Monday, 30 June 2025

ہیروز آف ہیومنٹی: کربلا کی وہ آگ جو انسانیت کے وقار کو آج بھی روشن کرتی ہے

جب ہم انسانی وقار (Human Dignity) کی بات کرتے ہیں تو ذہن میں اقوامِ متحدہ کے منشور، عالمی انسانی حقوق کی تحریکیں اور عدالتی نظائر آتے ہیں، لیکن تاریخ کی پیشانی پر ایک ایسا لمحہ بھی ثبت ہے جس نے انسانی عظمت کی بنیادیں لہو سے سینچی ہیں — ۶۸۰ء کا وہ تپتا ہوا صحرا، جہاں ایک پیاسا قافلہ ظلم کے سمندر کے سامنے سینہ سپر ہوا، اور جہاں حسین ابن علیؑ نے دنیا کو یہ پیغام دے کر ہلا دیا کہ "ظلم کے آگے سر جھکانا میرے نانا کا دین نہیں!" یہ کوئی معمولی معرکہ نہ تھا، بلکہ انسان کے ضمیر، اس کی آزادی، اور اس کے وقار کی وہ الٰہی تحریک تھی جو وقت کی زنجیروں سے ماورا ہو کر آج بھی زندہ ہے — یہی تحریک آج یوکرین کے میدانوں میں گونجتی ہے، فلسطین کی گلیوں میں تڑپتی ہے، ایران کی سڑکوں پر نعرہ بن کر ابھرتی ہے، اور دنیا بھر کے ہر مظلوم کے دل میں یہ شعور جگاتی ہے کہ اگر جینا ہے، تو وقار کے ساتھ جیو، کیونکہ حسینؑ نے جینا سکھایا ہے، مگر صرف باوقار بن کر۔

یزید فقط ایک فرد نہیں تھا، وہ ایک ایسی ذہنیت کا نام تھا جس نے اقتدار کے بھوکے ضمیر کو تخت پر بٹھا دیا — وہ ایک سیاہ سیاسی مشینری تھی، جس میں انسان کی روح کو بیعت کے شکنجے میں کس دیا گیا تھا، زبانوں پر تالے، دلوں پر خوف، اور سوچ پر پہرہ تھا۔ اس نے نہ دین کا پاس رکھا، نہ نانا کی سنت کا لحاظ — بلکہ امام حسنؑ سے کیے گئے معاہدے کو پامال کرتے ہوئے خلافت کو وراثت بنا دیا، گویا اقتدار اب اصول پر نہیں، نسب پر چلے گا۔ حسینؑ اور ان کے قافلے پر فرات کا پانی بند کرنا صرف عسکری جنگی چال نہ تھی، بلکہ انسان کی بنیادی ضرورت — پانی — کو سیاسی ہتھیار بنا دینا، دراصل اس نظام کا اخلاقی جنازہ تھا۔ اور جب کربلا کے شہیدوں کے جسموں کو گھوڑوں سے روندا گیا، تو صرف لاشیں پامال نہیں ہوئیں، بلکہ انسانیت کے چہرے سے پردہ ہٹا کر یہ واضح کر دیا گیا کہ یزید کا نظام کس سفاکیت پر قائم ہے۔ مگر شاید سب سے خطرناک وار وہ تھا جو بیعت کے نام پر انسانی ضمیر پر کیا گیا — کیونکہ یزید کو صرف سیاسی فرمانبرداری نہیں چاہیے تھی، بلکہ وہ دل، دماغ، اور عقیدے کی غلامی چاہتا تھا۔ ابن زیاد کا حکم، "جو حسینؑ کی بیعت نہ کرے، اس کا گھر جلا دو"، صرف ایک جنگی ہدایت نہیں بلکہ فسطائیت کا وہ نظریاتی زہر تھا، جو آج بھی دنیا کے آمرانہ نظاموں میں سانس لیتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں حسینؑ نے تنہا کھڑے ہو کر پوری دنیا کو سکھایا کہ ظاہری بیعت اگر ضمیر کا قتل ہو، تو اس کا انکار ہی اصل ایمان ہے۔ کیونکہ بیعت اگر خوف سے ہو، تو غلامی ہے — اور بیعت اگر ضمیر کے خلاف ہو، تو بغاوت واجب ہو جاتی ہے۔

