تحریر: ابو بکر صدیق
یومِ آزادی کی تقریب میں حکومت نے آپس میں جتنے تمغے بانٹ لیے ہیں، اس کے بعد یہ تمغے شاید کسی کے لیے حقیقی اعزاز کا باعث نہ رہیں۔ اصل تمغہ وہ ہوتا ہے جو دلوں میں ہمیشہ کے لیے ایک زندہ یادگار بن کر محفوظ ہو جائے۔ کتنا ہی اچھا ہوتا کہ آزادی کی تقریب میں ان سچے ہیروز کی داستان سنائی جاتی جنھوں نے گورے حاکموں کے خلاف سر اٹھا کر جینا اور مرنا سکھایا۔ تاریخ میں ایسی بیشمار داستانیں موجود ہیں جنھوں نے ہماری فکر اور ثقافت پر انمٹ نقوش چھوڑے۔ ان میں سے ایک درخشاں باب سندھ کی حر تحریک کا ہے، جس کی عظیم قیادت موجودہ پیر صاحب پگارا کے دادا سید صبغت اللہ شاہ راشدی (ثانی) شہید، المعروف ’’سورہیہ بادشاہ‘‘ کر رہے تھے۔
برطانوی استعمار کے خلاف برصغیر کی مزاحمتی تحریکوں کا جائزہ لیا جائے تو پنجاب کی جنگِ آزادی، خیبر کے قبائلی معرکے اور دہلی و لکھنؤ کی بغاوتیں یقیناً تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں، مگر سندھ کے دل سے اٹھنے والی ’’حر تحریک‘‘ وہ منفرد مزاحمتی طاقت تھی جو نہ تو کسی نیم دل سمجھوتے پر راضی ہوئی اور نہ ہی وقت کے جبر سے مرعوب۔ یہ تحریک اپنے مزاج اور روح کے اعتبار سے سیاسی بھی تھی اور عسکری بھی۔ اس کی قیادت پیر صبغت اللہ شاہ راشدی ثانی جیسی صاحبِ بصیرت و شجاعت شخصیت کے ہاتھ میں تھی، جنہیں برطانوی عسکری دستاویزات میں روحانی اقتدار اور فطری حریت پسندی کا پیکر مانا گیا۔
حر تحریک کے بیج دراصل انیسویں صدی میں بوئے گئے تھے، جب درگاہ راشدیہ عوام کے لیے محض روحانی مرکز نہیں رہی بلکہ آہستہ آہستہ برطانوی سامراج کی ناانصافیوں کے خلاف مزاحمت کا مورچہ بن گئی۔ 1921ء میں مسند نشینی کے بعد پیر صبغت اللہ شاہ ثانی نے سامراجی غلامی کے خلاف ایک منظم اور دوٹوک مؤقف اختیار کیا اور اپنے مریدوں کو انگریز سرکار کی غلامی سے نجات کی باقاعدہ ترغیب دی۔
ایک جانب انگریز اپنی وفاداری کے بدلے مقامی جاگیرداروں کو خطابات اور مراعات سے نواز رہے تھے، تو دوسری جانب حر مشائخ مسلسل یہ پیغام دے رہے تھے کہ غاصب اور ظالم سلطنت کے ساتھ مصالحت شرعاً و اخلاقاً جائز نہیں۔ جب حریت پسندوں نے انگریزی فوج اور انتظامیہ کا بائیکاٹ شروع کیا تو برطانوی حکومت پر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ حر جماعت کوئی روایتی مذہبی گروہ نہیں بلکہ استعمار شکن نیم عسکری قوت ہے۔
1930ء کی دہائی کے اواخر تک تحریک نے سندھ کے طول و عرض میں گہری جڑیں پکڑ لیں۔ نوابشاہ، سانگھڑ، خیرپور اور پیر جو گوٹھ مزاحمت کے مضبوط گڑھ بن گئے۔ حر مجاہدین نے چھاپہ مار حکمتِ عملی اپناتے ہوئے سامراجی مفادات اور ترسیلاتی لائنوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔
1939ء میں دوسری عالمی جنگ کے آغاز کے بعد جب برطانوی راج داخلی سطح پر دباؤ کا شکار ہوا، تو حر مجاہدین نے اپنی عسکری سرگرمیاں تیز کر دیں۔ ان کارروائیوں کے پیشِ نظر برطانوی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی اور بالآخر یکم جون 1942ء کو سندھ کے وسیع علاقوں میں باقاعدہ مارشل لا نافذ کر دیا گیا۔ گورنر سر ہیو ڈاؤ کے دور میں پورے سندھ کو چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا اور تحریک کو کچلنے کے لیے ہوائی جہازوں سے بمباری اور دیہات کو نذرِ آتش کرنے جیسے وحشیانہ ہتھکنڈے اپنائے گئے۔
پیر صبغت اللہ شاہ کو گرفتار کر کے حیدرآباد سینٹرل جیل منتقل کیا گیا، جب کہ تحریک کے حامیوں کو پیر جو گوٹھ اور سانگھڑ میں قائم حراستی کیمپوں میں قید کر کے سرِعام سزائیں دی گئیں۔ یہ سزائیں خوف پھیلانے کا سامراجی حربہ تھیں، مگر حروں کے عزم کے سامنے یہ حربہ الٹ پڑا۔
روایات کے مطابق جب حریت پسندوں کو تختۂ دار پر چڑھایا جاتا تو برطانوی اہلکار عبرت کا درس دینے کی کوشش کرتے، مگر عوام کا ردعمل بالکل برعکس ہوتا۔ لوگ ان شہداء کے قدموں کی خاک کو سرمہ بناتے۔ سندھی زبان کا یہ ولولہ انگیز عزم زبان زدِ عام تھا:
’’مَر ویسوں پر سامراج کھاں ہار نہ تھینداسیں‘‘
(ہم جان تو دے دیں گے مگر سامراج کے آگے کبھی شکست قبول نہیں کریں گے)۔
پیر صبغت اللہ شاہ راشدی کو ایک خفیہ فوجی عدالت کے ذریعے مقدمہ چلا کر سزائے موت سنائی گئی اور 20 مارچ 1943ء کو حیدرآباد جیل میں جامِ شہادت نوش کرایا گیا۔ سامراج اس قدر خوفزدہ تھا کہ شہید کی میت اور قبر کو بھی مخفی رکھا گیا تاکہ کوئی مزار حریت کا استعارہ نہ بن جائے۔
لیکن سامراج یہ سمجھنے سے قاصر رہا کہ تحریکیں مزاروں کی محتاج نہیں ہوتیں بلکہ جذبۂ حریت سے زندہ رہتی ہیں۔ پیر پگارا کی شہادت کے بعد بھی گوریلہ کارروائیاں جاری رہیں اور سندھ کی فضاؤں میں آزادی کے نعرے گونجتے رہے۔ آخرکار دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کے بعد انگریزوں کو مارشل لا کا خاتمہ کرنا پڑا اور قیدیوں کو رہا کیا گیا۔
حر مجاہدین کی طویل جدوجہد نے ثابت کیا کہ غاصب استعمار کے خلاف صرف آئینی مذاکرات ہی نہیں بلکہ قربانی اور عملی مزاحمت کا وہ جذبہ ناگزیر ہوتا ہے جو قوموں کو خودداری اور آزادی عطا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی برطانوی سامراج کے خلاف جدوجہد میں حر تحریک کا نام شجاعت اور آزادی کے ایک انمٹ استعارے کے طور پر زندہ ہے۔
آزادی کے اس تاریخی سفر میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والے ان لازوال ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہمارا قومی فریضہ ہے۔ اربابِ اختیار جو مناسب سمجھیں کریں، مگر تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ اٹل رہتا ہے۔ آنے والے کل میں تاریخ نے آپ کا فیصلہ کرنا ہے، اور لوگ آپ کو کن الفاظ میں یاد رکھیں گے، اس کا تعین آپ کو آج کے عمل سے کرنا ہوگا۔