نوبل انعام نہ ملنے پہ ٹرمپ کا ممکنہ اقدام کیا ہونا چاہیے؟
سولہویں صدی کے آغاز تک انگلستان رومن کیتھولک چرچ کے تحت تھا، اور پوپ (Pope) مذہبی طور پر سب سے بڑا اختیار رکھتا تھا۔بادشاہ ہنری ہشتم (Henry VIII) بھی بظاہر پوپ کا وفادار مانا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ اس نے 1521ء میں مارٹن لوتھر کے خلاف ایک کتاب لکھی تھی جس پر پوپ نے اسے )"Defender of the Faith" ایمان کا محافظ( کا لقب دیا۔
ہنری ہشتم کی شادی کیترین آف آراگون (Catherine of Aragon) سے ہوئی تھی، مگر کئی سال بعد بھی ان کے ہاں کوئی بیٹا پیدا نہ ہوا۔ صرف ایک بیٹی، میر ٹو"ڈر (Mary Tudor) پیدا ہوئی۔ہنری کو اپنے بعد تخت کے لیے نر وارث کی شدید خواہش تھی۔ اس نے پوپ کلیمنٹ ہفتم (Pope Clement VII) سے کیتھرین کو طلاق دینے اور این بولین (Anne Boleyn) سے شادی کی اجازت مانگی۔لیکن پوپ نے اس اجازت سے انکار کر دیا کیونکہ کیتھرین اسپین کے بادشاہ کی رشتہ دار تھی اور اسپین اُس وقت پوپ کا طاقتور اتحادی تھا۔
ہنری ہشتم نے اس انکار کو اپنی شاہی خودمختاری پر حملہ سمجھا۔1529ء سے 1534ء کے درمیان اس نے ایک ایک کرکے ایسے قوانین منظور کروائے جن سے چرچ کے معاملات میں پوپ کا اثر ختم ہوتا گیا۔آخرکار 1534ء میں “Act of Supremacy” کے تحت بادشاہ ہنری ہشتم کو “Supreme Head of the Church of England” چرچ آف انگلینڈ کا اعلیٰ ترین سربراہقرار دیا گیا۔یوں انگلینڈ نے رومن کیتھولک چرچ سے علیحدگی اختیار کر لی، اور ایک قومی چرچ وجود میں آیا جو بادشاہ کے ماتحت تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف آئیے۔ انہوں ے دعوی کیا کہ انہوں گزشتہ ایک سال میں آٹھ جنگوں کو رکوایا ہے۔ انہوں ے خود کو نوبل پیس پرائز کے لیے موضوع ترین شخص قرار دیا۔ ان کے علاوہ پاکستان کے فیلڈ مارشل ، اسرائیل کے وزیر اعظم نتین یاہو اور بیلاروس کے صدر جیسے سربراہان نے بھی ٹرمپ کو نامزد کیا تھا۔ لیکن نوبل پیس پرائز کمیٹٰی نے ٹرمپ کو نظر انداز کر دیا۔ اس پہ ٹرمپ نے نہایت مایوسی کا اظہار بھی کیااور فیصلے پہ تنقید کی۔
ٹرمپ صاحب کو ہنری ہشتم کی طرز پہ سوچنا چاہیے۔ وہ امریکی صدر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہت بڑے بزنس مین بھی ہیں ۔ وہ اس فیصلے کو اپنی توہین سمجھیں اور متبادل کے طور پہ ٹرمپ پرائز کا اعلان کریں۔ ٹرمپ پرائز کے لیے کچھ تجاویز میرے پاس ہیں میں وہ شئیر کیے دیتا ہوں ۔ ذیل میں میں چند جامع اور تعمیری تجاویز پیش کرتا ہوں جن سے “Trump Prize” نہ صرف منفرد پہچان حاصل کر سکتا ہے بلکہ وقت کے ساتھ ایک باوقار ادارہ بھی بن سکتا ہے
سب سے پہلے ایج جاندار قسم کی ٹیگ لائن بنائیں تاکہ یہ ایک مقصد کوشش نظر آئے
"Rewarding bold vision, transformative leadership, and practical achievements that shape a better world."