امام حسینؑ وہ انقلاب ہیں جنہوں نے صرف "ہاں" کہنا نہیں، بلکہ باطل کے سامنے "لا" کہنے کی جرات سکھائی — وہ مقدس انکار جو صرف زبان کا نہیں، بلکہ دل، روح اور شعور کا فیصلہ ہوتا ہے۔ حسینؑ نے اپنی حیاتِ طیبہ سے انسانیت کو وہ انسانیت، آزادی ، انصاف اور قربانی کے  چار ستون عطا کیے جن پر عدل و وقار کی عمارت کھڑی ہو سکتی ہے: انسانیت کا درس ہمیں اس وقت ملا جب آپ نے کنیز فضہؑ کے ساتھ مل کر برتن دھوئے — وہی خضوع، وہی انکسار، جو نیلسن منڈیلا نے قید میں رہ کر انسانوں سے روا رکھا۔ آزادی تب مجسم ہوئی جب حسینؑ نے یزید کی بیعت کو ٹھکرا کر کہا کہ اگر ضمیر کا سودا ہے تو تاج بھی ٹھکرا دینا واجب ہے — جیسے گاندھی نے انگریز راج کے قانون کو نافرمانی کے ذریعے رد کیا۔ انصاف حسینؑ کی تحریروں میں جھلکتا ہے، جب انہوں نے کوفیوں کو خطوط لکھے — وہی لہجہ، وہی امید، جو مارٹن لوتھر کنگ نے برمنگھم جیل سے اپنے ساتھیوں کو لکھے خط میں ظاہر کی۔ اور قربانی؟ وہ تو علی اصغرؑ کے پیاسے لبوں پر سوال بن کر تاریخ کے سینے پر نقش ہو گئی — جیسے فلنٹ، مشی گن کے بچوں کے خشک ہونٹوں پر عالمی ضمیر آج بھی بوجھ اٹھانے سے قاصر ہے۔

امام حسینؑ کی آخری دعا، "اے خدا! میں ہر مصیبت میں تجھ پر بھروسہ کرتا ہوں"، صرف الفاظ نہیں — یہ انسان کے حقِ خودداری کا وہ اعلان ہے جو وقت کے ہر یزید کے سامنے سوال بن کر کھڑا رہتا ہے۔ کربلا میں علی اصغرؑ کا قتل حقِ زندگی کی پامالی تھا، امامؑ کی تقریریں حقِ اظہار کا استعارہ بنیں، اور شمر جیسے قاتل کا بے سزا رہنا حقِ انصاف کی شکست — مگر یہ شکست ایک بیدار امت کے لیے بیداری کا اعلان بن گئی۔ کربلا ہمیں بتاتی ہے کہ انسان جب ظلم کے سامنے کھڑا ہو جائے تو وہ صرف مظلوم نہیں رہتا — وہ معیارِ حق بن جاتا ہے، اور یہی وہ حسینؑ کا فلسفۂ حیات ہے: موت گوارا، مگر بے وقاری نہیں!

حضرت زینبؑ تاریخ کی وہ پہلی قیدی خاتون ہیں جنہوں نے ظلم کی زنجیروں کو کمزوری نہیں، بلکہ طاقت میں بدل دیا — وہ قیدی جو یزید کے بھرے دربار میں کھڑی ہوئی اور فرمایا: "تو نے ہماری عزت روندنے کی کوشش کی، مگر ہم نے اپنی غیرت کو تجھ پر عیاں کر دیا!" یہ محض ایک فقرہ نہ تھا، یہ تاریخ کی سب سے طاقتور مزاحمتی للکار تھی، جس نے بادشاہوں کی تختیاں ہلا دیں۔ کوفہ کے بازاروں اور شام کے درباروں میں جب زینبؑ نے کہا: "ہمیں غلام سمجھا؟ ہماری روح تو صرف خدا کے سامنے جھکتی ہے!" تو گویا دنیا کو پہلی بار سمجھ آیا کہ جسم کو قید کیا جا سکتا ہے، مگر ضمیر کو نہیں۔ وہ زنجیروں میں جکڑی ہوئی خواتین جن کے سروں سے چادریں چھین لی گئیں، مگر اُن کے سروں کا فخر سلامت رہا — وہی پیغام تھا جو زینبؑ نے آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑا: کہ اگر تمہارا مقصد سچا ہو، تو ظلم کی زنجیریں تمہیں توڑ نہیں سکتیں، بلکہ وہ تمہاری آواز کا لوہا منوا دیتی ہیں۔ آج جب ملالہ یوسفزئی طالبان کی گولیوں کے بعد اقوامِ متحدہ میں کھڑے ہو کر تعلیم کا اعلان کرتی ہے، یا آیشہ محمدی ایران کی جیل میں بھی حجاب کی جبری روایت کے خلاف نعرہ بلند کرتی ہے، تو ان کے لہجوں میں زینبؑ کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ زینبؑ صرف حسینؑ کی بہن نہ تھیں، وہ اُس شعور کی علمبردار تھیں جس نے دنیا کو سکھایا کہ عورت اگر حق پر ہو، تو دربار اُس کے سامنے جھک جاتے ہیں، چاہے وہ قیدی ہو یا زنجیروں میں لپٹی ہوئی۔ وہ بتاتی ہیں کہ عورت محض مجبوری نہیں، بلکہ مزاحمت کی آخری صف ہے — اور جب وہ صف حسینؑ کے قافلے کی ہو، تو دنیا کی کوئی طاقت اُسے ہرا نہیں سکتی۔

