Tuesday, 28 July 2026

حسین کس طرح بقائے انسانیت ہے؟

حسین کس طرح بقائے انسانیت ہے؟
تحریر ؛ ابوبکر صدیق 

حسینؑ کی ذاتِ بابرکات کا فلسفہ اور واقعہ کربلا دراصل کائنات میں دو متضاد نظاموں کے باہمی تصادم کی سب سے واضح ترین مظہر ہے، اور یہی معرکہ بقائے انسانیت کی اصل بنیاد فراہم کرتا ہے۔
​دنیا میں اس وقت جتنے بھی مادی اور دنیوی نظام کار فرما ہیں، ان کی پوری عمارت مقابلے اور مادی قوت کی بنیاد پر قائم ہے۔ مادی فلسفے اور "سروائیول آف دی فٹسٹ" کے اصول کے مطابق زندہ رہنے، آگے بڑھنے یا ترقی کرنے کا حق صرف طاقتور کے پاس ہے۔ اس سفاکانہ نظامِ حیات میں جو طاقت، وسائل اور مکر و فریب میں بہتر ثابت ہوتا ہے، وہی وجود برقرار رکھتا ہے، جبکہ جو وقت کی تند و تیز لہروں اور چیلنجز کا مقابلہ نہ کر سکے، وہ انسانی گروہ، طبقات، نظریات یا سپیشیز صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں۔ وسائل کی اس بے رحم دوڑ میں دوڑنے والا ہر فریق اپنے بقا اور اقتدار کی خاطر کسی بھی اخلاقی یا انسانی حد کو پار کر سکتا ہے، چاہے اس کے نتیجے میں کروڑوں انسان پامال ہی کیوں نہ ہو جائیں۔
​اس کے برعکس وحی کا الٰہی نظام حیات دراصل "کمزور ترین کے تحفظ اور بقا" کے آفاقی نظریہ پر استوار ہے۔ الہامی ہدایت کا بنیادی مقصد ہی یہ ہے کہ معاشرے کے مظلوم، بے بس اور کمزور ترین طبقات اور اقوام کو نہ صرف اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جائے بلکہ انہیں ان کے بنیادی مقامِ آدمیت اور بندگیِ رب سے روشناس کروایا جائے اور انسانی شرف کے حصول کے تمام راستے آسان کیے جائیں۔ اسی آفاقی الٰہی نظام کا نقطۂ عروج عقیدۂ توحید ہے۔ توحید محض ایک نظریاتی تسلیم نہیں، بلکہ یہ انسان کو ہر قسم کی انسانی و مادی بندگی اور طاغوتی غلامی سے آزادی کا اعلانِ عام فراہم کرتا ہے۔ اس کا صاف اور واضح مطلب یہ ہے کہ کائنات میں کوئی انسان کسی دوسرے انسان کا آقا، مالک، محکوم یا غلام نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی جابر اپنی طاقت کے بل بوتے پر دوسرے کے شرفِ انسانیت کو سلب کر سکتا ہے۔
​تاریخِ انسانیت کے افق پر معرکۂ کربلا دراصل انہی دو متضاد فلسفوں اور نظریات کے درمیانی تصادم کا حتمی مظہر تھا۔ ایک طرف یزید اور اس کا مادی نظریہ تھا، جو ہر قیمت پر اقتدار، غالب اور کامیاب ہونا چاہتا تھا، جو کامیابی کی تعریف ذات کی لامحدود نشوونما، ہوس اور شخصی بقا میں ڈھونڈتا تھا، جو ہر دوسرے انسان کو اپنا حریف یا غلام سمجھتا تھا اور دنیا کے تمام وسائل پر مکمل غصب و قبضے کو ہی اپنے اقتدار اور بقا کی واحد ضمانت گردانتا تھا۔ جبکہ دوسری طرف حسین بن علیؑ کا فلسفۂ بقائے انسانیت تھا، جس کا واحد مقصد یہ تھا کہ معاشرے کے مظلوم اور کمزور ترین طبقے کو بھی جینے کا پورا حق، عزت اور شرف حاصل ہو۔ امام حسینؑ انسان کو فرداً فرداً ہوسِ اقتدار کا شکار بنانے کے بجائے پورے انسانی معاشرے کو اجتماعی اور اخلاقی سطح پر بلندی کی طرف گامزن دیکھنا چاہتے تھے، اور اسی لیے ان کا مؤقف یہ تھا کہ اقتدار اور وسائل کا نظام شخصی ہوس کے بجائے عدل، انصاف اور ادارہ جاتی توازن پر قائم ہو۔
​جب حسینؑ نے اپنے خون سے الٰہی اصولوں اور انسانی شرف کی پاسداری کی، تو انہوں نے قیامت تک کے لیے انسانیت کو یہ درس دیا کہ حقیقی بقا طاقت کے سامنے سر نگوں ہونے میں نہیں بلکہ عدل، حق اور انسانی حریت کے لیے کٹ مرنے میں ہے۔ آج بھی تاریخ اور معاشرے کے سامنے یہی پیمانہ موجود ہے اور ہر زمانے کا انسان اپنے وقت کی کربلا میں اس پیمانے کے ذریعے اپنی پوزیشن اور فکری سمت کا جائزہ لے سکتا ہے کہ وہ طاقت کے سفاکانہ مظاہرے کے ساتھ کھڑا ہے یا حسینؑ کے پیش کردہ بقائے انسانیت کے آفاقی اور عادلانہ نظام کے ساتھ۔

