Sunday, 5 October 2025

ڈاکٹرامبیڈکر کی قیام پاکستان سے قبل پاکستان کے بارے پیش گوئیاں (حصہ اول)

جب برصغیر کی سیاست 1930 کی دہائی میں مذہبی تقسیم کی طرف بڑھ رہی تھی تو چند ہی لوگ ایسے تھے جنہوں نے حالات کو جذبات کے بجائے سماجی سائنس کے عدسے سے دیکھا۔ ان میں سب سے نمایاں نام ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کا تھا — وہی امبیڈکر جنہوں نے بعد ازاں ہندوستان کا آئین مرتب کیا مگر اس سے پہلے وہ برصغیر کے مذہبی، معاشی اور سیاسی تضادات پر نہایت گہرا تجزیہ کر چکے تھے۔

1930 کے عشرے میں مسلم لیگ کی "دو قومی نظریے" کی تحریک زور پکڑ رہی تھی جبکہ دوسری طرف کانگریس ایک متحدہ ہندوستان کا خواب پیش کر رہی تھی۔ ان دونوں کے درمیان امبیڈکر ایک تیسرے فکری زاویے سے سوچ رہے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہندو اور مسلمان دونوں برصغیر میں صدیوں سے اکٹھے تو رہے ہیں مگر ان کی سماجی نفسیات، معاشی مفادات اور تاریخی شعور الگ الگ سانچوں میں ڈھلے ہوئے ہیں۔

ان ہی حالات میں امبیڈکر نے 1940 میں اپنی شہرۂ آفاق کتاب "Pakistan or the Partition of India" لکھی۔ یہ کتاب محض سیاسی دستاویز نہیں بلکہ سماجی مطالعہ، تاریخی مشاہدہ اور منطقی استدلال کا حسین امتزاج ہے۔امبیڈکر نے اس کتاب میں مسلمانوں کے موقف کو رد کرنے یا ان کا مذاق اڑانے کے بجائے اسے سنجیدگی سے سمجھنے اور پرکھنے کی کوشش کی۔ انہوں نے مسلم لیگ کے دلائل کا تجزیہ کیا مگر ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر واقعی پاکستان وجود میں آیا تو اس کے داخلی، عسکری، معاشی، تعلیمی اور نظریاتی مسائل کیا ہوں گے؟

ڈاکٹر امبیڈکر کا اندازِ فکر محض قوم پرستانہ نہیں تھا۔ وہ پیش گوئی کرنے سے پہلے اعداد و شمار، مردم شماری، فوجی تناسب، تعلیمی اعداد، جاگیرداری کے اثرات اور تاریخی تمثیلات کا سہارا لیتے ہیں۔مثلاً انہوں نے برطانوی ہند کی فوج میں مسلمانوں کی شرح، ان کے علاقوں کی تعلیمی پسماندگی، جاگیردارانہ رشتوں اور طبقاتی ساخت کا مفصل تجزیہ پیش کیا۔وہ ایک ماہرِ عمرانیات (Sociologist) کی طرح دیکھتے ہیں کہ اگر ایک ملک کا معاشرہ خود اندر سے طبقات میں بٹا ہوا ہو تو وہاں جمہوری ادارے پنپ نہیں سکتے۔اسی لیے وہ بار بار لکھتے ہیں کہ پاکستان کی ساخت "feudal and militaristic" یعنی جاگیردارانہ اور عسکری ہے — اور یہی دو عناصر کسی بھی ابھرتی ہوئی ریاست کے لیے خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔

جب امبیڈکر یہ کتاب لکھ رہے تھے اس وقت نہ پاکستان بنا تھا نہ تقسیم کا کوئی حتمی فیصلہ ہوا تھا۔اس کے باوجود انہوں نے اس امکان کو نہ صرف سنجیدگی سے لیا بلکہ اس کے نتائج و اثرات کو بڑے سائنسی انداز میں بیان کیا۔یہ کتاب 13 ابواب پر مشتمل ہے جن میں وہ مختلف پہلوؤںجیسے مسلم سیاست، ہندو اکثریت کا رویہ، فوجی ڈھانچہ، معیشت، مذہب، تعلیم اور اقلیتوں کے حقوق — کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔

