حکومتوں کو غدار کیسے میسر آتے ہیں؟
آج یکم جولائی ہے اور بڑٹش راج کے ظاہر خاتمے میں 45 دن باقی ہیں ۔ میری دلی خواہش ہے کہ ہر روز کسی ایک ایسے ہیرو کا ذکر کیا جائے جس نے سرزمین کی محبت میں اپنا خون ہدیہ کے طور پہ دیا ہو۔ ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں بیشمار ہیروز عوام کی دلوں کی دھڑکن بنے لیکن جو مقام بھگت سنگھ کو ملاوہ شائد ہی کسی کے حصے میں آیا ہو۔ بھگت سنگھ پہ تفصیلی پوسٹ انشاءاللہ اس سلسلے کے آخر پہ آئے گی لیکن آج کی پوسٹ میں ذکر ان لوگوں کیا کیا جائے گا جنھوں نے بھگت سنگھ کے مقدمے میں سرکاری کو سہولت فارہم کی اور پھر انگریز سرکار نے انہیں کس طرح نوازا تاکہ ہمارے ذہن میں یہ بات بیٹھ سکے کہ آخر جنگل کو کاٹنے کے لیے کلہاڑے کو لکڑی کے دستے کی سہولت کیسے میسر آجاتی ہے۔
لاہور سازش کیس میں بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو پھانسی 23 مارچ 1931 کو لاہور سینٹرل جیل میں لاہور کے قریبی علاقے شاہدرہ کے رہائشی جلاد کالا مسیح نے دی تھی۔ (اسی کالا مسیح کے بیٹے تارا مسیح نے 4 نومبر 1979 کو پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کوپھانسی دے دی تھی۔) پھانسی کی نگرانی اس وقت کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ لاہور اے اے لین رابرٹ (جوکہ 1909 بیج کے آئی سی ایس آفیسر تھے )نے کی تھی ۔ ان کے ساتھ ایس ایس پی لاہور جی ٹی ہیملٹن ہارڈنگ( 1915 بیچ کے آئی پی افسر) اس وقت کے آئی جی جیل خانہ جات (پنجاب) لیفٹیننٹ کرنل ایف اے بارکر اس وقت کے آئی جی پنجاب پولیس چیرس سٹیڈ (1898 بیچ) موجود تھے۔ تاہم افسران کو بہت کم معلوم تھا کہ بھگت سنگھ کو پھانسی دینے سے کئی دوسرے لوگوں کے لیے مالی اور اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے۔
پھانسی کے بعد برطانوی حکومت نے متعدد افراد کو اعزازی طور پر نوازا۔ہنس راج ووہرا، جئے گوپال، فونیندرا ناتھ گھوش اور منموہن بینر جی - سبھی حکومت کے منظور نظر بن گئے تھے اور اس کیس میں بھگت سنگھ کے خلاف بیانات دیے تھے۔ جئے گوپال ہی وہ شخص تھا جس نے سلطانی گواہ بننا قبول کیا تھا ۔ وہ بھگت سنگھ کے ساتھ شریک جرم تھا۔ یہ ان 457 گواہوں میں شامل تھے جنہیں پنجاب پولیس نے اس کیس میں پیش کیا تھا۔ پھانسی کے بعد چاروں کو انعام دیا گیا۔
ووہرا نے مالی فوائدلینے سے انکار کر دیا۔ لیکن انہیں پنجاب حکومت نے لندن سکول آف اکنامکس میں پڑھنےکے لیے سپانسر کیا۔ پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کرنے کے بعد، ووہرا نے لندن یونیورسٹی سے صحافت کی ڈگری حاصل کی اور 1948 تک لاہور کے سول اینڈ ملٹری گزٹ کے نمائندے رہے۔ بعد میں وہ واشنگٹن چلے گئے اور 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں ایک معروف ہندوستانی اخبار کے واشنگٹن کے نامہ نگار رہے۔ روزانہ ان کا انتقال جولائی 1995 میں واشنگٹن میں ہوا۔
جئے گوپال کو 20,000 روپے کا ایوارڈ ملا۔ فونیندرا ناتھ گھوش اور منموہن بنرجی کو ان کی خدمات اور برطانوی حکومت سے وفاداری کے بدلے بہار کے چمپارن ضلع (ان کا آبائی ضلع) میں 50 ایکڑ زمین ملی۔
