مواخاتِ مدینہ: ریفیوجی ریسٹلمنٹ سے نیشن بلڈنگ تک:
مواخاتِ مدینہ اسلامی تاریخ کا وہ انقلابی واقعہ ہے جسے صرف ایک مذہبی یا روحانی واقعہ سمجھنا حقیقت کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ یہ دراصل ایک ایسا سماجی اور سیاسی تجربہ تھا جس نے دنیا کو یہ بتا دیا کہ معاشرت میں پائیدار اتحاد صرف نظریاتی بنیادوں پر قائم کیا جا سکتا ہے اور یہ کہ انسانی رشتوں میں اخوت و مساوات کی بنیاد پر ہی ایک نئی دنیا تعمیر کی جا سکتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے مکہ سے ہجرت کے بعد مدینہ میں پہنچتے ہی سب سے پہلا قدم یہی اٹھایا کہ مہاجرین اور انصار کے درمیان رشتۂ مواخات قائم کیا۔ طبری، ابن ہشام، ابن سعد اور دیگر مؤرخین نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پینتالیس مہاجرین کو پینتالیس انصار کے ساتھ بھائی بنایا اور انہیں صرف مذہبی بھائی نہیں کہا بلکہ یہ تعلق اس درجہ مضبوط قرار پایا کہ بعض اوقات وراثت بھی ایک دوسرے سے ملنے لگی ۔اس تعلق کی نوعیت اتنی گہری تھی کہ مدینہ میں آنے والے اجنبی مہاجرین کو فوری طور پر ایک خاندان، ایک گھر، ایک کاروباری سہارا اور ایک سماجی دائرہ فراہم ہو گیا۔
اگر اس عمل کو جدید سماجی تصورات کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ کسی "سوشل انٹیگریشن پالیسی" سے کم نہیں تھا۔ جدید معاشروں کو سب سے بڑا مسئلہ یہ درپیش ہوتا ہے کہ مختلف نسلوں، مختلف علاقوں اور مختلف ثقافتوں سے آنے والے لوگوں کو کیسے ایک اکائی میں ضم کیا جائے۔ یورپ اور امریکہ جیسے ممالک میں مہاجرین اور پناہ گزینوں کی آبادکاری کے پروگرام موجود ہیں لیکن اکثر ان میں مسائل کھڑے ہو جاتے ہیں۔ مہاجرین اکثر "مارجنلائزڈ کمیونٹیز" میں رہ جاتے ہیں۔ ان کا سماجی و معاشی درجہ کمزور رہتا ہے۔ ان میں اور مقامی لوگوں میں دوری پیدا ہو جاتی ہے۔ مدینہ میں رسول اللہ ﷺ نے اس مسئلے کو نہایت سادہ مگر انقلابی طریقے سے حل کیا۔ انصار کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ صرف خیرخواہی نہ کریں بلکہ اپنے وسائل میں انہیں برابر کا شریک بنائیں۔ اس کا عملی مظاہرہ اس وقت ہوا جب حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ کو حضرت سعد بن ربیعؓ نے آدھا گھر اور آدھا مال دینے کی پیشکش کی۔ عبد الرحمن بن عوفؓ نے اس پیشکش سے صرف یہ کہا کہ مجھے بازار کا راستہ دکھا دیں تاکہ میں اپنی محنت سے کما سکوں۔ یہ منظر دراصل "ریفیوجی ریسٹلمنٹ" اور "ہوسٹ کمیونٹی پارٹنرشپ" کی بہترین مثال تھا۔
یہاں ایک اور پہلو قابل غور ہے کہ مہاجرین کو صرف رہائش اور کھانے کی سہولت نہیں دی گئی بلکہ انہیں عزتِ نفس کے ساتھ کھڑا ہونے کا موقع دیا گیا۔ اس عمل نے ایک "سوشل کیپیٹل نیٹ ورک" قائم کر دیا جس کی بدولت مہاجرین فوراً مدینہ کی معاشرت میں ضم ہو گئے۔ جدید سماجیات میں "سوشل کیپیٹل" سے مراد وہ روابط اور تعلقات ہیں جو انسان کو ترقی کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک اجنبی کے لیے نیا شہر ہمیشہ اجنبیت اور بےسہارا پن لے کر آتا ہے، لیکن مدینہ میں یہ اجنبیت اخوت کی بنیاد پر ختم کر دی گئی۔ مواخات نے مہاجرین کو فوری طور پر تعلقات، کاروبار، عزت اور تعاون کا ایک ایسا دائرہ فراہم کیا جو کسی بھی جدید "کمیونٹی ڈیولپمنٹ پروگرام" سے زیادہ مؤثر تھا۔
