Friday, 11 July 2025

"ہم پاکستان پہنچ گئے

 کل امین اللہ اگلے جہان کے سفر پہ رخصت ہو گئے۔ میری ان سے پہلی اور آخری ملاقات 2016 میں ہوئی تھی جب میں ہجرت کرنے والے لوگوں کو اپنے ایک ریسرچ پیپر کے لیے ڈھونڈ رہا تھا۔ یہ ریٹائر ٹیوب ویل اپریٹر تھے ۔ آٹھ جماعتیں پرانے زمانے کی پڑھ رکھی تھیں اور بہت سمجھدار اور صاحب بصیرت آدمی تھے۔ ان سے ان کی کہانی سنی جسے بعدمیں اپنے الفاظ میں لکھا ۔ان کی کہانی ان کی خود پہ بیتی ہے۔ لیکن زیادہ تفصیلات انہوں نے بعد ازاں اپنی والدہ اور تایا سے سنیں جو اس ہجرت کے بچ جانے والے تھے۔  وہ بیان کرتے ہیں کہ

جون 1947 کی تپتی دوپہر تھی۔ چک کھیوی، ہوشیارپور ضلع کا ایک ہرا بھرا گاؤں تھا جہاں مسلمان، سکھ اور ہندو سال بھر ایک دوسرے کے ساتھ تہوار مناتے، میلے جاتے اور کھیتی باڑی میں ہاتھ بٹاتے تھے۔ میں، امین اللہ، اپنے والد اسلام دین کے ساتھ گندم کی فصل سے شدت گرمی میں پانی نکال رہا تھا۔ اچانک گاں میں شور ہوا—"پاکستان بن رہا ہے!"—اس سے خوشی کے ساتھ ایک بے چینی کا احساس آیا۔

گاؤں کے بزرگوں  نے اطمینان دیا، “ہم بھائی ہیں، کوئی فرق نہ پڑے گا!” مگر چند مہینوں بعد، اگست 1947 میں، خوشی کی چمک ڈھلنے لگی۔ ہندو و سکھ اور مسلم گھرانوں میں دیواریں سرگوشیوں سے بھرنے لگیں۔ گھروں میں چھپ کر تلواروں کی کانٹے انبار لگنے لگے۔

5 اگست 1947 کی رات گاؤں سرعام بدنام ہوا۔ رشید اور صفیہ میرے چچا زاد بھائی اور اس کی زوجہ ڈیوڑھی پر کھڑے تھے کہ اچانک تاڑیاں(نیزوں پہ کپڑے باندھ کر مشعل بنائیں گئیں ) روشن ہوئیں۔ سکھ نوجوانوں نے کرپانیں تیز کیں اور گھر کو گھیر لیا۔ رشید کو کرپان سے قتل کردیا  بازو پکڑکر  صفیہ کو گھسیٹ کر اندر سے باہر نکالا گیا۔ انہوں نے گولی ماری اور لاش کے آس پاس قہقہے لگائے۔ اگلے دن گاؤں کا ہر چوراہا اس خون سے سنہرا تھا۔

محلے میں  سناٹا تھا۔ دودھ نہیں تھا مکھن نہیں تھا ہر طرف خوف کے سائے تھے۔ بزرگ کہتے “اب یہاں رہنا خطرے سے کم نہیں”۔

رات کے سناٹے میں گاؤں کی اورٹل (مرکزی دروازہ )  گونج رہی تھی۔

"بہنیں، بچوں کے ساتھ تیار ہو جاؤ۔ صبح سویرے روانگی ہے۔"

گولی کی گونج، خواتین کی چیخ، بڑوں کی ہدایات — ہر چیز میں ایک عجیب بے چینی سی گھلی تھی۔ ہمارے والد، اسلام اللہ، سر جھکائے کھڑے تھے۔ ان کی آنکھوں میں ایک مضبوط عزم تھا، مگر لب پہ درد تھا:

"دیکھو بیٹے،پاکستان میں ہمیں نئی دنیا بنانی ہے ... بس خدا کا ساتھ چاہیے۔"

گاؤں کے بنیے کشور رام ، نے اطلاع دی:

