Saturday, 16 August 2025

پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی غلطی : خان آف قلات اور 3 جون 1947 پلان


بارہویں جماعت کی سوکس کی درسی کتاب جو کہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے شائع کی ہے اس کے صفحہ نمبر 31 پہ 3 جون 1947 کے منصوبے پہ عمل درآمد کے سلسلے میں بلوچستان کے بارے لکھا گیا کہ خان آف قلات نے پاکستان کی حمایت کی تھی۔ ایک ایسا واقعہ جس پہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں 78 برس سے فوجی آپریشن جاری ہے محض سات لفظی جملے میں حقائق کو نہایت غلط انداز میں اور جھوٹ پہ مبنی بیان کیا گیا۔

 ٹیکسٹ بک میں 3 جون 1947 کے منصوبے کے تحت خان آف قلات کے پاکستان سے الحاق کی حمایت کا بیان تاریخی دستاویزات اور معتبر محققین کی شہادتوں کے بالکل منافی ہے۔ 2019 میں سلمان رشید اپنی معرکۃ الآراء کتاب "دی بلوچ اینڈ دیئر ہسٹری" میں واضح کرتے ہیں کہ 15 اگست 1947 کو خان آف قلات میر احمد یار خان نے باقاعدہ طور پر قلات کی آزادی کا اعلان کیا تھا جسے برطانوی راج کے خاتمے کے قانونی تناظر میں درست تسلیم کیا گیا تھا۔ اس کی تصدیق برٹش انڈیا آفس ریکارڈز (لندن، ریفرنس L/PJ/7/12499) سے ہوتی ہے۔ جہاں 11 جولائی 1947 کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے دفتر سے جاری نوٹ میں تسلیم کیا گیا تھا کہ "قلات قانونی طور پر آزاد ہے اور اپنی مرضی سے اپنی حیثیت برقرار رکھ سکتا ہے"۔

 مزید یہ کہ پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح نے خود 11 اگست 1947 کو خان آف قلات کو لکھے گئے سرکاری خط (دستاویز نمبر F. 7/9/48-Pol، پاکستان نیشنل آرکائیوز) میں صراحت کی تھی: "میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان قلات کو ایک آزاد خودمختار ریاست تسلیم کرتا ہے"۔ یہ خط 1987 میں مورخ ایچ۔ ڈی۔ کرائیگر نے اپنی کتاب "دی پارٹیشن آف انڈیا اینڈ ماؤنٹ بیٹن" (میں بھی درج کیا ہے جو قلات کی ابتدائی آزادی کے پاکستان کی جانب سے تسلیم شدہ ہونے کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔

ڈاکٹر انعام الحق جاوید اپنی تحقیقی کتاب "بلوچستان: سیاسی جدوجہد کا ارتقا" کے صفحہ 142-150 میں ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان نے مارچ 1948 میں قلات پر معاشی ناکہ بندی، فوجی دباؤ اور خان کے خلاف قبائلی بغاوت کو ہوا دے کر ایک جبری الحاق کروایا۔ 27 مارچ 1948 کو پیش کیے گئے اس نام نہاد "الحاق نامے" کی نوعیت خود پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان نے 1948 میں  اپنے اقوام متحدہ کے خط میں "ایک آزاد ریاست کا الحاق" قرار دے کر اس کی آزاد حیثیت کو غیرمستقیم طور پر تسلیم کیا۔

معروف ماہرِ سیاسیات ڈاکٹر عاصم بخشانی نے 2015 میں  اپنے مقالے "پاکستان میں ریاستیں: الحاق کا تنازع" میں لکھتے ہیں کہ قلات کا معاملہ تمام دیگر ریاستوں سے منفرد تھا کیونکہ جناح خود اس کی آزادی کے حق میں تھے مگر بعد ازاں پاکستانی بیوروکریسی کی جارحانہ پالیسیوں نے اسے زبردستی ضم کیا۔ یہی موقف بلوچستان ہائی کورٹ کے 2013ء کے تاریخی فیصلے (آئینی درخواست نمبر 56/2009) میں بھی دیکھا جا سکتا ہے، جہاں عدالت نے تسلیم کیا کہ قلات کا الحاق "قانونی خامیوں" کا شکار تھا اور خان آف قلات کو اس پر مجبور کیا گیا۔

ان تمام ثبوتوں کے باوجود پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ سوکس کی درسی کتاب میں "3 جون 1947 کے منصوبے کے تحت الحاق" کا بیانیہ نہ صرف غلط ہے بلکہ ایک شعوری تاریخی مسخ شدگی بھی۔ 3 جون کا منصوبہ ریاستوں کو پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کا اختیار دیتا تھا لیکن قلات نے کسی کے ساتھ فوری الحاق سے انکار کر دیا تھا۔ اصل الحاق 27 مارچ 1948 کو ہوا، جو تقسیم کے آٹھ ماہ بعد اور ایک پرتشدد عمل کے نتیجے میں تھا۔ مورخ سید صباح الدین عبدالرحمن اپنی کتاب "پاکستان میں ریاستیں: ایک تنقیدی تاریخ" میں اسے "پاکستانی قوم پرستانہ تاریخ نگاری کا سب سے بڑا تضاد" قرار دیتے ہیں۔ جہاں جناح کے اپنے خط کو نظرانداز کرکے ایک جعلی روایت گڑھ لی گئی۔ اس تاریخی غلطی کا اثر نہ صرف طلبہ کے فہمِ تاریخ پر پڑتا ہے بلکہ بلوچستان کے موجودہ تنازعات کو سمجھنے کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے، جس کی تصحیح اشد ضروری ہے۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home