Saturday, 19 July 2025

ایمان مزاری : بھارتی فلم "ایک بندہ ہی کافی ہے" کا پاکستان ورژن

     

"ایک بندہ ہی کافی ہے" صرف ایک فلم نہیں بلکہ یہ عدالتی نظام، انصاف کی جدوجہد اور ایک اکیلے شخص کی ثابت قدمی کی ایک شاندار عکاسی ہے۔ آسارام باپو کیس جس میں ایک مذہبی پیشوا کے ایک کم سن لڑکی کے ساتھ ریپ کے بعد کیس کی سنگینی اور اس کے پس پردہ دھمکیوں، گواہوں کے قتل اور طاقتور کے خلاف کمزور کی لڑائی کو فلم میں انتہائی مؤثر طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ منوج باجپائی نے وکیل پی سی سولنکی کے کردار کو اس قدر جاندار بنا دیا ہے کہ وہ ایک عام آدمی کی ثابت قدمی اور بے پناہ عزم کا ایک طاقتور استعارہ بن جاتا ہے۔ یہ فلم صرف عدالتی کاروائی کی کہانی نہیں، بلکہ یہ ایک ایسے نظام کی عکاسی ہے جہاں سچائی کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، اور اس کے خلاف ایک "بندہ" کیسے اکیلا کھڑا ہو کر انصاف کا علم بلند کر سکتا ہے۔ یہ فلم معاشرے کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اگر ارادے پختہ ہوں تو بڑے سے بڑے طاقتور کا بھی احتساب ممکن ہے۔

آج جب ہم اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین رسالت کے جاری مقدمات پر نظر ڈالتے ہیں، تو "ایک بندہ ہی کافی ہے" کا فلسفہ انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری کی شکل میں حقیقی معنوں میں مجسم دکھائی دیتا ہے۔ جس طرح آسارام باپو کیس میں ایک اکیلے وکیل پی سی سولنکی نے ایک بااثر گرو کے خلاف انصاف کا بیڑا اٹھایا، اسی طرح ایمان مزاری بھی پاکستان میں توہین مذہب کے قوانین کے غلط استعمال کا شکار ہونے والے سینکڑوں نوجوانوں کے لیے ایک امید کی کرن بنی ہوئی ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 2022 سے آن لائن توہین مذہب کے مقدمات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر واٹس ایپ گروپس میں۔ حیران کن طور پر، ان میں سے بڑی تعداد میں ایسے نوجوان ہیں جنہیں بظاہر ایک "مشکوک گینگ" یا مافیا کی جانب سے جان بوجھ کر پھنسایا گیا ہے۔ پنجاب پولیس کی رپورٹس اور نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کے اعداد و شمار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ سیکڑوں نوجوان اس وقت ان جھوٹے الزامات کی وجہ سے جیلوں میں ہیں۔ یہ "مافیا" ایک منظم انداز میں کام کر رہا ہے اور اس کا محرک مالی فائدہ ہو سکتا ہے۔ اس معاملے میں کومل اسماعیل عرف "ایمان" نامی ایک خاتون کا نام بھی سامنے آیا ہے جس پر الزام ہے کہ وہ نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے پھنساتی ہے۔ عدالت نے ایف آئی اے کو کومل کا شناختی کارڈ بلاک کرنے اور اس کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں شامل کرنے کا حکم دیا ہے۔ کیونکہ وہ عدالت میں پیش ہونے سے گریز کر رہی ہے۔ یہ حقائق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ توہین مذہب کے حساس قوانین کا استعمال ایک سنگین اور منظم جرم کے لیے کیا جا رہا ہے، جہاں بے گناہ افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

عدالت نے اپنے آرڈر میں لکھا کہ توہین مذہب کے مقدمات میں گرفتار ہونے والے متعدد ملزمان جو کہ ایک دوسرے کو جانتے تک نہیں تھے اور وہ مختلف جیلوں میں قید تھے انھوں نے نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق کے نمائندوں کو بتایا تھا کہ انھیں توہینِ مذہب پر ایک ایمان نامی لڑکی نے اکسایا تھا۔

جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے اپنے حکم نامے میں سپین کے ایک موبائل نمبر کا بھی ذکر کیا ہے جو کہ ’ایمان نامی لڑکی کے زیرِ استعمال تھا اور جس کے بارے میں ایک وکیل راؤ عبدالرحیم کا کہنا تھا کہ انھیں یہ موبائل نمبر سپین میں ان کے کزن نے دیا تھا تاہم جب راؤ رحیم ایڈووکیٹ سے یہ پوچھا گیا کہ ان کا یہ نمبر ایمان نامی لڑکی کے زیرِ استعمال کیسے آیا تو وہ اس کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔

اپنے حکم نامے میں عدالت نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ ’ایمان نامی لڑکی اپنے زیر استعمال موبائل نمبر سے راؤ عبدالرحیم ایڈووکیٹ کے ساتھ رابطے میں تھی اور راؤ عبدالرحیم کے بارے میں سپیشل برانچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے خلاف توہین مذہب کے مقدمات کا اندراج کروانے والے مبینہ گینگ کی سربراہی کرتا ہے۔

عدالت نے اپنے حکم نامے میں یہ بھی کہا ہے کہ ’ان درخواستوں کی سماعت کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک فیس بک کی آئی ڈی اور اس کا پاسورڈ توہین مذہب کے متعدد مقدمات کے اندارج میں استعمال کیے گئے۔ عدالت نے اس پر بھی تشویش ظاہر کی کہ ایک ہی فیس بک کی آئی ڈی اور اس کا پاسورڈ دیگر مقدمات میں کیسے استعمال ہو سکتا ہے۔‘

