Tuesday, 1 September 2026

طاقت کے مرکز پہ قابض ہونے کا انجام


 
طاقت کے مرکز پہ قابض ہونے کا انجام

تحریر : ابو بکر صدیق
یونان کے قدیم کھنڈرات میں صدیوں پرانی ایک کہانی آج بھی ہوائیں گنگناتی ہیں۔ یہ کہانی فریجیا کے بادشاہ مڈاس کی تھی۔ مڈاس کے پاس تخت تھا، تاج تھا، لشکر تھا اور اتنا خزانہ تھا کہ سات نسلیں بیٹھ کر کھا سکتیں مگر اس کے اندر ایک پیاس تھی—طاقت اور سونے کی ایسی پیاس جو بجھنے کا نام نہیں لیتی تھی۔
ایک دن دیوتا نے خوش ہو کر کہا: ”مانگو کیا مانگتے ہو؟“ مڈاس نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر کہا: ”مجھے وہ طاقت دے دو کہ میں جس چیز کو بھی چھوؤں، وہ سونا بن جائے۔“ دیوتا مسکرایا اور بولا: ”جا تیری مراد پوری ہوئی۔“
بادشاہ خوشی سے پاگل ہو گیا۔ اس نے محل کے ستون کو چھوا وہ سونے کا ہو گیا۔ اس نے سنگِ مرمر کی دیواروں کو ہاتھ لگایا وہ کندن بن گئیں۔ اس نے باغ کے درختوں، پھولوں اور مٹی کو ہاتھ لگایا ہر چیز سونے کے ڈھیر میں بدل گئی۔ مڈاس نے سوچا کہ اب کائنات میں اس سے زیادہ طاقتور، اس سے زیادہ محفوظ اور اس سے زیادہ خود مختار کوئی نہیں۔ اب اسے کسی کا محتاج رہنے کی ضرورت نہیں تھی وہ خود قانون تھا وہ خود طاقت تھا۔
مگر پھر تاریخ کا سب سے بڑا المیہ شروع ہوا۔ بادشاہ کو بھوک لگی، اس نے دسترخوان سجایا۔ جیسے ہی اس نے روٹی کا نوالہ اٹھایا، نوالہ سخت دھات بن گیا۔ اس نے پیاس کے عالم میں پانی کا پیالہ لبوں سے لگایا، پانی پگھلا ہوا سونا بن کر حلق کو جلانے لگا۔ وہ سونے کے انبار پر بیٹھا بھوک اور پیاس سے تڑپنے لگا۔ اتنے میں اس کی ننھی بیٹی دوڑتی ہوئی آئی اور اپنے باپ کے گلے لگ گئی۔ مڈاس نے محبت سے اسے چھوا، اور اگلے ہی لمحے اس کی جیتی جاگتی، ہنستی مسکراتی لختِ جگر ایک بے جان سنہری بت بن چکی تھی۔
مڈاس دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔ اس نے دیوتا کے سامنے ہاتھ جوڑے اور فریاد کی: ”مجھ سے یہ طاقت واپس لے لو، مجھے یہ سونا نہیں چاہیے، مجھے زندگی چاہیے، مجھے سانس لینے کی آزادی چاہیے۔“
طاقت کا نشہ دراصل شاہ مڈاس کا وہی سنہری لمس ہے۔ انسان جب اختیارات کی ہوس میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ ہر ادارہ، ہر قانون، ہر عہدہ اور ہر آئینی شق اس کے تابع ہو جائے۔ وہ ایک کے بعد دوسرا، دوسرے کے بعد تیسرا اور تیسرے کے بعد چوتھا عہدہ اپنے کندھوں پر سجاتا چلا جاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ہر جوابدہی سے بالاتر کر لیتا ہے، پارلیمان سے اپنے حق میں قانون سازی کرواتا ہے، عدالتوں کی زبان بندی کرتا ہے اور تمام انتظامی اختیارات کو اپنے تصرف میں لے آتا ہے۔
وہ سوچتا ہے کہ اس نے ریاست کو فتح کر لیا ہے۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ حد سے زیادہ سمیٹی گئی طاقت بالآخر اپنے ہی سنبھالنے والے کا گلا گھونٹ دیتی ہے۔ جب ہر ادارے کو زبردستی اپنے تابع کر لیا جائے، تو معیشت کی نبض رک جاتی ہے، معاشرے کی سانسیں پھولنے لگتی ہیں اور ریاست کے زندہ وجود پتھر اور بے جان دھات میں تبدیل ہونے لگتے ہیں۔ بادشاہ سونے کے تخت پر بیٹھ کر بھی بھوکا مرتا ہے کیونکہ سونا کھایا نہیں جا سکتا اور مطلق العنان اختیارات سے ملک نہیں چلائے جا سکتے۔
کاش ہمارے خطے کے طاقتور بھی تاریخ کے آئینے میں شاہ مڈاس کا انجام دیکھ سکیں۔ طاقت سمیٹنا کمال نہیں ہوتا طاقت کو بانٹنا اور آئین کے دائرے میں رہ کر عوام کی خدمت کرنا اصل کمال ہوتا ہے۔ جب لمس ہی جان لیوا بن جائے تو پھر ہر فتح شکست میں اور ہر سنہری خواب ایک بھیانک عذاب میں بدل جایا کرتا ہے۔