کربلا کوئی ختم شدہ تاریخ نہیں، بلکہ ایک ایسا جینیاتی کوڈ ہے جو انسانی ضمیر میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے، اور وقت کے ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں اپنا رنگ دکھاتا ہے۔  آج جب روہنگیا کے مظلوم شہریت کے حق کی جنگ لڑتے ہیں اور پانی و شناخت سے محروم کیے جاتے ہیں، تو وہ منظر ہمیں حسینؑ کے قافلے کی پیاس یاد دلاتا ہے۔ ہانگ کانگ کی سڑکوں پر "Be Water" کا نعرہ ہمیں امامؑ کی وہ متحرک حکمتِ عملی یاد دلاتا ہے جس نے دشمن کو الجھائے رکھا۔ جب امریکہ کی گلیوں میں "I Can’t Breathe!" کی صدا گونجتی ہے، تو دل بے اختیار علی اصغرؑ کی پیاس پر تڑپ اٹھتا ہے۔

غزہ کی گلیوں میں مظلوم فلسطینی بچے جن یہ کہتے ہیں کہ "ہم راتوں کو روتے نہیں، کیونکہ ہمیں نیند سے زیادہ بقا کی فکر ہے!" یہ جملہ حسینؑ کے اُس نوجوان سپاہی قاسمؑ کی یاد دلاتا ہے، جس نے میدانِ کربلا میں جانے سے پہلے کہا تھا: "موت میرے لیے شہد سے زیادہ میٹھی ہے!"جب بچپن قربانی کی زبان بولنے لگے، تو وہ تاریخ کے حسینؑ ہوتے ہیں، جنہوں نے ہمیں دکھایا کہ عمر چھوٹی ہو سکتی ہے، مگر ارادہ آسمان سے بلند ہوتا ہے۔

 کشمیر میں پیلٹ گن سے بینائی کھو دینے والی دوشیزہ نے جب یہ کہا "میری آنکھیں چلی گئیں، مگر میں نے آزادی کو خواب میں دیکھ لیا ہے!" تو یہ ہمیں حضرت زینبؑ کے اس جملے کی طرف لے جاتی ہے، جب انہوں نے یزید کے دربار میں فرمایا: "ما رَأَیتُ إلّا جَمیلاً""میں نے کربلا میں حسن ہی حسن دیکھا!" جب آنکھیں نہ دیکھ سکیں، مگر دل آزاد ہو جائے — تو وہی زینبی بصیرت ہوتی ہے، جو ظلم کے ہر منظر کو روشنی میں بدل دیتی ہے۔ سڈان کی انقلابی خواتین — زینبؑ کی وارثیں

جب سوڈان کی گلیوں میں نوجوان خواتین، سفید چادروں میں ملبوس، آمریت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے میدانِ احتجاج میں اتریں، تو وہ حضرت زینبؑ کی وارثیں نظر آئیں۔ ان کے چہروں پر عزم، آنکھوں میں آنسو، اور زبانوں پر صداقت تھی — جیسے دربارِ یزید میں زینبؑ نے اعلان کیا تھا: "ہماری روحیں تمہارے ظلم سے بلند ہیں!"یہ خواتین ظلم کے خلاف وہی وقار دکھا رہی تھیں جو شام کے دربار میں زینبؑ نے سکھایا۔

