Friday, 4 July 2025

فوج میں خود احتسابی کے بیانیے کا ایک جائزہ

فوج میں خود احتسابی کے بیانیے کا ایک جائزہ

تحریر : ابو بکر صدیق

ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں پاکستان آرمی کی ایک خاتو ن آفیسر کسی جگہ پہ بات کر رہی وہ کہتی ہیں کہ :

"ہماری فوج کا ہر افسر اپنی گزشتہ جنگوں میں صرف کامیابیاں ہی نہیں پڑھتا بلکہ اسے پڑھایا جاتا ہے ان جنگوں میں ہونے والی غلطیوں کا احتساب  بھی ہوا ہے۔ تاکہ دوبارہ وہ غلطیاں نہ ہوں۔" چلیں ہم اپنی اس بہن آفیسر کے اس دعویٰ کی تحقیق کریتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں سقوطِ مشرقی پاکستان ایک ایسا المیہ ہے جس کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے۔ 16 دسمبر 1971 کو نہ صرف پاکستان دو لخت ہوا بلکہ ہماری فوجی و سیاسی قیادت کی سنگین غلطیوں نے دنیا بھر میں پاکستان کے وقار کو مجروح کیا۔ اس سانحے کے بعد قوم نے سوال اٹھایا کہ آخر وہ کون لوگ تھے جن کی غفلت، نااہلی یا ضد کی وجہ سے یہ قومی سانحہ پیش آیا؟ اور ان سے کبھی باز پرس کیوں نہ کی گئی؟

ذوالفقار علی بھٹو حکومت نے 1972 میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس حمود الرحمٰن کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دیا، جس نے سقوطِ مشرقی پاکستان کے اسباب اور ذمہ داران کی نشاندہی کی۔ اس رپورٹ میں کئی اعلیٰ فوجی افسران کو نہ صرف ناقص حکمت عملی، بلکہ بدعنوانی، اخلاقی زوال اور ظلم و بربریت کا ذمے دار بھی قرار دیا گیا۔ مگر افسوس! یہ رپورٹ دہائیوں تک عوام سے چھپائی گئی اور کبھی عملی احتساب کی بنیاد نہ بن سکی۔

وہ افسران جنہوں نے مشرقی پاکستان میں قیادت کی مگر احتساب سے بچ گئے ان میں  سب سے پہلے جنرل یحییٰ خان صدرِ پاکستان، چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جوکہ سقوط کے وقت پاکستان کے سربراہ تھے۔ کمیشن رپورٹ میں سیاسی بصیرت، سفارتی حکمت عملی اور عسکری قیادت میں ناکامی کے ذمے دار قرار دیے گئے۔ان کے ذاتی اخلاقی کردار اور اقتدار پرستی پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔انہیں صرف اقتدار سے الگ کیا گیا، مگر کوئی عدالتی کاروائی نہ ہوئی۔

دوسرے نمبر پہ چیف آف جنرل سٹاف  جنرل عبدالحمید خان آتے ہیں   ۔ انہیں کمیشن نے رپورٹ میں مشرقی پاکستان میں جنگی منصوبہ بندی کی ناکامی کا ذمے دار ٹھہرایا گیا۔ یہ کہا کہ انہوں نے جنگی تیاریوں اور فوجی کمک کی بروقت فراہمی میں مجرمانہ غفلت برتی۔

تیسری نمبر پہ لیفٹیننٹ جنرل ٹکا خان آتے ہیں جو اس وقت مشرقی پاکستان کےمارچ میں  کور کمانڈر تھے انہیں ڈھاکہ کے قصاب کے طور پہ تاریخ میں جگہ ملی۔ یہ آپریشن سرچ لائٹ کی قیادت کی، جس میں ہزاروں افراد مارے گئے۔بعد ازاں مغربی پاکستان میں اعلیٰ عہدوں پر ترقی دے دی گئی، احتساب سے بالکل محفوظ رہے۔