بیرسٹر سر ظفر اللہ خان: عروج کا ایک استعارہ


 بیرسٹر سر ظفر اللہ خان: عروج کا ایک استعارہ

تحریر: ابو بکر صدیق

یکم ستمبر 1985 کو پاکستان کے پہلے پہلے وزیر خارجہ بیرسٹر سر ظفر اللہ خان لاہور میں وفات پا گئے۔ وہ اپنی محنت، لیاقت اور قابلیت کی بنا پر عروج کی معراج پہ پہنچے۔
سر ظفر اللہ خان 1926 میں پنجاب لیجسلیٹو کونسل کے ارکان بنے۔ انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور اس کے ایک اہم اور فعال رکن رہے۔ مسلم لیگ کے 1931 کے اجلاس منعقدہ دہلی کی صدارت کے فرائض بھی سر انجام دئے۔ انہوں نے 1930 سے 1932 تک لندن میں گول میز کانفرنسوں میں شرکت کی۔
1935 میں برطانوی ہندوستان کے وزیر ریلوے بنے۔ 1939 میں انہوں نے اقوام متحدہ سے قبل اقوام عالم کی عالمی تنظیم لیگ آف نیشنز میں برطانوی ہندوستان کی نمائندگی کی۔ 1942 میں چین میں برطانوی ہندوستان کے جنرل ایجنٹ رہے اور 1945 میں دولت مشترکہ کی کانفرنس میں برطانوی ہندوستان کی نمائندگی کی۔
سر ظفر اللہ خان 1941 تک واسرائے ہند کی ایگزیکیوٹو کونسل کے رکن رہے۔خان عبد ولی خان کی کتاب "حقائق حقائق ہیں" کے مطابق اسی زمانہ میں لارڈ لنلیتھگو نے مسلم لیگ کے رہنماوں کو بتایا کہ برطانوی حکومت نے ہندوستان کو ہندو، مسلمان، آزاد نوابی ریاستوں کی صورت میں تین حصوں میں تقسیم کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ اس وقت مسلم لیگ کی طرف سے مختلف تجاویز پیش کی گئیں جو حکومت نے مسترد کر دیں۔ اس پر سر ظفر اللہ خان کو تقسیم ہندوستان پر نئی تجویز پیش کرنے کا کام دیا گیا۔ اس بارہ میں واسرائے نے حکومت برطانیہ 12 مارچ 1940 کو لکھا۔
"میری ہدایت پر ظفر اللہ نے ایک میمورنڈم دو ممالک کے متعلق لکھا ہے جو میں پہلے ہی آپ کو بھجوا چکا ہوں۔ میں نے انہیں مزید توضیح کے لیے بھی کہا ہے جو ان کے کہنے کے مطابق جلد ہی آ جائے گی۔البتہ ان کا اصرار ہے کہ کسی کو یہ معلوم نہ ہو کہ یہ منصوبہ انہوں نے تیار کیا ہے۔ انہوں نے مجھے یہ اختیار دیا ہے میں اس کے ساتھ جو چاہوں کروں، جس میں آپ کو ایک نقل بھیجنا بھی شامل ہے۔ اس کی نقول جناح کو اور میرے خیال میں سر اکبر حیدری کو دی جا چکی ہیں۔ یہ دستاویز مسلم لیگ کی طرف سے اپنائے جانے اور اس کی مکمل تشہیر کے لیے تیار کر لی گئی ہے جبکہ ظفر اللہ اس کے مصنف ہونے کا اقرار نہیں کر سکتے"
چنانچہ منصوبہ پیش کرنے کے بارہ دن بعد اسے آل انڈیا مسلم لیگ کی جانب سے لاہور کے اجلاس میں منظور کر لیا گیا اور یہ قرارداد پاکستان کے نام سے مشہور ہوا۔
محمد علی جناح کی درخواست پر ظفر اللہ خان نے مسلم لیگ کا مقدمہ ریڈکلف کے کمشن کے سامنے پیش کیا۔ اسی زمانہ میں جوناگڑھ کی ریاست کے والی کے مشیر کے طور پر خدمات سر انجام دیں اور ان کے مشورہ پر نواب جوناگڑھ نے اپنی ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا۔
