بابڑہ قتل عام، قیوم خان اور ہماری آزادی
بابڑہ قتل عام، قیوم خان اور ہماری آزادی
ابوبکر صدیق
آج 12 اگست ہے—14 اگست کے قومی جشن کو ابھی دو دن باقی ہیں اور پوری قوم اپنے 79 ویں یومِ آزادی کی تیاریوں میں جھوم رہی ہے۔ گلی گلی سبز ہلالی پرچم لہرا رہے ہیں، ملی نغمے گونج رہے ہیں اور ہر طرف روشنیوں کا اہتمام ہے۔ لیکن ٹھیک 78 سال قبل، 12 اگست 1948 کو، جب ملک اپنے پہلے یومِ آزادی کی پہلی سالگرہ سے صرف دو دن دور تھا، خیبرپختونخوا کے شہر چارسدہ کے گاؤں بابڑہ میں بالکل مختلف منظر تھا۔
وہاں بھی لوگ جمع تھے، لیکن ان کے ہاتھوں میں جشن کی قندیلیں نہیں تھیں، بلکہ ان کے دلوں میں ایک جمہوری حق کی پامالی کا درد تھا۔ وہ ایک پرامن احتجاج کر رہے تھے۔ ان کا قصور؟ ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ اپنے صوبے کی جمہوری طور پر منتخب ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت کو بابائے قوم کے حکم سے برخاست کیے جانے اور اپنے بنیادی حقوق پر پابندی کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے۔ لیکن جواب میں ان پر پھول نہیں، گولیاں برسی تھیں۔ مسلم لیگ کے تعینات کردہ وزیرِ اعلیٰ کے حکم پر ریاستی طاقت کا وہ بدترین استعمال ہوا کہ چند ہی گھنٹوں میں چھ سو سے زائد انسانوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔
آپ ذرا اس ذہنیت کا اندازہ کیجیے۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد صوبہ سرحد کے وزیرِ اعلیٰ خان عبدالقیوم خان اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہوتے ہیں اور ایک ایسا بیان دیتے ہیں جس کی گونج 1919 میں جلیانوالہ باغ کے قاتل مائیکل او ڈائر کی سسکتی یادوں سے ملتی جلتی تھی۔ قیوم خان نے غرور اور تکبر سے گردن اکڑا کر کہا تھا:
"میں نے بابڑہ میں دفعہ 144 نافذ کر دی تھی، جب لوگ منتشر نہیں ہوئے تو تب ان پر فائرنگ کی گئی، وہ خوش قسمت تھے کہ پولیس کے پاس اسلحہ ختم ہو گیا ورنہ وہاں سے ایک بھی آدمی زندہ بچ کر نہ جاتا۔ یہ انگریزوں کی نہیں مسلم لیگ کی حکومت ہے اور اس حکومت کا نام قیوم خان ہے۔ خدائی خدمتگار ملک کے غدار ہیں، میں ان کا نام و نشان مٹا دوں گا۔"
یہ صرف ایک بیان نہیں تھا، یہ ایک نئی ریاست میں اپوزیشن اور سیاسی اختلاف کو ریاستی ڈنڈے سے کچلنے کا پہلا باقاعدہ اعلان تھا۔ یہ اس "قیومیت" کا آغاز تھا جس نے آگے چل کر ہماری قومی سیاست میں غداری کے لیبل بانٹنے کی روایت قائم کی۔
میرے عزیز ہم وطنو! آزادی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے، اس کا جشن ضرور منائیے، جھنڈیاں بھی لگائیے اور چراغاں بھی کیجیے۔ لیکن اس چراغاں کے دوران بابڑہ کے ان چھ سو شہیدوں کے خون اور ان کے بچوں کی چیخوں کو بھول جانا قوم کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ آزادی کا مطلب صرف جابر حاکم کا بدل جانا نہیں ہوتا، بلکہ انصاف، مساوات اور انسان کے احترام کا قائم ہونا ہوتا ہے۔
جب ریاست اپنے ہی بے گناہ شہریوں کا خون بہانے لگے اور پھر اس پر فخر بھی کرے، تو وہ اپنے ہی وجود کی جڑوں میں تیشہ چلاتی ہے۔ قرآنِ پاک میں ربِ کائنات کا واضح فرمان ہے کہ اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ تاریخ کے ایوانوں سے سنائی دینے والی ایک ہی صدا ہے کہ جو قومیں اپنی غلطیوں سے نہیں سیکھتیں اور ریاستی ظلم کو حب الوطنی کا نام دے دیتی ہیں، تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرتی۔
آئیے اس یومِ آزادی پر ہم سچے دل سے یہ عزم کریں کہ ہم آزادی منائیں گے، مگر کسی ریاستی یا ذاتی ظلم کا حصہ نہیں بنیں گے۔ کیونکہ ظالم کا انجام بہرحال زوال ہے اور انصاف ہی کسی بھی ریاست کی بقا کی آخری ضمانت ہے


0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home