چین کے کیمپوں میں ایغور مسلمانوں کی زبانیں بند ہیں، اذانیں روک دی گئی ہیں، قرآن چھین لیا گیا ہے — مگر ان کی خاموشی میں کربلا کی اسیری کی گونج ہے۔ جس طرح اہلِ بیتؑ کو زنجیروں میں باندھ کر درباروں میں پھرایا گیا، اور وہ صبر سے وقار کا پرچم تھامے رہے، ایغور مسلمان بھی ظاہری غلامی میں، باطنی آزادی کا استعارہ بن گئے ہیں۔

جب طالبان کے سائے میں اسکول بند ہوتے ہیں، اور پھر بھی چھوٹی چھوٹی افغان بچیاں چھپ چھپ کر کتابیں پڑھتی ہیں، تو وہ ہمیں کربلا کے ان بچوں کی یاد دلاتی ہیں جو پیاسے تھے، مگر قرآن کی تعلیم سے دور نہ ہوئے۔ علم کے لیے جان دینا ہو تو وہ حسینی قربانی ہے، اور جب زینبؑ علم کے ساتھ شام کے دربار میں کھڑی ہوئیں، تو علم صرف کتاب نہ رہا، ایک انقلابی مشعل بن گیا۔

کولمبیا میں جب مزدور طبقہ "Pan y Libertad") روٹی اور آزادی) کا نعرہ بلند کرتا ہے، تو یہ درحقیقت وہی صدا ہے جو علی اصغرؑ کی پیاس میں تھی — کہ زندگی کی بنیادی ضروریات بھی حق کا درجہ رکھتی ہیں۔ جب فرات جیسا دریا پاس ہو، اور پھر بھی پانی بند کیا جائے — تو وہی ظلم ہر اس نظام میں زندہ ہے جو عوام کی روٹی چھین کر خاموشی مانگتا ہے۔

یمن کے شہروں میں جب بچے بھوک سے بلکتے ہیں، اور ماں باپ انہیں بے بسی سے دیکھتے ہیں، تو کربلا کی وہ گھڑی یاد آتی ہے جب سکینہؑ نے پانی مانگا، اور شمر نے خنجر تیز کیا۔ علی اصغرؑ کے لبوں کی پیاس، آج یمن کے لاکھوں بچوں کے چہرے پر لکھی ہوئی ہے۔ ظالم بدلا، زمین بدلی — مگر جرم وہی ہے۔

جب جنوبی بیروت کی مائیں اپنے شہید بیٹوں کی قبروں پر کھڑے ہو کر کہتی ہیں: "تم نے ہمارے بچے مارے، مگر ہماری غیرت نہیں!" تو یہ جملہ شام کے دربار میں گونجنے والے زینبی الفاظ کا عکس بن جاتا ہے۔ ان ماؤں کی آنکھیں زخموں سے بھری، مگر لہجہ مضبوط ہوتا ہے — بالکل ویسا ہی جیسے زینبؑ نے کہا تھا: "ما رَأَیتُ إلّا جَمیلاً!"

یہ سب محض اتفاقات نہیں، یہ وہ خمیر ہے جو کربلا سے انسانیت کی روح میں گھلا ہے۔ یہی نہیں، اقوامِ متحدہ کا چارٹر بھی گویا کربلا کا عہدنامہ معلوم ہوتا ہے: آرٹیکل 1 انسانی وقار کی بات کرتا ہے — جسے کربلا نے خون سے لکھا؛ آرٹیکل 3 زندگی، آزادی اور تحفظ کا اعلان کرتا ہے — جن کے لیے حسینؑ نے اپنے عزیز قربان کیے؛ اور آرٹیکل 19 آزادیٔ اظہار کا علمبردار بنتا ہے — جو کوفہ اور کربلا میں حسینؑ کے خطبات کی صورت گونجتا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں کہنا پڑتا ہے کہ کربلا دراصل دنیا کی پہلی Human Rights Council تھی — مگر اس کا اجلاس کسی ایئرکنڈیشنڈ ہال میں نہیں، بلکہ نیزوں اور تلواروں کے سائے میں ہوا تھا۔ اس مجلس کا منشور خون سے لکھا گیا، اس کی صدارت ضمیر نے کی، اور اس کی قرارداد "لا اُبالی" کہنے والے حسینؑ نے منظور کی — اور تب سے یہ اجلاس رُکا نہیں، ہر ظالم کے خلاف ہر جگہ آج بھی جاری ہے۔

