سیدنا عمر فاروقؓ: شہادت سے زوالِ امت تک کا سفر
یہ تحریر 2023 میں فیس بک کے لیے لکھی گئی تھی یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر کی جا رہی ہے
یقیناً سیدنا عمر بن خطابؓ کا یومِ شہادت تاریخِ اسلام کا وہ مقامِ نوحہ ہے جہاں سے امتِ مسلمہ کے اجتماعی زوال کی داغ بیل پڑتی ہے۔ اگر بعثتِ نبوی ﷺ کو طلوعِ اسلام کا آغاز مانا جائے تو خلافتِ فاروقی کو اس کا نصف النہار، یعنی مکمل عروج کہا جا سکتا ہے۔ اور اگر اس عروج کی روشنی میں کوئی سایہ گرا ہے تو وہ آپ کی شہادت کا لمحہ ہے، جسے بجا طور پر اسلام کے زوال کا نقطۂ آغاز کہنا چاہیے۔
حضرت عمر فاروقؓ ایک کثیر الجہت، متوازن اور ہمہ پہلو
شخصیت کے حامل تھے۔ آپ میں جو جرات، حکمت، تجسس اور عدل کی صفات موجود تھیں، وہ
زمانۂ جاہلیت میں بھی قریش کو آپ پر مکمل اعتماد کرنے پر مجبور کرتی تھیں۔ قریش
نے قبائلی نظام میں عدالتی امور آپ کے قبیلے اور بالخصوص آپ کے حوالے کر رکھے تھے۔
آپ کو قریش میں ایک فیصلہ ساز، قانون فہم اور معاملہ فہم شخصیت کے طور پر پہچانا
جاتا تھا۔ قریش کے صرف سترہ افراد لکھنا پڑھنا جانتے تھے، اور ان میں آپ کا نام
نمایاں تھا۔ آپ کی متجسس طبیعت نے آپ کو علم و حکمت کی طرف مائل کیا، یہاں تک کہ
آپ نے عبرانی زبان سیکھی تاکہ تورات کا مطالعہ کر سکیں، اور یہ سب اس دور میں ہوا
جب عرب دنیا علم سے محروم تھی۔
تجارت کی غرض سے جب آپ
شام کا سفر کرتے تو صرف تجارت پر توجہ نہ دیتے بلکہ سلطنتِ روم کے انتظامی و سیاسی
نظام کو گہرائی سے دیکھتے اور وہاں کے بااثر افراد سے سیکھنے کی کوشش کرتے۔ یہی
بصیرت اور فکری وسعت تھی جو آپ کو دوسروں سے ممتاز کرتی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے اسی
لیے دعا کی: "اَللّٰھُمَّ اَعِزَّ الْاِسْلَامَ بِاَحَبِّ ہٰذَیْنِ
الرَّجُلَیْنِ اِلَیْکَ: بِاَبِیْ جَہْلٍ أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ۔"
اللہ تعالیٰ نے سیدنا عمرؓ کو چن لیا، اور ان کا اسلام لانا دراصل اسلام کے غلبے
کا نقطہ آغاز بن گیا۔
آپؓ کا رسول اللہ ﷺ سے
تعلق محض ایک صحابی کا نہیں تھا بلکہ آپ اُن معدودے چند خوش نصیبوں میں سے تھے
جنہیں نسبتی رشتہ بھی ملا۔ آپ کی بیٹی سیدہ حفصہؓ کو نبی کریم ﷺ نے شرفِ زوجیت
بخشا، اور بعد میں نبی کی نواسی سیدہ ام کلثومؓ بنتِ فاطمہ آپؓ کی زوجہ بنیں۔ یوں
محبت، رفاقت اور اعتماد کا ایک مضبوط رشتہ قائم ہو گیا۔ خلافتِ نبوی کا جو ستون
دین کے عملی پہلوؤں کو سنبھالے ہوئے تھا، وہ حضرت عمرؓ کی شخصیت ہی تھی۔
جنگِ قادسیہ کے بعد جب
ایرانی سپہ سالار ہرمز قیدی بن کر مدینہ لایا گیا تو حضرت عمرؓ نے اس سے دریافت
کیا کہ تم پہلے عربوں کو بار بار شکست دیتے رہے، اس بار کیا ہوا؟ ہرمز نے جواب دیا
کہ اس بار ہمارے مقابلے پر صرف عرب نہیں، بلکہ عرب اور خدا دونوں تھے — اور ہم ہار