"سرحد کے پاس ایک ٹرین رکی ہے۔ لاری اسٹیشن پر لے جاؤ گے تم سب کو۔ محفوظ جانا ہے۔"

رات دیر تک ہوشیارپور میں ٹرین کی ٹکٹوں اور سفر کی بندوبست کی گئی: قافلہ تقریباً 60 افراد پر مشتمل تھا—بوڑھے، نوجوان، بچے، اور خواتین۔ ہر شخص کے دل میں ایک ہی سوال تھا: کیا ہم زندہ پہنچیں گے؟۔

قریبی ٹرین اسٹیشن "لاری گاؤں" پہنچنا مشکل نہیں تھا۔ مگر ہمیں شب کے سناٹے میں پھرتی سے اپنا سامان لے کر ہونا تھا۔

ٹرین چل نکلی، مگر ہم بہت زیادہ گھبراہٹ میں تھے۔ لکڑی کے کھڑکیوں کے نیچے سے گاؤں گزرتے تو کچھ سکھ نوجوان باہر نظر آتے جن کے ہاتھوں میں بھی کرپان ہوتی تھی۔ ہر اسٹیشن پر دل دہل جاتا تھا۔

پھر پھگواڑہ جالندھر تک پہنچے۔ ٹرین رکی، مگر سارا منظر بدل گیا: لکڑی کے ڈبوں سے بھاگ کر ٹرین کے نیچے سے لوگ نکلنے لگے—کچھ مسلمان اپنا قافلہ چھوڑ کر بھاگ رہے تھے، کچھ لاشوں کے پاس روتے، اور بچے بے ہوش پڑے تھے۔

میں نے اپنی بہن رقیہ کو گود میں اٹھایا، وہ بے ہوش تھی۔ اس وقت سمجھ آیا کہ یہ سفر صرف مکان و زمین کا نہیں، یہ آزادی کا نہیں — بلکہ زندہ رہنے کا تھا۔

ہماری ٹرین پھگواڑہ سے آگے بڑھی تو سانگلا کے قریب پہنچ کر اچانک رک گئی۔ اسٹیشن پر سناٹا تھا، لیکن ہوا میں خون اور بارود کی بو صاف محسوس ہو رہی تھی۔ قافلے کے بڑے بزرگوں نے مشورہ کیا کہ سانگلا سے آگے امرتسر تک سڑک کے راستے جانا زیادہ محفوظ ہوگا۔ٹرین پر حملے کا خطرہ بڑھتا جا رہا تھا، اس لیے ہم نے سامان اٹھایا اور پیدل روانہ ہو گئے۔

سانگلا سے نکلتے ہی کھیتوں کے بیچوں بیچ ایک کچی پگڈنڈی تھی، جس پر کبھی کھیتوں کی خوشبو آتی تھی، آج وہاں لاشوں کی بدبو تھی۔ پگڈنڈی کے کنارے کچھ جھاڑیاں ہل رہی تھیں، اچانک جھاڑیوں سے سکھ نوجوان نکلے، ان کے ہاتھوں میں تلواریں اور کرپانیں تھیں، ماتھوں پر زعفرانی پٹیاں بندھی ہوئی تھیں، اور آنکھوں میں نفرت کے انگارے جل رہے تھے۔

ہمارے وہ سنگی جن کو ہم نے کبھی ہولی پر رنگ کھیلتے دیکھا تھا اب تلوار لہرا کر کہہ رہا تھے:"آج کوئی نہیں بچے گا! تم پاکستان جا رہے ہو، مگر لاشوں میں لپٹ کر!"

قافلے کی اگلی صف میں چلنے والی دو بہنیں، زینب (عمر 18 سال) اور کلثوم (عمر 16 سال) اچانک سکھوں نے دبوچ لیں۔ ان کے چیخنے چلانے کی آوازیں ساری فضا میں پھیل گئیں۔ زینب نے مزاحمت کی تو اس کے بازو پر تلوار چلا دی گئی۔ خون کے فوارے نکلے اور اس کا سفید دوپٹہ سرخ ہو گیا۔ کلثوم کو تین افراد نے زمین پر گرا کر اس کے کپڑے پھاڑ دیے۔ ان کی ماں فریاد کرتی رہی:

"بیٹا! میری بچیوں کو چھوڑ دو، تمہاری بہنوں جیسی ہیں!"

