Thursday, 14 August 2025

تقسیم ہندوستان کے وقت وجود میں آنیوالی ریاستوں کے کھوکھلے وعدے

یہ تحریر پہلی بار 16 اگست 2023 کو فیس بک کے پیج کے لیے لکھی گئی تھی یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر کی جا رہی ہے۔
ریاستوں کی ترقی کا راز ان وعدوں میں چھپا ہوتا میں جو وہ اپنے قیام کے وقت اپنے ساتھ جڑنے والی اکائیوں اور قوموں کے ساتھ کرتے ہیں۔ شریک سفر کے ساتھ وفاداری، اعتماد اور بھروسہ ریاستوں کی سربلندی کا نمایاں عناصر ہیں۔ریاست ہائے متحدہ امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے۔ جو زندگی کی ہر دوڑ میں دنیا بھر کے لیے ایک رول ماڈل کے طور پہ سامنے آیا ہے۔ امریکہ قیام کے وقت 13 ریاستوں پر مشتمل تھا۔ انہی 13 ریاستوں کے نمائندوں نے دنیا کا بہترین دستور تشکیل دیا جس میں ایک دوسرے سے متعلق کچھ وعدے کیے۔عظیم انقلابی لوگوں نے امریکی عوام کو برطانوی سامراج کی لعنت سے نجات دلانے کے لیے 4 جولائی 1776ء کو ملک کے کونے کونے سے فلاڈلفیا کے مقام پر جمع ہو کر کانگریس کے آئینی کنونشن میں شامل ہوکر اعلان خود مختاری پر دستخط کیے۔ انہوں نے اپنے آرام و آسائش پر آزادی کو ترجیح دی اور یہ عہد کیا کہ
”اس اعلان آزادی و خود مختاری کی تائید کے لیے پروردگار عالم کی قوت حاکمہ کی حفاظت اور مدد پر پورا بھروسا کرتے ہوئے ہم آپس میں یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے حصول مقصد کے لیے اپنی جانوں، اپنی جائیدادوں اور اپنی عزت و ناموس کے ساتھ اس کا تحفظ اور اس کی تائید کریں گے۔“
اس عزم و استقلال کے نتیجے میں انقلابی قیادت کو جن مشکلات اور مصائب کا مقابلہ کرنا پڑا ان کا مختصر بیان اوپر کی سطور میں آ چکا ہے۔ لیکن ان انقلابی قائدین کے سامنے واضح منزل تھی۔ اپنے ملک کی آزادی و خود مختاری۔ وہ اس منزل کی طرف ثابت قدمی سے بڑھتے رہے اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ اعلان خود مختاری کے 225 سال بعد ترقی و تعمیر کی تمام منزلیں طے کر کے امریکا دنیا کی سپر طاقت بن چکا ہے۔
ریاستوں کے رقبے اور آبادیوں کے سائز میں بہت نمایاں فرق کے باوجود کسی ریاست کو دوسرے درجے کا شہری ہونے کا احساس نہیں ہوا۔ ان وعدوں پہ اعتبار کرتے ہوئے بعد میں 37 مذید ریاستوں نے اس اتحاد کو جوائن کیا۔ یہ فیڈریشن آج بھی نہایت کامیابی سے چل رہی ہے اور ہر اچھے برے وقت میں چٹان کی طرح مضبوط ثابت ہوئی ہے۔ اس مضبوطی کی وجہ ان ریاستوں کا آپس میں ایک دوسرے کے لیے خلوص اور کیے جانے والے وعدوں کی پاسداری ہے۔
تقسیم ہندوستان کے وقت قائم ہونے والی دونوں ریاستوں پاکستان اور ہندوستان نے اپنے ساتھ جڑنے والی اکائیوں اور قوموں کے ساتھ وعدے کیے۔ انڈیا نے اپنے ہاں رہنے والی غیر ہندو اقوام کے تحفظ کے لیے اپنے آئین کی بنیاد سیکولرزم پہ رکھی۔ جبکہ ریاستوں کے ساتھ وعدوں کو بھی دستوری ضمانت دی گئی۔
پاکستان نے بھی کم و بیش اسی طرح کے وعدوں سے آغاز کیا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے 11 اگست 1947 کی اسمبلی میں کی جانیوالی تقریر میں غیر مسلم اقوام کو برابر کے شہری حقوق دینے کا وعدہ کیا۔ آپ نے فرمایا:
"پاکستان میں آپ آزاد ہیں ، اپنے مندروں میں جائیں ، اپنی مساجد میں جائیں یا کسی اور عبادت گاہ میں۔ آپ کا کسی مذہب ، ذات پات یا عقیدے سے تعلق ہو ، کاروبار مملکت کا اس سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔"
اسی طرح قیام پاکستان کے وقت جو ریاستیں پاکستان کے وفاق کا حصہ بنی ان ریاستوں میں بہاولپور (پنجاب)، قلات، لسبیلہ، خاران، مکران (بلوچستان)، خیر پور (سندھ)، چترال، سوات، اَمب، دیر (خیبر پختونخوا)، ہنزا، نگر (گلگت/ بلتستان) شامل ہیں۔
بھارت اور پاکستان کے ان سیاسی وعدوں کا تجزیہ کیا جائے جو انہوں نے شامل ہونے والی ریاستوں کے ساتھ کیے تھے تو دونوں کے ہاتھ ایک طرح کی میل سے آلودہ ہیں۔ قائد اعظم کے غیر مسلم پاکستانیوں کے ساتھ کیے گئے وعدے کو ان کی وفات کے ساتھ ہی قرار داد مقاصد کے مقدس غلاف میں لپیٹ کر دفن کر دیا گیا جس کے بعد سیاسی اعتبار سے غیر مسلم ایک دوسرے درجے کے شہری قرار پائے۔
