Wednesday, 10 September 2025

اسلام کی امتیازی خسوصیات


 قرآنِ حکیم اور رسولِ اکرم ﷺ کی احادیثِ مبارکہ میں بار بار یہ حقیقت اجاگر کی گئی ہے کہ تمام آسمانی مذاہب کا ماحصل ایک ہی بنیادی پیغام تھا: اللہ کی وحدانیت اور اس کی بندگی بلاشرکتِ غیرے۔

تاریخِ انسانیت میں جتنے بھی انبیاء و رسل مبعوث ہوئے وہ اسی دعوت کے امین تھے۔ ہر نبی اپنی قوم کے سامنے اعلان کرتا کہ اصل حاکم و مالک صرف اللہ ہے اس کے سوا نہ کوئی عبادت کے لائق ہے نہ اطاعت کے۔ حضرت نوحؑ سے لے کر سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک یہ قافلۂ انبیاء اپنی اپنی امتوں کو یہی درس دیتا رہا۔

رسولِ رحمت ﷺ نے ایک نہایت دلنشیں مثال کے ذریعے اپنی بعثت کی وضاحت فرمائی:

"میری اور سابقہ انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک حسین و جمیل محل تعمیر کیا گیا ہو، مگر ایک کونے میں صرف ایک اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی ہو۔ لوگ اس عمارت کا طواف کریں اور تعریف کریں مگر یہ بھی کہیں: کاش وہ ایک اینٹ بھی لگادی جاتی! میں وہ آخری اینٹ ہوں اور میں ہی آخری نبی ہوں۔" [بخاری[

یوں سلسلۂ نبوت آپ ﷺ پر آکر مکمل ہوا۔ اب کوئی نبی یا رسول مبعوث نہ ہوگا۔ تمام انبیاء کی دعوت کا مرکزی نکتہ یہی تھا کہ اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کیا جائے اور شرک سے اجتناب کیا جائے۔ انہوں نے اللہ کی پاکیزگی، بے نیازی اور کامل صفات کو بیان کیا۔ اپنی امتوں کو واسطوں اور شریکوں سے ہٹاکر براہِ راست اللہ کی عبادت پر آمادہ کیا۔ اسی دعوت کے ذریعے انسانیت کو حقیقی فلاح کے راستے پر لگایا گیا تاکہ دنیا میں سکون اور آخرت میں نجات میسر ہو۔

قرآن گواہی دیتا ہے:

"اللہ نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا جس کا حکم نوحؑ کو دیا اور جس کی وحی ہم نے آپ ﷺ کی طرف کی اور جس کا حکم ہم نے ابراہیمؑ، موسیٰؑ اور عیسیٰؑ کو دیا کہ دین قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔" [42:13[

اسلام تمام پچھلے مذاہب پر خطِ نسخ کھینچتا ہے اور وہ آخری دین ہے جسے اللہ نے بنی نوعِ انسان کے لیے پسند فرمایا۔ اب اللہ تعالیٰ کے حضور کوئی اور دین قابلِ قبول نہیں۔ ارشادِ ربانی ہے:

"اور ہم نے آپ ﷺ پر حق کے ساتھ یہ کتاب نازل کی جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی اور ان پر نگران ہے۔" [5:48[

یہ دین چونکہ آخری ہے، اس لیے اس کی حفاظت کا ذمہ خود ربِ کائنات نے لیا ہے:

"بیشک ہم نے ہی یہ ذکر (قرآن) نازل کیا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔" [15:9[

قرآن نے صراحت کے ساتھ فرمایا:

"محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں بلکہ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔" [33:40]

اسلام یہ بھی سکھاتا ہے کہ پچھلے انبیاء اور آسمانی صحیفے سب قابلِ احترام ہیں۔ حضرت موسیٰؑ اور عیسیٰؑ نے بھی اپنی اپنی امتوں کو وہی پیغام دیا جو رسولِ اکرم ﷺ نے دیا: اللہ کی بندگی اور شرک سے اجتناب۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان تمام انبیاء و کتب پر ایمان لاتے ہیں۔ اگر کوئی کسی ایک نبی یا کتاب کا انکار کرے تو وہ ایمان سے محروم ہو جاتا ہے۔ قرآن اعلان کرتا ہے:

"جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کچھ پر ایمان لائیں اور کچھ کا انکار کریں اور درمیان کا راستہ اختیار کریں وہی حقیقت میں کافر ہیں۔" [4:150-151[

اسلام ایک عالمگیر دین ہے۔ یہ کسی مخصوص نسل، زبان یا علاقے کے لیے محدود نہیں۔ اس میں نہ رنگ کی تخصیص ہے نہ نسب کی تفریق۔ اسلام سب کو ایک ہی کلمے کے تحت جوڑ دیتا ہے: اللہ واحد ہے محمد ﷺ اس کے آخری رسول ہیں۔ جو اس حقیقت کو مان لے وہ چاہے کسی بھی نسل یا قوم سے ہو، مسلمان ہے۔

قرآن کہتا ہے:
"
اور ہم نے آپ ﷺ کو نہیں بھیجا مگر تمام انسانیت کے لیے بشیر و نذیر بنا کر۔" [34:28[

اس کے برعکس سابقہ انبیاء مخصوص اقوام کی طرف مبعوث کیے گئے تھے۔ چنانچہ حضرت نوحؑ کے بارے میں فرمایا:
"
بیشک ہم نے نوحؑ کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔" [7:59[
حضرت ہودؑ کے بارے میں فرمایا:
"
اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی ہودؑ کو بھیجا۔" [7:65[
حضرت صالحؑ کے بارے میں فرمایا:
"
اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالحؑ کو بھیجا۔" [7:73[
حضرت شعیبؑ کے بارے میں فرمایا:
"
اور ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیبؑ کو بھیجا۔" [7:85[
حضرت موسیٰؑ کے بارے میں فرمایا:
"
پھر ہم نے موسیٰؑ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا۔" [7:103[
اور حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں فرمایا:
"
اور جب عیسیٰؑ بن مریم نے کہا: اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں جو میرے سے پہلے آئی ہوئی تورات کی تصدیق کرتا ہوں۔" [61:6[

چونکہ اسلام ایک آفاقی پیغام ہے، اس لیے امتِ مسلمہ کو اس پیغام کے ابلاغ کا حکم دیا گیا۔ قرآن نے فرمایا:
"
اور اسی طرح ہم نے تمہیں بہترین اور معتدل امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ رہو اور رسول تم پر گواہ رہیں۔" [2:143[

یوں اسلام کی امتیازی شان یہ ہے کہ یہ دینِ فطرت ہے، دینِ عدل ہے اور دینِ وحدت ہے جس نے کائنات کی ہر قوم کو ایک ہی حقیقت کے رشتے میں پرو دیا۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home