اس وقت کے جیل سپرنٹنڈنٹ میجر پی ڈی چوپڑا کو پھانسی کے دو دن بعد ڈی آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کے طور پر ترقی دی گئی۔
ڈپٹی جیل سپرنٹنڈنٹ، خان صاحب محمد اکبر خان، جو بھگت سنگھ اور ان کے دو ساتھیوں کی پھانسی کے بعد رونے لگے تھے، کو معطل کر دیا گیا تھا لیکن بعد میں اسسٹنٹ جیل سپرنٹنڈنٹ کے طور پر واپس لے لیا گیا۔تاہم ان کا خان صاحب کا خطاب 7 مارچ 1931 کو واپس لے لیا گیا۔
آئی جی جیل خانہ جات پنجاب لیفٹیننٹ کرنل ایف اے بارکر کو نائٹ ہڈ آف سر سے نوازا گیا اور ریٹائرمنٹ تک ان کی چھٹی کی درخواست خصت کی منظوری دی گئی۔
ڈی آئی جی جیل خانہ جات پنجاب لیفٹیننٹ کرنل این آر پوری کو پھانسی کے چند دنوں بعد آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کے طور پر ترقی دے دی گئی۔
لاہور سازش کیس کے تفتیشی افسر، ایس پی خان بہادر شیخ عبدالعزیز کو سلیکشن گریڈ کے ایس پی کے طور پر آؤٹ آف ٹرن پروموشن دیا گیا، جس کے نتیجے میں تین سال بعد ڈی آئی جی کے عہدے پر ترقی ہوئی۔ ہندوستان میں برطانوی راج کے 200 سالہ دور میں اس کی واحد مثال تھی، جہاں ایک شخص جو بطور ہیڈ کانسٹیبل شامل ہوا تھا ڈی آئی جی کی حیثیت سے ریٹائر ہوا (جولائی 1937 میں)۔خان بہادر عبدالعزیز کے بڑے بیٹے مسعود عزیز کو نومبر 1931 میں پنجاب پولیس میں نامزدگی کے ذریعے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے طور پر تعینات کیا گیا۔ خان بہادر کو لائل پور میں 50 ایکڑ زمین بھی دی گئی۔
بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کی لاشوں کو ٹھکانے لگانے والے ڈی ایس پی سدرشن سنگھ کو ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس قصور کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔ بعد ازاں وہ ستمبر 1942 میں پنجاب پولیس کے ایس پی کے طور پر ریٹائر ہوئے۔
رائے صاحب پنڈت سری کرشن، پی سی ایس، لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک کشمیری پھانسی کے وقت قصور کے ایس ڈی ایم تھے۔ وہ پہلے اس کیس میں ٹرائل مجسٹریٹ تھے۔ گورنر کے ذریعہ انہیں ایک "تعریفی خط" دیا گیا اور بعد میں انہیںایڈیشنل ڈسترکٹ مجسٹریٹ کے طور پر ترقی دی گئی۔
بٹالہ میں پیدا ہونے والے شیخ عبدالحمید، پی سی ایس، لاہور کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور اٹک میں پیدا ہونے والے رائے صاحب لالہ نتھو رام، پی سی ایس، سٹی مجسٹریٹ، لاہور کو بھی گورنر پنجاب، ایف ڈبلیو ڈی مونٹمورنسی آئی سی ایس (1899 بیچ) نے ذاتی طور پر داد دی۔ )۔ جی ٹی ہیملٹن ہارڈنگ، ایس ایس پی لاہور۔ امر سنگھ، ڈی ایس پی؛ اور ڈی ایس پی جے آر مورس کو کنگز پولیس میڈل دیا گیا۔ ڈی ایس پی امر سنگھ اور مورس قصور کے ڈی ایس پی سدرشن سنگھ کے ساتھ تینوں شہیدوں کی آخری رسومات کے لیے گئے تھے۔
آئی جی سی سٹیڈ کی طرف سے پولیس افسران کے ساتھ آنے والے تمام کانسٹیبلز اور ہیڈ کانسٹیبلز کو تعریفی خطوط دیے گئے۔ بھگت سنگھ کے لکھے ہوئے چار مضامین، جو ایڈوکیٹ پران ناتھ مہتا کے ذریعے پھانسی کے دن جیل سے باہر اسمگل کیے گئے تھے، بعد میں بھگت سنگھ کے ساتھی بیجوئے کمار سنہا کے حوالے کر دیے گئے، جنہیں عمر بھر کے لیے نقل و حمل کی سزا سنائی گئی تھی اور اس نے یہ کاغذات جالندھر میں دوست کے گھر چھپا لیے تھے۔ اس کے دوست نے جولائی 1942 میں ہندوستان چھوڑو تحریک کے دنوں میں پولیس کےمتوقع چھاپے کی گھبراہٹ میں جلا دیا۔
