Monday, 13 July 2026

بادشاہی مسجد لاہور کے سائے میں دفن پنجاب کی تاریخ

 بادشاہی مسجد لاہور کے سائے میں دفن پنجاب کی تاریخ

تحریر : ابو بکر صدیق

​بادشاہی مسجد لاہور کے سامنے واقع تاریخی حضوری باغ میں، مسجد کے عظیم الشان دروازے کے دونوں جانب دو اہم ترین شخصیات ابدی نیند سو رہی ہیں۔ سیدھے ہاتھ پر مصورِ پاکستان علامہ محمد اقبال کا مزار ہے، جس کا بیرونی حصہ جے پور کے سرخ پتھر سے اور اندرونی لوحِ مزار (تعویذِ قبر) افغانستان کے بادشاہ محمد ظاہر شاہ کے تحفہ کردہ قیمتی لاجوردی پتھر سے تیار کیا گیا ہے۔ دوسری جانب، ایک سادہ سے چبوترے پر متحدہ پنجاب کے پہلے پریمیئر (وزیرِ اعظم) سر سکندر حیات خان آسودہ خاک ہیں۔
​دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دونوں شخصیات سیاسی اعتبار سے ایک دوسرے کی حریف کہی جا سکتی تھیں۔ علامہ اقبال کو بادشاہی مسجد کے بیرونی احاطے میں دفن کرنے کی اجازت سر سکندر حیات کی حکومت نے ہی دی تھی، جبکہ خود سر سکندر حیات کو ان کی وفات کے بعد یہاں دفن کیے جانے کی وجہ بادشاہی مسجد کی بحالی اور اہلیانِ پنجاب کے لیے ان کی گراں قدر خدمات تھیں۔
​سکھ دورِ حکومت میں بادشاہی مسجد شدید خستہ حالی کا شکار ہو چکی تھی اور دیگر مغلیہ عمارات کی طرح اس کا بیش قیمت سنگِ سرخ اتار کر امرتسر اور دیگر مقامات کی تعمیرات میں استعمال کیا جا رہا تھا۔ جب سر سکندر حیات خان پنجاب کے وزیرِ اعظم بنے، تو انہوں نے اس عظیم تاریخی مسجد کی بحالی کا بیڑا اٹھایا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے کسانوں کے مالیہ پر صرف "ایک پیسہ فی روپیہ" کے حساب سے "مسجد ٹیکس" عائد کیا، جس سے حاصل ہونے والی رقم سے راجستھان سے سرخ پتھر منگوا کر مسجد کو موجودہ دیدہ زیب شکل میں بحال کیا گیا۔
​سر سکندر حیات خان پنجاب کے مقتدر ترین رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ برطانوی راج کے دوران ۱۹۳۲ اور ۱۹۳۴ میں پنجاب کے پہلے ہندوستانی اور مسلم قائم مقام (Acting) گورنر مقرر ہوئے، اور انڈین ریزرو بینک کے پہلے ڈپٹی گورنر بھی رہے۔ وہ پنجاب کی سب سے بڑی سیاسی قوت، یونینسٹ پارٹی کے بانی رہنماؤں سر فضلِ حسین اور چوہدری چھوٹو رام کے قریبی ساتھی تھے۔ سر فضلِ حسین کی وفات کے بعد انہوں نے پارٹی کی قیادت سنبھالی اور ۱۹۳۷ کے انتخابات کے بعد متحدہ پنجاب کے پہلے وزیرِ اعظم بنے۔
​۱۹۳۷ کے ان تاریخی انتخابات کے بعد یونینسٹ پارٹی پنجاب کی سب سے بڑی پارلیمانی قوت بن کر ابھری، جبکہ آل انڈیا مسلم لیگ صوبے میں صرف دو نشستیں حاصل کر سکی۔ پنجاب کی اس سیاسی حقیقت کو بھانپتے ہوئے اکتوبر ۱۹۳۷ میں قائدِ اعظم اور سر سکندر حیات کے درمیان تاریخی "جناح-سکندر معاہدہ" طے پایا۔ اس معاہدے کے تحت مسلم لیگ کو پنجاب اسمبلی میں قدم جمانے اور یونینسٹ اراکین کی بدولت اپنی سیاسی طاقت بڑھانے کا سنہری موقع ملا۔ علامہ اقبال، جو پنجاب مسلم لیگ کے صدر تھے، اگرچہ اصولی طور پر یونینسٹ ارکان کے مسلم لیگ میں شامل ہونے پر شدید تنظیمی و سیاسی تحفظات رکھتے تھے اور خطوط کے ذریعے قائدِ اعظم کو ان سے آگاہ بھی کرتے رہے، تاہم انہوں نے مرتے دم تک عوامی سطح پر قائدِ اعظم محمد علی جناح کی قیادت پر غیر متزلزل اعتماد کا اظہار کیا اور تحریکِ پاکستان کی فکری رہنمائی جاری رکھی۔
​یہ معاہدہ مسلم لیگ کے لیے پنجاب میں ایک بہت بڑا بریک تھرو ثابت ہوا۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران جب برطانوی حکومت کو برصغیر بالخصوص پنجاب کے فوجیوں اور عوام کے تعاون کی اشد ضرورت تھی، تو سر سکندر حیات خان کی وساطت سے ہی مسلم لیگ کو اپنی سیاسی اہمیت منوانے اور قرار دادِ لاہور (۱۹۴۰) پیش کرنے کا سیاسی ماحول میسر آیا۔ سر سکندر حیات اس قرار داد کا ڈرافٹ تیار کرنے والی سبجیکٹ کمیٹی کا اہم حصہ تھے، جسے بعد میں شیرِ بنگال مولوی اے کے فضل الحق نے پیش کیا۔
​جب ۱۹۴۲ میں سر سکندر حیات خان کا اچانک انتقال ہوا، تو پنجاب کا جاگیردار اور الیکٹ ایبل طبقہ مسلم لیگ کے ساتھ الحاق کے اس سفر پر گامزن ہو چکا تھا جس کی بنیاد جناح-سکندر معاہدے نے رکھی تھی۔ اس سازگار سیاسی ماحول کا بھرپور فائدہ مسلم لیگ نے ۱۹۴۵-۴۶ کے تاریخی انتخابات میں اٹھایا، جہاں پنجاب سے شاندار کامیابی حاصل کر کے پاکستان کا قیام ممکن بنایا گیا۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home