آگ لگانے والے سے بجھانے والا کہیں زیادہ طوقتور ہے۔
گجرات
سے آٹھویں جماعت کی تیرہ سالا حمیرہ اغوہ ہو گئی ۔ در بدر ٹھوکریں کھانے کے بعد اس
کی ماں اپنے شوہر اور 4 چھوٹے بچوں ساتھ ہائی کورٹ کے احاطے میں وحشت زدہ نظروں سے
سب کے چہروں کو دیکھ رہی تھی کہ شاید کوئی دست شفقت اس قوم کی بیٹی کے سر کو نصیب
ہو سکے ۔ صبح سے شام ہونے کو آگئی ایک صحافی کے ذریعے کہانی ایک وکیل کے علم میں
آئی۔ اس وکیل نے جیسے ہی وہ کہانی سنی تڑپ کر رہ گیا ۔ میں کوئی پانچ ماہ سے اس
وکیل کے جونیئر کی حیثت سے کام کر رہا تھا میں نہیں جان پایا تھا کہ اس قدر خوف
خدا اس کے دل میں موجزن ہے۔اس پورے گھر کو کھانا کھلایا ان کے لیے عدالت سے رجوع
کیا ان کے انصاف کے لیے گجرات کے بڑے بڑے لوگوں سے لڑتا دیکھ کر میں حیران ہوتا
رہا کہ بھلا کوئی کسی مفاد کی خاطر دوسروں کے لیے اتنا فرنٹ پہ آ کر کیسے جد جہد
کر سکتا ہے۔
مجھ
سے باقی ساتھیوں کی نسبت وہ زیادہ محبت کرتے تھے شاید اسی محبت نے مجھے یہ جرات
عطا کی کہ میں ان سے پوچھ سکوں کہ آخر ہمیں کیا ضرورت ہے ان کے لیے مفت میں ہر ایک
سے لڑنے کی؟ جواب میں کہنے لگے ابوبکر تم یہ سوچو کہ آخر ہم ہی کیوں اس کی مدد کے
لیے منتخب ہوئے ہیں؟ یہ اللہ کی طرف سے ہم پہ مہربانی ہے کہ اس نے ہمیں چنا۔ میں
سمجھ گیا جو وہ بین السطور کہنا چاہ رہے تھے ۔ میں پہروں سوچتا رہا کہ آخر ایک
متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا شخص جو کہ ابھی تک اپنے والد صاحب کے گھر میں رہ
رہا ہے کیسے وقت کے فرعونوں کے لیے موسیٰ بننے میں دریغ محسوس نہیں کرتا۔
یہ
میرا پہلا تعارف تھا محمد اظہر صدیق کے اس پہلو سے جس کو میں پہلے کبھی نہ جان
پایا اور اس کے بعد میں ان کے کسی اور پہلو کو نہ دیکھ پایا۔ مفاد عامہ کے مسئلے
پہ ان کو میں نے ہمیشہ جذباتی حد تک فعال پایا۔بچوں کو ایکسپائر جوسز جو کہ
جانوروں کے لیے بنا تھاملک عزیز میں عام بک رہا تھا جب ان کے علم میں آیا تو رو
پڑے ۔ کہتے تھے کہ میرے ملک کے بچوں پہ یہ ظلم ہو رہا۔ خود اپنی جیب سے خرچ کرتے
اور ہائی کورٹ میں ایسے ایسے مقدمات میں مفاد عامہ کی خاطر پیش ہوتے ۔ میں نے خود
مختلف وکلا ء کو ان کے لیے گھٹیا جملے کہتے سنا۔ لوگوں انہیں سستی شہرت کا خاہاں
سمجھتے۔مگر انہیں اللہ نے وہ استقامت دی تھی کہ کبھی اس پہ اپنے ماتھے پہ بل نہ
لاتے ہمیشہ خنداں پیشانی سے پیش آتے ۔ہمیں بھی اسی رویے کی کی تلقین کرتے۔
کل
مجھے انکے دفتر کو نظر آتش کرنے کا علم ہوا تو دل بہت دکھی ہوا کہ ظالم کس کو روک
رہے ہیں جو اپنا جینا مرنا اپنی ذات سے ہٹ کر غریب کے لیے وقف کر چکا ہے۔ اگر گلشن
کے مالی کو مار دو گے تو گلشن کی آبیاری کون کرے گا؟ مجھے اپنی تکلیف بہت کم محسوس