لیکن وہ پران ناتھ مہتا اور بیجوئے کمار سنہا نے پڑھے تھے جو بعد میں ہمیشہ کے لیے کھو گئے۔ بیجوئے کا انتقال 16 جولائی 1992 کو پٹنہ میں ہوا۔ انہوں نے 1980 کی دہائی کے آخر میں ایک سیمینار میں انکشاف کیا کہ بھگت سنگھ نے اپنی زندگی کے آخری دن پیش گوئی کی تھی کہ انگریز 14-15 سال میں ہندوستان چھوڑ دیں گے۔
انگریز طاہری طور پہ چلے گئے لیکن اپنے نظام کے تحت ایک ایسا طبقہ ہم پہ مسلط کر گئے جو اس کے قائم کردہ بندوبست کو ہم پہ نافذ کیے ہوئے ہے۔ آج بھی سرکار کو عوام کے امنگوں کو کچلنے کے لیے سرکاری اور سیاسی مشینری میں ایسے افراد کثرت سے میسر ہیں جو اپنی ذاتی مراعات کی خاطر وطن کے جسم کو نوچنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔
پھانسی کے بعد برطانوی حکومت نے متعدد افراد کو اعزازی طور پر نوازا۔ہنس راج ووہرا، جئے گوپال، فونیندرا ناتھ گھوش اور منموہن بینر جی - سبھی حکومت کے منظور نظر بن گئے تھے اور اس کیس میں بھگت سنگھ کے خلاف بیانات دیے تھے۔ جئے گوپال ہی وہ شخص تھا جس نے سلطانی گواہ بننا قبول کیا تھا ۔ وہ بھگت سنگھ کے ساتھ شریک جرم تھا۔ یہ ان 457 گواہوں میں شامل تھے جنہیں پنجاب پولیس نے اس کیس میں پیش کیا تھا۔ پھانسی کے بعد چاروں کو انعام دیا گیا۔
ووہرا نے مالی فوائدلینے سے انکار کر دیا۔ لیکن انہیں پنجاب حکومت نے لندن سکول آف اکنامکس میں پڑھنےکے لیے سپانسر کیا۔ پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کرنے کے بعد، ووہرا نے لندن یونیورسٹی سے صحافت کی ڈگری حاصل کی اور 1948 تک لاہور کے سول اینڈ ملٹری گزٹ کے نمائندے رہے۔ بعد میں وہ واشنگٹن چلے گئے اور 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں ایک معروف ہندوستانی اخبار کے واشنگٹن کے نامہ نگار رہے۔ روزانہ ان کا انتقال جولائی 1995 میں واشنگٹن میں ہوا۔
جئے گوپال کو 20,000 روپے کا ایوارڈ ملا۔ فونیندرا ناتھ گھوش اور منموہن بنرجی کو ان کی خدمات اور برطانوی حکومت سے وفاداری کے بدلے بہار کے چمپارن ضلع (ان کا آبائی ضلع) میں 50 ایکڑ زمین ملی۔
اس وقت کے جیل سپرنٹنڈنٹ میجر پی ڈی چوپڑا کو پھانسی کے دو دن بعد ڈی آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کے طور پر ترقی دی گئی۔
ڈپٹی جیل سپرنٹنڈنٹ، خان صاحب محمد اکبر خان، جو بھگت سنگھ اور ان کے دو ساتھیوں کی پھانسی کے بعد رونے لگے تھے، کو معطل کر دیا گیا تھا لیکن بعد میں اسسٹنٹ جیل سپرنٹنڈنٹ کے طور پر واپس لے لیا گیا۔تاہم ان کا خان صاحب کا خطاب 7 مارچ 1931 کو واپس لے لیا گیا۔
آئی جی جیل خانہ جات پنجاب لیفٹیننٹ کرنل ایف اے بارکر کو نائٹ ہڈ آف سر سے نوازا گیا اور ریٹائرمنٹ تک ان کی چھٹی کی درخواست خصت کی منظوری دی گئی۔
ڈی آئی جی جیل خانہ جات پنجاب لیفٹیننٹ کرنل این آر پوری کو پھانسی کے چند دنوں بعد آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کے طور پر ترقی دے دی گئی۔
