ہم ہر وقت نازک موڑ سے کیوں گزر رہے ہوتے؟ ایک وجہ
ہم ہر وقت نازک موڑ سے کیوں گزر رہے ہوتے؟ ایک وجہ
تحریر : ابوبکر صدیق
آزادی کا دن خوشی کے ساتھ ساتھ احتساب کا دن بھی ہوتا ہے یہ میں نہیں رات وزیر اعظم صاحب اپنے محسنوں کے سامنے فرما رہے تھے۔
چلیں احتساب سے یاد آیا کہ ہماری کشتی اتنے کم پانی میں کیسے ڈوب گئی جب کہ ساتھ ہی آزاد ہونے والے ہندوستان نے تو بہت جلد کنارا پا لیا تھا۔ اس کی ایک وجہ احتساب کرنے والے اداروں کا طاقتور طبقات کی پالتو بن جانا تھا۔
آرٹیکل کے ساتھ لگی فوٹو ایک انڈین فلم کا سکرین شارٹ ہے۔ فلم کے مطابق یہ بمبئی ہائیکورٹ ہے۔ جہاں جج کے پیچھے دیوار پہ مسٹر جناح کی فوٹو لگی ہوئی ہے۔
یہ فلم 50 کی دہائی کے ایک اصلی واقعہ پہ بنائی گئی ہے۔ فلم کا نام ہے دی ورڈکٹ اسٹیٹ بنام نانا وتی ہے۔ یہ فلم انڈین نیوی کے نہایت ہی شاندار آفیسر کمانڈر کاوس مانکشا ناناوتی کے گرد گھومتی ہے جو اپنی برطانوی نژاد بیوی سلویا کے پریم اہوجا سے ایکسٹرا میریٹل افئیر کے بعد اس عاشق کو قتل کر دیتا ہے۔
اس واقعہ نے اس لیے شہرت حاصل کر لی تھی کہ ناناوتی کو بچانے کے لیے انڈین نیوی، ملٹری اسٹیبلشمنٹ، ہوم ڈیپارٹمنٹ یہاں تک کہ وزیراعظم نہرو صاحب بھی متحرک تھے۔ فلم بنانے کے لیے اصل کیس کی فائلوں اور اس کیس میں وکیل کی حیثیت سے پیش ہونے والے بھارتی سیاستدان نامور وکیل رام جیٹھ میلانی کی یاداشتیں بھی شامل کی گئی ہیں۔
یہ فوٹو تقسیم ہندوستان کے بعد بمبئی ہائی کورٹ میں ہونا وہاں کے احتسابی اداروں کی قوت کا ایک اظہار ہے جس کے باعث انڈیا نے جلد ہے اقوام عالم میں ایک مقام حاصل کر لیا۔
قیامِ پاکستان سے قبل محمد علی جناح ہندوستان کے ممتاز ترین بیرسٹرز میں شمار ہوتے تھے اور ان کی وکالت کا بنیادی مرکز بمبئی ہائیکورٹ تھا۔ برطانوی دور میں بمبئی ہائیکورٹ کی بار ایسوسی ایشن میں ان تمام نامور وکلا کی پورٹریٹس (تصاویر) آویزاں کی جاتی تھیں جنہوں نے اس عدالت میں تاریخی مقدمات لڑے اور قانونی دنیا میں اعلیٰ مقام حاصل کیا۔ ان میں قائدِ اعظم کے علاوہ دادا بھائی نوروجی، بدر الدین طیب جی، اور سر دینشا ملا جیسے نامور قانون دان بھی شامل تھے۔
بمبئی ہائیکورٹ میں جناح صاحب کی تصویر ان کے "سیاسی کردار" یا "تقسیمِ ہند" کے پس منظر میں نہیں، بلکہ "بمبئی بار کے ایک عظیم الشان بیرسٹر" کے طور پر لگائی گئی تھی۔
بھارتی ریاست کا سرکاری بیانیہ تقسیم کے بعد جناح صاحب کے دو قومی نظریے کے مخالف رہا، اس لیے عمومی سرکاری سطح پر ان کو وہ پذیرائی حاصل نہیں تھی جو گاندھی جی، نہرو یا پٹیل کو حاصل تھی۔
جبکہ بمبئی ہائیکورٹ کا معاملہ مختلف تھا کیونکہ عدلیہ اپنی تاریخی روایات (Legal Traditions) کی پاسداری میں انتہائی سخت تھی۔ بمبئی ہائیکورٹ نے اپنی بار کی تاریخ سے جناح صاحب کا نام اس لیے خارج نہیں کیا کیونکہ ان کی وکالت کی صلاحیت اور بمبئی ہائیکورٹ کی تاریخ میں ان کا حصہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت تھا۔
پچاس اور ساٹھ کی دہائی (جس دور کا یہ کے ایم ناناوتی کیس ہے) تک برطانوی دور کی عدالتی روایت اور ادارہ جاتی سنجیدگی کافی حد تک برقرار تھی۔ اس وقت تک عدالتوں کے اندر سیاسی تنازعات کو قانونی تاریخ پر غالب نہیں آنے دیا جاتا تھا۔
تاہم، وقت کے ساتھ اس سلسلے میں درج ذیل تبدیلیاں آئیں۔
بمبئی ہائیکورٹ کے 'بار روم' (Bar Room) اور تاریخی ہالز میں قائدِ اعظم کی تصویر کئی دہائیوں تک برقرار رہی۔ یہ تصویر ان کی قانونی مہارت کے احترام کے طور پر آویزاں رہی۔
1980ء اور 1990ء کی دہائیوں کے بعد بھارت میں قوم پرست اور انتہا پسند سیاسی تحریکوں کے عروج کے ساتھ ان تصاویر پر اعتراضات اٹھائے جانے لگے۔ مختلف اوقات میں سیاسی تنظیموں نے بمبئی ہائیکورٹ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے قائدِ اعظم کی تصاویر ہٹانے کے مطالبے کیے۔
ہائیکورٹ نے ان تمام سیاسی تنازعات کے باوجود اپنے آرکائیوز اور تاریخی ہالز میں بمبئی بار کے ممتاز وکلائے کرام کی فہرست اور پورٹریٹس کو اپنی "تاریخی وراثت" (Legal Heritage) کا حصہ بنا کر محفوظ رکھا ہوا ہے، حالانکہ اب مرکزی عدالتی کمروں کی تزئین و آرائش کے دوران عمومی طور پر صرف گاندھی جی یا آئینِ ہند کے معمار ڈکٹر امبیڈکر کی تصاویر ہی مرکزِ توجہ رہتی ہیں۔
جب عدالتیں اتنی آزاد ہوں کہ ملکی نظریاتی بنیادوں کے برعکس اپنی روایات کو ترجیح دیں تو پھر وہ ممالک ہماری طرح ہر وقت نازک موڑ سے نہیں گزر رہی ہوتے۔


0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home