اس منظر کو ہم "ویلفیئر اسٹیٹ" کے تصور سے بھی جوڑ سکتے ہیں۔ جدید ریاستیں اپنے کمزور اور ضرورت مند شہریوں کو معاشرتی تحفظ دیتی ہیں۔ انہیں روزگار، رہائش، خوراک اور علاج فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسی فلاحی پالیسی نافذ کی جو اس وقت کی ریاست کے وجود سے بھی پہلے کی تھی۔ مواخاتِ مدینہ میں ایک پالیسی یہ بھی تھی کہ انصار اپنے گھروں کو مہاجرین کے لیے کھولیں، انہیں اپنے کاروبار اور زمینوں میں شریک کریں، اور کسی بھی سطح پر انہیں اجنبی یا بوجھ نہ سمجھیں۔ قرآن مجید نے انصار کے کردار کو یوں بیان کیا: "وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ" (الحشر:۹) یعنی وہ اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں خواہ خود کتنی ہی ضرورت میں ہوں۔ یہ وہی آیت ہے جو انصار کی ایثار پسندی اور اس سماجی انقلاب کو بیان کرتی ہے جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں مشکل سے ملے گی۔
اس اقدام میں ایک پہلو "ملٹی کلچرلزم" یعنی مختلف ثقافتوں اور طبقات کے درمیان ہم آہنگی بھی تھا۔ مدینہ میں اس وقت صرف انصار اور مہاجرین ہی نہ تھے بلکہ یہود، مشرکین اور دیگر قبائل بھی بستے تھے۔ مہاجرین کا پس منظر مکہ کا تھا، وہ زیادہ تر تجارت پیشہ اور قریشی کلچر کے نمائندہ تھے۔ انصار زیادہ تر کھیتی باڑی سے وابستہ تھے اور اوس و خزرج کے قبائلی کلچر کے حامل تھے۔ عام طور پر مختلف ثقافتوں کے ٹکراؤ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں، لیکن رسول اللہ ﷺ نے انہیں "اخوت" کی بنیاد پر ایک ایسے رشتے میں پرو دیا کہ وہ فرق مٹ گیا۔ یہ اس وقت کا سب سے کامیاب "ملٹی کلچرل انٹیگریشن ماڈل" تھا۔
اس سارے منظر کو جدید ریاستوں کے تناظر میں دیکھیں تو مواخات مدینہ محض ایک مذہبی جذبے کا مظہر نہیں تھا بلکہ ایک عملی "سوشیالوجیکل ماڈل" تھا۔ مہاجرین کی مالی اور سماجی کفالت کو یقینی بنایا گیا، لیکن ساتھ ہی انہیں محنت کے مواقع دیے گئے تاکہ وہ مستقل طور پر بوجھ نہ رہیں۔ آج کے "ریفیوجی پالیسی ڈسکورس" میں بار بار یہ بات اٹھتی ہے کہ پناہ گزینوں کو محض راشن یا سرکاری امداد دینے کے بجائے انہیں محنت کرنے اور معیشت میں حصہ لینے کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ معاشرے کے فعال رکن بن سکیں۔ مواخات مدینہ اسی اصول کی سب سے پہلی عملی مثال تھی۔
یہاں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ مواخات نے صرف انفرادی زندگی نہیں بدلی بلکہ ایک اجتماعی نظام کو جنم دیا۔ اس سے پہلے مدینہ ایک قبائلی معاشرت تھی جہاں اوس اور خزرج کی دشمنی کی طویل تاریخ موجود تھی۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے مہاجرین کو انصار کے ساتھ جوڑ کر ایک نئی "امتی شناخت" قائم کر دی۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں پر "tribal identity" ختم ہو کر "ummah identity" کی بنیاد پڑی۔ سوشیالوجی کی زبان میں یہ عمل "collective identity transformation" کہلاتا ہے۔ یہ وہی چیز تھی جس نے ایک کمزور اور منتشر معاشرت کو ایک منظم اور مضبوط امت میں بدل دیا۔
مؤرخین نے لکھا ہے کہ مواخات کے بعد مہاجرین اور انصار کے درمیان جو تعلق قائم ہوا، اس نے مستقبل کے بڑے بڑے معرکوں جیسے بدر، احد اور خندق میں عملی کردار ادا کیا۔ مہاجرین کے پاس اگر مدینہ میں انصار کی یہ پشت پناہی نہ ہوتی تو وہ دشمن کے مقابلے میں کھڑے نہ ہو پاتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مواخات نے نہ صرف سماجی مسائل حل کیے بلکہ ایک "سٹریٹجک یونٹی" بھی پیدا کی جو سیاسی اور عسکری کامیابیوں کی بنیاد بنی۔ اس زاویے سے دیکھیں تو یہ کسی جدید "نیشن بلڈنگ پالیسی" سے کم نہیں تھا۔
یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اس وقت دنیا کے دوسرے معاشروں میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ فاتح یا غالب گروہ، اجنبیوں یا کمزوروں کو اپنے ساتھ برابر کا شریک بنائے۔ رومی سلطنت میں غلامی کا نظام تھا، ایرانیوں میں طبقاتی تفریق عروج پر تھی، ہندو معاشرت میں جاتی پر مبنی درجہ بندی تھی۔ اس ماحول میں مدینہ کا یہ ماڈل گویا ایک "سوشیالوجیکل بریک تھرو" تھا جس نے برابری، مساوات اور اخوت کی بنیاد پر ایک نئی تہذیبی روح پیدا کی۔
اس واقعے سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ انسانی رشتے خون اور نسل سے زیادہ نظریہ اور مقصد کی بنیاد پر مضبوط ہو سکتے ہیں۔ جدید سیاسی تھیوری میں "سوشل کنٹریکٹ" کی بحث کی جاتی ہے کہ معاشرت کو قائم رکھنے کے لیے انسان معاہدہ کرتے ہیں۔ مواخات مدینہ ایک زندہ مثال تھی کہ یہ "سوشل کنٹریکٹ" محض قانونی دستاویز نہیں بلکہ حقیقی اخوت اور ایثار پر قائم ہو تو ایک ایسی قوم وجود میں آتی ہے جو دنیا کا نقشہ بدل دیتی ہے۔
الغرض، مواخات مدینہ کو اگر آج کی زبان میں بیان کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ یہ "Integration Model + Refugee Resettlement Program + Welfare Policy + Social Capital Building + Multicultural Cohesion + Nation Building Strategy" سب کچھ تھا۔ اس میں فرد کی عزت نفس کا تحفظ تھا، کمیونٹی کی ترقی تھی، اور ریاست کے قیام سے پہلے ہی فلاحی پالیسی کا نفاذ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ واقعہ آج بھی سماجی سائنسدانوں اور ماہرینِ سیاست کے لیے ایک "کیس اسٹڈی" کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ مواخات مدینہ صرف تاریخ کا ایک روشن باب نہیں بلکہ آج کی دنیا کے لیے بھی ایک رہنما اصول ہے۔ اگر آج کی عالمی برادری مہاجرین کے مسئلے، غربت کے خاتمے، اور مختلف ثقافتوں کے انضمام کے لیے کوئی پائیدار ماڈل چاہتی ہے تو اسے مدینہ کی اس اخوت سے سبق لینا ہوگا جو قرآن نے "إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ" کہہ کر دائمی اصول کے طور پر محفوظ کر دیا۔ یہ ماڈل آج بھی ہر اس سماج کے لیے امید کی کرن ہے جو عدل، مساوات اور بھائی چارے پر کھڑا ہونا چاہتا ہے۔
مواخاتِ مدینہ دراصل انسانی تاریخ کا وہ درخشاں باب ہے جس میں ہجرت کرنے والے مہاجرین کے دکھوں کو انصار کی ایثار پسندی نے خوشی میں بدل دیا، اجنبیت کو اپنائیت نے شکست دی اور کمزوری کو اتحاد نے طاقت میں بدل ڈالا۔ اگر جدید دنیا کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ عمل صرف ایک مذہبی جذبہ نہیں تھا بلکہ ایک عملی سماجی ماڈل تھا جس نے ریفیوجی ریسٹلمنٹ کو فلاحی پالیسی کے ساتھ جوڑا، اجنبیوں کو سوشل نیٹ ورک دیا، اور ایک نئی اجتماعی شناخت کی بنیاد رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ چند سالوں میں وہ بکھری ہوئی امت ایک ایسی منظم قوم میں بدل گئی جس نے عالمی تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔ آج جب دنیا مہاجرین کے بحران، نسلی تقسیم اور معاشرتی انتشار کا شکار ہے تو مواخاتِ مدینہ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حقیقی نیشن بلڈنگ اسی وقت ممکن ہے جب معاشرت اپنی بنیاد اخوت، مساوات اور ایثار پر رکھے۔ یہی وہ لازوال پیغام ہے جو اس عنوان میں جھلکتا ہے:
"مواخاتِ مدینہ: ریفیوجی ریسٹلمنٹ سے نیشن بلڈنگ تک"
یہ نتیجہ آج بھی ہر اس معاشرے کے لیے چراغِ راہ ہے جو انسانیت کو تقسیم کے بجائے وحدت اور نفرت کے بجائے محبت پر قائم کرنا چاہتا ہے۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home