چوتھے نمبر پہ مشہور زمانہ لیفٹیننٹ جنرل اے کے نیازی آتے ہیں ۔ آپ ٹائیگر نیازی کے نام سے مشہور تھے اور مشرقی پاکستان کے آخری کور کمانڈرتھے ۔ سقوط ڈھاکہ کے وقت مشرقی پاکستان کی فوج کے سربراہ تھے۔ آپ نے بھارتی فوج کے سامنے ہتھیار ڈالے، جو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا فوجی سانحہ تھا۔ بعد ازاں برطرف تو ہوئے مگر کسی فوجی عدالت میں مقدمہ نہ چلا۔نہ کسی قسم کا کوئی احتساب ہوا۔

پانچویں نمبر پہ میجر جنرل راؤ فرمن علی آتے ہیں ۔ یہ مشرقی پاکستان میں سول و ملٹری رابطہ افسرتھے۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں ان کو بنگالی عوام اور سیاسی قیادت سے مذاکرات میں ناکامی اور سخت گیر پالیسیوں کے ذمے دار قرار دیا ۔آپریشنز میں شہریوں کے خلاف سخت اقدامات میں ملوث ہونے کے شواہد موجود تھے۔بعد ازاں بغیر کسی مواخذے کے خاموشی سے ریٹائر ہو گئے۔

اگر میں ایسے لکھتا گیا تو فہرست اتنی طویل ہو جائے گی کہ ارض پاکستان  پر خدائے ذولجلال کی طرح ایک سائبان بن جائے گا ۔ دیگر افسران میں میجر جنرل خادم حسین راجہ، بریگیڈیئر باقر صدیقی، میجر جنرل رحمت اللہ خان، بریگیڈیئر مسعود اور دیگرافسران کو زمینی سطح پر آپریشنز کی قیادت کی اور شدید انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ذمے دار ٹھہرایا۔ کسی کو سزا نہ ملی، کئی ریٹائر ہو کر پُرآسائش زندگی گزارتے رہے۔

ان میں سے کسی کا کوئی احتساب نہیں ہوا۔ میری بہن نے وہ کتاب پڑھی لیکن یہ نہیں پتہ لگایا کہ احتساب کیوں نہ ہوا؟

ایک ادنا سا تاریخ کے طالب علم ہونے کے ناطے جو میری سمجھ میں آیا اس عدم احتسابی کے پیچھے سب سے بڑا ہاتھ بھی اسی مقدس ادارے کا تھا ۔ جس میں احتساب ہونے پہ فخر کیا جا رہا ہے۔ محترمہ! سقوطِ ڈھاکہ کے بعد فوجی اسٹیبلشمنٹ نے خود کو بطور ادارہ بچانے کو پہلی ترجیح دی۔  فوجی قیادت کو خدشہ تھا کہ اگر سقوطِ مشرقی پاکستان پر احتساب ہوا تو پورا ادارہ عوامی غیظ و غضب کا نشانہ بن جائے گا۔  اس لیے انہوں نے ادارے کے وقار کے تحفظ کے نام پر اندرونی احتساب تک محدود رکھنے کی پالیسی اپنائی اور اسے عوامی سطح پر لانے سے گریز کیا۔

یحییٰ خان کے بعد آرمی چیف بننے والے جنرل گل حسن خان نے فوجی ادارے کی ساکھ کو برقرار رکھنے کی پالیسی اپنائی۔گل حسن اور ان کے ہم خیال جرنیلوں نے سقوط کی ذمے داری صرف حالات یا سیاستدانوں پر ڈالنے کی کوشش کی اور فوج کے اندر کھلے احتساب کو روکا۔

انہی  خفیہ اداروں نے حمود الرحمٰن رپورٹ کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا اور اسے عوامی سطح پر آنے سے روک دیا۔ان اداروں نے رپورٹ کے حساس حصوں کو "ریڈ لائن" قرار دے کر پردہ پوشی کی پالیسی اپنائی۔

سقوط کے بعد ہونے والی کور کمانڈرز کانفرنسز میں یہ طے کیا گیا کہ فوج کی اجتماعی عزت کو بچانا ضروری ہے۔بعض سینئر افسران نے کہا کہ اگر چند افراد کو سزا دی گئی تو پورے ادارے کا مورال گر جائے گا۔