مگر سکھ نوجوانوں نے قہقہہ لگا کر کہا:"یہ اب تمہاری نہیں، ہماری عزت ہیں۔"

پھر... ان معصوم بچیوں کو باری باری اپنی ہوس کا نشانہ بنایا گیا، ان کے جسموں پر کرپانوں سے زخم کیے، اور آخر میں دونوں کو درخت کے ساتھ الٹا لٹکا دیا گیا تاکہ دوسرے قافلے والے خوف کھا جائیں۔

اسی ہنگامے میں، ایک سکھ نوجوان میری بہن رقیہ کو بھی پکڑ کر لے جانے لگا۔ اس کی عمر صرف 6 سال تھی، اور اس کے معصوم چہرے پر خوف اور بے بسی لکھی تھی۔ میں نے دل میں اللہ کا نام لیا، اور پتھر اٹھا کر اس سکھ کے سر پر مارا۔ اس نے غصے سے پلٹ کر مجھ پر کرپان سے حملہ کیا۔ میرا بازو زخمی ہو گیا، مگر میں نے رقیہ کو کھینچ کر پیچھے کر لیا۔ ہم دونوں جھاڑیوں میں چھپ گئے۔ دل بند ہونے لگا تھا۔

رقیہ کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، اور اس کے ہونٹوں سے صرف ایک جملہ نکل رہا تھا:"بھائی! ہمیں مار کیوں رہے ہیں ؟"

میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ میں خاموش تھا کیونکہ میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔

اس حملے میں ہمارے قافلے کے 12 لوگ مارے گئے:

چچا سمیع اللہ کو سڑک پر ذبح کیا گیا،  خالہ زینت بی بی کو آگ میں جلا دیا گیا،  عبدالکریم کو نیزے سے چھیدا گیا۔چھوٹے بچے، صرف 5 سال کے، پتھروں سے مار کر قتل کر دیے گئے۔ لاشوں کو کھیتوں میں پھینک کر سکھوں نے نعرے لگائے:"جو بولے سو نہال، ست سری اکال!"

ہم نے زخمی دلوں کے ساتھ سفر دوبارہ شروع کیا۔ اب ہمارے ساتھ صرف خاموشی تھی، نہ کوئی بولتا تھا، نہ کوئی رو سکتا تھا۔ سب کے چہرے پتھروں کی طرح سخت ہو چکے تھے، دلوں کے اندر زخم تازہ تھے۔

ہمارا اگلا ہدف تھا امرتسر پہنچنا، مگر دل میں خوف تھا کہ وہاں کیا قیامت ہمارا انتظار کر رہی ہے۔

قافلہ، خون اور آنسو بہاتا ہوا، امرتسر کی طرف بڑھ رہا تھا۔ تھکے ہارے لوگ، بوڑھے کندھے، معصوم بچے، اور زخمی عورتیں۔ ہر شخص کے چہرے پر سوال تھا کہ کیا ہم بچ پائیں گے؟

امرتسر سے تقریباً 10 میل پہلے، راجپورہ خورد کے قریب گورمیت سنگھ کا وسیع کھیت آتا تھا۔ گورمیت وہی شخص تھا جو برسوں سے ہمارے والد اسلام اللہ کا دوست تھا۔ عید پر میٹھی کھیر ، بیساکھی پر پکوڑے، اور شادیوں پر ایک دوسرے کے گھروں کی دعوتیں... یہ سب ہم نے اس کے ساتھ گزارا تھا۔

ہم نے سوچا تھا کہ گورمیت سنگھ کے کھیت میں چھپ کر رات گزار لیں گے تاکہ صبح امرتسر پہنچ سکیں۔گورمیت کو پیغام بھیجا:

"ہماری حالت بہت خراب ہے، بچوں کے ساتھ ہیں، تمہاری پناہ چاہتے ہیں۔"

