Wednesday, 20 August 2025

نجم سیٹھی آپ کا شکریہ

یہ  کالم پہلی بار 20 جون 2017 کو پاکستان کے ورلڈ چیمپین شپ  جیتنے کے موقعہ پہ فیس بک کے لیے لکھا تھا یہاں نشر مکر ر کے طور پہ شئیر کیا جا رہا ہے۔ 

نجم سیٹھی پاکستان کی بہت ہی منفرد شخصیت ہیں جن ک زندگی مختلف نوعیت واقعات سے ایسے بھری ہوئی ہے کہ انسان دنگ راہ جائے۔ وہ ایک کامیاب انسان ہیں ۔وہ اس وقت The Friday Timesکے ایڈیٹر انچیف ہونے کے ساتھ ساتھ جیو نیوز پہ ایک سیاسی پروگرام آپس کی بات بھی ہوسٹ کر رہے ہیں ۔ لیکن اس وقت ان کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ پاکستان کرکٹ بورڈ سے منسلک ہونا ہے۔ وہ پنجاب میں نگران حکومت کے سربراہ بھی رہے جس کی وجہ سے عمران خان نے ان پہ 35پنکچروں کا الزام بھی عائد کیا مگر عدالت میں وہ الزام ثابت نہ ہو سکا ۔ اس کے باوجود عمران خان کی طرف سے نجم سیٹھی کو ہدف تنقید بنانا ایک معمول کی بات ہے۔وہ نجم سیٹھی کو پاکستان کی کرکٹ کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں اور بار بار یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ کرکٹ کے معاملات کرکٹر کے ہاتھ میں دیے جائیں ۔انڈیا کے خلاف آئی۔ سی۔ سی۔ٹرافی کے پہلے میچ میں شکست کے بعد ایک ٹی وی انٹر ویو میں انھوں نے شکست کی ذمہ داری نجم سیٹھی پہ ڈالتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ نجم سیٹھی سے کہیں کہ خود پیڈز پہن کر کھلنے جائے۔

نجم سیٹھی نے تقریباساڈھے چار برس قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات سنبھالے تو اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ ابتری کی آخری حدوں پہ تھا۔پاکستان میں کرکٹ کی واپسی کا سوچنا بھی گنا ہ تھا۔ پاکستان کے کھلاڑیوں کا میچ فکسنگ سکینڈل میں ملوث ہونے کے بعد مورال گر چکا تھا۔پاکستان کرکٹ کے تینوں فارمیٹ میں نچلی ترین سطح پہ تھا۔ تمام ممالک میں ٹی -20کرکٹ ٹورنا منٹ کے باعث نئے کرکٹر سامنے آ رہے تھے جس سے کرکٹ کا معیا بلند ہو رہا تھا ۔ آئی پی ایل T-20کے بڑے برینڈ کے طور پہ سامنے آچکا تھا جو کہ انڈٰیا کی تھرڈ کلا س ٹیم میں ویرات کوہلی، اجیکے رائینے، ایشون، جڈیجا جیسے کرکٹر متعارف کرواکر انڈیا کو تینو ں فارمیٹ کی چیمپئین ہونے کا اعزاز بخش چکے ہیں ۔بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز کےکھلاڑی بھی ان کی ایسی ہی لیگز سے جنم لیکر ان کی کرکٹ کو زندہ رکھے ہوئے ہیں ۔

آج پاکستان آئی ۔سی ۔ سی کی چیمپئن ٹرافی کا فاتح ہے توہر کوئی بھی اسکا کریڈیٹ لینے کی دوڑ میں ہے۔ہر طرف سے تعریفی پیغامات موصول ہو رہے ہیں ۔ پاکستان کی کارکردگی جس طرح کی پورے ٹورنا منٹ میں رہی اس کی مثال دینا ممکن نہ ہے۔فائنل میں پاکستان نے روائتی حریف انڈیا کو تاریح ساز شکست سے دوچا ر کر کے چیمپین ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ آئیے ذرا اس فتح کا تجزیہ کریں اور دیکھیں کہ یہ فتح کیسے ممکن ہوئی۔پاکستان کی فتح میں جن کھلاڑیوں نے اہم کردار ادا کیا ان میں محمد عامر، حسن علی، فخر زماں، عماد وسیم، بابر اعظم اور شاداب خان شامل ہیں ۔یہ سب کھلاڑی کون ہیں ؟ ان کو یہاں تک لے کر آنے والا کون ہے؟یہ سب وہ کھلاڑی ہیں جو پاکستان سپر لیگ کی دو سیزنوں کی پیداوار ہیں ۔ اور پاکستان میں کرکٹ نئی کروٹ لے رہی ہے۔
وہ ملک جہاں پہ 9 برس سے کرکٹ نہ کھیلی گئی ہو وہاں سے ایسے کھلاڑیوں کا مسلسل پیدا ہونا کسی معجزے سے کم نہیں ۔یہ صرف نجم سیٹھی ہی تھا جس کی انتھک کاوشوں کی بدولت پی۔ ایس۔ایل ایک کامیاب ایونٹ بن رہا ہے۔ جس میں شامل ٹیمز کراچی کنگز اور لاہور قلندرز نے ٹیلنٹ ہنٹ کے تحت ہزاروں نوجوانوں کو موقعہ دیا کہ وہ اپنی قابلیت کے جوہر دیکھا سکیں ۔نئے کھلاڑیوں کو انٹر نیشل پلیئرز کے ساتھ کھیلنے کا موقعہ ملا جس سے وہ سٹارز سے سپر سٹارز کے روپ میں ڈھلنا شروع ہو گئے۔