ستمبر 1941 میں ظفر اللہ خان کو متحدہ ہندوستان کی عدالت عظمیٰ کا منصف مقرر کیا گیا۔ وہ آزادی ہند تک اس عہدہ پر فائز رہے
آزادی کے بعد 1947 میں ظفر اللہ خان نے اقوام متحدہ کے سامنے بطور سربارہ پاکستانی وفد پاکستان کا موقف پیش کیا۔ اسی طرح مسئلہ فلسطین پر عالم اسلام کے موقف کی تائید کی۔ اسی سال ان کو پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ مقرر کیا گیا۔ وہ 1954 تک سات سال تک مسلسل اس عہدہ پر برقرار رہے۔
ظفر اللہ خان 1947 میں ہی اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندہ کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ اسی دوران اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے رکن بھی رہے۔ 1961 سے 1964 تک دوبارہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب مقرر ہوئے اور اسی دورانیہ میں 1962 سے 1964 تک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر بھی رہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ میں کشمیر، فلسطین، لیبیا، شمالی ائیرلینڈ، ایریٹریا، صومالیہ، سوڈان، تیونس اردن مصر مراکش اور انڈونیشیا کی آزادی کے لیے کام کیا۔
1954 میں ظفر اللہ خان عالمی عدالت انصاف کے منصف مقرر ہوئے اور 1961 تک اس عہدہ پر فائز رہے۔ 1958 تا 1961 وہ اس عدالت کے نائب صدر بھی رہے۔ دوبارہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی خدمات بجا لانے کے بعد 1964 سے 1969 تک دوبارہ عالمی عدالت انصاف میں منصف رہے اور 1970 سے 1973 تک اسی عالمی عدالت انصاف کے صدر منتخب کئے گئے
سر ظفر اللہ خان نے 1958 میں سعودی بادشاہ کے شاہی مہمان کے طور پر عمرہ ادا کیا اور پھر 1967 میں دوبارہ مکہ مکرمہ سعودی عرب حاضر ہوکر حج کا فریضہ بھی سر انجام دیا۔
ایک لمبا عرصہ ہالینڈ یعنی نیدرلینڈ اور برطانیہ میں رہائش پذیر رہنے کے بعد واپس پاکستان چلے آئے اور لاہور میں رہائش اختیار کی۔ جہاں 1 ستمبر 1985 کو وفات پائی۔ان کی وفات کی خبر ملتے ہی اقوام متحدہ کا سیکریٹریٹ بند کر دیا گیا اور تین ستمبر 1985 کو اقوام متحدہ کا پرچم سرنگوں رہا۔ ان کی وفات پر نہ صرف صدر مملکت جنرل ضیا الحق اور وزیراعظم محمد خان جونیجو نے بلکہ عالم اسلام کے کئی سربراہان مملکت، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل جے ویر پیریز دی کوئیار اور عالمی عدالت انصاف کے صدر نجندر سنگھ نے بھی تعزیتی پیغامات ارسال کیے۔
سر ظفر اللہ خان ڈیڑھ درجن کے قریب کتابوں کے مصنف تھے جن میں ان کی خود نوشت سوانح عمری ’تحدیث نعمت‘ کا نام سرفہرست ہے