تحریکیں ناکام کیوں ہوتی ہیں ؟ امام حسین ؑ کے پوتے امام زید ؑ کے ساتھ اہل کوفہ کی بے وفائی کی داستاں
نوٹ: یہ تحریر پہلی بار 30 جولائی 2024 کو فیس بک پیج کے لیے لکھی گئی تھی یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر کی جا رہی ہے ۔۔
تحریکیں ناکام کیوں ہوتیں ہیں؟ یہ سوال تاریخ کی ہر کتاب پڑھنے سے
قبل میرے ذہن میں ہوتا ہے ۔ ایک حساب سے میں تاریخ کی کوئی بھی کتاب اسی سوال کی
کھوج میں پڑھتا ہوں ۔ خلفائے راشدین میں حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم واحد خلیفہ
ہیں جن کی خلافت قائم ہی نہیں ہو سکی۔ آپ کو بیشتر وقت میدان جنگ میں گزارنا پڑا ۔
آپ نے اپنا دارلحکومت کوفہ میں منتقل کیا لیکن آپ کی افواج میں ڈسپلن کی شدید کمی
تھی۔ افواج نے خلیفہ راشد پہ عدم اعتماد کا کئی بار اظہار کیا۔ دوران جنگ آپ کی
نافرمانی کی۔ آپ کے فیصلوں کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ اسی کھینچا تانی میں آپ
اپنے ہی منحرف ہوئے ہمنواوں کے ہاتھوں شہید ہو گئے ۔
امام حسن علیہ السلام نے اپنے والد بزگوار کے حالات کا بڑی بریک
بینی سے مشاہد کیا تھا اور اہل کوفہ کو آپ قابل اعتبار نہ سمجھتے ہوئے خلافت سے
دستبردار ہو گئے اس پہ اہل کوفہ نے آپ کو مومنین کے لیے ذلت کا باعث قرار دیا آپ
پہ حملہ بھی کیا جس میں آپ زخمی ہوئے لیکن آپ نے بار خلافت کو اٹھانے سے انکار کر
دیا۔
اہل کوفہ نے نے تیسرے درجے میں امام حسین ؑ کے گرد اپنی سازشوں کے
جال بننا شروع کر دیے اور آپ کو اپنے دام فریب میں لانے میں کامیاب بھی ہوئے ۔ آپ
کو اپنی جھوٹی محبت کا دعوت نامہ بھیجا اور عین وقت پہ آپ کو تنہا چھوڑ دیا ۔
امام حسین ؑ کی شہادت کے بعد بنو امیہ کے خلاف کئی تحرکیں اٹھیں جن
میں بیشتر ناکام ہوئیں ان کی ناکامی کی وجہ ان تحریکوں کا مرکز کوفہ ہونا ہے۔ جیسے
ہی تحریک کا مرکز کوفہ سے ہٹا تحریک کامیاب ہونے لگی۔ اہل کوفہ نے خانوادہ رسالت
پہ خوب آنکھ رکھی ہوئی تھی ۔ امام حسین ؑ کے پوتے ، امام زین العابدین ؑکے بیٹے
اور امام محمد باقر ؑ کے بھائی امام زید بن زین العابدین اہل کوفہ کا اگلا شکار
تھے۔ آپ کی شہادت نے ایک بار پھر کربلا میں ہونے والی بربریت کواس سے بھی آگے بڑھ
کر دہرایا۔
تین صفر المظفر روزِ حضرت زید کا یوم شہادت ہے ۔ آپ نے بھی قیام
کیا تھا۔ آپ کے پیروکار زیدیہ کہلاتے ہیں جبکہ آپ کی نسل سے زیدی سادات ہیں، یمن
میں بھی آپ کے لاکھوں پیروکار ہیں۔ یزید کے بعد ہشام بن عبد الملک نے آل رسول ﷺ پر
بہت ظلم کیا تو حضرت زید نے قیام کا اعلان کیا، حضرت زید شہید نے جب قیام کرنا
چاہا تو کوفہ میں آپ کے شاگردوں نے عرض کی کہ کوفہ میں آپ کے دادا کے نام لیوا بھی
ہزاروں تھے
مسعودی نے "مروج الذہب" میں ذکر کیا گیا ہے۔ جب زید نے
