میلاد النبی کی اور وفات النبی کی درست تاریخ
اس بات میں اختلاف ہے کہ حضورﷺ کی تاریخ ولادت کیا ہے۔ معروف مورخ حافظ ابن کثیرؒالبدایہ االنہایہ میں لکھتے ہیں کہ اس بات پر اتفاق ہے کہ حضورﷺعام الفیل (یعنی جس سال ابرہہ نے ہاتھیوں کے لشکر سے بیت اللہ شریف پر حملہ کیا)میں پیدا ہوئے۔ نیز فرماتے ہیں کہ اس میں بھی اختلاف نہیں کہ آپ ﷺ سوموار کے روز پیدا ہوئے۔ نیز لکھتے ہیں کہ جمہور اہل علم کا مسلک یہ ہے کہ آپﷺ ماہ ربیع الاول میں پیدا ہوئے لیکن یہ کہ آپ ﷺاس ماہ کے اول، آخر یا درمیان یا کس تاریخ کو پیدا ہوئے؟ اس میں مؤرخین اور سیرت نگاروں کے متعدد اقوال ہیں کسی نے ربیع الاول کی دو تاریخ کہا، کسی نے آٹھ، کسی نے دس، کسی نے بارہ، کسی نے سترہ، کسی نے اٹھارہ اور کسی نے بائیس ربیع الاول کہا۔ پھر حافظ ابن کثیر نے ان اقوال میں سے دو کو راجح قرا ردیا، ایک بارہ اور دوسرا آٹھ اور پھر خود ان دو میں سے آٹھ ربیع الاول کے یوم ولادت ہونے کو راجح قرار دیا۔
قسطنطنیہ (استنبول) کے معروف ماہر فلکیات اور مشہورہیئت دان محمود پاشا فلکی نے اپنی کتاب 'التقویم العربي قبل الإسلام' میں ریاضی کے اصول و قواعد کی روشنی میں متعدد جدول بنا کر یہ ثابت کیا ہے کہ ''عام الفیل ماہ ربیع الاول میں بروز سوموار کی صحت کو پیش نظر اور فرزند ِرسول 'حضرت ابراہیم' کے یومِ وفات پرسورج گرہن لگنے کے حساب کو مدنظر رکھا جائے تو آنحضرت ﷺ کی وفات کی صحیح تاریخ 9 ربیع الاول ہی قرار پاتی ہے اور شمسی عیسوی تقویم کے حساب سے یومِ ولادت کا وقت 20 ؍اپریل 571ء بروز پیر کی صبح قرار پاتا ہے۔''
رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے زیر اہتمام سیرت نگاری کے عالمی مقابلہ میں اوّل انعام پانے والی کتاب 'الرحیق المختوم' کے مصنف کے بقول
''رسول اللہ ﷺ مکہ میں شعب بنی ہاشم کے اندر ۹؍ ربیع الاول سن۱، عام الفیل یوم دو شنبہ (سوموار) کو صبح کے وقت پیدا ہوئے۔''
برصغیر کے معروف مؤرخین مثلاً علامہ شبلی نعمانی، قاضی سلیمان منصور پوری، اکبر شاہ نجیب آبادی وغیرہ نے بھی ۹؍ ربیع الاول کے یوم ولادت ہونے کو ازروئے تحقیق ِجدید صحیح ترین تاریخ ولادت قرار دیا ہے۔
ابن سعد اپنی طبقات میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺربیع الاول کی بارہ تاریخ کو فوت ہوئے۔ ذہبی نے بھی اسے اپنی تاریخ اسلام میں نقل کیا ہے ۔حافظ ابن کثیر ابن اسحق کے حوالہ سے رقم طراز ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ۱۲؍ ربیع الاول کو فوت ہوئے۔ مؤرخ ابن اثیر الکامل میں رقم طراز ہیں کہ نبی اکرمﷺ۱۲؍ ربیع الاول بروز سوموار فوت ہوئے۔] حافظ ابن حجرؒ نے بھی فتح الباری میں اسے ہی جمہور کا موقف قرار دیا۔محدث ابن حبان کی السیرۃ النبویۃ میں بھی تاریخ وفات ۱۲ ربیع الاول ہی نقل ہوئی ہے۔امام مسلم کی شرح میں امام نووی نے بھی اس کی تائید کی ہے۔
مؤرخ و مفسر ابن جریر طبری نے بھی ۱۲؍ ربیع الاول کو تاریخ وفات قرار دیا ہے۔دلائل النبوۃ میں امام بیہقی کی بھی یہی رائے ہے۔ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں ملا علی قاری کا بھی یہی فیصلہ ہے ۔ برصغیر پاک و ہند کے بہت بڑے سیرت نگار مولانا شبلی نعمانی کا بھی یہی فتویٰ ہے۔ کتاب رحمۃ للعالمین کے مصنف قاضی سلیمان منصور پوری کی بھی یہی رائے ہے۔ ایوارڈ یافتہ کتاب الرحیق المختوم میں صفی الرحمن مبارکپوری کا بھی یہی فیصلہ ہے۔ اپنی کتاب لسیرۃ النبویۃ میں ابوالحسن علی ندوی کی بھی یہی رائے ہے۔ سب سے آخر پہ بریلوی فرقے کے بانی احمد رضا خان بریلوی کا بھی یہی فیصلہ ہے کہ اللہ کے رسولﷺ۱۲ ربیع الاوّل کو فوت ہوئے۔
درج بالا حوالہ جات سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ ۱۲؍ ربیع الاول یومِ ولادت نہیں بلکہ یوم وفات النبیﷺہے اور برصغیر میں عرصۂ دراز تک اسے '12 وفات' کے نام ہی سے پکارا جاتا رہا ہے۔ اس دن جشن اور خوشی منانے والوں پرجب یہ اعتراض ہونے لگے کہ یہ تو یوم وفات ہے اور تم وفات پر شادیانے بجاتے ہو!... تو اس معقول اعتراض سے بچنے کے لئے کچھ لوگوں نے اس کا نام '12 وفات' کی بجائے 'عیدمیلاد' رکھ دیا جیسا کہ روزنامہ 'مشرق' لاہور کی 24 جولائی 1986ء کی درج ذیل خبر سے یہ حقیقت آشکارا ہوتی ہے :
''اس سے پیشتر یہ یوم بارہ وفات کے نام سے منسوب تھا مگر بعد میں انجمن نعمانیہ ٹکسالی گیٹ کے زیر اہتمام پیر جماعت علی شاہ ، مولانا محمد بخش مسلم، نور بخش توکلی اور دیگرعلما نے ایک قرار داد کے ذریعے اسے 'میلادالنبی ﷺ' کا نام دے دیا۔''



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home