Monday, 4 August 2025

قرآن مجید کے تراجم کے مسائل اور ریاستی ذمہ داری

 

یہ آرٹیکل سب سے پہلے 4 اگست 2024 کو فیس بک پیج کے لیے لکھا گیا تھا یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر کیا جا رہا ہے۔

قرآن مجید کے ترجمہ کو لیکر مسائل بہت قدیمی ہیں۔ کئی صدیوں تک علما اس بات پہ بضد رہے کہ اس کا ترجمہ نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن جب برصغیر میں شاہ ولی اللہ جیسی بڑی اور قد آور شخصیت نے اس ٹیبو کو توڑ ڈالا تو پھر جس کی کہیں نہیں چلی اس نے قرآن پہ طبع آزمائی کی اور کئی تراجم مارکیٹ میں آ گئے۔ قرآن مجید کے تراجم میں فرق پہ اختلاف پہلے فکری نوعیت کا تھا کیونکہ انگریز سرکار کسی کو مذہب کی بنیاد پہ قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیتی تھی بس آپ کتاب کے بدلے کتاب لکھ کر اعتراض کر سکتے تھے۔ تب کے علما بھی بہت قانون پسند ہوا کرتے تھے۔ مجال ہے کسی کو گستاخی پہ جان سے سے مار دینے کا کوئی فتویٰ جاری کیا ہو۔ پھر انگریز سے آزادی مل گئی اور علما بھی آزاد ہو گئے اب تراجم میں دوسروں کے ایمان کا جائزہ لینے کا رواج بھی پانے لگا۔

پاکستان میں بریلوی مسلک کے رجحان رکھنے والے افراد کثرت سے پائے جاتے ہیں جو اپنے لیے ایک صدی قبل کی علمی شخصیت احمد رضا خان بریلوی کی کتب کو حرف آخر کے طور پہ لیکر چلتے ہیں۔ احمد رضا خان بریلوی نے کنزالایمان کے نام سے قرآن مجید کا ترجمہ کیا جو آج تک ان کے ہاں معتبر ترین قرآن کا فہم سمجھا جاتا ہے۔

احمد رضا خان بریلوی صاحب کے ترجمہ قرآن کے آخر پہ اس ترجمے کا دیگر کئی دوسرے تراجم کے ساتھ موازنہ کیا گیا ہے۔ جس کا ایک مقصد کنزالایمان کا امتیاز ثابت کرنا ہے وہیں پہ دوسرے تراجم کا غیر معیاری، قرآن و سنت کے برعکس اور گستاخی پہ مبنی ثابت کرنا بھی ہے۔ 

دوسرے مکاتب فکر نے بھی کئی ایسی کتب تحریر کیں جن میں یہ ثابت کیا گیا کہ کنزالایمان دراصل قرآن مجید میں تحریف کی ایک گھناؤنی سازش ہے۔ مخالف فرقے کے لوگوں نے جو کنزالایمان پہ اعتراضات عائد کیے ان میں اس کا ظاہر نظم قرآنی سے ہٹ کر ہونا، شان نزول سے مطابقت نہیں رکھتا، وحی الٰہی، فہم رسول ﷺ اور فہم صحابہ کے خلاف ہونا، عربی گرائمر کے اعتبار ترجمہ کا غلط ہونا، احادیث صحیحہ کے خلا ف ہونا، ۔ترجمے کا عقلاً مخدوش ہونا، ہر اعتبار سے نامناسب ہونا، قرآن مجید میں اس کی کسی گنجائش کا  نہ ہونا، ترجمے کا ضعیف ہونا، سیاق و سباق کے خلاف ہونا، ترجمہ کا دشوار ہونا، برصغیر کی عوام کو سمجھ سے بالاتر ہونا اور پرانی اردو پر مشتمل ہونا جیسے سنگین اعتراضات شامل ہیں۔  

اسطرح وہ قرآن جو اپنی ٹیکسٹ کے اعتبار سے واحد چیز ہے جو امت میں مشترک ہیں وہ تراجم کی صورت میں مختلف فیہ ہو گئی۔ جس سے اس کا پیغام اپنے معنویت کھو بیٹھا۔ قرآن مجید منتشر معاشرے کو یکجا کرنے کے لیے نازل ہوا ہے اس لیے اگر اس کے تراجم کی بنیاد پہ امت میں تفریق پیدا ہوتی ہے تو ایسے تراجم نظر آتش کر کے واپس اس کی اصل کی طرف آنا چاہیے۔

قرآن مجید کا قریب قریب ہر زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے اور اس کے کئی مترجمین ایسے بھی ہیں جو مسلمان بھی نہیں ہیں بلکہ محض عربی زبان میں مہارت حاصل کرنے کے بعد اسے اپنی زبان میں عام فہم بنا لیا۔ قرآن مجید کا سب سے پہلے ترجمہ بھی عیسائیوں نے کیا تھا۔

ریاست کو اس ضمن میں ایک درجہ آگے آنے کی ضرورت ہے۔ قرآن کو سرکاری دستاویز قرار دے کر ہر فرد کو اس کا ترجمہ کرنے اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ بلکہ عربی زبان میں بہترین مہارت رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد میں ایک کمیٹی بنا کر قرآن کے الفاظ کو عام فہم بنانے کے لیے سرکاری سطح پہ ترجمہ کر کے چھاپ دیا جائے جسے ہر کوئی پڑھ کر مستفید ہو سکے۔ 

اس ضمن میں اہل عرب میں جو قدیم عربی کے ماہرین ہیں ان سے معاونت بھی لی جا سکتی ہے تاکہ مختلف اصطلاحات اور محاوروں کا درست معنی نکالا جا سکے۔اس کے بعد اگر کوئی گروہ اس ترجمے کے برعکس ترجمہ کرے تو ریاست اپنی حدود میں وہ سزا دے جو ریاستی قوانین کے تحت تجویز کی گئی ہے۔

حضرت عثمان غنی کو جامع القرآن کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے امت کو ایک قرآن پہ جمع کیا۔ ڈاکٹر حمیداللہ کے مطابق حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جامع القرآن کہا جاتا ہے اس کے معنی یہ نہیں کہ انہوں نے قرآن کو جمع کیا۔ اس کی تاویل ہمارے مورخوں نے یہ کی ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کو ایک ہی قرآن پر جمع کیا۔ جو اختلاف بولیوں میں پایا جاتا تھا اس سے ان کو بچانے کے لیے مکہ معظمہ کے تلفظ والے قرآن کو انہوں نے نافذ کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر یہ اجازت دی تھی کہ مختلف قبائل کے لوگ مختلف الفاظ کو مختلف انداز میں پڑھ سکتے ہیں تو اب اس کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی کیونکہ مکہ معظمہ کی عربی اب ساری دنیائے اسلام میں نافذ اور رائج ہو چکی ہے۔ اس طرح حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسلمانوں کو ایک قرآن مجید پر جمع کیا۔ خدا ان کی روح پر اپنی برکات نازل فرمائے۔ 

اس لیے ریاست بزور طاقت پہلے ایک ترجمہ پہ قوم کو جمع کرے پھر اس انحراف کی صورت میں سزا پہ عمل درآمد ممکن ہوگا۔ ایسے میں جب پہلے سے موجود تراجم پہ اعتراضات موجود ہیں تو پھر کسی نئے ترجمے پہ اعتراضات بھی اسی نوعیت سے سمجھے جائیں گے جو پہلوں پہ ہیں۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home