خواتین کی مخصوص نشستیں خزانے پہ بوجھ۔۔۔ ان کا متبادل کیاہے؟
یہ آرٹیکل لکھنے کا آئیڈیا مجھے اس تصویر سے آیا جس کا سکرین شارٹ اس آرٹیکل کے ساتھ دیا جا رہا ہے۔ اور اس پوسٹ کے مصنف سے تحریر اجازت لینے کے بعد ان کے آئیڈیا پہ تفصیلی کالم لکھنے آغاز کیا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں خواتین کو قومی دھارے میں لانے کے لیے پارلیمنٹ میں مخصوص نشستیں مقرر کی گئیں۔ جس کے بعد ایک بڑی تعداد قومی اور صوبائی پارلیمان کا حصہ بن گئیں۔ یہ فیصلہ جو خواتین کی موثر نمائیندگی کے لیے کیا گیا تھا اسے سیاسی جماعتوں نے اپنے رشتہ دار خواتین یا تعلق واسطے کی بنیاد پہ تقسیم کرنا شروع کر دیا گیا۔ جس سے عام پولیٹیکل ورکر کے لیے سیاسی اور سماجی سطح پہ کام کرنے کی بجائے سیاسی رہنماوں کی خوشامد زیادہ کارگر ثابت ہونا شروع ہوئی۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ مخصوص نشستیں مقرر کرنے کے علاوہ بھی کوئی طریقہ ہے جس سے خواتین کو قومی دھارے میں لایا جا سکے اور قومی خزانے پہ کوئی اضافی بوجھ بھی نہ بنے؟دنیا میں سب سے کمزور اور گھٹیا حالت میں جمہوریت ہمارے ہاں پائی جاتی ہے۔ اگر ہم دنیا میں ایک نظر دوڑائیں تو کئی ایسے ماڈلز نظر آتے ہیں جہاں خواتین کو برابری کی سطح پہ سیاسی نمائیندگی کے اہل بنایا گیا ہے۔ اس ضمن میں چند تجاویز ذیل میں دی جا رہی ہیں ۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) کے تحت قانون سازی کی جائے کہ"ہر رجسٹرڈ سیاسی جماعت عام نشستوں پر کم از کم 20 فیصد انتخابی ٹکٹس خواتین امیدواروں کو لازمی جاری کرے۔"یہ شرط پارٹی رجسٹریشن، انتخابی نشان کے اجرا اور پارٹی فنڈنگ سے منسلک کی جائے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان تمام جماعتوں سے انتخاب سے قبل ایک "ٹکٹ تقسیم رپورٹ" طلب کرے جس میں مرد و خواتین امیدواروں کی تفصیلات ہوں۔ رپورٹ شائع کرنے پر ہی پارٹی کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت ملے۔
ریاستی یا انتخابی اخراجات کی سبسڈی یا پارٹی فنڈنگ )جہاں لاگو ہو) کو خواتین ٹکٹ دینے کی شرح سے منسلک کیا جائے۔یعنی جتنی زیادہ خواتین امیدوار، ا تنی زیادہ ری فنڈ یا مالی رعایت۔
تمام سیاسی جماعتوں کے آئین میں لازمی شق شامل کی جائے کہ“پارٹی کے مرکزی، صوبائی، اور ضلعی سطح کے عہدوں میں کم از کم 25 فیصد خواتین ہوں گی۔”
یہ قدم قیادت کے اندر سے نمائندگی مضبوط کرے گا۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان یا وزارتِ خواتین ترقی کے تحت ایک "Women Political Support Fund" قائم کیا جائے جو مالی کمزوری رکھنے والی امیدواروں کو تربیت، اشتہارات، اور انتخابی مواد میں معاونت دے۔
