Wednesday, 30 July 2025

گدھے کے گوشت سے زیادہ ضمیر کا گوشت زیادہ شرمناک ہے


اسلام آباد میں گدھوں کے گوشت کی فروخت کی خبر نے جیسے ہی سوشل میڈیا پر سر اُبھارا، عوامی جذبات کا سیلاب امڈ پڑا۔ میمز بننے لگیں، تھو تھو کا شور اٹھا، اور معاشرے کے ٹھیکے داروں نے بیان بازی کی یلغار کر دی۔ حیرت ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں اجتماعی طور پر حرام، ظلم، جھوٹ، فریب اور نفاق کو معمولی بات سمجھا جاتا ہے وہاں گدھے کا گوشت کھا لینے پر اتنا شدید ردعمل کیوں؟ کیا ہم واقعی مذہب، قانون اور اخلاقیات کے وفادار ہیں یا محض نمائشی حساسیت کے خول میں لپٹے ہوئے یا مردہ ضمیر کے پجاری؟

اسلامی تعلیمات کے مطابق گدھے کا گوشت حرام ہے اور اس پر اعتراض شرعی بنیاد رکھتا ہے۔ جی ہاں بالکل درست۔ لیکن وہی قوم جو حلال رزق پر اتنے ناز کرتی ہے حرام کمائی، سود، جھوٹ، بددیانتی، دھوکہ دہی، ظلم اور عورتوں کی حق تلفی کو اپنے معمولات میں شامل کر چکی ہے۔ حدیث مبارکہ ہے: "جسم کا وہ گوشت جو حرام سے پلا ہو، جہنم کی آگ کے سوا اس کے لیے کچھ نہیں۔" پھر وہ لاکھوں کروڑوں لوگ جو سودی بینکوں سے قرضے لیتے ہیں، سرکاری تنخواہیں کھا کر کام نہیں کرتے، جھوٹی رسیدوں سے بجٹ کھاتے ہیں... کیا ان کے گوشت کو حلال سمجھا جائے؟ گدھے کا گوشت کھا کر ہنہنانا برا ہےتو جھوٹ بول کر نماز پڑھنا کیا ٹھیک ہے؟

پاکستانی قوانین میں مخصوص جانوروں کا گوشت فروخت کرنے کی اجازت ہے اور گدھا ان میں شامل نہیں۔ لیکن کیا جھوٹی گواہی دینا قانوناً جرم نہیں؟ کیا سرکاری خزانے میں خرد برد جرم نہیں؟ کیا عورتوں کو وراثت سے محروم رکھنا جرم نہیں؟ پھر یہ جرائم روز پاکستان میں کیوں ہو رہے ہیں؟ کہاں ہیں وہی لوگ جو گدھے کے گوشت پر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں؟ کیا وہ پٹواری کے سامنے رشوت دے کر شرمندہ ہوتے ہیں؟ کیا عدالت میں جھوٹ بول کر ضمیر پر بوجھ محسوس کرتے ہیں؟ قانون صرف گوشت والے قصائی پر لاگو ہوتا ہے، یا ہر اس پر جو اس ملک کا بیٹا ہے؟

برصغیر میں گدھا ذلت کی علامت رہا ہے اس لیے اس کا گوشت کھانا نفسیاتی طور پر ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے کردار کے گدھے پن پر بھی اتنا ہی شرمندہ ہوتے ہیں؟ کیا جعلی ڈگری، نقل، جھوٹی شان و شوکت، زنا، فحاشی، دوغلا پن، منافقت اور فریب کو بھی ایسا ہی ناپسند کرتے ہیں؟ افسوس، ہمارے معاشرے میں جھوٹ بولنا ذہانت، دھوکہ دینا چالاکی، اور حرام کمانا کامیابی کی علامت بن چکی ہے۔

ہر کاروبار جھوٹ پر کھڑا ہے۔ گھی خالص نہیں، دوا میں ملاوٹ، پیمائش میں کمی، رسید میں جھوٹ — سب کچھ چلتا ہے۔ قرآن کہتا ہے: "لعنت ہے جھوٹوں پر۔" (الزمر 3:61)۔ پاکستانی معیشت سود پر استوار ہے۔ ہر گھر میں سودی قرض، ہر دفتر میں سودی سرمایہ کاری۔ لیکن کوئی بینکر کو گدھا نہیں کہتا۔ "اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کا اعلان ہے اُن لوگوں کے لیے جو سود کھاتے ہیں۔" (البقرہ 2:279)۔ پٹواری سے لے کر سپریم کورٹ تک کرپشن ہی نظام ہے۔ لیکن یہ سب "قابلِ قبول" ہے، بس گدھا نہ ہو! حدیث ہے: "رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں۔" (ابوداؤد)

