"From Medina to Modernity: میثاقِ مدینہ اور آج کی دنیا کے سیاسی اصول"
اسلامی تاریخ میں میثاقِ مدینہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب نبی اکرم ﷺ مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کا معاشرتی ڈھانچہ نہایت پیچیدہ اور متنوع تھا۔ مدینہ میں اوس اور خزرج کے دو بڑے قبائل صدیوں سے ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار تھے، یہودی قبائل اپنی الگ مذہبی اور سماجی حیثیت رکھتے تھے، اور مہاجرین مکہ بھی وہاں آ کر آباد ہوئے۔ اس تنوع کے باوجود امن و سکون اور ایک متحدہ سیاسی ڈھانچے کی ضرورت شدید تھی۔ ایسے وقت میں رسول اللہ ﷺ نے جو معاہدہ ترتیب دیا اسے تاریخ اسلام میں ’’میثاقِ مدینہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ دستاویز نہ صرف عرب بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک انقلابی ماڈل تھی کیونکہ اس نے پہلی مرتبہ مختلف مذاہب، قبائل اور طبقات کو ایک مشترکہ آئینی اور سیاسی فریم ورک میں شامل کیا۔ مشہور مستشرق مونٹگمری واٹ اپنی کتاب Muhammad at Medina میں لکھتے ہیں کہ ’’یہ انسانی تاریخ کا پہلا تحریری سوشل کنٹریکٹ تھا جس نے متنوع گروہوں کو ایک وحدت میں پرو دیا۔‘‘ اسی طرح ممتاز محقق ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے اپنی مشہور تصنیف The First Written Constitution of the World میں یہ ثابت کیا ہے کہ دنیا کی آئینی تاریخ میثاقِ مدینہ سے ہی شروع ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے انسانی سماج میں کوئی ایسا جامع اور تحریری معاہدہ نہیں ملتا جو شہری حقوق، مذہبی آزادی، اجتماعی سلامتی اور عدل و انصاف کو بیک وقت یقینی بناتا ہو۔
اس معاہدے میں سب سے پہلا اصول یہ تھا کہ مدینہ کے تمام باشندے خواہ وہ مسلمان ہوں، یہودی ہوں یا دیگر قبائل، سب کو ’’امّت واحدہ‘‘ یعنی ایک سیاسی قوم قرار دیا گیا۔ ابن ہشام نے اپنی السیرۃ النبویہ میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: وَإِنَّہُم أُمَّةٌ وَاحِدَةٌ مِنْ دُونِ النَّاس یعنی وہ سب دوسرے انسانوں سے ہٹ کر ایک ہی امت ہیں۔ یہ اعلان اس لحاظ سے انقلابی تھا کہ اس نے پہلی بار قبائلی اور نسلی بنیادوں کو پس پشت ڈال کر شہری قومیت کا تصور دیا۔ آج کے زمانے میں جب ’’قومیت‘‘ (Nationhood) کو جدید ریاستوں کی بنیاد مانا جاتا ہے تو اس کی اولین جھلک ہمیں اسی میثاق میں دکھائی دیتی ہے۔
دوسرا نمایاں پہلو مذہبی آزادی کا تھا۔ معاہدے میں واضح طور پر درج ہے: للیہود دینہم وللمسلمین دینہم یعنی یہودی اپنے دین پر اور مسلمان اپنے دین پر قائم رہیں گے۔ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں اس شق کو نقل کیا ہے اور اسے اس دور کی ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دیا ہے کیونکہ اس وقت دنیا کے بیشتر خطوں میں مذہبی جبر عام تھا۔ روم اور فارس کی سلطنتوں میں مذہبِ ریاست کے سوا کسی کو آزادی حاصل نہ تھی۔ لیکن مدینہ میں مسلمانوں نے ایک ایسا معاہدہ کیا جس نے مذہبی آزادی کو بنیادی حق تسلیم کیا۔ یہ اصول آج کے جدید انسانی حقوق کے عالمی منشور میں بھی موجود ہے، خاص طور پر اقوام متحدہ کے Universal Declaration of Human Rights (1948ء) کے آرٹیکل 18 میں مذہبی آزادی کو بنیادی حق قرار دیا گیا ہے۔
