"حرؓکا انقلابِ دل: اپنی غلطیوں کے قیدی نہ بنو، حسینی قافلے میں شامل ہو جاؤ
"حرؓکا انقلابِ دل: اپنی غلطیوں کے قیدی نہ بنو، حسینی قافلے میں شامل ہو جاؤ"
تاریخِ انسانیت کے صفحات پر کچھ لمحات ایسے ثبت ہیں جو
وقت کی گرد کو چیر کر دلوں کے نہاں خانوں میں ہمیشہ کے لیے روشن ہو جاتے ہیں۔ کربلا
کا میدان اور اس میں کھڑا حرؓبن یزید
ریاحی کا لرزہ خیز لمحہ، دراصل انسانی روح کی ازلی جنگ کا ایسا نقش ہے جو صدیوں سے
ضمیر کو جھنجھوڑتا چلا آ رہا ہے۔ یہ لمحہ بتاتا ہے کہ خطا کار ہونا جرم نہیں، اپنی
خطا پر اصرار کرنا اصل جرم ہے۔ حرؓنے جب اپنی خطا کو پہچانا تو اپنی ضد، اپنی انا
اور اپنی سپہ سالاری کو زمین پر پھینک کر حسینؑ کے قدموں میں جھک گیا۔ یہی جھکنا
دراصل قیام ہے، یہی شکست دراصل فتح ہے۔
حرؓکی توبہ اس بات کا پیغام ہے کہ زندگی کے کسی بھی موڑ
پر واپسی ممکن ہے۔ دیر ہو بھی جائے تو کوئی بات نہیں درِ
حسینؑ ہمیشہ کے لیے کھلا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ گناہوں کی زیادتی راستے بند کر
دیتی ہے۔ لیکن حرؓ نے دکھا دیا کہ جس دل میں سچ کی طلب پیدا ہو جائے اس کے لیے
راستے خود کھلتے ہیں۔ عاشورا کے دن، جب سب دروازے بند تھے حرؑ کے لیے رحمتوں کا در
کھل گیا اور وہ حسینی قافلے کا حصہ بن کر تاریخ کی عظیم ترین سعادت کا حقدار
ٹھہرا۔
حرؓکی زندگی کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ جب حق سامنے آ
جائے تو اپنی حیثیت، اپنی پوزیشن، اپنی شہرت اور اپنی طاقت کو قربان کر دو۔ دنیا
میں لوگ عہدے، مقام اور شہرت کے زعم میں سچ کو جھٹلا دیتے ہیں۔ مگر حرؓ نے یہ سب
چھوڑ کر سچ کو سینے سے لگا لیا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان دنیاوی قید سے نکل کر
روحانی آزادی حاصل کرتا ہے۔ اصل آزادی بندگی میں ہے، اور بندگی سچ کے آگے جھکنے
میں ہے۔
حرؓکا انقلاب بندوق سے نہیں دل
سے شروع ہوا۔ اس نے پہلے اپنے دل کو فتح کیا پھر دنیا کے سامنے اعلانِ حق کیا۔ آج
کے دور میں لوگ انقلاب کو طاقت، شور اور ہنگامے میں تلاش کرتے ہیں حالانکہ اصل
انقلاب دل کی خاموش تبدیلی میں چھپا ہوا ہے۔ جب تک دلوں میں سچ کی روشنی نہیں
اترتی تب تک نعروں اور جنگوں سے کوئی حقیقی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ حرؓنے یہی سبق دیا کہ دل بدل جائے تو دنیا خود
بخود بدل جاتی ہے۔
حرؓنے اپنے وقت کے سسٹم، اپنی فوج اور اپنی ممکنہ موت
کے خوف کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس نے دکھا دیا کہ اصل بہادری تلوار چلانے میں نہیں
بلکہ اپنے خوف پر قابو پانے میں ہے۔ آج کے مسلمان بھی سسٹم، سماجی دباؤ اور رواج
کے خوف میں جکڑے ہوئے ہیں۔ اگر وہحرؓکی طرح خوف کو پسِ پشت ڈال کر سچ کا ساتھ دیں
تو ان کی زندگیوں میں بھی حسینی انقلاب آ سکتا ہے۔
تاریخ نےحرؓکو اس کی خطا کے سبب نہیں بلکہ اس کی واپسی
کے سبب یاد رکھا۔ اس کی اصل پہچان اس کا توبہ کرنا ہے، نہ کہ اس کی خطا۔ آج کے
انسان بھی اپنی غلطیوں میں الجھ کر مایوسی کے قیدی بنے ہوئے ہیں، مگر حرؓ کی مثال
بتاتی ہے کہ اصل پہچان غلطی میں نہیں، اس سے لوٹ آنے میں ہے۔ زندگی کی اصل
خوبصورتی اپنی خطا پر ندامت کے آنسو بہانے اور نئے راستے پر چل پڑنے میں ہے۔
حرؓاگر اپنی غلطی کا جواز تلاش کرتا رہتا، اپنی پوزیشن
کا سہارا لیتا یا وقت کی قلت کا بہانہ بناتا تو کبھی بھی حسینی قافلے میں شامل نہ
ہو پاتا۔ مگر اس نے نہ سوچا، نہ بہانے بنائے، بلکہ فوراً قدم بڑھا دیا۔ یہی وہ
لمحہ تھا جب اس کی زندگی کی کہانی نے کروٹ بدلی اور وہ تاریخ کا روشن کردار بن
گیا۔ آج کے انسان کو بھی فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ بہانے بنائے گا یا قدم اٹھائے گا،
سوچتا رہے گا یا عمل کرے گا، ڈرتا رہے گا یا جرات کرے گا۔
حرؓکی داستان گواہی دیتی ہے کہ دل کا انقلاب آج بھی
ممکن ہے۔ انسان اگر چاہے تو اپنی زندگی کے دھارے کو بدل سکتا ہے، اپنے انجام کو
حسینؑ کی طرف موڑ سکتا ہے، اپنے نفس کی قید سے نکل کر روح کی آزادی حاصل کر سکتا
ہے۔ یہ پیغام صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے کہ انسان اپنی
تقدیر کا قیدی نہیں، بلکہ اپنی نیت اور عمل سے اسے لکھنے والا ہے۔
حرؓ کی کہانی آج کے دور کے انسان کو پکار رہی ہے: اپنی
غلطیوں کے قیدی نہ بنو، اپنی انا کے غلام نہ رہو، سچ کی راہ اختیار کرو، چاہے اس
کے لیے کتنا ہی بڑا نقصان کیوں نہ اٹھانا پڑے۔ حسینی قافلہ آج بھی رواں دواں ہے،
سوال صرف یہ ہے کہ ہم اس کے ساتھ ہیں یا یزیدی لشکر کے ساتھ؟حرؓنے آخری سانسوں میں
جو فیصلہ کیا، وہ دنیا کے تخت چھوڑ کر دل کی تختی پر حسینؑ کا نام لکھنے کا فیصلہ
تھا — کیا تم بھی اپنی انا کے تاج اتار کر حق کے قافلے میں شامل ہو سکتے ہو؟



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home