Sunday, 6 July 2025

حضرت امام حسین ؑ کا سر کہاں دفن ہے


امام حسینؑ کا سر کہاں دفن ہوا؟

محرم الحرام کے ایا م میں جہاں ذکر ِ امام حسین ؑ کثرت سے کیا جاتا ہے وہاں سوشل میڈیا پہ ایک یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ امام حسین ؑ کی اس واقعہ سے قبل کی چھپن برس کی عمر تاریخ میں کیوں درج نہیں ہے۔ یہ اعتراض کافی جینوئن ہے۔ ایک اتنی بڑی ہستی جسکا تعارف رسول مکرم جنتی نوجوانوں کے سردار کے طور پہ کروا رہے ہوں وہ تاریخ سے ایک دم غائب ہو جائے۔ اس کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ تاریخ دربار اور سلطنت سے جڑے افراد کے گرد گھومتی ہے۔ خلفائے راشدین کے دور میں امام حسین ؑ چونکہ کسی حکومتی ذمہ داری سے جڑے نہیں تھے اس لیے امور سلطنت کی ڈیلی ڈائری کی شکل میں مرتب ہونے والی تاریخ کے ریڈار سے غائب ہیں ۔

پھر 61 ہجری میں دوبارہ تاریخ اس پہ اپنا فوکس اس قدر بڑھا دیتی ہے کہ آپ ؑ کی ایک ایک موومنٹ مانیٹر کی جاتی ہے۔ مدینہ میں یذید کے حاکم مقرر ہونے پہ آپ کا ردعمل نوٹ کیا جاتا ہے۔ مدینہ سے آپ کی مکہ رونگی کی تفصیلات درج کی جاتی ہیں ۔ مکہ میں آپ ؑ کو ملنے والے خطوط کے مندرجات بھی مورخین اپنے ہاں درج کرتے ہیں ۔ آپ کو ملنے والے افراد کی فہرست بنائی گئی۔ آپ کے قاصدوں اور رفقاء کے نام درج کیے۔ آپ کی طے کردہ منزلیں یاد رکھیں۔ الغرض آپ کو تاریخ نے سن 60 ہجری میں بھرپور کوریج دی۔

لیکن پھر کیا ہوا؟ جیسے ہی آپ کربلا میں شہید ہوئے تاریخ نے آپ ؑ کو یکسر نظر انداز کر کے آپ سے فائدہ اٹھانا شروع کر دیا۔ جس کی ایک مثال امام حسین ؑ کے سر ِ اقدس کا ایک سے زائد جگہوں پہ موجود ہونا ہے۔ یعنی یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ مورخ جو امام حسینؑ کی زیر ِ لب سرگوشی کو سن کر تاریخ میں درج کر رہا، امام حسین ؑ کی دوسرے شہیدوں سے ہونے والی علیحدگی میں گفتگو کو سن رہا ہے وہی مورخ یہ نہیں جان پایا کہ شہادت کے بعد امام حسین ؑ کے سرِ اقدس کے ساتھ کیا معاملہ کیا گیا۔

سر امام حسینؑ اور کربلاء کے شہدا ء کے سروں کے مدفن کے بارے شیعہ اور سنی کتب میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے اور جو اقوال اس بارے میں نقل ہوئے ہیں ان کے حوالے سے تحقیق کی ضرورت ہے۔ لیکن سب سے مشہور قول جو شیعہ میں سب نے قبول کیا ہے یہ ہے امام علیہ السلام کا سر مبارک کچھ مد ت کے بعد آپ کے بدن مبارک کے ساتھ ملحق ہو گیا اور کربلا میں لا کر دفن کیا گیا ہے۔ ذیل میں آپؑ کے سر مبارک کے مدفن کے بارے تاریخی تضادات کو ملاحظہ فرمائیں

پہلا قول یہ ہے کہ امام حسین ؑ کا سر مبارک کربلا میں ہے ۔یہ نظریہ علمائے شیعہ میں مشہور ہے اور علا مہ مجلسیؒ نے اس کی شہرت کی طرف اشارہ کیا ہے۔شیخ صدوق نے سر مبارک کے آپ کے بدن کے ملحق ہونے کے بارے میں فاطمہ بنت علی علیہ السلام سے ایک روایت نقل کی ہے۔ اب اس کی کیفیت کیا تھی کہ کیسے آپ کا سر مبارک آپ کے بدن سے ملحق ہوا ،اس بارے میں مختلف نظریات ذکر کئے گئے ہیں ۔ بعض جیسے سیدابن طاؤس اسے امر الٰہی شمار کرتے ہیں کہ خداوند نے خود اپنی قدرت کاملہ سے اعجاز کے طور پر یہ کام انجام دیا اور سید نے اس بارے میں چون و چرا سے بھی منع فرمایا ہے۔بعض دوسرے قائل ہیں کہ امام سجاد علیہ السلام جب شام سے واپس تشریف لائے تو وہ سر امامؑ کو اپنے ساتھ لائے اور کربلا میں اپنے بابا کے بدن کے ساتھ دفن کیا۔