پاکستان کا چیمپین بننا صرف اور صرف نجم سیٹھی کے پروجیکٹ پی۔ایس۔ایل کی بدولت ممکن ہوا۔ پی ۔ایس۔ ایل کے انعقاد کے وقت ہر بڑے سے بڑا سپر سٹا ر بھی ایک شک کی کیفیت میں تھا کہ پاکستان میں اس کا انعقاد ممکن نہیں ۔ اگر کسی کو یقین تھا تو وہ نجم سیٹھی ہی تھا ۔ پاکستان نجم سیٹھی کی سربراہی ہی میں تاریخ میں پہلی بار ٹیسٹ رینکنگ میں نمبر 1 ٹیم بنی ۔ اور یہ وہ ٹیم ہے جس نے ایک بھی میچ اپنی سرزمین پہ نہیں کھیلا۔ اس ٹیم کے پاس عمران خان، وسیم اکرم، وقار یونس اور شعیب اختر جیسے بولرز بھی نہیں تھے جو کہ مخالف ٹیم کو کسی بھی ہدف تک محدود رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔ نہ ہی اس ٹیم میں ایشین بریڈ مین ظہیر عباس، گولڈ ن آرم مدثر نذر، دی گریٹ میانداد، انضمام الحق اور محمد یوسف جیسے بلے باز موجود تھے جو کسی بھی ٹارگٹ کے تعاقب کی صلاحیت سے مزین تھے۔
نجم سیٹھی نے پی۔ سی۔ بی سے منسلک ہو کر بہت تنقید سہی ہے اب ہمیں چاہیے کہ اس کی خدمات کے اعتراف میں اس کا شکریہ قومی سطح پہ ادا کریں ۔ عمران خان صاحب اداروں کو سیاسی بنانے کا الزام تو لگاتے ہیں اور ساتھ ہی خود اداروں کو سیاست کی نظر بھی کر دیتے ہیں ۔ کیا عمران خان میں اتنی اخلاقی جرات ہے کہ وہ پاکستان کی اس کامیابی کو پی۔ ایس۔ ایل کی مرہون منت قرار دیں ۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا کہ عمران خان صاحب میں کی کرکٹ میں ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں مگر وہ پی۔ ایس۔ ایل کے لاہو ر میں فائنل کو دیکھنے اور نوجوان کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھانے اس لیے نہیں گئے کہ وہ نجم سیٹھی کا پراڈکٹ ہے۔انھوں نے ان کھلاڑیوں کو پھٹیچر تک کہا جو پاکستان جیسے دہشت ذدہ ملک میں کھیلنے کے لیے آئے۔ عمران خان صاحب یہ بھول جاتے ہیں کہ ملکی حالات نجم سیٹھی کی وجہ سے دہشت گردی کی نظر نہیں ہوئے۔اس کے باوجود انٹر نیشنل کرکٹ کی پاکستان میں بحالی کے لیے نجم سیٹھی نے انتھک کام کیا اور زمبابوے کے دورہ پاکستان کو کامیاب بنایا۔ پی۔ ایس۔ ایل کے فائنل کے کامیاب انعقاد کو انٹر نیشنل سطح پہ صراحا گیا۔اور اگر نہیں صراحا گیا تو بس عمران خان کی طرف سے نہیں صراحا گیا۔

یہ مطالبہ کرنا کہ کرکٹ کی بھاگ دوڑکرکٹرز کے ہاتھ میں دے دی جائے تو حالات بہتر ہو جائیں گے تو اس کے لیے صرف اتنی سی گزارش ہے کہ ہاکی پاکستان کا قومی کھیل اس وقت ہاکی کے پلئیرز کی سربراہی میں چل چل کرہی اس نوبت تک پہنچ چکا ہے کہ جب پاکستان ایک نان کرکٹر نجم سیٹھی کی سربارہی میں انڈیا کو لندن میں چیمپین ٹرافی کے فائنل میں شکست دے رہا تھا اسی وقت انڈیا نے پاکستان کو ہاکی کے عالمی ٹورنامنٹ میں 1 کے مقابلے میں 7گول سے شکست دے رہا تھا۔ یہ بات سمجھنا ہو گی کہ مینجمنٹ اب ایک الگ فیلڈ بن چکی ہے اس کے لیے متعلقہ فیلڈ کا تجربہ ہونا اتنا ضروری نہیں جتنا زیادہ اس میں مینجمنٹ سکلز کا ہونا ہے۔بورڈ کے چیئرمین کے اندر سفارت کاری کے تمام گن ہوے چاہیے ۔ اگر کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے کرکٹر ہونے سے کرکٹ بہتر ہوتی تو آسٹریلیا، انگلینڈ، نیوزی لینڈ، انڈیا ،بنگلہ دیش ، ساؤتھ افریقہ ، ویسٹ انڈیز اور زمبابوے سمیت سبھی ممالک میں کرکٹ ہماری طرح آخری سانسیں لے رہی ہوتی۔ ان تمام ممالک نے کامیاب بزنس مین اور بہترین مینجرز افراد کو کرکٹ کی بھاگ دوڑ تھمائی۔عمران خان اپن سمیت کسی ایک پاکستانی کرکٹر کا نام بتا دیں جو کمیونیکشن سکلز، مینجمنٹ سکلز، سفارت کاری کی مہارت اور بزنس کی بہترین خوبیوں سے مزین ہوں ۔ آج پاکستان کی ہاکی میں انڈیا کے ہاتھوں بدترین شکست کو صر ف اور صرف نجم سیٹھی کی کرکٹ ٹیم کی شاندار فتح نے چھپا دیا ہے اس پر ہمیں یہ ضرور کہنا چاہیے ۔شکریہ نجم سیٹھی۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home