ہوئی جب میں کل ان سے افسوس کرنے گیا تو معذور افراد کی تنظیم کے صدر کا اس واقعہ
پہ دکھ سنا ۔ وہ اپنی بھری ہوئی آواز میں ان کو اپنا مسیحا کہہ رہا تھا تو میں نے
سوچا آگ بجھانے والے کو آگ لگے تو اس کی جلن گھر گھر میں محسوس ہوتی ہے۔ عوام کی
سہولیات کے لیے جمہوری مطلق العنان حکومت وقت کے سینگوں کو باندھنے والااگرتکلیف
میں ہو تو عوام اس کا درد اپنے دل میں محسوس کرتی ہے۔
اگر
ماضی کے پس پشت ڈالتے ہوئے ان کے زیر التوا مقدمات ہی کو ایک نظر دیکھ لیا جائے تو
اندازہ ہو جائے گا کہ وہ کس طرح پاکسانی معاشرے کی سماجی ، آئینی ، معاشی اور
جمہوری پرورش میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ کرپشن اس معاشرے کا وہ ناسور ہے جس
کو حکومتی چھتری اس حد تک حاصل ہے کہ وزیر اعظم پاکستان بھی اسے بنیادی حق تسلیم
کیے بیٹھے ہیں۔ لیکن غریب کی ہر سانس اس ناسور نے زہر آلود کر رکھی ہے۔ میٹرو بس
سروس لاہور، اورنج لائن ٹرین اور رنگ روڑ لاہورمنصوبے میں جس کثیر مالی بد عنوانی
کے خلاف وہ عدالتی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ انہی کے مقدمات سے عدالتیں اور عوام اگاہ
ہوئیں کہ کیسے 162 بلین ڈالرز کا منصوبہ 300بلین ڈالڑ تک جا پہنچا۔ 90ارب پاکستانی
روپے بچانے کی افسانوی داستان کا پردہ بھی انہوں نے عدالتوں میں چاک کیا۔ رنگ روڈ
منصوبے میں روٹس کی تبدیلی سے مال بنانے کا انکشاف اور اس کی روک تھام میں اپنی
مالی ، جسمانی اور ذہنی کاوشوں کو بھی آپ نے ہی جھونک ڈالا۔ٹرانسپائریسی انٹر
نیشنل سے ہر منصوبے پہ ٹھپہ لگوانے والی حکومت کی ہوش ربا کرپشن اور ان کے انداز
کرپشن کو میڈیا پہ زبان زد عام کرنے کا سہر ہ بھی آُ ہی کو جاتا ہے۔
سڑکوں
کی تعمیر کے دوران لوگوں کی اراضی کو جس طر ح ہتھیا لیا گیا اس کا دکھ بھی ان سے
نہ دیکھا گیاانہوں نے زمین کے حصول کے لیے استعمال ہونے والے قانون کی تبدیلی کے
لیے عدالتی دروازہ بھی کھٹکھٹا رکھا ہے کہ اگر آپ کسی سے زمین لیں تو اس کی مالیت
اس سے ہر گز کم نہ ہو کہ وہ کسی اچھی جگہ اپنا گھر بنا لیے تاکہ سرکاری منصوبے
عوام میں بئےروز گاری اور در بدر ٹھوکروں کا ذریعہ نہ بنیں ۔
میڈیا
معاشرے میں اگاہی کا ذریعہ بن چکا ہے۔ لیکن وہ حکمران جن کو پی ۔ ٹی ۔وی کے دور
میں حکومت کی عادت ہو وہ بھلا میڈیا کی اس آزادی کو کیسے خیر کی نظر سے دیکھ سکتے
تھے ۔ اس لیے اپنے منظور نظر افراد کو پیمرا چیئر مین کے عہدے پہ فائز کیا گیا جو
کہ اس کے اہل ہی نہیں تھے ان کے لیے اہلیت کا معیار تبدیل کیا گیا۔ ان کے لیے جو
پیکج منتخب کیا گیا وہ ماضی میں کبھی نہیں دیکھا گیا اس کا مقصد عوام کو گمراہ کن