کربلا کوئی کہانی نہیں، بلکہ ایک سوال ہے — ایسا سوال جو ہر انسان کو چیلنج کرتا ہے، ہر دل کے دروازے پر دستک دیتا ہے: اگر تم کسی ظالم کو ووٹ دے رہے ہو، کسی مظلوم کی آہ پر خاموش ہو، یا اپنے مفاد کے لیے سچ کو دفن کر رہے ہو — تو سن لو! کربلا کا وہ تپتا ہوا صحرا آج بھی تمہیں پکار رہا ہے: "اگر تم دین پر نہیں ہو، تو کم از کم آزاد انسان تو بنو!" یہ حسینؑ کی آخری پکار ہے، ایک ایسی صدا جو وقت کے پردوں کو چیرتی ہوئی ہر نسل تک پہنچتی ہے۔ آج جب یوکرین کا کوئی سپاہی دشمن کی گولیوں کا سامنا کرتے ہوئے یہ کہتا ہے: "ہم آسمان تلے مریں گے، مگر غلامی میں نہیں جئیں گے!" تو وہ دراصل حسینؑ کی بازگشت ہے۔ اور جب فلسطین کی کوئی ماں اپنے شہید بیٹے کے کفن پر یہ لکھتی ہے: "پیاسے ہو؟ فرات کا انتظار کرو!" تو وہ صرف ماتم نہیں کر رہی، بلکہ تاریخ کو جلا بخش رہی ہے۔ کربلا ہمیں آئینہ دکھاتی ہے — کہ جب ضمیر سستا ہو جائے، جب سچ بولنے والے خاموش کر دیے جائیں، جب حق سے منہ موڑنا نفع کا ذریعہ بن جائے — تو وہ حسینؑ کا انکار ہی ہوتا ہے جو انسان کو انسان بناتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کربلا صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ زندگی کا ایک معیار بن جاتی ہے — اور حسینؑ، صرف ایک مظلوم شہید نہیں، بلکہ انسانیت کے لیے وہ میزان بن جاتے ہیں، جس پر ناپ کر ہر دور کے کرداروں کا وزن کیا جاتا ہے۔

کربلا کوئی محدود جغرافیہ، کوئی گزری ہوئی جنگ، یا چند دنوں کا نوحہ نہیں — یہ دراصل ایک دائمی فلسفہ ہے، ایک ایسا ضمیر ہے جو ظلم کے ہر نئے چہرے کو بے نقاب کرتا ہے، ہر نئی نسل کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کرتا ہے۔ ہر وہ زمین جہاں کوئی مظلوم سانس لے رہا ہو — وہ کربلا ہے۔ ہر وہ آواز جو باطل کے سامنے ڈٹ جائے — وہ حسینؑ ہے۔ اور ہر وہ آنسو جو سچائی اور انصاف کے لیے بہے — وہ زینبؑ کی میراث ہے۔ یہی زندہ قوموں کا مذہب ہے: باوقار جینا، اور باعزت مرنا! یہی وہ شعلہ ہے جو صرف کسی مٹی کے صحرا میں نہیں بھڑکا، بلکہ انسانی تاریخ کے ہر موڑ پر ظالم کے تخت کو جھلساتا رہا ہے۔ یہ تحریک ختم نہیں ہو سکتی — کیونکہ یہ تحریک صرف ماضی کی نہیں، بلکہ انسانیت کے وقار کی آگ سے جلتی ہے۔ اور جب تک انسان زندہ ہے، جب تک کوئی دل دھڑکتا ہے، جب تک کسی آنکھ میں حق کے لیے آنسو اُترتا ہے — یہ آگ بجھ نہیں سکتی۔ کیونکہ کربلا ایک واقعہ نہیں، ایک ابدی پیغام ہے؛ اور حسینؑ محض ایک فرد نہیں، بلکہ انسانیت کا وہ معیار ہیں جس پر سچ، عدل اور وقار کی پیمائش کی جاتی ہے۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home