Sunday, 21 September 2025

غزہ کی ہجرت: قرآن کی روشنی میں مظلومیت، استقامت اور نئی امید کا سفر

اہل غزہ دوسال کی نسل کشی کے بعد اب غزہ سے کسی ان دیکھی منزل کی طرف ہجرت کرنے پہ مجبور کر دئیے گئے ہیں۔ بھوک پیاس اور بے سروسامانی میں لاکھوں افراد کسی نئے ٹھکانے کی امید میں اپنے بچے کھچے خاندان کے ساتھ عازم سفر ہیں۔ ہجرت محض ایک جغرافیائی نقل مکانی کا نام نہیں، بلکہ یہ ایمان، صبر اور اللہ پر توکل کا ایک عظیم عمل ہے۔ قرآن مجید ہجرت کو ایمان کی تکمیل اور اجر عظیم کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَٰئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللَّهِ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ" (البقرہ: 218)

"بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا، یہی لوگ اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔"
اس طرح آج فلسطین، خاص طور پر غزہ کی پٹی، میں جو الم ناک صورت حال ہے وہ اسی ہجرت کے جدید دور کا ایک درد ناک باب ہے۔ جہاں مظلوم عوام کو اپنے ہی وطن میں غیر انسانی حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہیں ہجرت ان کے لیے زندگی کی بازیافت کا واحد ذریعہ بن گئی ہے۔
ہجرت کے ضمن میں تین طرح کے معاشرتی ماڈلز ہمارے سامنے آتے ہیں۔ ایک مکے کا معاشرتی ماڈل ہے۔ یہ ماڈل ظلم پہ مبنی ہے۔ یہ لوگوں کو اختلاف رائے رکھنے کا حق نہیں دیتا۔ لوگوں سے حق زندگی چھین لیتا ہے اور ان کی املاک پہ ناحق قبضہ بھی کر لیتا ہے۔ یہ معاشرے تادیر قائم نہیں رہتے جلد ہی یہ گر جاتے ہیں۔
قرآن مجید واضح طور پر ان معاشروں کی تباہی کی خبر دیتا ہے جو مظلوموں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرتے اور انہیں جبراً نقل مکانی پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ ایک سنت الہیٰ (اللہ کا نافذ کردہ قانون) ہے۔ ارشاد ہے: "وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَمْلَيْتُ لَهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ أَخَذْتُهَا وَإِلَيَّ الْمَصِيرُ" (الحج: 48)
"اور بہت سے ایسے بستی والے تھے جنہیں میں نے (توبہ کی) مہلت دی حالانکہ وہ ظلم کر رہے تھے، پھر میں نے انہیں پکڑ لیا، اور (سب کو) میری ہی طرف پلٹنا ہے۔"
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنے ہی لوگوں پر ظلم ڈھایا، انہیں بے گھر کیا، یا مہاجرین کے حقوق پامال کیے، وہ کبھی بھی فلاح اور استحکام سے ہمکنار نہیں ہو سکیں۔ فرعون کی سرزمین، قدیم بابل اور دیگر مظالم کرنے والی تہذیبیں اس کی واضح مثالیں ہیں۔ ان معاشروں کا داخلی اور اخلاقی تانا بانا بکھر گیا اور وہ تاریخ کے صفحات میں محض ایک عبرت ناک داستان بن کر رہ گئیں۔
دوسرا طائف کا معاشرتی ماڈل ہے۔ یہ وہ ماڈل ہے جہاں مظلوم امداد کے لیے جاتے ہیں لیکن وہ اپنے دروازے مظلوموں کے لیے نہیں کھولتے۔ بلکہ ان کو ان کی حالت کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں ان کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کو اپنے معاشروں سے تذلیل کے بعد نکال دیتے ہیں۔ یہ معاشرے بھی زبردست حفاظتی اقدامات کے باوجود زیادہ دیر قائم نہیں رہتے۔
قرآن مجید اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ اگر کوئی تمہارے پاس پناہ مانگے تو اسے پناہ دو، چاہے وہ تمہارا دشمن ہی کیوں نہ ہو۔ اسے رد کر دینا درحقیقت اللہ کی نعمت (امن اور وسائل) کے ساتھ کفران ہے۔
"وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّىٰ يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ" (التوبہ: 6)
"اور اگر مشرکین میں سے کوئی تم سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دو، یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے، پھر اسے اس کی جگہ امن تک پہنچا دو۔"
تاریخ گواہ ہے کہ جن معاشروں نے انسانی ہمدردی، رحم اور پناہ گزینی کے فریضے کو نظر انداز کیا، ان کے پاس وسائل اور طاقت کی کمی کی وجہ سے نہیں، بلکہ ان کے اخلاقی اور روحانی بانکپن کی وجہ سے ایسا کیا۔ ایسے معاشرے داخلی طور پر کھوکھلے ہو جاتے ہیں، ان میں انسانی ہمدردی ختم ہو جاتی ہے اور وہ اپنے ہی ظلم اور خود غرضی کے باعث تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتے ہیں۔ یہ ایک واضح سنتِ الٰہی ہے کہ "جیسا کرو گے، ویسا بھرو گے"