میثاقِ مدینہ میں عدل و انصاف کے قیام پر بھی خاص زور دیا گیا۔ تنازعات کی صورت میں فیصلہ اللہ اور رسول ﷺ کی طرف رجوع کر کے کیا جانا طے پایا۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ معاشرے میں کوئی فرد یا گروہ قانون سے بالاتر نہیں ہوگا۔ یہی تصور آج کی دنیا میں ’’Rule of Law‘‘ کہلاتا ہے، یعنی قانون کی بالادستی جو طاقتور اور کمزور سب پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔ یہ اصول اس وقت کے عرب معاشرے کے لیے بالکل نیا تھا جہاں طاقت اور قبیلے کے زور پر فیصلے کیے جاتے تھے۔
اس معاہدے کی ایک اور اہم شق اجتماعی دفاع سے متعلق تھی۔ اگر مدینہ پر کوئی بیرونی حملہ ہوتا تو سب گروہ مل کر اس کا مقابلہ کریں گے۔ ابن ہشام نے نقل کیا ہے کہ ’’وہ سب اس بات پر متفق تھے کہ دشمن کے خلاف مل جل کر کھڑے ہوں گے اور مدینہ کا دفاع سب کی مشترکہ ذمہ داری ہوگی۔‘‘ یہ اصول آج کے دفاعی معاہدوں جیسے NATO کے بالکل مشابہ ہے جہاں ایک ملک پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس طرح میثاقِ مدینہ نے ساتویں صدی میں اجتماعی سلامتی کا ایسا نظام فراہم کیا جسے آج کی جدید ریاستیں بھی بنیادی اصول کے طور پر اختیار کرتی ہیں۔
سماجی انصاف اور معاشی برابری بھی میثاق کا حصہ تھے۔ یتیموں، بیواؤں اور محتاجوں کی مدد سب پر لازم قرار دی گئی۔ یہ وہی اصول ہیں جو آج کی فلاحی ریاستوں کی بنیاد ہیں۔ ناروے، سویڈن اور ڈنمارک جیسے ممالک اپنی ویلفیئر اسٹیٹ پالیسیوں پر فخر کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ فلاحی ریاست کا تصور سب سے پہلے ریاست مدینہ میں عملاً قائم کیا گیا۔ علامہ اقبال نے بھی اپنی تحریروں میں بارہا اس نکتے پر زور دیا کہ اگر مسلم دنیا اپنی اصل کو سمجھ لے تو وہ دنیا کو ایک مثالی ویلفیئر ماڈل فراہم کر سکتی ہے۔
میثاقِ مدینہ میں اقلیتوں کے حقوق کو جس طرح تحفظ دیا گیا وہ بھی تاریخ میں بے مثال ہے۔ یہودیوں اور دیگر گروہوں کو نہ صرف مذہبی آزادی دی گئی بلکہ ان کی جان و مال کی حفاظت کو بھی اجتماعی ذمہ داری قرار دیا گیا۔ مشہور مؤرخ ول ڈیورانٹ اپنی شہرۂ آفاق تصنیف The Story of Civilization میں لکھتے ہیں کہ ’’مدینہ میں اقلیتوں کے ساتھ جو حسنِ سلوک کیا گیا وہ قرون وسطیٰ کے یورپ کے لیے خواب سے کم نہ تھا۔‘‘ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اقلیتوں کے حقوق اور Pluralism کا جو تصور آج مغربی دنیا میں زیر بحث آتا ہے، اس کی عملی بنیاد ساتویں صدی میں مدینہ میں رکھی گئی تھی۔
میثاقِ مدینہ کی ایک نمایاں خصوصیت مشاورت تھی۔ تمام بڑے فیصلے رسول اللہ ﷺ کی قیادت اور باہمی مشاورت سے ہوتے تھے۔ یہ ماڈل آج کے Participatory Governance اور Democracy سے قریب تر ہے۔ اگرچہ جدید جمہوریت کا نظام اس وقت موجود نہ تھا لیکن مشاورت اور اجتماعی فیصلے سازی کی بنیاد مدینہ میں ہی ڈالی گئی۔
