پوسٹ میں دیا ہے۔

دوسری گول میز کانفرنس 7 ستمبر 1931 سے یکم دسمبر 1931 کو منعقد ہوئی۔ یہ وہ کانفرنس تھی جس میں علامہ اقبال بھی مدعو تھے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی اس کانفرنس میں شرکت کی تھی اور شئیر کی جانیوالی تصویر بھی اسی دورانیہ کی ہے جب اقبال دوسری کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن گئے تھے۔

اب رہی بات کہ کیا عمران خان کے گرینڈ فادر کے بھائی زمان خان اور خالو جہانگیر خان نے گول میز کانفرنس میں شرکت کی تھی یا نہیں۔ اس کے جواب کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ گول میز کانفرنس میں انہی شراکا کو شرکت کی اجازت تھی جنہیں حکومت برطانیہ نے مدعو کیا تھا۔

برطانوی حکومت نے آئینی اصلاحات کے لیے انڈیا میں بھرپور کوشش کی لیکن ہندوستانیوں کو کسی حل پہ متفق نہیں کیا جا سکا تھا۔ سائمن کمیشن کا بائیکاٹ، نہرو رپورٹ، دہلی تجاویز، قائد اعظم کے 14نکات اسی سلسلے کی کڑی تھیں۔ آخر کار برطانیہ نے ہندوستانی نمائندوں کو لندن بلا کر انہیں کسی متفقہ حل پہ قائل کرنے کی کوشش کی۔ گول میز کانفرنس کے تین سیشن ہوئے جس میں پہلا 1930 دوسرا 1931 جبکہ تیسرا 1932 کو ہوا۔

دوسری گول میز کانفرنس میں حکومت برطانیہ نے ہر سیاسی جماعت اور ہر طبقہ فکر کے لوگوں کو بلایا۔ سٹیفن لیگ کی کتاب امپیریل انٹرنیشنل ازم : دی راؤنڈ ٹیبل کانفرنس اینڈ میکنگ آف انڈیا ان لندن 1930-32

(Imperial Internationalism: The Round Table Conference and the Making of India in London, 1930–1932)

ایک مستند حوالا ہے جس میں انڈیا سے مدعو کیے جانیوالے افراد کی ایک طویل فہرست شام کی گئی ہے جس کے مطابق

گورنمنٹ انڈیا کی نمائندگی س۔پی۔راما سوامی ائیر، نریندرا ناتھ لا، رام چندرا راؤ نے کی۔ انڈین نیشنل کانگریس کی طرف سے واحد شریک مہاتما گاندھی صاحب تھے۔

مسلمانوں کی طرف سے شامل نمائندے یہ تھے۔سر آغا خان سوئم، مولانا شوکت علی خان، محمد علی جناح، اے۔کے۔فضل الحق، سر محمد اقبال، محمد شفیع، محمد ظفر اللہ خان ، سر سید علی امام، مولوی محمد شفیع داودی، راجہ شیر محمد آف ڈومیلی، اے۔ایچ غزنوی، حافظ ہدایت حسین، سید محمد بادشاہ صاحب بہادر، ڈاکٹر شفقت احمد خان، جمال محمد روتھر، خواجہ میاں روتھر، نواب صاحبزادہ سید محمد مہر شاہ

ہندؤں کی نمائندگی (کانگریس کے علاؤہ) ایم۔ آر جیاکر، بی۔ایس مونجی، دیوان بہادر راجہ ناریندرا ناتھ جبکہ لبرل انڈین میں سے جے۔این باسو، سی۔وائی چینتامانی، تیج بہادر سپرو، وی۔ایس سری نیواسا ساستری، چمن لعل ہرییال نے کی۔

جسٹس پارٹی آف انڈیا کی نمائندگی راجہ آف بوبیلی، راماسامے مدالیار، سر آئے پی پٹرو، بھاسکر راؤ نے کی۔ نچلی ذات کے ہندوؤں کی نمائندگی امبیڈکر، ریٹاملائی سری نیواسن اور

سکھوں کی نمائندگی سردار اوجھل سنگھ، سردار سمپورن سنگھ نے کی۔

پارسی قوم کی نمائندگی کاؤس جی جہانگیر، ہومی مودی، پیروز سیٹھنا، انڈین عیسائی باشندوں کی نمائندگی سوریندر کمار دتا، اے ٹی پانیرسویلم نے کی۔ انڈین یورپی باشندوں کی نمائندگی ای۔سی بینتھال، سر ہوبرٹ کار، ٹی ایف گیون جونز، سی۔ای ووڈ

اینگلو انڈین باشندوں کی نمائندگی ہینری گڈنی نے کی۔

خواتین شرکا میں سروجنی نائیڈو ، بیگم جہاں آراء شاہنواز، رادھا بائی سبروان شامل تھے۔

جاگیرطبقے کی نمائندگی کے لیے یوپی کے محمد احمد سعید خان چھتاری، بہار کے علاقے دربھنگا سے تعلق رکھنے والے کمیشور سنگھ، اڑیسہ سے سر پروواش چندرا متر کو مدعو کیا گیا۔

صنعت کاروں میں سے گھن شیام داس برالا، سر پورش اوتمداس تھاکر داس، مانک جی دادا بھائی ، جبکہ مزدور طبقے کی نمائندگی کے لیے این۔ایم جوشی، بی۔ شیوا راؤ ، وی۔وی۔گری بلایا گیا۔

یونیورسٹیز کی نمائندگی کے لیے سید سلطان احمد، بیشوار دیال سیٹھ کو دعوت نامی آیا۔ ان کے علاؤہ برما کی نمائندگی کے لیے پدما جی گنوالا، سندھ سے سر شاہنواز بھٹو، غلام حسین ہدایت اللّٰہ ، آسام سے چندردھر باروا ، صوبہ سرحد سے صاحبزادہ عبدالقیوم خان، صوبہ سی۔پی سے ایس بی ٹیمب کو بلایا گیا تھا۔

ان احباب کے علاؤہ کسی انڈین کو دوسری گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے دعوت نامی موصول نہیں ہوا تھا۔ اور یہ کوئی سیاسی جلسہ بھی نہیں تھا جس میں ہر کوئی جا سکتا تھا۔اب اگر عمران خان صاحب کا اسرار ہے کہ ان کے خالو جہانگیر خان اور گرینڈ فادر کے بھائی زمان خان بھی مسلمانوں کی نمائندگی کے لیے مدعو تھے تو انہیں کوئی ٹھوس تاریخی شہادت دینی چاہیے۔ محض تصویر شئیر کرنا اور اس میں نشاندھی کرنا گول میز کانفرنس میں شرکت کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔

اس ضمن میں زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ برطانیہ میں مقیم ہندوستانیوں کی جانب سے ہندوستانی شراکا کو دیے جانیوالے کسی ظہرانے کے دوران یہ تصویر لی گئی ہو گی۔ کیونکہ اس تصویر میں نظر آنے والے احباب کی تعداد اس تعداد سے بہت کم ہے جو اس میں شریک تھے ۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home