تیسرا مدینے کا معاشرتی ماڈل ہے۔ یہ وہ ماڈل ہے جو پہلے سے خود کی تقسیم سے نبرد آزما ہوتا ہے مگر مظلوم کو اپنے ہاں خوش آمدید کہتے ہیں۔ اپنا رزق ان کے ساتھ تقسیم کرتے ہیں۔ انہیں اپنے ہاں پناہ دیتے ہیں ان کے پیچھے آنے والے ظالموں سے ان کی حفاظت میں اپنی جان تک قربان کر دیتے ہیں۔ یہ معاشرے معمولی سے غیر معمولی کی جانب سفر کرتے ہیں۔ یہیں سے دنیا کی بڑی بڑی سلطنتیں ان کے سامنے سرنگوں ہو جاتی ہیں ۔
اس کے ساتھ قرآن مجید ان لوگوں کے لیے رحمت، برکت اور نصرت کی بشارتیں سناتا ہے جو مظلوم مہاجرین کو پناہ دیتے ہیں، ان کی مدد کرتے ہیں اور انہیں معاشرے کا فعال حصہ بناتے ہیں۔ مدینہ منورہ کے انصار نے رسول اللہ ﷺ اور ان کے مہاجر ساتھیوں کو اپنے گھر اور دل دونوں میں جگہ دی۔ اس عمل پر اللہ تعالیٰ نے ان کی بے پناہ تعریف فرمائی: "وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِن قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ... وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِّمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ" (الحشر: 9)
"اور (انصار) وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس شہر (مدینہ) میں (مہاجرین کے لیے) جگہ بنائی اور ان کے دلوں میں ایمان بھی (جاگزیں تھا)، یہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ان کے پاس ہجرت کر کے آئے... اور جو کچھ (مال و متاع) مہاجرین کو دیا جاتا ہے اس پر یہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہیں کرتے، بلکہ انہیں اپنی جانوں پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ خود انہیں شدید حاجت ہی کیوں نہ ہو۔"
یہی وہ اخلاقی اساس تھی جس پر تعمیر ہونے والا معاشرہ تاریخ کا سب سے کامیاب اور روشن خیر تہذیب بنا۔ جدید دور میں بھی، کینیڈا، جرمنی جیسے ممالک نے مہاجرین کے ذریعے معاشی و ثقافتی ترقی اور استحکام حاصل کیا ہے، جو اس سنت الہیٰ کی ایک جدید تفسیر ہے۔
غزہ کی پٹی کا موجودہ بحران انسانی تاریخ کے تاریک ترین ابواب میں سے ایک ہے۔ بے گناہ مرد، عورتیں اور بچے اپنے ہی گھروں میں قید ہیں، جنہیں بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم کر دیا گیا ہے۔ ایسے میں ہجرت ان کے لیے موت کے پنجے سے نکل کر زندگی کی طرف بھاگنے کے مترادف ہے۔ یہ ہجرت ان کی اپنی مرضی نہیں، بلکہ انتہائی مجبوری ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: "إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ" (النحل: 106)
"سوائے اس کے جو مجبور کر دیا جائے لیکن اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو۔"
غزہ کے باشندے اپنی زمین، اپنے گھر بار اور اپنی تاریخ سے محبت کرتے ہیں، لیکن جب بقاء کی جنگ ہر روز کی حقیقت بن جائے تو ہجرت ہی واحد راستہ نظر آتا ہے۔ عالمی براداری کا فرض بنتا ہے کہ وہ ان مہاجرین کو محض ایک عددی بوجھ کے طور پر نہ دیکھے، بلکہ انہیں اس صلاحیت اور عزم کے ساتھ دیکھے جو کسی بھی معاشرے کو خوشحال اور مضبوط بنا سکتا ہے۔
غزہ کی ہجرت محض فلسطینی عوام کا مسئلہ نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر کے امتحان کا مسئلہ ہے۔ ہمیں قرآن مجید کی اس تعلیم کو اپنانا ہوگا کہ مظلوم کی مدد اور مہاجر کی میزبانی ایمان کا تقاضا ہے۔
اہل غزہ کی جانب ہمارے رویے ہمارے مقام اور ہمارے مستقبل کا تعین کریں گے۔ غزہ کے لوگ ظالم کے ظلم سے تنگ آ کر "مکے کے معاشرتی ماڈلی " سے ہجرت کے لیے نکل چکے۔ اب مسلمان ممالک پہ ہے کہ ان کے ساتھ اہل طائف کے معاشرتی ماڈل جیسا سلوک کرتے ہیں یا اہل مدینی کے معاشرتی ماڈل جیسا۔ آئیے، ہم تاریخ کے اس اہم موڑ پر کھڑے ہو کر غزہ کے مظلوم مہاجرین کے لیے آواز بلند کریں۔ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق انسانی امداد پہنچانے میں حصہ ڈالیں۔ اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈالیں کہ وہ ان مہاجرین کے لیے محفوظ راستے کھولیں اور ان کے جبری بے گھر ہونے کے خلاف موقف اختیار کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں ان مظلوم بھائیوں اور بہنوں کے لیے درد پیدا فرمائے اور ہمیں ان کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ اللہ تبارک تعالیٰ ارشاد فرماتا:
"وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ" (المائدہ: 2)
"اور نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو، اور گناہ اور ظلم کے کاموں میں تعاون نہ کرو۔" 

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home