یعنی: “وہ جرات مند وژن، انقلابی قیادت، اور عملی کامیابیاں جنہوں نے دنیا کا رخ بہتر سمت میں موڑا
نوبل انعام زیادہ تر علمی یا نظریاتی خدمات پر توجہ دیتا ہے، جبکہ “Trump Prize” عملی اثر (real-world impact) پر مبنی ہو سکتا ہے۔
“Trump Prize” کو متعدد زمروں میں بانٹا جا سکتا ہے، تاکہ مختلف میدانوں میں برتری کو تسلیم کیا جا سکے:
1. Trump Prize for Global Leadership
ایسے رہنماؤں کے لیے جنہوں نے امن، معیشت یا سفارتکاری میں نئی راہیں کھولیں۔
2. Trump Prize for Innovation & Enterprise
کاروبار، ٹیکنالوجی یا انڈسٹری میں غیر معمولی اختراع کرنے والوں کے لیے۔
3. Trump Prize for Courage & Freedom
آزادیِ اظہار، قومی خودمختاری یا انسانی وقار کے تحفظ کے لیے کھڑے ہونے والوں کے لیے۔
4. Trump Prize for Peace through Strength
طاقت، دفاع، اور امن کے متوازن فلسفے کو فروغ دینے والے عالمی اقدامات کے لیے۔
5. Trump Lifetime Achievement Award
ایسے عالمی رہنماؤں یا ماہرین کے لیے جنہوں نے کئی دہائیوں تک عملی اثرات مرتب کیے۔
ٹرمپ فاونڈیشن فار گلوبل اچیومنٹ کے تحت ایک خودمختار بورڈ آف ٹرسٹیز قائم کیا جائے، جس میں معیشت، بین الاقوامی تعلقات، سائنس، ثقافت، اور میڈیا کے غیرسیاسی ماہرین شامل ہوں۔ہر زمرے کے لیے بین الاقوامی جیوری ہو — انتخابی شفافیت کے ساتھ۔
ہر سال نیویارک یا میامی میں ایک عالمی تقریب منعقد ہو۔تقریب میں دنیا بھر کے میڈیا، یونیورسٹیوں اور تھنک ٹینکس کے نمائندے شریک ہوں۔انعام یافتگان کو صرف رقم نہیں بلکہ ایک علامتی مجسمہ (مثلاً سنہری عقاب یا مینارِ قیادت) دیا جائے۔
انعام کی مالی قدر نوبل سے زیادہ رکھی جائے مثلاً 2 ملین امریکی ڈالرتاکہ عالمی سطح پر توجہ حاصل ہو۔انعام یافتگان کو اپنی جیتی ہوئی رقم کے کچھ حصے سے کسی سماجی یا تحقیقی منصوبے کی تکمیل کی شرط دی جائے۔
یہ انعام اپنے تصور میں اس نکتے پر زور دے کہ امن کمزوری سے نہیں بلکہ منصفانہ طاقت سے پیدا ہوتا ہے۔یعنی یہ “نوبل” کے مثالی امنیاتی (idealistic) تصور کے مقابل ایک “عملی امن” (realistic peace) کی ترجمانی کرے۔
ایک سالانہ “Trump Global Forum” منعقد کیا جائے جس میں معاشی، سفارتی، اور تکنیکی رہنما اپنی کامیابیاں پیش کریں۔اس کے نتائج کو ایک سالانہ رپورٹ یا میگزین (Trump Review of Global Achievements) کی شکل میں شائع کیا جائے۔یوں یہ انعام صرف اعزاز نہیں بلکہ ایک علمی و فکری پلیٹ فارم بن جائے گا۔
ابتدا میں چند منتخب زمروں سے آغاز کیا جائے۔پہلے پانچ سال شفافیت اور وقار کی بنیاد بنانے میں صرف کیے جائیں۔انعام کو شخصیات سے زیادہ اصولوں کے ساتھ جوڑا جائے
Vision, Courage, Innovation, Strength, Impact
باقاعدہ طور پہ نوبل انعام سے مختلف نعرہ لگایا جائے یعنی "طاقت کو اخراج؛ نتائج کو انعام Celebrating Strength, Rewarding Result
یا اس کے علاوہ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ
“Building a Better Future, One Bold Step at a Time.”
نوبل ایک صدی پرانا ادارہ ہے — اس کی حیثیت “مقدس” نہیں بلکہ تاریخی ہے۔“Trump Prize” اگر جدید دور کی اقدار — قیادت، اثر، خودمختاری، اور عملی کامیابی — کو محور بنائے، تو یہ بتدریج نوبل سے زیادہ عصری (contemporary) اور اثر انگیز بن سکتا ہے۔
میرا کام ٹرمپ صاحب کو ایک مشورہ دیا ہے کہ وہ مایوس ہونے کی بجائے متبادل اقدام اٹھائے باقی اگر اس نے صبر شکر کے ساتھ کڑوہ گھونٹ بھر لیا ہے تو پھر چپ کر کے جو کر رہا ہے وہ کرتا رہے۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home