گورمیت سنگھ، اپنی پرانی مسکراہٹ کے ساتھ آیا اور بولا:

"امین، فکر نہ کرو، یہ کھیت تمہارا ہے۔ کوئی تمہیں ہاتھ نہیں لگائے گا۔ رات یہاں رہ لو۔ صبح میں تمہیں بارڈر تک چھوڑ آؤں گا۔"

ہم نے سکھ کا یہ چہرہ بھروسے سے دیکھا، مگر دل میں انجانی سی گھبراہٹ باقی رہی۔

رات کے دوسرے پہر اچانک گورمیت کے کھیت کے گرد تلواریں چمکنے لگیں۔ کرپانوں کی گھنکار سنائی دی، اور سکھوں کا ایک بڑا جتھا چاروں طرف سے آگیا۔ گورمیت سنگھ خود ان کے ساتھ کھڑا تھا۔ اس نے کرخت لہجے میں کہا:

"اسلام اللہ! تو سمجھتا ہے میں تیرے بچوں کو پاکستان جانے دوں گا؟ یہ زمین ہماری ہے، یہاں صرف اکال کے بندے زندہ رہیں گے!"

والد نے لرزتی آواز میں کہا:

"گورمیت! دوستی کا واسطہ ہے۔ ہمارے بچوں پر رحم کر!" مگر گورمیت کے ہاتھ میں رحم نہیں، تلوار تھی۔

ایک لمحے میں گورمیت سنگھ نے والد کے سینے میں گولی ماری۔ وہ زمین پر گر پڑے۔ میری دنیا اسی لمحے اندھیری ہو گئی۔

اسی رات قافلے کی دو مزید لڑکیوں، سائرہ اور بشیراں، کو کھینچ کر کھیت میں لے جایا گیا۔ ان کے ساتھ بھی وہی ظلم دہرا دیا گیا جو سانگلا میں ہوا تھا۔ ان کے جسموں پر تلوار سے زخم کیے گئے تاکہ وہ دوبارہ زندہ نہ بچ سکیں۔ چند عورتوں نے کنویں میں چھلانگ لگا دی تاکہ اپنی عزت بچا سکیں۔

اگلے دن بچ جانے والے لوگ امرتسر پہنچے۔ لیکن امرتسر خود جل رہا تھا۔ چوک فوارہ، گول باغ، اور ہال گیٹ کے علاقے دھوئیں سے بھرے ہوئے تھے۔ مسلمانوں کی گلیوں میں آگ لگی تھی، مسجدیں جلا دی گئی تھیں، اور لاشیں سڑکوں پر بکھری ہوئی تھیں۔

ایک بزرگ، حکیم بشیر احمد، جنہوں نے کبھی امرتسر میں "بشیر دواخانہ" بنایا تھا، انہیں ان کے کلینک کے اندر جلا دیا گیا۔ عورتیں امرتسر کے ریلوے اسٹیشن پر بھاگ رہی تھیں اور بچوں کو گود میں لے کر چیخ رہی تھیں: "کسی ٹرین میں جگہ دو، ہم پاکستان جانا چاہتے ہیں!"

مگر سکھ بلوائی ہر پلیٹ فارم پر موجود تھے، جو مسلمانوں کو دیکھتے ہی حملہ کر دیتے تھے۔

امرستسر میں کوئی جگہ محفوظ نہ رہی۔ قافلے کے بزرگوں نے طے کیا کہ پیدل واہگہ بارڈر کی طرف نکلنا ہی اب آخری راستہ ہے۔ راستہ جنگلوں، کھیتوں اور خالی ریلوے لائنوں سے ہوتا ہوا تھا۔ دشمن ہر طرف تھا، مگر امید کی ایک آخری کرن باقی تھی۔

ہم نے اپنے پیاروں کی لاشیں وہیں چھوڑی اور دلوں میں زخم لیے امرتسر کی جلی ہوئی گلیوں سے باہر نکلنا شروع کیا۔

میری ماں نے والد کی لاش کو آخری بار دیکھا اور زمین پر گر کر کہا:

"یہ کیسی آزادی ہے جس میں شوہر کی لاش، بیٹی کی چیخیں، اور بھائیوں کا خون سب کچھ چھین لیا گیا؟"

میری بہن رقیہ اب بولتی نہیں تھی، صرف خالی نظروں سے دیکھتی تھی۔

امرتسر سے نکلتے وقت سورج غروب ہو چکا تھا، اور اندھیری رات نے ہر طرف اپنا جال پھیلا دیا تھا۔ ہم 20 سے 25 افراد باقی بچے تھے۔ باقی یا تو قتل ہو چکے تھے، یا بچھڑ گئے تھے۔ جنگل کے راستے سے واہگہ جانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ راستے کے کھلے میدانوں میں قتل نہ ہو جائیں۔

درختوں کی شاخیں ہمیں زخمی کر رہی تھیں، راستہ کانٹوں بھرا تھا، اور جنگلی جانوروں کی آوازیں سناٹے کو مزید خوفناک بنا رہی تھیں۔ کچھ بچے بھوک سے چیخ رہے تھے، مگر ہم ان کے منہ پر ہاتھ رکھ دیتے تاکہ آواز باہر نہ نکلے۔ میری بہن رقیہ خاموش تھی، جیسے اس کے اندر کی آوازیں بھی مر چکی تھیں۔

راستے میں ایک نہر کے کنارے پہنچے تو وہاں درجنوں لاشیں تیر رہی تھیں۔ کچھ عورتیں تھیں جن کے جسموں پر کپڑے نہیں تھے، کچھ بچوں کے جسم پھول چکے تھے۔ ایک بزرگ نے سر جھکا کر آہستہ سے کہا:

"یہ قوم کی قیمت ہے، جو ہم نے ادا کرنی تھی۔"

ہم نے ان لاشوں پر کپڑے ڈالنے کی ہمت بھی نہ کی، کیونکہ اپنی جان کے لالے پڑے تھے۔

بارش شروع ہو گئی، زمین کیچڑ سے بھر گئی، اور ہمارے پھٹے ہوئے کپڑے جسموں سے چپک گئے۔ بھوک کی شدت اتنی تھی کہ بچوں نے گھاس کھانی شروع کر دی۔ میری ماں نے اپنی چادر پھاڑ کر رقیہ کے پیروں پر باندھی تاکہ خاردار جھاڑیوں سے اس کے نازک پاؤں زخمی نہ ہوں۔

کئی افراد راستے میں بے ہوش ہو کر گر گئے، ہم انہیں چھوڑ کر آگے بڑھے، دل میں ایک ہی دعا تھی:

"یا اللہ! بس بارڈر تک پہنچا دے۔"

واہگہ کے قریب جب ہم پہنچے تو سرحد سے چند کلومیٹر پہلے ایک اور سکھ جتھے نے ہم پر حملہ کر دیا۔ ان کے پاس بندوقیں بھی تھیں اور تلواریں بھی۔
ہم نے بچوں اور عورتوں کو زمین پر لٹا دیا اور خود درختوں کے پیچھے چھپ کر مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔ اسی حملے میں میرے ماموں جان، عبدالسلام، شہید ہو گئے۔ ان کی لاش کو اٹھانے کا وقت نہیں تھا، ہم نے انہیں درخت کے نیچے چھوڑا اور آنکھوں میں آنسو لیے آگے بڑھ گئے۔

آخر کار، جب ہم واہگہ بارڈر کے قریب پہنچے تو ہمیں پاکستانی فوجیوں کے جوتوں کی آواز سنائی دی۔ ان کے سبز یونیفارم دیکھ کر ہم نے سجدہ کر لیا۔

فوج کے ایک جوان نے کہا:

"یہ مسلمان ہیں۔ انہیں بچاؤ!"

ہمیں لاری میں بٹھایا گیا اور لاہور لے جایا گیا۔ لاہور میں ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک پرانی کوٹھڑی میں ہمیں رکھا گیا۔یہاں نہ کھانے کو تھا۔ نہ سونے کو۔ مگر دل میں ایک عجیب سی تسکین تھی: "ہم پاکستان پہنچ گئے تھے۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home