غیبت ایسا ہے جیسے تم اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاؤ۔ (الحجرات 49:12)۔ سوشل میڈیا پر کسی کی عزت اچھالنا، جھوٹے الزامات لگانا، کردار کشی کرنا — یہ سب تفریح بن چکا ہے۔ فیس بک، یوٹیوب، ٹک ٹاک پر مذہب کے نام پر منافرت، عالموں کی غیبت، سیاسی بہتان — ضمیر کا قتل روز ہو رہا ہے۔

قرآن کہتا ہے: "زنا کے قریب نہ جاؤ، بے شک یہ بے حیائی ہے۔" (الاسراء 17:32)۔ لیکن کیا واقعی ہم زنا سے دور ہیں؟ ہمارے کالجز، دفاتر، سوشل میڈیا، ٹی وی ڈرامے، فلمیں — سب جنس، رومانس اور فحاشی کا گڑھ بن چکے ہیں۔ جنسی ہراسانی، شادی سے پہلے تعلق، ہم جنس پرستی کے دفاعی بیانات... سب کچھ عام ہے۔ مگر گدھے کا گوشت؟ ناقابلِ معافی!

نقل عام ہے، جعلی ڈگریاں مارکیٹ میں دستیاب، ٹیچرز حاضری لگا کر غائب۔ علم فروشی کا یہ حال ہے کہ ایک نسل بغیر علم کے ڈگری ہولڈر ہے۔ مگر ضمیر پر بوجھ نہیں۔ بس پلیٹ میں گدھے کا گوشت نہ ہو!

قرآن کہتا ہے: "عورتوں کو ان کے حصے دو، چاہے وہ کم ہوں یا زیادہ۔" (النساء 4:7)۔ پاکستان کے دیہی علاقوں میں لاکھوں عورتیں آج بھی اپنے باپ کی زمین سے محروم ہیں۔ بھائی، چچا، ماموں سب مل کر حقدار کو دھتکار دیتے ہیں۔ کیا یہ بھی گدھے کا گوشت نہیں؟

نبی ﷺ نے فرمایا: "تم سے پہلی قومیں اسی لیے تباہ ہوئیں کہ وہ طاقتور کو چھوڑ دیتیں اور کمزور پر حد قائم کرتیں۔" پاکستان میں میرٹ ایک مذاق ہے۔ نوکری، اسکالرشپ، ٹرانسفر — ہر چیز تعلق، سفارش، یا "نظرانے" سے طے پاتی ہے۔

یہ وہ گوشت ہے جو جھوٹ سے کٹتا ہے، ظلم سے بھنتا ہے، منافقت سے چبایا جاتا ہے، اور لاشعور میں ہضم ہوتا ہے۔ ہم روز ضمیر کا گوشت کھاتے ہیں، مگر نخرہ گدھے پر کرتے ہیں۔

گدھے کا گوشت کھانے والے پر تھو تھو کرنے سے پہلے ہمیں اپنی جھوٹی گواہیوں پر، اپنی حرام کمائی پر، اپنی غیبت اور بہتان پر، اپنی فحاشی اور منافقت پر، اپنی سود خوری اور وراثت کی چوری پر شرم آنی چاہیے۔ یہی معاشرہ ہے جو رات بھر حرام کما کر صبح جمعہ کی نماز پڑھتا ہے، جو بیٹیوں کو وراثت سے محروم کر کے "ولیمہ" میں بریانی بانٹتا ہے، جو غریب سے چھینتا ہے اور ٹی وی پر صدقہ دیتا ہے۔

اگر واقعی غیرت ہے تو سودی اکاؤنٹ بند کرو، عورت کو اس کا حق دو، رشوت نہ لو، جھوٹ نہ بولو، فحاشی کی حمایت بند کرو، مذہب کو دکان نہ بناؤ۔ ورنہ یاد رکھو: "جس قوم کا ضمیر مر جائے، وہ گوشت کے فرق سے نہیں، فہم کے فالج سے مرتی ہے۔"

لہٰذا ہمیں گدھے کے گوشت سے زیادہ، ضمیر کے گوشت پر شرم آنی چاہیے۔ 

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home