Monday, 13 July 2026

بادشاہی مسجد لاہور کے سائے میں دفن پنجاب کی تاریخ

 بادشاہی مسجد لاہور کے سائے میں دفن پنجاب کی تاریخ

تحریر : ابو بکر صدیق

​بادشاہی مسجد لاہور کے سامنے واقع تاریخی حضوری باغ میں، مسجد کے عظیم الشان دروازے کے دونوں جانب دو اہم ترین شخصیات ابدی نیند سو رہی ہیں۔ سیدھے ہاتھ پر مصورِ پاکستان علامہ محمد اقبال کا مزار ہے، جس کا بیرونی حصہ جے پور کے سرخ پتھر سے اور اندرونی لوحِ مزار (تعویذِ قبر) افغانستان کے بادشاہ محمد ظاہر شاہ کے تحفہ کردہ قیمتی لاجوردی پتھر سے تیار کیا گیا ہے۔ دوسری جانب، ایک سادہ سے چبوترے پر متحدہ پنجاب کے پہلے پریمیئر (وزیرِ اعظم) سر سکندر حیات خان آسودہ خاک ہیں۔
​دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دونوں شخصیات سیاسی اعتبار سے ایک دوسرے کی حریف کہی جا سکتی تھیں۔ علامہ اقبال کو بادشاہی مسجد کے بیرونی احاطے میں دفن کرنے کی اجازت سر سکندر حیات کی حکومت نے ہی دی تھی، جبکہ خود سر سکندر حیات کو ان کی وفات کے بعد یہاں دفن کیے جانے کی وجہ بادشاہی مسجد کی بحالی اور اہلیانِ پنجاب کے لیے ان کی گراں قدر خدمات تھیں۔
​سکھ دورِ حکومت میں بادشاہی مسجد شدید خستہ حالی کا شکار ہو چکی تھی اور دیگر مغلیہ عمارات کی طرح اس کا بیش قیمت سنگِ سرخ اتار کر امرتسر اور دیگر مقامات کی تعمیرات میں استعمال کیا جا رہا تھا۔ جب سر سکندر حیات خان پنجاب کے وزیرِ اعظم بنے، تو انہوں نے اس عظیم تاریخی مسجد کی بحالی کا بیڑا اٹھایا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے کسانوں کے مالیہ پر صرف "ایک پیسہ فی روپیہ" کے حساب سے "مسجد ٹیکس" عائد کیا، جس سے حاصل ہونے والی رقم سے راجستھان سے سرخ پتھر منگوا کر مسجد کو موجودہ دیدہ زیب شکل میں بحال کیا گیا۔
​سر سکندر حیات خان پنجاب کے مقتدر ترین رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ برطانوی راج کے دوران ۱۹۳۲ اور ۱۹۳۴ میں پنجاب کے پہلے ہندوستانی اور مسلم قائم مقام (Acting) گورنر مقرر ہوئے، اور انڈین ریزرو بینک کے پہلے ڈپٹی گورنر بھی رہے۔ وہ پنجاب کی سب سے بڑی سیاسی قوت، یونینسٹ پارٹی کے بانی رہنماؤں سر فضلِ حسین اور چوہدری چھوٹو رام کے قریبی ساتھی تھے۔ سر فضلِ حسین کی وفات کے بعد انہوں نے پارٹی کی قیادت سنبھالی اور ۱۹۳۷ کے انتخابات کے بعد متحدہ پنجاب کے پہلے وزیرِ اعظم بنے۔