سقوط کے بعد فوج کے ریٹائرڈ اور حاضر سروس افسران کی ایک لابی فعال ہوئی، جس نے ذرائع ابلاغ اور سیاسی حلقوں میں یہ بیانیہ پھیلایا کہ سقوط کی اصل ذمے داری عوامی بغاوت اور بھارتی مداخلت پر ہے، نہ کہ فوجی قیادت کی ناکامی پر۔

اعلیٰ سول بیوروکریسی نے بھی فوجی قیادت کے خلاف کسی قسم کی تحقیقات یا قانونی کارروائی میں دلچسپی نہ لی۔انہوں نے اسے ایک فوجی معاملہ کہہ کر خود کو الگ کر لیا۔

ابتدائی طور پر بھٹو نے حمود الرحمٰن کمیشن تشکیل دیا مگر بعد میں فوج سے مفاہمت کے تحت اس رپورٹ کو دبا دیا۔بھٹو نے اپنی حکومت کو فوجی بغاوت سے بچانے کے لیے فوجی قیادت کے خلاف براہِ راست کارروائی نہیں کی، حالانکہ ان کے پاس سیاسی مینڈیٹ موجود تھا۔

کچھ عناصر کا خیال تھا کہ اگر اعلیٰ فوجی افسران کے خلاف مقدمات کھولے گئے تو پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ مزید متاثر ہوگی اور بھارت کو مزید پروپیگنڈہ کا موقع ملے گا۔

آج تک سقوطِ مشرقی پاکستان کا زخم اس لیے تازہ ہے کہ نہ ان شہداء کے خون کا انصاف ہوا جنہیں مشرقی پاکستان میں بے دردی سے قتل کیا گیا، اور نہ ان سپاہیوں و افسروں کا احتساب ہوا جنہوں نے قیادت کی غلطیوں کی قیمت چکائی۔ قوم نے قربانیاں دیں، مگر ذمہ دار اشرافیہ نے کوئی قیمت ادا نہ کی۔

 تاریخ کو دفنانے سے نہیں، سمجھنے سے بچا جا سکتا ہے۔اگر ہم نے اس سانحہ سے سبق نہ سیکھا تو تاریخ خود کو دہرا سکتی ہے۔ احتساب کے بغیر ادارے زوال کا شکار ہوتے ہیں، اور قومیں اپنی غلطیوں میں گم رہتی ہیں۔

کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ہم کھل کر سوال کریں؟

کیا جنرل یحییٰ خان اور ان کی ٹیم کے خلاف عوامی ٹرائل نہیں ہونا چاہیے تھا؟

کیا ٹکا خان، نیازی اور راؤ فرمن علی کو ان مظالم کا جواب نہیں دینا چاہیے تھا جو مشرقی پاکستان میں ڈھائے گئے؟

کیا ہم آئندہ ایسی قیادت برداشت کر سکتے ہیں جو اپنی غلطیوں کا بوجھ عوام پر ڈال دے اور خود بچ نکلے؟

آج پاکستان کو ایک سچے احتساب، ایماندار قیادت اور ماضی سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ کل کوئی اور سقوط ہمارا مقدر بن سکتا ہے۔اس لیے میری آفیسر بہن کا یہ بیانیہ کہ فوج میں احتساب ہوتا ہے اتنا پختہ نہیں ہے۔ یقینا یہ کم علمی پہ مبنی باتیں ہو سکتی ہیں اس لیے دنیا بھر کی طرح جو بھی30 سال سے پرانے  کلاسیفائیڈ ڈاکیومنٹس کو ڈی کلاسیفائیڈ کر دیا جائے ۔تاکہ وہ کتاب عام آدمی بھی پڑھ لے اور وہ منہ خود ہی بند ہو جائیں جن کو بند کروانے کے لیے یہ بہن آفیسر ایک اتنا فصیح و بلیغ خطبہ دے رہی ہیں۔ 

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home