گئے۔ یہ محض ایک شکست خوردہ سردار کا جملہ نہ تھا بلکہ ایک حقیقت شناس دانشور کا
تاریخی اعتراف تھا۔ اسے یقین ہو چکا تھا کہ عربوں کی طاقت محض قبائلی اتحاد نہیں،
بلکہ خدا کا نظام ہے جو قرآن کی صورت میں ان کے پاس موجود ہے، جس نے بکھرے عربوں
کو متحد کیا اور انہیں عدل و مساوات کا علَم بردار بنا دیا۔
حضرت عمرؓ اسی خدائی نظام
کے سچے محافظ تھے۔ ان کے دورِ خلافت میں ایسا سیاسی، سماجی، اخلاقی اور معاشی نظام
قائم ہوا جس کی بنیاد عدل، مشاورت، مساوات، تقویٰ اور دیانت پر تھی۔ وہ نظام نہ
امیر کے لیے نرم تھا نہ فقیر کے لیے ظالم۔ وہ نظام شخصی بادشاہت نہیں بلکہ شورائی
خلافت پر قائم تھا۔ اس کی اصل طاقت قرآن تھا اور اس کا مقصد صرف رضائے الٰہی۔ حضرت
عمرؓ اس نظام کے مکمل نمائندہ بن کر کھڑے تھے، اس لیے اہلِ فارس نے سمجھ لیا کہ
اگر ہمیں اسلام کے غلبے سے نجات حاصل کرنی ہے تو اس نظام کے سب سے بڑے ستون کو
گرانا ہو گا — اور انہوں نے یہی کیا۔
حضرت عمرؓ کی شہادت محض
ایک فرد کی موت نہ تھی، بلکہ ایک نظام، ایک فکر اور ایک خدا مرکز عدالتی نظام پر
وار تھا۔ قرآن اب رفتہ رفتہ فیصلوں کی کتاب سے تلاوت کی کتاب بننے لگا۔ انسانی
تاویلوں، موروثی خلافتوں، عجمی سازشوں اور خودساختہ عقائد نے قرآن کی جگہ لے لی۔
اقبال نے اس تبدیلی کو "عجمی اسلام" کہا — یعنی وہ اسلام جو قرآن و سنت
کی بجائے قوم و نسل، منطق و فلسفہ اور خاندانی اقتدار کے گرد گھومنے لگا۔
اقبال نے کہا:
"رومي بدلے ، شامي بدلے، بدلا ہندستان
تو بھی اے فرزند کہستاں! اپني خودي پہچان
اب قرآن محض مذہبی رسوم
کا حصہ بن گیا۔ اس کی جگہ فقہی تفصیلات، تاریخی کہانیاں اور فرقہ وارانہ تعبیرات
نے لے لی۔ ہر فرقہ اپنی تشریح لے کر کھڑا ہو گیا، اور اللہ کی رسی کو چھوڑ کر اپنی
تاویلات سے چمٹ گیا۔
حضرت علیؓ نے حضرت عمرؓ
کے بارے میں فرمایا: "عمر وہ کیل ہے جس پر چکی کے دونوں پاٹ گھومتے
ہیں۔" یہ محض ایک تعریف نہیں بلکہ ایک ایسا خراجِ عقیدت ہے جو اس بات کی دلیل
ہے کہ حضرت عمرؓ کا وجود پورے اسلامی نظام کے توازن کا ضامن تھا۔ ان کے بغیر خلافت
کا پہیہ نہیں گھوم سکتا تھا۔
حضرت عمرؓ کی شہادت ایک
ایسی اذیت ناک علیحدگی تھی جس نے دین کو مذہب میں تبدیل کر دیا، خلافت کو بادشاہت
میں بدل دیا، اور شورائیت کو سازشی درباروں میں دفن کر دیا۔ اسی دن سے اسلام کا
زوال شروع ہوا — قرآن کو فیصلوں سے نکالا گیا، نسب و حسب عدل و مساوات پر غالب آ
گئے، اور اقتدار موروثی ہو گیا۔
لیکن یاد رکھیے! اگر امتِ
مسلمہ ایک بار پھر حضرت عمرؓ کے راستے پر چلنے لگے — عدل کو، قرآن کو، مشورے کو
اور استقامت کو اپنا لے — تو وہی دن امت کے دوبارہ عروج کا دن ہو گا۔ کیونکہ زوال
اسی وقت شروع ہوا جب ہم نے عمرؓ کو کھو دیا، اور عروج اسی وقت ممکن ہے جب ہم انہیں
پھر پا لیں۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home