1940 میں شائع ہونے والی یہ کتاب اُس وقت زیادہ نہیں پڑھی گئی کیونکہ کانگریس اور مسلم لیگ دونوں اپنی اپنی سیاسی کشمکش میں الجھی ہوئی تھیں۔
مگر آزادی کے بعد، خصوصاً 1971 میں بنگلہ دیش کے قیام کے بعد محققین نے جب اس کتاب کو دوبارہ پڑھا تو حیرت ہوئی کہ امبیڈکر نے جو کچھ لکھا تھا، وہ تاریخ کے صفحات پر لفظ بہ لفظ سچ ثابت ہوا۔

امبیڈکر نے مسلمانوں کو دشمن نہیں بلکہ ایک سماجی حقیقت کے طور پر دیکھا۔وہ لکھتے ہیں کہ اسلام نے برصغیر میں برابری، اخوت اور عدل کا پیغام دیا مگر ساتھ ہی مسلم معاشروں میں طبقاتی اور قبائلی روایتیں باقی رہ گئیں جنہوں نے اسلامی مساوات کے اصول کو عملی شکل میں ماند کر دیا۔
ان کے مطابق، اگر پاکستان بنا تو وہ اسلامی نظریے کی بجائے قبائلی و علاقائی نفسیات کے تابع ہوگا۔

ایک جگہ وہ لکھتے ہیں:

“Islam may unite them in theology but not in sociology.”

یعنی “اسلام انہیں مذہبی لحاظ سے تو متحد رکھ سکتا ہے، مگر سماجی لحاظ سے نہیں۔''

یہی وہ جملہ ہے جو پاکستان کی بعد از قیام تاریخ کے لیے ایک مرکزی تشخیص (diagnosis) بن گیا — مذہب کی وحدت کے باوجود معاشرہ لسانی، طبقاتی اور صوبائی بنیادوں پر بٹ گیا۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ امبیڈکر نے مسلمانوں کے حقِ علیحدگی کی مخالفت نہیں کی۔وہ کہتے ہیں:

“If the Muslims want Pakistan, let them have it.”

''اگر مسلمان پاکستان چاہتے ہیں، تو انہیں دے دیا جائے۔''

لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس فیصلے کے سماجی و معاشی نتائج پر ضرور غور کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کسی تعصب کے بغیر یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ ایک مذہب پر مبنی ریاست کو چلانے کے لیے صرف ایمان نہیں بلکہ انتظامی نظم، تعلیم، اور صنعتی خود کفالت بھی ضروری ہیں — اور اگر یہ عناصر نہ ہوں تو ریاست جلد یا بدیر کمزور ہو جائے گی۔

ڈاکٹر امبیڈکر کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اپنی تحریر میں کسی قوم کے خلاف نفرت نہیں پھیلائی بلکہ فکر کی بنیاد پر تنبیہ کی۔ان کا لہجہ قنوطی نہیں بلکہ تحقیقی اور اصلاحی ہے۔وہ نہ تو ہندو بالادستی کے حامی تھے اور نہ ہی مسلمانوں کے مخالف بلکہ وہ چاہتے تھے کہ برصغیر کے لوگ تاریخی حقیقتوں کا سامنا کریں۔اسی لیے اُن کی پیش گوئیاں آج بھی محض "سیاسی تبصرے" نہیں بلکہ علمِ اجتماع، سیاسی نفسیات اور ریاستی نظریات کا کلاسیکی مطالعہ سمجھی جاتی ہیں۔

امبیڈکر نے جو کچھ لکھا، وہ اُس وقت کی سیاست سے بہت آگے کی بات تھی۔ان کا مقصد کسی کو نیچا دکھانا نہیں بلکہ یہ بتانا تھا کہ ریاستیں صرف جذبات سے نہیں اداروں سے چلتی ہیں۔پاکستان کے بارے میں ان کی بصیرت ہمیں اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ بعض اوقات ایک غیر متعلق فرد بھی قوموں کے مقدر کی جھلک دیکھ لیتا ہے — بشرطیکہ وہ حقیقت پسندی سے سوچے۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home