جھوٹ، نصاب اور قائداعظم: بچوں کو نفرت سکھانے والی ریاست
ہم
ایک ایسے ملک میں سانس لے رہے ہیں جہاں سچ سے زیادہ خطرناک چیز کوئی نہیں۔ سچ کہو
تو غدار، سچ لکھو تو ایجنٹ، سچ پڑھاؤ تو نصاب کے خلاف۔ لیکن شاید سب سے خطرناک بات
یہ ہے کہ ہمارے بچوں کو جھوٹ سکھایا جا رہا ہے، اور وہ بھی ریاستی سرپرستی میں۔
حال ہی میں پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی بارہویں جماعت کی
"سوکس" کی کتاب میں ایک ایسا اقتباس سامنے آیا جو بظاہر قائداعظم محمد
علی جناح کے نام سے منسوب ہے۔ صفحہ نمبر 4 پر ایک پیراگراف میں جناح سے منسوب درج
ہے:
"ہندوؤں!
تمھاری تعداد زیادہ ہوا کرے، تم ترقی یافتہ ہو، تمھاری معیشت مستحکم سہی اور تم
سمجھتے ہو کہ سروں کی گنتی سے آخری فیصلے ہوتے ہیں۔ یہ سب غلط ہے..میں تمہیں بتا
دوں کہ تم ہماری روح کو تباہی نہیں کر سکتے۔تم اس تہذیب کو نہیں مٹا سکتے جو ہمیں
ورثے میں ملی ہے۔ ہمارا ایمان زندہ
ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔ بے شک تم ہمیں مغلوب کرو ہم پر ستم ڈھاو، بدترین سلوک
روا رکھو لیکن ہم نے پختہ فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر مرنا ہے تو لڑتے لڑتے مریں گے۔"
یہ ایک سخت، جذباتی اور جارحانہ اقتباس ہے، جسے پڑھ کر کسی طالبعلم
کے ذہن میں ایک ہی تصور ابھرتا ہے: "ہندو دشمنی۔" لیکن سوال یہ ہے: کیا
واقعی یہ الفاظ محمد علی جناح کے ہیں؟
اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہم نے جناح کے تمام دستیاب
تقاریر اور تحریری مجموعوں کا جائزہ لیا:
1. Speeches and Statements of Quaid-i-Azam Muhammad Ali Jinnah
(1947-48) از جمیل الدین احمد
2. Jinnah: Speeches and Writings 1912–1947 از شائستہ اکرام اللہ
3. Quaid-i-Azam Papers Project (National Archives of Pakistan)
ان تمام مستند ذرائع میں یہ اقتباس کہیں موجود نہیں۔ نہ اس کی کوئی
تاریخ، نہ مقام، نہ اخباری ریکارڈ، نہ کوئی حوالہ۔ یہ خالصتاً ایک تخلیق کردہ
پیراگراف ہے جو جناح کے نام پر مسلط کیا گیا ہے۔
پھر کتاب کے مصنفین میں جن لوگوں کے نام لکھے ہیں ان میں پروفیسر
رحمان اللہ چوہدری ، پروفیسر محمد فاروق ملک، پروفیسر آفتاب احمد ڈار شامل ہیں۔ ان
میں سے کسی کے کالج یا یونیورسٹی کا نام درج نہیں ہے۔ اگر وہ گریڈ اکیس یا بائیس
تک پہنچ گئے ہیں اور ان کا تحقیقی معیار یہ ہے کہ بانی پاکستان کے ساتھ جھوٹ منسوب
کر رہے ہیں تو ان پہ بانی پاکستان کی ہتھک کا مقدمہ درج ہونا چاہیے۔
یہ صرف تاریخی خیانت نہیں، بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہے۔
جناح، جنہوں نے 11 اگست 1947 کو آئین ساز اسمبلی میں فرمایا تھا:
"تم
آزاد ہو، اپنے مندروں میں جانے کے لیے، تم آزاد ہو اپنے مساجد میں جانے کے لیے، یا
کسی اور عبادت گاہ میں... ریاست کا کسی کے مذہب، ذات یا عقیدے سے کوئی سروکار نہیں
ہوگا۔"
اس جناح کو ایک جارح، تفرقہ انگیز اور مذہب کی بنیاد پر نفرت
پھیلانے والے لیڈر کے طور پر پیش کرنا کہاں کی دیانت ہے؟
یہ جھوٹ کیوں گھڑا گیا؟ کیوں ہمارے نظریہ ساز ادارے، جو "قومی
یکجہتی" کا راگ الاپتے ہیں، وہی سب سے زیادہ زہر گھول رہے ہیں؟ اس کا جواب
بہت سادہ ہے: یہ سب ایک منصوبہ بند فکری تربیت ہے، جہاں معصوم ذہنوں کو "دشمن
تراشی" سکھائی جاتی ہے۔
ریاست پاکستان کے تعلیمی ادارے، خاص طور پر پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ،
اس وقت ایک شدید بحران سے گزر رہے ہیں — یہ بحران صرف تعلیمی نہیں بلکہ فکری اور
اخلاقی بھی ہے۔ تاریخ کو مسخ کرنا، سچ کو چھپانا، اور جھوٹ کو حب الوطنی کے لباس
میں لپیٹ کر پیش کرنا ایک مجرمانہ عمل ہے۔
یہ رویہ صرف "سوکس" تک محدود نہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے
ہم نصاب میں ایسے بیانیے شامل کر رہے ہیں جو نسلوں کو نفرت سکھاتے ہی



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home