عبوری دور کے لیے چند دوہری نشستیں (dual constituencies) متعارف کی جا سکتی ہیں — جہاں ایک ہی حلقے سے ایک مرد اور ایک عورت امیدوار کھڑے ہو سکیں۔ جس کے زیادہ ووٹ ہوں وہ نمائندہ ہو، مگر دونوں کے ووٹ اور اعداد عوامی سطح پر شائع کیے جائیں تاکہ عوامی قبولیت کا رجحان سامنے آئے۔
ابھی خواتین ونگز اکثر علامتی ہوتی ہیں۔ پالیسی میں طے کیا جائے کہ خواتین ونگ کے صدر کو مرکزی ورکنگ کمیٹی یا پارلیمانی بورڈ کا مستقل رکن بنایا جائے تاکہ ٹکٹ کے فیصلوں میں براہِ راست اثر ہو۔
ایک آئینی ٹائم لائن طے کی جائے کہ مثلاً2035 تک خواتین کے لیے مخصوص نشستوں کا نظام ختم کر دیا جائے گا اور اس دوران پارٹیوں پر ٹکٹ کوٹہ نظام سختی سے لاگو ہوگا تاکہ تبدیلی بتدریج، مگر پائیدار ہو۔
ہر انتخابی حلقے میں پارٹی دو نامزدگیاں کرےایک مرکزی امیدوار (Primary Candidate) اور ایک متبادل امیدوار (Alternate Candidate)۔
شرط یہ ہو کہ اگر مرکزی امیدوار مرد ہے تو متبادل لازمی خاتون ہوگی اور اگر مرکزی امیدوار خاتون ہے تو متبادل مرد ہو سکتا ہے۔اس کا طریقہ کار یہ ہو گا کہ دونوں کے نام بیلٹ پیپر پر درج ہوں۔اگر مرکزی امیدوار نااہل، فوت یا کسی وجہ سے مستعفی ہو تو متبادل امیدوار خودبخود نشست سنبھالے۔اس سے خواتین امیدوار عملی تربیت اور سیاسی شہرت دونوں حاصل کریں گی۔اس پہ عمل کرنے سے ضمنی الیکشن کی مد میں قومی کزانے کو پہنچنے والی خطیر نقصان کا اندیشہ بھی نہیں ہوگا۔ اگر کوئی ایک سے زیادہ حلقوں سے منتخب ہونے کے بعد جن جن حلقوں سے سیٹ خالی کرے گا وہاں سے متبادل امیدوار کو کامیاب قرار دیا جائے گا۔
"شیئرڈ مہم" ماڈل ایک اور طریقہ ہے جس میں پارٹیاں ایک حلقے میں دو امیدواروں کی مشترکہ انتخابی مہم چلائیں — ایک مرد اور ایک خاتون۔ دونوں مل کر ووٹ مانگیں مگر پارٹی فیصلہ کرے گی کہ کامیابی کے بعد کون قومی اسمبلی میں جائے گا دوسرا پارلیمانی مشیر کے طور پر مقرر ہو گا۔یوں خواتین انتخابی سیاست میں براہِ راست میدان میں رہیں گی اور پارلیمانی ماحول کا تجربہ حاصل کریں گی۔
نشستیں متبادل خواتین کو ٹرانسفر کرنا ایک اور طریقہ ہے ۔ جس میں ہر پارٹی اپنے کل کامیاب امیدواروں میں سے 10–15 فیصد نشستیں خواتین متبادل امیدواروں کو منتقل کرے ۔یعنی اگر کسی جماعت نے 100 عام نشستیں جیتیں تو وہ 10 یا 15 نشستیں اپنی فہرست میں شامل خواتین امیدواروں کو دے۔یہ “reserved seats” نہیں بلکہ منتقلی کی بنیاد پر منتخب نشستیں ہوں گی، کیونکہ ان خواتین نے پارٹی کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑا تھا۔
جوائنٹ ٹکٹ کوٹہ سسٹم بھی ایک طریقہ ہو سکتا ہے جس میں پارٹی جب کسی حلقے کے لیے امیدوار منتخب کرے تو ٹکٹ فارم میں دو نام لازمی درج کرےپہلا مرکزی امیدوار اور دوسرا معاون امیدوار (جو لازمی خاتون ہو) اگر پارٹی جیتتی ہے تو معاون امیدوار کو ضلع یا صوبائی سطح پر انتظامی و پارلیمانی ذمہ داری دی جائے — جیسے ڈسٹرکٹ پارلیمانی افسر، سماجی ترقی کی مشیر یا انتخابی نمائندہ۔اس طرح خواتین براہِ راست نمائندہ سیاست سے جڑی رہیں گی، نہ کہ صرف مخصوص نشستوں پر۔
