طاقت کے مرکز پہ قابض ہونے کا انجام
طاقت کے مرکز پہ قابض ہونے کا انجام
تحریر : ابو بکر صدیق
یونان کے قدیم کھنڈرات میں صدیوں پرانی ایک کہانی آج بھی ہوائیں گنگناتی ہیں۔ یہ کہانی فریجیا کے بادشاہ مڈاس کی تھی۔ مڈاس کے پاس تخت تھا، تاج تھا، لشکر تھا اور اتنا خزانہ تھا کہ سات نسلیں بیٹھ کر کھا سکتیں مگر اس کے اندر ایک پیاس تھی—طاقت اور سونے کی ایسی پیاس جو بجھنے کا نام نہیں لیتی تھی۔
ایک دن دیوتا نے خوش ہو کر کہا: ”مانگو کیا مانگتے ہو؟“ مڈاس نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر کہا: ”مجھے وہ طاقت دے دو کہ میں جس چیز کو بھی چھوؤں، وہ سونا بن جائے۔“ دیوتا مسکرایا اور بولا: ”جا تیری مراد پوری ہوئی۔“
بادشاہ خوشی سے پاگل ہو گیا۔ اس نے محل کے ستون کو چھوا وہ سونے کا ہو گیا۔ اس نے سنگِ مرمر کی دیواروں کو ہاتھ لگایا وہ کندن بن گئیں۔ اس نے باغ کے درختوں، پھولوں اور مٹی کو ہاتھ لگایا ہر چیز سونے کے ڈھیر میں بدل گئی۔ مڈاس نے سوچا کہ اب کائنات میں اس سے زیادہ طاقتور، اس سے زیادہ محفوظ اور اس سے زیادہ خود مختار کوئی نہیں۔ اب اسے کسی کا محتاج رہنے کی ضرورت نہیں تھی وہ خود قانون تھا وہ خود طاقت تھا۔
مگر پھر تاریخ کا سب سے بڑا المیہ شروع ہوا۔ بادشاہ کو بھوک لگی، اس نے دسترخوان سجایا۔ جیسے ہی اس نے روٹی کا نوالہ اٹھایا، نوالہ سخت دھات بن گیا۔ اس نے پیاس کے عالم میں پانی کا پیالہ لبوں سے لگایا، پانی پگھلا ہوا سونا بن کر حلق کو جلانے لگا۔ وہ سونے کے انبار پر بیٹھا بھوک اور پیاس سے تڑپنے لگا۔ اتنے میں اس کی ننھی بیٹی دوڑتی ہوئی آئی اور اپنے باپ کے گلے لگ گئی۔ مڈاس نے محبت سے اسے چھوا، اور اگلے ہی لمحے اس کی جیتی جاگتی، ہنستی مسکراتی لختِ جگر ایک بے جان سنہری بت بن چکی تھی۔
مڈاس دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔ اس نے دیوتا کے سامنے ہاتھ جوڑے اور فریاد کی: ”مجھ سے یہ طاقت واپس لے لو، مجھے یہ سونا نہیں چاہیے، مجھے زندگی چاہیے، مجھے سانس لینے کی آزادی چاہیے۔“
طاقت کا نشہ دراصل شاہ مڈاس کا وہی سنہری لمس ہے۔ انسان جب اختیارات کی ہوس میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ ہر ادارہ، ہر قانون، ہر عہدہ اور ہر آئینی شق اس کے تابع ہو جائے۔ وہ ایک کے بعد دوسرا، دوسرے کے بعد تیسرا اور تیسرے کے بعد چوتھا عہدہ اپنے کندھوں پر سجاتا چلا جاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ہر جوابدہی سے بالاتر کر لیتا ہے، پارلیمان سے اپنے حق میں قانون سازی کرواتا ہے، عدالتوں کی زبان بندی کرتا ہے اور تمام انتظامی اختیارات کو اپنے تصرف میں لے آتا ہے۔
وہ سوچتا ہے کہ اس نے ریاست کو فتح کر لیا ہے۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ حد سے زیادہ سمیٹی گئی طاقت بالآخر اپنے ہی سنبھالنے والے کا گلا گھونٹ دیتی ہے۔ جب ہر ادارے کو زبردستی اپنے تابع کر لیا جائے، تو معیشت کی نبض رک جاتی ہے، معاشرے کی سانسیں پھولنے لگتی ہیں اور ریاست کے زندہ وجود پتھر اور بے جان دھات میں تبدیل ہونے لگتے ہیں۔ بادشاہ سونے کے تخت پر بیٹھ کر بھی بھوکا مرتا ہے کیونکہ سونا کھایا نہیں جا سکتا اور مطلق العنان اختیارات سے ملک نہیں چلائے جا سکتے۔
کاش ہمارے خطے کے طاقتور بھی تاریخ کے آئینے میں شاہ مڈاس کا انجام دیکھ سکیں۔ طاقت سمیٹنا کمال نہیں ہوتا طاقت کو بانٹنا اور آئین کے دائرے میں رہ کر عوام کی خدمت کرنا اصل کمال ہوتا ہے۔ جب لمس ہی جان لیوا بن جائے تو پھر ہر فتح شکست میں اور ہر سنہری خواب ایک بھیانک عذاب میں بدل جایا کرتا ہے۔