اب یہ سوال کہ کیا سر بدن کے ساتھ ملحق ہو گیا یا امام کی ضریح میں یا اس کے نزدیک دفن کیا گیا۔ اس با رے میں کوئی واضح عبارت تو نہیں ملتی یہاں بھی سید ابن طاؤس نے چون و چرا سے نہی فرمائی ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ آپ ؑ کا سر مبارک دمشق میں دفن ہے ۔ اور اس ضمن میں بعض قائل ہیں کہ سر مبا رک کو تین دن دروازہ دمشق پر آویزاں رکھنے کے بعد اتار کر حکومتی خزانے میں رکھ دیا گیا اور سلیمان عبدالملک کے دور تک یہ سر وہیں تھا اس نے سر مبارک کو وہاں سے نکالا اور کفن دے کر دمشق میں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیا۔ اس کے بعد اس کے جانشین عمر بن عبدالعزیز ( ۹۹ تا ۱۰۱ہجری حکومت) نے سر کو قبر سے نکالا، لیکن پھر اس نے کیا کیا یہ معلو م نہیں ہوسکا ، لیکن ان کی ظاہری شریعت کی پابند ی کو دیکھتے ہوئے زیادہمورخین نے یہ احتمال کیا ہے کہ اس نے سر کو کربلا بھیجا ہو گا۔

تیسرا قول یہ ہے آپ ؑ کا سر مبارک حضر ت علی علیہ السلام کی قبر کے پاس نجف میں مدفون ہے ۔علامہ مجلسیؒ کی عبارت اور روایات میں تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ سر مقدس سید الشہداء، نجف اشرف میں حضر ت علی علیہ السلام کی قبر کے پاس دفن ہوا۔ روایات میں آیا ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے اپنے بیٹے امام اسماعیل ؑکے ہمراہ نجف میں حضرت امیر المومنینؑ پر درود و سلام بھیجنے کے بعد امام حسینؑ پر سلام بھیجا۔ اس روایت سے بھی پتہ چلتا ہے کہ امام صادق علیہ السلام کے دور تک سر مقدس نجف اشرف میں مدفون تھا۔

بعض دوسری روایا ت بھی اسی نظریہ کی تائید کرتی ہیں بلکہ بعض شیعہ کتابوں میں توحضرت علیؑ کی قبر مطہر کے پا س سر امام حسینؑ کی زیا رت بھی نقل ہوئی ہے۔سرِ مقدس کو نجف منتقل کرنے کے حوالے سے امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ اہل بیتؑ کے چاہنے والوں میں سے ایک شخص نے شام سے کسی نہ کسی طریقے سے یہ سر حاصل کیا اور حضر ت علیؑ کی قبر میں لا کر دفن کر دیا ۔ لیکن اس نظریے پر اشکال یہ ہے کہ امام صادق علیہ السلام کے دور تک تو حضرت علیؑ کی قبر مبارک عام لوگوں سے مخفی تھی اور انہیں اس کا پتہ نہیں تھا۔

ایک اور روایت میں ہے کہ دمشق میں سر مقدس کے ایک مدت تک رکھے جانے کے بعد اسے کوفہ ابن زیاد کے پاس بھیج دیا گیا اور اس نے لوگوں کی شورش کے خوف سے حکم دیا کہ سر کو کوفہ سے باہر لے جا کر حضرت علیؑ کی قبر کے پاس دفن کر دیا جائے۔اس پر بھی وہی اشکال ہے کہ اس وقت تک لوگوں سے حضرت علیؑ کی قبر مخفی تھی۔

چوتھا قل یہ ہے کہ سید الشہدا امام حسین ؑ کے سر اقدس کو کوفہ میں دفن کی گیا۔ سبط ابن جوزی نے یہ نظریہ ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ عمرو بن حریث مخزومی نے سر کو ابن زیاد سے لیا اورپھر اسے غسل و کفن دیا اور خوشبو لگانے کے بعد اپنے گھر میں دفن کردیا ۔

پانچواں قول یہ ہے کہ آپ کا سر مبارک مدینہ منورہ میں دفن ہے۔ ابن سعد ( طبقا ت کے مصنف ) نے یہ نظریہ قبول کیا ہے کہ یزید نے سر حاکم مدینہ عمرو بن سعید کو بھیجا اور اس نے اسے کفن دینے بعد جنت البقیع میں امامؑ کی والدہ ماجدہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی قبر کے پاس دفن کر دیا۔ بعض دوسرے اہل سنت علماء جیسے خوارزمی نے مقتل الحسینؑ میں اورابن عماد جنبلی نے شذرات الذھب میں بھی یہی نظریہ قبول کیا ہے۔