ایک اور طریقہ جو ماڈل جرمنی، ناروے، اور سوئیڈن میں کامیاب ہے۔اس میں پارٹیاں امیدواروں کی فہرست (Candidate List) جمع کرواتی ہیں اور ہر مرد امیدوار کے بعد ایک خاتون امیدوار درج ہوتی ہے۔پارٹی کو جتنے ووٹ ملیں گے اتنی نشستیں اسی ترتیب سے ملیں گی — یعنی فہرست میں شامل خواتین خودبخود عام نشستوں پر اسمبلی میں پہنچیں گی۔
ایک طریقہ Placement Mandate ہے جس کا مطلب ہے کہ سیاسی جماعتوں کو محض یہ نہیں کہا جائے کہ وہ "40٪ خواتین کو ٹکٹ دیں" بلکہ یہ لازمی کیا جائے کہ خواتین کو جیتنے کے قابل (winnable) حلقوں یا فہرستوں میں مخصوص ترتیب سے رکھا جائے۔یہی ترتیب Zipper System کہلاتی ہے —یعنی امیدواروں کی فہرست یا ٹکٹ تقسیم میں مرد و عورت باری باری ہوں۔ جیسے:مرد – عورت – مرد – عورت – مرد – عورت (اسی لیے اسے “zipper” کہا جاتا ہے — جیسے زپ کے دانت برابر لگے ہوتے ہیں۔)
پاکستان کے تناظر میں “Zipper Lite” کہا جائے گا کیوں پاکستان کا نظام فِرسٹ پاسٹ دی پوسٹ (FPTP) ہے، یعنی ہر حلقے سے ایک ہی امیدوار جیتتا ہے۔ اس لیے مکمل “zipper list” ممکن نہیں۔لہٰذا یہاں ہم “Zipper Lite” تجویز کرتے ہیں ۔ یعنی جماعتوں کو ٹکٹوں کی تقسیم میں یہ لازمی کیا جائے کہ: "ہر پانچ عام نشستوں میں کم از کم دو خواتین کو ٹکٹ دیے جائیں اور یہ خواتین ایسے حلقوں میں ہوں جہاں پارٹی کو جیتنے کے حقیقی امکانات ہوں (مثلاً گزشتہ الیکشن میں 30% سے زیادہ ووٹ ملے ہوں)۔''
سوال یہ ہے کہ یہ کیسے کام کرے گا —پارٹی سطح پرالیکشن کمیشن یہ قاعدہ بنائے کہ“کوئی سیاسی جماعت الیکشن میں اس وقت تک حصہ نہیں لے سکتی جب تک وہ کم از کم 20٪ خواتین امیدواروں کو ‘وِنیبل’ نشستوں پر ٹکٹ نہ دے۔'' حلقہ کی سطح پر ہر جماعت کو "Women Winnable Distribution Plan" جمع کرانا ہوگاجس میں دکھایا جائے گا کہ خواتین کو کس کس حلقے میں ٹکٹ دی گئی ہے۔یہ رپورٹ عوامی طور پر ECP کی ویب سائٹ پر شائع ہوگی۔
اگر کوئی جماعت اس اصول پر عمل نہ کرے تو اس کے انتخابی نشان کی توثیق عارضی طور پر معطل کی جا سکتی ہو یا فنڈنگ میں کمی کی جا سکتی ہو یا نامکمل امیدوار فہرست مسترد کی جا سکتی ہو۔
ان تجاویز سے ممکنہ فائدہ یہ ہوگا کہ خواتین کی مخصوص نشستیں قومی خزانے پہ بوجھ نہیں ہوں گی۔بلکہ سیاسی جماعتیں اپنے خرچ پہ خواتین کو سیاست میں لائیں گی۔ ساتھ ہی مخصوص نشستوں کے خاتمے کے باوجود خواتین کی موجودگی برقرار رہے گی۔امیدواروں کی سیاسی تربیت حقیقی میدان میں ہوگی۔نا صرف عوامی سطح پر خواتین کے انتخابی چہرے زیادہ نمایاں ہوں گے۔بلکہ انتخابی عمل میں توازن اور شفافیت بڑھے گی۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home