حسین کس طرح بقائے انسانیت ہے؟
حسین کس طرح بقائے انسانیت ہے؟
تحریر ؛ ابوبکر صدیق
حسینؑ کی ذاتِ بابرکات کا فلسفہ اور واقعہ کربلا دراصل کائنات میں دو متضاد نظاموں کے باہمی تصادم کی سب سے واضح ترین مظہر ہے، اور یہی معرکہ بقائے انسانیت کی اصل بنیاد فراہم کرتا ہے۔
دنیا میں اس وقت جتنے بھی مادی اور دنیوی نظام کار فرما ہیں، ان کی پوری عمارت مقابلے اور مادی قوت کی بنیاد پر قائم ہے۔ مادی فلسفے اور "سروائیول آف دی فٹسٹ" کے اصول کے مطابق زندہ رہنے، آگے بڑھنے یا ترقی کرنے کا حق صرف طاقتور کے پاس ہے۔ اس سفاکانہ نظامِ حیات میں جو طاقت، وسائل اور مکر و فریب میں بہتر ثابت ہوتا ہے، وہی وجود برقرار رکھتا ہے، جبکہ جو وقت کی تند و تیز لہروں اور چیلنجز کا مقابلہ نہ کر سکے، وہ انسانی گروہ، طبقات، نظریات یا سپیشیز صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں۔ وسائل کی اس بے رحم دوڑ میں دوڑنے والا ہر فریق اپنے بقا اور اقتدار کی خاطر کسی بھی اخلاقی یا انسانی حد کو پار کر سکتا ہے، چاہے اس کے نتیجے میں کروڑوں انسان پامال ہی کیوں نہ ہو جائیں۔
اس کے برعکس وحی کا الٰہی نظام حیات دراصل "کمزور ترین کے تحفظ اور بقا" کے آفاقی نظریہ پر استوار ہے۔ الہامی ہدایت کا بنیادی مقصد ہی یہ ہے کہ معاشرے کے مظلوم، بے بس اور کمزور ترین طبقات اور اقوام کو نہ صرف اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جائے بلکہ انہیں ان کے بنیادی مقامِ آدمیت اور بندگیِ رب سے روشناس کروایا جائے اور انسانی شرف کے حصول کے تمام راستے آسان کیے جائیں۔ اسی آفاقی الٰہی نظام کا نقطۂ عروج عقیدۂ توحید ہے۔ توحید محض ایک نظریاتی تسلیم نہیں، بلکہ یہ انسان کو ہر قسم کی انسانی و مادی بندگی اور طاغوتی غلامی سے آزادی کا اعلانِ عام فراہم کرتا ہے۔ اس کا صاف اور واضح مطلب یہ ہے کہ کائنات میں کوئی انسان کسی دوسرے انسان کا آقا، مالک، محکوم یا غلام نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی جابر اپنی طاقت کے بل بوتے پر دوسرے کے شرفِ انسانیت کو سلب کر سکتا ہے۔
تاریخِ انسانیت کے افق پر معرکۂ کربلا دراصل انہی دو متضاد فلسفوں اور نظریات کے درمیانی تصادم کا حتمی مظہر تھا۔ ایک طرف یزید اور اس کا مادی نظریہ تھا، جو ہر قیمت پر اقتدار، غالب اور کامیاب ہونا چاہتا تھا، جو کامیابی کی تعریف ذات کی لامحدود نشوونما، ہوس اور شخصی بقا میں ڈھونڈتا تھا، جو ہر دوسرے انسان کو اپنا حریف یا غلام سمجھتا تھا اور دنیا کے تمام وسائل پر مکمل غصب و قبضے کو ہی اپنے اقتدار اور بقا کی واحد ضمانت گردانتا تھا۔ جبکہ دوسری طرف حسین بن علیؑ کا فلسفۂ بقائے انسانیت تھا، جس کا واحد مقصد یہ تھا کہ معاشرے کے مظلوم اور کمزور ترین طبقے کو بھی جینے کا پورا حق، عزت اور شرف حاصل ہو۔ امام حسینؑ انسان کو فرداً فرداً ہوسِ اقتدار کا شکار بنانے کے بجائے پورے انسانی معاشرے کو اجتماعی اور اخلاقی سطح پر بلندی کی طرف گامزن دیکھنا چاہتے تھے، اور اسی لیے ان کا مؤقف یہ تھا کہ اقتدار اور وسائل کا نظام شخصی ہوس کے بجائے عدل، انصاف اور ادارہ جاتی توازن پر قائم ہو۔
جب حسینؑ نے اپنے خون سے الٰہی اصولوں اور انسانی شرف کی پاسداری کی، تو انہوں نے قیامت تک کے لیے انسانیت کو یہ درس دیا کہ حقیقی بقا طاقت کے سامنے سر نگوں ہونے میں نہیں بلکہ عدل، حق اور انسانی حریت کے لیے کٹ مرنے میں ہے۔ آج بھی تاریخ اور معاشرے کے سامنے یہی پیمانہ موجود ہے اور ہر زمانے کا انسان اپنے وقت کی کربلا میں اس پیمانے کے ذریعے اپنی پوزیشن اور فکری سمت کا جائزہ لے سکتا ہے کہ وہ طاقت کے سفاکانہ مظاہرے کے ساتھ کھڑا ہے یا حسینؑ کے پیش کردہ بقائے انسانیت کے آفاقی اور عادلانہ نظام کے ساتھ۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home