خروج کا ارادہ کیا تو آپ نے اپنے بھائی امام محمد باقر (ع) سے مشورہ کیا۔ حضرت نے
فرمایا: اہل کوفہ پر اعتماد نہ کرنا کیونکہ یہ لوگ دھوکہ اور مکار والے لوگ ہیں۔
اور کوفہ ہی میں آپ کے جد امیرالمومنین (ع) شہید ہوئے ہیں اور آپ کے چچا حسن بن
علی (ع) کو زخمی کیا گیا ہے اور آپ کے جد حسین بن علی (ع) شہید ہوئے ہیں۔ کوفہ میں
ہمارے اہلبیت پر سب و شتم کیا گیا ہے۔ اس کے بعد زید کو بنی مروان کی حکومت اور اس
کے بعد بنی عباس کی حکومت سے باخبر کیا۔
خلاصہ جناب زید نے قیام کردیا لیکن قیام کا نتیجہ وہی ہوا جو امام
باقرؑ نے بتایا تھا کیونکہ جناب زید کے اصحاب جنگ کے شعلے بھڑکنے کے بعد بیعت توڑ
کر فرار کرگئے۔ ۔ لیکن قیامِ وقت ان کی تعداد کم ہوگئی تھی۔ آپ کے ساتھ قیام کرنے
والوں نے آپ سے شیخین (ابو بکر الصدیق، عمر الفاروق) سے بیزاری کا مطالبہ کیا لیکن
آپ نے خاموشی اختیار کی یوں آپ کا لشکر کم ہوکر رہ گیا۔
اور زید کے ساتھ مختصر لوگ رہ گئے اور آپ دشوارترین مسلسل جنگ کرتے
رہی یہاں تک کہ رات ہوگئی۔ لشکر جنگ سے فرار کرگیا، زید کافی زخمی ہوگئے اور آپ کی
پیشانی پر بھی تیر لگا ہواتھا۔ کوفہ کے کسی دیہات سے تیر نکالنے کے لئے حجام کو
بلایا گیا۔ جیسے ہی حجام نے پیشانی سے تیر نکالا زید دار فانی کو وداع کہہ دیا۔
پھر لوگوں نے آپ کا جنازہ اٹھا کر پانی کی نہر میں دفن کردیا اور آپ کی قبر مٹی
اور گھاس پھوس سے بھر دی اور پانی اس کے اوپر سے جاری ہوگیا اور اس حجام سے بھی
معاہدہ کرایا کہ وہ اس بات کو آشکار نہ کرے۔
لیکن افسوس، جب صبح ہوئی تو حجام گورنر کوفہ یوسف بن عمر کے پاس
گیا اور اسے زید کی قبر کا پتہ بتادیا۔ یوسف نے جناب زید کی قبر کھولیاور آپ کا
جسد مبارک نکالا اور آپ کے سر کو تن سے جدا کیا اور جدا کرکے ہشام کے پاس بھیج
دیا۔ ہشام نے لکھا کہ اسے برہنہ کرکے دار پر لٹکادیا جائے۔ یوسف نے انھیں کوفہ کے
کوڑا پھینکنے کی جگہ پر دار پر لٹکادیا۔ کچھ مدت بعد، ہشام نے یوسف کو لکھا کہ ان
کے جنازہ کو جلادو اور اس کی راکھ ہوا میں اڑادو۔ ابوالفرج کی روایت کے مطابق جناب
ولید بن یزید کی خلافت کے ایام تک زید اسی طرح دار پر لٹکے رہے۔ چار سال تک آپ کا
جنازہ دار پر لٹکارہا۔
کوئی بھی تحریک اس وقت ناکام ہوتی ہے جب اس تحریک کے حق میں اٹھنے
والی آواز کی حمایت کا دعویٰ کرنے والے لوگ اہل کوفہ کی فطرت کے مالک ہوتے ہیں ۔
حضرت علی ؑ ، امام حسین ؑ او ر امام زید بن امام زین العابدین ؑ نے اہل کوفہ پہ
اعتماد کرکے تحریک کو کامیاب کرنے کی کوشش کی لیکن اہل کوفہ ہمیشہ اپنی فطرت کے
ہاتھوں مجبور نظر آئے۔ جو زبانی جمع خرچ کے اعتبار سے تو بلند و بانگ دعویٰ کرتے
لیکن عمل کے وقت دھوکہ دے کر پیچھے ہٹ جاتے۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home