جدید سیاسی فلسفے میں جان لاک، روسو اور ہابز نے ’’Social Contract Theory‘‘ پیش کی جس کے مطابق ریاست دراصل شہریوں کے درمیان ایک معاہدہ ہے تاکہ امن و انصاف قائم رہ سکے۔ لیکن ڈاکٹر محمد حمید اللہ کے مطابق میثاقِ مدینہ اس نظریے کی عملی شکل ایک ہزار سال پہلے پیش کر چکا تھا۔ اس معاہدے نے یہ واضح کیا کہ شہریوں کے باہمی حقوق و فرائض تحریری طور پر طے ہونے چاہییں تاکہ معاشرتی امن قائم رہ سکے۔
جدید قومیت (Nation-State) کا اصول بھی میثاقِ مدینہ سے مماثلت رکھتا ہے۔ آج دنیا میں ریاستیں شہری قومیت پر مبنی ہیں نہ کہ صرف نسلی یا قبائلی بنیادوں پر۔ میثاقِ مدینہ نے مختلف نسلوں اور مذاہب کو ایک سیاسی وحدت میں پرو کر اس ماڈل کی ابتدائی مثال فراہم کی۔
اسی طرح مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کی جو بات آج عالمی ادارے کرتے ہیں، وہ مدینہ میں پہلے ہی طے ہو چکی تھی۔ اقوام متحدہ کے چارٹر آف ہیومن رائٹس میں جو اصول بیان کیے گئے ہیں ان میں سے بیشتر اصول پہلے ہی میثاقِ مدینہ میں شامل تھے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ میثاقِ مدینہ صرف ایک مذہبی یا تاریخی دستاویز نہیں بلکہ ایک آفاقی آئین ہے جو آج کی دنیا کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
اگر آج کی مسلم دنیا اس ماڈل کو اپنالے تو داخلی انتشار اور فرقہ واریت کا خاتمہ ممکن ہے۔ مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی جا سکتی ہے، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ممکن ہے اور ایک ایسی ویلفیئر اسٹیٹ قائم کی جا سکتی ہے جو جدید دنیا کے فلاحی ماڈلوں سے بھی آگے بڑھ کر ہو۔ میثاقِ مدینہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ مذہبی تنوع اور سیاسی وحدت ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔
بین المذاہب تعلقات کے حوالے سے بھی میثاقِ مدینہ ایک واضح رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ آج دنیا مذہبی بنیادوں پر تقسیم اور نفرت کا شکار ہے۔ لیکن ساتویں صدی میں رسول اکرم ﷺ نے ایک ایسا ماڈل پیش کیا جس میں یہودی، مسلمان اور دیگر گروہ ایک ہی ریاستی ڈھانچے میں پرامن طور پر رہ سکتے تھے۔ یہی پیغام آج کی عالمی سیاست کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے۔
آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ میثاقِ مدینہ کو محض ایک قدیم معاہدہ سمجھنا ناانصافی ہے۔ یہ دراصل ایک ایسا آفاقی ماڈل ہے جس میں مساوات، عدل، مذہبی آزادی، اجتماعی سلامتی اور اقلیتوں کے حقوق جیسے اصول شامل ہیں۔ یہ وہی اصول ہیں جو آج کے جدید آئینوں اور عالمی معاہدات میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، لیکن ان کی عملی بنیاد سب سے پہلے نبی اکرم ﷺ نے رکھی۔ اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ ’’From Medina to Modernity‘‘ کا سفر دراصل انسانی تاریخ کے ارتقاء کا سفر ہے اور میثاقِ مدینہ محض ماضی کی یادگار نہیں بلکہ مستقبل کا منشور ہے۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home