حکومتی ایجنڈے میں الو بنانے کے سو اور کچھ نہیں تھا۔ مگر حکومت کی ہر چوری پہ ان
کے کھرے کی شناخت کرنے والے اظہر صدیق نے چیر مین استبصام عالم کی طعیناتی کو بھی
چیلنج کر رکھا ہے۔ جس پہ حکومت اپنی تکلیف کا گاہے بگاہے اظہار بھی کر چکی ہے۔
نابینا
افراد کے لیے ملازمتوں میں کوٹے کیے لیے ناصرف عدالتی راہداریوں میں ان کے لیے
انصاف ڈھونڈا بلکہ ان کے ساتھ سڑکوں میں احتجاج بھی کیا۔اور حکومت وقت کو ان کے
موقف کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے ۔اٹھارویں ترمیم میں آرٹیکل 19(A)کے تحت معلومات تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق قرار دی گئی
مگر وہ حکمران جن کا ضمیرکرپشن اور اقربہ پروری کے دودھ سے پروان چڑھا ہو وہ اتنی
آزادی کے متحمل کیسے ہو سکتے ہیں ؟میٹرو اور اورنج ٹرین منصوبوں میں عام شہری تو
دور کی بات حکمرانوں نے عدالتوں کو بھی معلومات سے بہرہ ور نہیں ہونے دیا جس پہ
آئین پہ عملداری اور اس آرٹیکل کی مناسب تشریح کے لیے اسے عدالت میں چیلنج کر دیا
کہ معلومات تک رسائی میں یہ آرٹیکل رکاوٹ بن کے ابھرا ہے۔
دہشت
گردی کو ناگ گلی گلی میں پھن پھیلائے پھر رہا ہے ۔ آرمی پبلک سکول کے سانحے کے بعد
ترتیب دیے جانے والے نیشنل ایکشن پلان کو پنجاب کے لیے ممنوعہ قرار دیا گیا تو
اظہر صدیق ہی وہ شخص تھا جو ہشت گردی اور کرپشن کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرنے لیے
عدالتی شکنجہ کسنے لگا اور آج بھی ان کا وہ کیس عدالت میں زیر التوا ہے۔
تعلیم
اور صحت کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے کئی بار حکمرانوں کو راہ راست پہ لانے کی
کوشش کی۔ پنجاب سمیت باقی صوبوں میں ہیتھ قوانین 2011میں عدالت عظمی ٰ کے زور دینے
پر تشکیل دیے گئے جن کا روح رواں بھی یہ ہی مرد حق تھا جس نے ایمانے ملک کیس میں
ڈاکٹر ہسپتا ل سمیت ایک بڑے مافیا کو ناکوں چنے چبانے پر مجبور کر دیا۔آج بھی صحت
کےحوالے سے کئی کیسز میں حکومت کے مخالف وہ روز عدالت میں پیش ہو رہے ہیں ۔
ملکی
تاریخ کے سب سے بڑے مقدمے پانامہ لیکس میں جے۔ آئی ۔ ٹی پر حکومتی وزراء کی زبان
درازی جب حد سے بڑھ گئی تو انکو بھیجے گئے ایک نوٹس کی شدت کو حکومتی ایوانوں میں
جس طرح محسوس کیا گیا اس سے باخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آگ کہاں کہاں لگی
ہے جس کا رد عمل آنا ایک یقینی امر ہے۔ جب حساب لینے والوں کو یوم حساب بنا دینے
اور وطن کی زمین ان پہ تنگ کر دینے کی تیاری عروج پہ ہو تو اظہر صاحب دفتر کوآگ
لگنا کوئی بڑی بات نہیں ۔لیکن آگ لگانے والے یاد رکھیں کہ آگ لگانے والے سے بجھانے
والا کہیں زیادہ طوقتور ہے۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home