Sunday, 17 August 2025

کیاهم نفرت کے بیٹے هیں


نوٹ : یہ آرٹیکل 2017 میں فیس بک پیج کے لیے لکھا گیا تھا یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر کیا جا رہا ہے۔

ڈئیر نریندرامودی!

آپ کو اور آپ کے توسط سے سوا ارب ہندوستانیوں کو آزادی کا انہترواں سال مبارک ہو۔ میں آپ  کو مبارک باد اسی جذبے اور خلوص کے ساتھ دے رہا ہوں جیسے کل میں نے اپنی قوم کو دی تھی۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اس آزادی کے لیے ہماری مشترکہ  ایک صدی کی جدوجہد ہے ہم کئی صدیوں تک ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک رہے ہیں۔ غلامی کے دِنوں آپ کو یاد ہو گا انگریزی گولی ہندو مسلم کی تفریق کے بغیر چلتی تھی جلیانوالہ  باغ میں وسیع پیمانے پہ خون ریزی میں ہم مشترکہ مظلوم تھے۔ آپ کے آباو اجداد ہماری تحریکوں میں شریک ہوتے تھے ۔خلافت موومنٹ میں گاندھی جی برابر حاضر هوتے تھے ۔اسی طرح عدم تعاون، سودیشی تحریک اگرچہ کانگریس کے پلیٹ فارم سے چلتی تھیں لیکن مسلمان ان کا برابر حصہ ہوتے تھے۔ اس لیے اس آزادی میں آنے والی تکلیفوں میں ہم ساتھ ساتھ تھے۔

مودی جی! سماج کی رسم ہے جب اولاد جوان ہو جائے  تو شادی کرنے کے بعد اگر وه اپنے الگ گھر بنا بھی لیں تب بھی رشتہ  برقرار رہتا ہے۔ یہ ہی توہوا تھا سنہ 47میں ہم نے اسی طرح الگ گھر کا مطالبہ کیا تھا۔ دشمنوں نے ہم میں بہت زہر گھول دیا ہماری گھروں کی دیوار جس کا مقصد چادر چار دیواری تھا اسے نفرت کے گارے سے لیپ دیا گیا تاکہ ہم یہ سوچنے پہ مجبورہو جائیں کہ انگریز سے آزادی کا آباواجداد کا فیصلہ غلط تھا۔ اس نفرت میں دونوں جانب سے اعتدال کا دامن سرکتا نظر آیا اس میں ہم کسی کو دوش دے بھی نھیں سکتے کیونکہ نفرت کی دیکھنے کی صلاحیت ختم ہو گئی ہوتی ہے۔ہم نے آپ کو دشمن سمجھا اور آپ نے ہمیں. آپ پولیٹیکل سائنیس کے سٹوڈنس ہیں اور حقیقت سے واقف ہیں کہ مستقل دوست اور دشمن توہوتے نہیں تو پھر ہماری دشمنی مستقل نوعیت کی کیوں ہے؟ 

مودی جی ! وقت بدل گیا ہے ہم بھی بدل جائیں۔ عوام کو ایک دوسرے کے قریب آنے دیں۔اگر آپ کی دشمنی کی بنیاد ہمارے ستر سال پہلے کے فیصلے کو غلط ثابت کرنا ہے تو وه بنگلہ دیش بنتے ہی ہو گیا تھا کہ  مذہب کی بنیاد پہ ہم آپ سے الگ ہو رہے ہیں کیونکہ وه مذہب تو ہمیں بھی ایک ساتھ نہ رکھ سکا۔ اگر آپ ہزار سالہ مسلم حکمرانی کا بدلہ آج کے مسلمانوں سے لینا چاه رہے ہیں تو 30کروڑ مسلمان آپ کے زیر اہتمام علاقے میں ره رہے وه بچارے اسی پاداش میں ہی قسم پرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ آپ بڑے بھائی کا درجہ رکھتے ہیں اس لیے  اپنا دل بڑا کیجیے هم بھی دشمنی کے طوق کو پھینک دیتے ہیں۔ ہم جتنا دفاعی بجٹ پہ خرچ کرتے ہیں اگر وه اپنے غریب شہریوں پہ خرچ کریں تو ان بڑی طاقتوں کی ریشہ  دوانیوں سے بھی نجات پا سکتے ہیں جو ہمیں لڑا کر اپنے مفادات کی نگہبانی کر رہےہیں۔ کبھی رات کے وقت سونے سے قبل سوچیے گا کیا ہم نے نفرت کی کوکھ سے جنم لیا ہے؟

مودی صاحب !آپ کبھی خود کو سوچیے گا کانگریس میں نسل در نسل اقتدار منتقل کرنے کی روایت ہے لیکن کیا آپ نہیں چاہیں گے کہ مستقبل میں کسی چائے بنانے والے کا بیٹابھی وزیر اعظم بن سکے۔ آپ نیچے کے طبقے سے اوپر آئے ہیں آپ غریب کا زخم جانتے ہیں اس پہ مرحم رکھیں۔ آپ نے بنگلہ دیش بنا کے ہمیں نقصان پہنچا لیا آپ کا کیا فائده هوا؟ اگر آپ ہمیں اور توڑیں گے تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ نئے یونٹ آپ کے دوست ہی ہوں گے۔ اگر نئے یونٹ بھی  آپ کے دشمن ہوئے تو آپ کے فیصلے کا کیا نتیجہ نکلے گا آپ ایک دشمن سے کئی دشمنوں میں گھر جائیں گے۔آپ کو یقینا مسلمانوں سے کوئی ایشو نہیں کیونکہ آپ ایران افغانستان سعودی عرب اور عرب امارات کے ممالک سے بھت دوستانہ تعلقات قائم کر رہے ہیں۔ امید هے آپ ہمیں بھی اپنا اچھا دوست پائیں گے۔آپ لوگوں کو جوڑیں یقین جانیں آپ امر ہو جائیں گے..

میری خدا سے دعا ہے آپ ایسے ہزاروں آزادی کے دن منائیں اور ہم اچھے ہمسائے بنے رہیں۔

آپ کا مخلص دوست

ابوبکر صدیق

 (ایم.فل پولیٹیکل سائینس)

 

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home