عدالت نے اپنے حکم نامے میں لیہ یونیورسٹی کے باہر توہینِ مذہب کے مقدمے میں ایک ملزم کی گرفتاری کا بھی حوالہ دیا جس کی فوٹیج کمرہ عدالت میں چلائی گئی اور اس فوٹیج میں ایک گاڑی بھی نظر آ رہی تھی اور ویڈیو میں نظر آنے والی اس گاڑی کی رجسٹریشن کے بارے میں راؤ عبدالرحیم ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ گاڑی کی رجسٹریشن تو ان کے نام پر ہے لیکن اس ویڈیو میں نظر آنے والی گاڑی ان کی نہیں ہے۔

عدالت نے اپنے حکم نامے میں کمرہ عدالت میں چلائی جانے والی ایک اور ویڈیو کا بھی ذکر کیا ہے جس میں توہینِ مذہب کے مقدمات درج کروانے والے مبینہ گینگ کے لوگ اپنے طور پر لوگوں کو غیر قانونی طور پر گرفتار کرتے ہیں اور بعد ازاں ریکارڈ میں ظاہر کیا جاتا ہے کہ ایف آئی اے نے ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔

اس حکم نامے میں ایک اور ویڈیو کا بھی ذکر کیا گیا جس میں توہین مذہب کے ایک ملزم کی اولاد سے پیسوں کا تقاضا کیا گیا اور عدم ادائیگی پر اس کے خلاف بھی توہین مذہب کا مقدمہ درج کروانے کی دھمکی دی گئی۔

اس حکم نامے میں عبداللہ شاہ نامی نوجوان کے قتل کے مقدمے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس کے خلاف راؤ عبدالرحیم ایڈووکیٹ نے توہین مذہب کا مقدمہ درج کروایا تھا۔ اس حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ عبداللہ شاہ قتل کے مقدمے کی تفتیش کے حوالے سے پولیس کے چالان میں یہ کہا گیا ہے کہ عبداللہ شاہ کے قتل سے پہلے اس کی آخری بات چیت راؤ عبدالرحیم ایڈووکیٹ سے ہی ہوئی تھی۔عبداللہ شاہ کے والد نے اسلام آباد کی مقامی عدالت کو یہ لکھ کر دیا تھا کہ انھوں نے اپنے تئیں اس مقدمے کی تفتیش کی ہے جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ راؤ عبدالرحیم اس کے بیٹے کے قتل میں ملوث نہیں ہے۔عدالت نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ سے اس بارے میں رپورٹ طلب کی ہے کہ کیسے پرائیویٹ شخص اپنے طور پر کسی مقدمے کی تفتیش کر کے عدالت میں کسی شخص کے گناہ گار اور بے گناہ قرار دینے سے متعلق بیان دے سکتا ہے جبکہ قانون کے مطابق یہ استحقاق پولیس کے پاس ہے۔

عدالت نے اپنے حکم نامے میں راؤ عبدالرحیم ایڈووکیٹ کے کلرک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ (کلرک) خود کو خاتون ظاہر کر کے مختلف واٹس ایپ گروپس میں چیٹ کرتا اور پھر اسی کی بنیاد پر توہینِ مذہب کے مقدمات کے اندراج کے لیے درخواستیں دائر کی جاتیں۔ عدالت نے اپنے حکم نامے میں یہ بھی کہا ہے کہ توہین مذہب کے مقدمات میں ایک ہی قسم کا مواد بہت سے خدشات کو جنم دیتا ہے۔

جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے اپنے حکم نامے میں یہ بھی کہا کہ نام نہاد ’لیگل کمیشن آن بلاسفیمی‘ جو کہ خود کو این جی او یعنی فلاحی تنظیم کہتی ہے اور اس کمیشن کے سربراہ راؤ عبدالرحیم کر رہے ہیں، یہ نہ تو فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) اور نہ ہی سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں رجسٹرڈ ہے اور اس نام نہاد کمیشن کی سرگرمیوں پر سوالیہ نشان ہیں۔

ان تمام ہولناک حقائق اور اس منظم "مافیا" کو اس طر ح ایکسپوز کرنے میں سب سے پہلے وکیل ایما ن مزاری داد کی مستحق ہیں جس نے نا صرف ان متاثرین کے خاندانوں کی وکیل کے طور پر کھڑی ہیں، بلکہ وہ اس منظم ناانصافی کے خلاف ایک مضبوط آواز بھی ہیں۔ وہ مسلسل اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ توہین مذہب کے قوانین کا یہ غلط استعمال بے گناہ افراد کی زندگیوں کو تباہ کر رہا ہے، اور ایک بار لگ جانے والا داغ بری ہونے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتا۔ ان کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت کو 30 دن کے اندر توہین مذہب کے مقدمات کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔پھر اس مقدمہ کی سماعت کرنے والے جج جسٹس سردار اعجاز اسحاق بھی داد کے مستحق ہیں جنہوں نے اس کیس کی عدالتی کارروائی کو براہ راست نشر کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔

جیسا کہ "ایک بندہ ہی کافی ہے" فلم نے دکھایا، ایک اکیلا شخص بھی سچائی اور انصاف کے لیے سیسہ پلائی دیوار بن سکتا ہے۔ ایمان مزاری بھی اسی جذبے کے ساتھ ان بے سہارا خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہیں، اور ان کی جدوجہد اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک فرد کی استقامت ایک نظام اور ایک منظم مافیا کو جھنجھوڑ سکتی ہے۔ ان کا کام محض قانونی چارہ جوئی نہیں، بلکہ یہ پاکستان میں انصاف کی فراہمی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک مسلسل اور بہادرانہ جنگ ہے۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home