لاہور سازش کیس کے تفتیشی افسر، ایس پی خان بہادر شیخ عبدالعزیز کو سلیکشن گریڈ کے ایس پی کے طور پر آؤٹ آف ٹرن پروموشن دیا گیا، جس کے نتیجے میں تین سال بعد ڈی آئی جی کے عہدے پر ترقی ہوئی۔ ہندوستان میں برطانوی راج کے 200 سالہ دور میں اس کی واحد مثال تھی، جہاں ایک شخص جو بطور ہیڈ کانسٹیبل شامل ہوا تھا ڈی آئی جی کی حیثیت سے ریٹائر ہوا (جولائی 1937 میں)۔خان بہادر عبدالعزیز کے بڑے بیٹے مسعود عزیز کو نومبر 1931 میں پنجاب پولیس میں نامزدگی کے ذریعے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے طور پر تعینات کیا گیا۔ خان بہادر کو لائل پور میں 50 ایکڑ زمین بھی دی گئی۔
بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کی لاشوں کو ٹھکانے لگانے والے ڈی ایس پی سدرشن سنگھ کو ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس قصور کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔ بعد ازاں وہ ستمبر 1942 میں پنجاب پولیس کے ایس پی کے طور پر ریٹائر ہوئے۔
رائے صاحب پنڈت سری کرشن، پی سی ایس، لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک کشمیری پھانسی کے وقت قصور کے ایس ڈی ایم تھے۔ وہ پہلے اس کیس میں ٹرائل مجسٹریٹ تھے۔ گورنر کے ذریعہ انہیں ایک "تعریفی خط" دیا گیا اور بعد میں انہیںایڈیشنل ڈسترکٹ مجسٹریٹ کے طور پر ترقی دی گئی۔
بٹالہ میں پیدا ہونے والے شیخ عبدالحمید، پی سی ایس، لاہور کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور اٹک میں پیدا ہونے والے رائے صاحب لالہ نتھو رام، پی سی ایس، سٹی مجسٹریٹ، لاہور کو بھی گورنر پنجاب، ایف ڈبلیو ڈی مونٹمورنسی آئی سی ایس (1899 بیچ) نے ذاتی طور پر داد دی۔ )۔ جی ٹی ہیملٹن ہارڈنگ، ایس ایس پی لاہور۔ امر سنگھ، ڈی ایس پی؛ اور ڈی ایس پی جے آر مورس کو کنگز پولیس میڈل دیا گیا۔ ڈی ایس پی امر سنگھ اور مورس قصور کے ڈی ایس پی سدرشن سنگھ کے ساتھ تینوں شہیدوں کی آخری رسومات کے لیے گئے تھے۔
آئی جی سی سٹیڈ کی طرف سے پولیس افسران کے ساتھ آنے والے تمام کانسٹیبلز اور ہیڈ کانسٹیبلز کو تعریفی خطوط دیے گئے۔ بھگت سنگھ کے لکھے ہوئے چار مضامین، جو ایڈوکیٹ پران ناتھ مہتا کے ذریعے پھانسی کے دن جیل سے باہر اسمگل کیے گئے تھے، بعد میں بھگت سنگھ کے ساتھی بیجوئے کمار سنہا کے حوالے کر دیے گئے، جنہیں عمر بھر کے لیے نقل و حمل کی سزا سنائی گئی تھی اور اس نے یہ کاغذات جالندھر میں دوست کے گھر چھپا لیے تھے۔ اس کے دوست نے جولائی 1942 میں ہندوستان چھوڑو تحریک کے دنوں میں پولیس کےمتوقع چھاپے کی گھبراہٹ میں جلا دیا۔
لیکن وہ پران ناتھ مہتا اور بیجوئے کمار سنہا نے پڑھے تھے جو بعد میں ہمیشہ کے لیے کھو گئے۔ بیجوئے کا انتقال 16 جولائی 1992 کو پٹنہ میں ہوا۔ انہوں نے 1980 کی دہائی کے آخر میں ایک سیمینار میں انکشاف کیا کہ بھگت سنگھ نے اپنی زندگی کے آخری دن پیش گوئی کی تھی کہ انگریز 14-15 سال میں ہندوستان چھوڑ دیں گے۔
انگریز طاہری طور پہ چلے گئے لیکن اپنے نظام کے تحت ایک ایسا طبقہ ہم پہ مسلط کر گئے جو اس کے قائم کردہ بندوبست کو ہم پہ نافذ کیے ہوئے ہے۔ آج بھی سرکار کو عوام کے امنگوں کو کچلنے کے لیے سرکاری اور سیاسی مشینری میں ایسے افراد کثرت سے میسر ہیں جو اپنی ذاتی مراعات کی خاطر وطن کے جسم کو نوچنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home