پاکستان میں شامل ہونے والی ریاستوں نے شامل ہوتے وقت معاہدہ الحاق میں پاکستان کو اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دی تھی۔ یہ صورتحال ون یونٹ کے قیام تک برقرار بھی رہی۔ لیکن آئین میں تاخیر کی وجہ مشرقی اور مغربی پاکستان میں صوبوں اور آبادی کی صورتحال میں یکسانیت نہ ہونے کے باعث مغربی پاکستان کی وحدت وجود میں ائی۔ جو سانحہ مشرقی پاکستان تک برقرار رہی۔ جب ون یونٹ ٹوٹا صوبے اپنی پرانی حالت میں واپس گئے تو اصولی طور پہ ریاستوں کو بھی اپنی اصل حالت میں بحال ہو جانا چاہیے تھا لیکن ایسا نہ ہوسکا اور ریاستوں کو صوبوں میں ضم کر دیا گیا۔ جس سے معاہدہ الحاق کو روند ڈالا گیا۔
انڈیا نے اگرچہ ایک لمبے عرصہ تک دنیا کے سامنے خود کو سیکولر ریاست کے لبادے میں دکھائے رکھا لیکن اب یہ صورتحال ہے کہ انڈیا کے 30 کروڑ مسلمانوں کی لوک سبھا کے ساتھ ساتھ راجیا سبھا میں کوئی ایک نمائندگی بھی نہیں ہے۔ 27 صوبوں میں سے کسی ایک صوبے میں مسلمان وزیراعلی منتخب نہیں ہوا ہے۔ صرف ایک صوبے کیرالہ میں مسلمان گورنر عارف محمد خان کا تقرر ہوا ہے۔ اس صورتحال سے زیادہ بری صورتحال کا ہونا شائد ممکن نہیں ہے۔ اس نے سیکولرزم کا پردہ چاک کر دیا ہے اور غیر ہندو اقوام اپنی حالت پہ نوحہ کناں ہیں۔
انڈیا کے آئین کے آرٹیکل 35 اور 370 کو ختم کر کے کشمیر کے الحاق کے وقت کشمیر کو دی جانیوالی دستوری ضمانت ختم کر کے اسے بھارت میں ضم کر لیا گیا ہے۔
انڈیا اور پاکستان آبادی اور رقبہ کے اعتبار سے دنیا کے وسیع ترین ممالک میں شمار ہوتے ہیں لیکن غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد ابھی تک کروڑوں میں ہے۔ پاکستان اپنی پچیسویں سالگرہ سے قبل دو حصوں میں ٹوٹ گیا بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں علیحدگی کی تحریکیں زور پہ ہیں۔ بھارت میں بھی درجن کے قریب علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں جو ایک ٹائم بم کی مانند ہیں جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر وفاق میں شامل یونٹس کی تعداد زیادہ ہونے سے ملک کمزور ہونا ہوتے تو یقینی طور پہ بھارت اب تک ٹوٹ چکا ہوتا جو کہ 8 صوبوں سے سفر شروع کر کے 27 تک پہنچ چکا ہے۔ امریکہ 50 ریاستوں کا ایک اتحاد ہے وہ بھی 225 سال سے زائد وقت تک نہ چل پاتا۔ اس لیے ہمیں تاخیر سے ہی سہی لیکن اپنے صوبوں کی جیوگرافیائی حدود کا ازسر نو تعین کرنا چاہیے۔ اس سے صوبائی دارالحکومت سے دور دراز علاقے اپنے قریب طاقت کے مراکز پا سکیں گے اور سہولیات باہم پہنچانے میں آسانی ہو گی۔ ہم نے برصغیر کی سب سے خوشحال ریاست بہاولپور حاصل کی جو اتنی خوشحال تھی کہ ابتداء میں سارے پاکستان کا بوجھ اٹھائے رکھا لیکن ون یونٹ میں شامل ہونے اور بعد میں پنجاب میں ضم ہونے کے بعد پسماندہ علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔
دوسرا قائد اعظم کے غیر مسلموں سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کے لیے خود کو آمادہ کریں۔ یہ قومیں قیام پاکستان میں ہمارے ساتھ شریک سفر تھیں انہیں دوسرے درجے کا شہری نہ بننے دیا جائے۔ بھارت کو بھی پاکستان کی تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہیے کہ مذہبی انتہا پسندی کا انجام امن تو ہرگز نہیں۔ آج جو مذہب غیر ہندوؤں کا وجود گوارہ نہیں کر رہا کل کو یہ مخصوص ہندوؤں کے علاؤہ دیگر ہندوؤں کا وجود گوارہ نہیں کرے گا۔
آزادی کے 75 سال پورے ہونے پہ دونوں ریاستیں اپنے ان وعدوں کی طرف واپس لوٹ جائیں جو انہوں نے اپنے قیام کے وقت اپنے ساتھ شامل ہونے والی ریاستوں یا دیگر اقوام کے ساتھ کیے تھے اسی میں فلاح ہے.

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home