Wednesday, 27 May 2026

ہم نے مل کر غزہ سے منہ موڑ لیا ہے


 پہلا منظر: 

ناقابل بیان ہے سب کے علم میں ہے۔ لاشیں ہیں تباہی ہے بے بسی ہے اللہ پہ کامل یقین ہے۔ یہ غزہ ہے۔

دوسرا منظر: 

یہ منظر اپنے اندر بیشمار تہوں میں چھپا ہے۔ سب سے اوپری تہہ کو دیکھیں تو حکمران ہیں۔ محمد بن سلیمان امریکہ کی کمزور اقتصادی حالت میں اربوں ڈالرز کا انجیکشن لگاتے ہیں۔ قطر کے امیر ان سے ایک قدم بڑھ امریکہ کی خدمت کرتے ہیں۔ لیکن یہ غزہ میں جنگ رکوانے، ان کی بحالی کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھاتے۔

اس کے نیچے ایک اشرافیہ کی تہہ ہے۔ یہ اشرافیہ دو طرح کی ہے ایک مذہبی دوسری سیکولر۔ مذہبی اشرافیہ 12 لاکھ سے 30 لاکھ کا حج کرنے پانچ ملین یعنی پچاس لاکھ کی تعداد میں سعودی عرب پہنچی ہے۔ اگر کم سے کم خرچ چالیس ہزار ڈالرز فی کس لگائیں تو 2 کھرب ڈالرز دے کر سعودی عرب پہنچے ہیں۔ اس سے بہت کم پیسوں سے غزہ تعمیر ہو سکتا ہے وہاں بھوک اور پیاس سے انسانی المیہ رک سکتا ہے مگر اس ضمن میں اس بار حج موقوف کرنا کسی نے خیال نہیں کیا۔ حج پھر بھی ہو جانا لیکن گئی جان کی واپسی ممکن نہیں۔ اسی اشرافیہ کی ایک قسم اگلے ماہ محرم میں لاکھوں کروڑوں خرچ کر کے مجالس برپا کرے گی اربعین واک پہ جائے گی۔ یہ سب امام حسین علیہ السلام کی محبت کے نام پہ ہو گا یہ جانتے ہوئے بھی کہ امام حسین (ع) نے حج کا احرام حج مکمل کیے بغیر کھول دیا کیونکہ کسی جگہ ان کا ہونا حج سے زیادہ ضروری تھا۔ 

اشرافیہ کی دوسری قسم سیکولر ذہن کی ہے۔ وہ اپنی نمود و نمائش پہ، سوسائٹی میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے اور دوسروں کو نیچا دیکھانے کے لیے بے تحاشہ پیسہ لٹا رہے انہوں نے گزشتہ ڈیڑھ سال سے اس جنگ پہ کی خبر تک نہیں لی، انہوں نے ان تمام برینڈز کو پیسے کی کمی نہیں آنے دی جو اسرائیل کے لیے فنڈنگ کرتے ہیں۔ 

تیسری تہہ میں مڈل کلاس آتی ہے۔ ان کی کوئی رائے نہیں ہے۔ لیکن یہ بھی اس انسانی المیہ پہ ویسی ہی بے اعتنائی کا مظاہرہ کر رہے جیسا ان سے اوپر والے طبقات کر رہے۔ قربانی سر پہ ہے۔ 30 ہزار روپے سے قربانی کا فریضہ سر انجام پا سکتا ہے اگر مشترکہ قربانی پہ فوکس کیا جائے۔ لیکن ابھی منڈیوں میں قربانی لاکھوں میں جا رہی۔ ایک سے زائد قربانی نہ کرنے کی آپشن ہونے کے باوجود وہ اپنی نمائش کے لیے زائد قربانی یہیں کرنے کو ترجیح دے رہے حالانکہ وہ ایک سے زائد قربانی کے پیسے غزہ بھیج کر وہاں زندگی کاپھول کھلا رہنے میں مدد کر سکتے لیکن وہ صرف مقامی ابادی میں جہاں ان کی جان پہچان ہے وہیں پہ اپنے سماجی رتبے میں اضافے خواہش مند نظر آتے۔

چوتھی تہہ میں عام آدمی نظر آتا ہے جو اوپر والے طبقات کی طرح کچھ دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا لیکن وہ تعداد میں بڑی کثرت رکھتا ہے وہ کلیتا بائیکاٹ کی پالیسی اپنا کر کوک اور پیپسی جیسی دیگر مصنوعات کا بائیکاٹ کر سکتا ہے لیکن اس نے شعور سے منہ موڑ رکھا ہے اور مسجد کے اسپیکر سے چندے کے وقت یہ اعلان تو سمجھ تو آتا ہے کہ قطرے قطرے سے دریا بن جاتا ہے لیکن پیپسی کوک پیتے وقت یہ سوچتا ہے کہ میری ایک بوتل سے کیا فرق پڑنا۔

مسلم معاشروں نے کسطرح اہل غزہ کی طرف پشت کی ہے اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ نہایت بری مثال قائم کی جا رہی ہے آج ہم کسی کے غم میں شریک نہیں ہو رہے تو کل یہ غم ہمارے دروازے پہ بھی دستک دے گا کوئی ہماری مدد کو نہیں پہنچے گا۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home