چھٹا قول یہ ہے کہ آپ کا سر مبارک شام دفن کیا گیا۔ کہ اکثر اہل سنت کا یہی نظریہ ہے کہ سر مقدس شام میں مدفون ہے اور پھر اس نظریے کے قائلین میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے اس بارے پانچ نظریات ذکر کئے گئے ہیں :

الف: دروازہ فرادیس کے پا س دفن ہوا بعد میں وہاں مسجد الرائس تعمیر کی گئی،

ب: جامع اموی کے پاس ایک باغ میں دفن ہے،

ج: دارالامارہ میں دفن ہے،

د: دمشق کے ایک قبرستان میں دفن ہے،

ھ: باب تو ماکے نزد یک دفن ہے،

ساتواں قول ہے کہ آپ کا سر مبارک رِقّہ میں دفن ہے ۔نہر فرات کے کنارے ایک شہر ہے، جس کا نا م رِقّہ ہے، اس دور میں آل عثمان میں سے آل ابی محیط کے نام سے مشہورایک قبیلہ وہاں آباد تھا، یزید نے سرمقد س ان کے پاس بھیجا اور انہوں نے اسے اپنے گھر کے اندر دفن کر دیا ،بعد میں وہ گھر مسجد میں تبدیل کر دیا گیا۔

آٹھواں قول یہ ہے کہ سر مبارک مصر کے شہر قاہرہ میں نقل ہواہے کہ فاطمی حکمران جن کی حکومت مصر پر چوتھی صدی ہجری کے دوسرے نصف سے شرو ع ہوئی اور سا تویں صدی ہجری کے دوسرے نصف تک باقی رہی ، یہ اسماعیلی فرقے سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے سر امام حسین علیہ السلام کو شام کے باب الفرادیس سے عسقلان منتقل کیا اور پھر عسقلان سے قا ہرہ منتقل کیا اور وہاں دفن کر کے ۵۰۰ سا ل بعد اس پر تا ج الحسینؑ کے نام سے مقبرہ تعمیر کیا ۔

تبریزی نے عسقلان سے قاہرہ کی طرف سر مقدس کے انتقال کی تا ریخ ۵۴۸ ہجری لکھی ہے اور کہا ہے کہ جب سر مقدس عسقلا ن سے نکالا گیا تو دیکھا گیا کہ خون ابھی تک تازہ ہے اور خشک نہیں ہوا اور مشک و عنبر کی خوشبو سر سے پھو ٹ رہی تھی۔ علامہ سید محسن امینی عسقلا ن سے مصر سر کے انتقال کا قول ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں ، سر مقدس کے دفن کی جگہ پر بہت بڑی بارگاہ بنائی گئی ہے اورا س کے پاس ایک بہت بڑ ی مسجد بھی بنائی گئی ہے۔ میں نے ۱۳۲۱ہجری میں وہاں زیارت کی اور وہاں میں نے زائرین کی بڑی تعداد زیارت و گریہ کرتے ہوئے دیکھا ، پھر آپ فرما تے ہیں کہ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ سر عسقلان سے مصرمنتقل ہوا ہے ، لیکن آیا وہ امام حسین علیہ السلام کا سر تھا یا کسی اور کا اس بارے یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔علامہ مجلسیؒ نے بھی بعض مصریوں سے نقل کیا ہے، مصر میں مشہد الکریم کے نام سے بہت بڑی بارگاہ موجود ہے۔

محترم قارعین آپ نے ملاحظہ کیا کہ امام حسین ؑ کے سرمبارک کے بارے کس قدر متضاد دعویٰ اسی تاریخ میں موجود ہے جو تاریخ شہادت امام حسین ؑ سے چند دن قبل تک آپ سے جڑی ہر چھوٹی سی چھوٹی چیز کو بڑی ترتیب سے اپنی یاداشت میں محفوظ کر رہی تھی۔ تاریخ نے صرف اور صرف امام حسین ؑ کا استعمال کیا ہے۔ آپ کی زندگی جو کہ اسوہ رسول کا بہترین عملی ظہور تھا اسے فراموش کرنے میں کوئی کس نہیں چھوڑی۔ واقعہ کربلا سے قبل اور اس کے بعد امام حسین ؑ مورخین کی توجہ کا مرکز کبھی نہیں رہے۔ ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنی بڑی ہستی کا سر اقدس کسی جگہ دفن ہوا ہو اور اس کے چشم دید سینکڑوں کی تعداد میں نہ ہوں۔اس لیے اس تاریخ کا بھروسہ کیسے کیا جا سکتا؟

نوٹ: یہ تحریر  پہلی بار 21 جولائی 2024 کو فیس بک پیج پہ شئیر ہوئی تھی اب نشر مکرر کے طور پہ شئیر کی جا رہی ہے

 

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home