وہ الفاظ جو کام کر جاتے ہیں
امریکی ماہر نیورو لینگو یسٹک اینڈ ہیپناٹزم فرینک لونٹز کی کتاب ورڈز دیٹ ورکس انتہائی شاندار کتاب ہے ۔ اسے ہمارے ہاں پرائمری سطح پہ شامل نصاب ہونا چاہیے ۔ والدین کو اس کتاب کا مطالعہ لازمی کرنا چاہیے یہ بچوں کی نفسیات اور ان کے رویوں میں آنے والی تبدیولیوں کا بہترین تجزیہ ہے ۔ یوں تو بچے عموماً شرارتی ہوتے ہیں لیکن بعض بچے بے حد ضدی بھی ہوتے ہیں جن سے کوئی کام کرانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہوتا ہے تاہم ہارے کا کہنا ہےکہ اگر بچے کہنا نہ مانتے ہوں تو ان سے الفاظ تبدیل کرکے اپنی مرضی سے کام لیا جاسکتا ہے۔اس کے مطابق الفاظ کا انداز بچوں کو فرمانبردار بناسکتا ہے اور اس کے ذریعے وہ کوئی بھی کام کرسکتے ہیں۔ اور وہ بچوں کے رویوں سے پریشان والدین کے لیے یہ تجاویز پیش کرتی ہیں جنہیں آزمانے میں کوئی ہرج نہیں۔ سائنسی پیمانے پر ثابت یہ الفاظ بچوں پر اثر کرتے ہیں مثلاً ’ مت کرو‘ کی جگہ ’ شکریہ‘ کہہ کر بچوں کو کوئی حکم دیا جائے تو اس کا فوری اثر ہوگا۔
’’ناں‘‘ کی جگہ ’’ہاں‘‘ منفی کی جگہ مثبت:
اپنا کمرہ گندا مت کرو‘‘ اور یہ ’’نہ کرو اور وہ نہ کرو‘‘ کی بجائے مثبت جملے استعمال کیے جائیں جو بچوں پر جادو کی طرح اثر کرتے ہیں کیونکہ انکاری جملے بچوں پر منفی اثر ڈالتے ہیں اس لیے اس کی بجائے بچوں سے کہیں کہ ،چلو کمرہ صاف کرتے ہیں، جوتے اسٹینڈ پر رکھتے ہیں اور کھلونے الماری میں۔‘ یہ جملے بچے پر مثبت اثر ڈالیں گے اور وہ عمل کرنے لگیں گے۔بچوں کے بہت سے انتخابات پیش کیجئے:روزانہ مائیں بچوں کو یہ کہتی ہیں، ’ جلدی کرو اسکول یونیفارم پہنو،‘ اور یہ جملہ بچوں پر اثر نہیں کرتا اس کی جگہ بچوں کے سامنے بہت سے انتخاب پیش کریں، مثلاً آج اسکول میں کھانے کے لیے کیا لے جاؤ گے یا نیا یونیفارم پہنوگے یا پرانا والا۔ اور بچوں سے اس کو سوالیہ انداز میں پیش کریں اس طرح کے جملے بچوں پر بہت اچھا اثر ڈالتے ہیں۔اسی طرح بچوں کو ہوم ورک کرانے کے لیے بھی چوائس پیش کریں، مثلاً کیا تم پہلے اردو کا کام کروگے یا اپنے ہفتہ وار پروجیکٹ کرنا چاہوگے۔ ان الفاظ سے بچے ذہنی طور پر کام کے لیے تیار ہوجاتے ہیں اسی طرح کھانا کھلانے کے لیے بچوں سے معلوم کرنے کی بجائے ان کے سامنے بہت سے کھانوں کے آپشن رکھیں۔
’’ کب‘‘ کا استعمال:
ماہرین کے مطابق ’’کب‘‘ کا لفظ اگر درست طور پر استعمال کیا جائے تو وہ ایک اہم قوت رکھتا ہے۔ والدین بچوں کے لیے اس لفظ کو درست جگہ استعمال کرکے اہم کام لے سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ،تم اپنا ہوم ورک کب ختم کروگے، ہمیں کھانا کھانا ہے یا ، یا جب تم یہ کام کرلوگے تو ہم باہر چکر لگانے چلیں گے۔ اس جملے میں بچے کے لیے ایک کام ہے اور ایک پرکشش تفریح۔ اچھے سیلزمین بھی ان ہی جملوں کو استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح بچوں کو اسکول کا کام کرواتے وقت یہ کہیں کہ ’ جب تم سبق یاد کرلوگے تو تمہیں خود ہی احساس ہوجائے گا کہ یہ کتنا آسان کام تھا۔‘
والدین اور بچوں کے درمیان زبان کا رشتہ:



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home