​۱۹۳۷ کے ان تاریخی انتخابات کے بعد یونینسٹ پارٹی پنجاب کی سب سے بڑی پارلیمانی قوت بن کر ابھری، جبکہ آل انڈیا مسلم لیگ صوبے میں صرف دو نشستیں حاصل کر سکی۔ پنجاب کی اس سیاسی حقیقت کو بھانپتے ہوئے اکتوبر ۱۹۳۷ میں قائدِ اعظم اور سر سکندر حیات کے درمیان تاریخی "جناح-سکندر معاہدہ" طے پایا۔ اس معاہدے کے تحت مسلم لیگ کو پنجاب اسمبلی میں قدم جمانے اور یونینسٹ اراکین کی بدولت اپنی سیاسی طاقت بڑھانے کا سنہری موقع ملا۔ علامہ اقبال، جو پنجاب مسلم لیگ کے صدر تھے، اگرچہ اصولی طور پر یونینسٹ ارکان کے مسلم لیگ میں شامل ہونے پر شدید تنظیمی و سیاسی تحفظات رکھتے تھے اور خطوط کے ذریعے قائدِ اعظم کو ان سے آگاہ بھی کرتے رہے، تاہم انہوں نے مرتے دم تک عوامی سطح پر قائدِ اعظم محمد علی جناح کی قیادت پر غیر متزلزل اعتماد کا اظہار کیا اور تحریکِ پاکستان کی فکری رہنمائی جاری رکھی۔
​یہ معاہدہ مسلم لیگ کے لیے پنجاب میں ایک بہت بڑا بریک تھرو ثابت ہوا۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران جب برطانوی حکومت کو برصغیر بالخصوص پنجاب کے فوجیوں اور عوام کے تعاون کی اشد ضرورت تھی، تو سر سکندر حیات خان کی وساطت سے ہی مسلم لیگ کو اپنی سیاسی اہمیت منوانے اور قرار دادِ لاہور (۱۹۴۰) پیش کرنے کا سیاسی ماحول میسر آیا۔ سر سکندر حیات اس قرار داد کا ڈرافٹ تیار کرنے والی سبجیکٹ کمیٹی کا اہم حصہ تھے، جسے بعد میں شیرِ بنگال مولوی اے کے فضل الحق نے پیش کیا۔
​جب ۱۹۴۲ میں سر سکندر حیات خان کا اچانک انتقال ہوا، تو پنجاب کا جاگیردار اور الیکٹ ایبل طبقہ مسلم لیگ کے ساتھ الحاق کے اس سفر پر گامزن ہو چکا تھا جس کی بنیاد جناح-سکندر معاہدے نے رکھی تھی۔ اس سازگار سیاسی ماحول کا بھرپور فائدہ مسلم لیگ نے ۱۹۴۵-۴۶ کے تاریخی انتخابات میں اٹھایا، جہاں پنجاب سے شاندار کامیابی حاصل کر کے پاکستان کا قیام ممکن بنایا گیا۔

Monday, 6 July 2026

جنگ آزادی کے ہیرو: وارث علی کے تختہ دار پہ آخری الفاظ

 
 جنگ آزادی کے ہیرو: وارث علی کے تختہ دار پہ آخری الفاظ
تحریر: ابو بکر صدیق 

1857 کی جنگ آزادی ہندوستان کو غیر ملکی تسلط سے آزاد کروانے کے مقامی افراد کی مشترکہ تیاریوں کا مشاہدہ اسی سال کی گرمیوں میں کیا۔ انگریزی فوج کے ہندوستانی جاسوس ، مقامی حکمران ، بعض جاگیردار ، کسان اور عام شہری اس جابرانہ نوآبادیاتی حکومت کے خلاف بغاوت میں اٹھ کھڑے ہوئے۔ شاید ہی کوئی علاقہ ایسا ہو جہاں قوم پرستی کے جذبے سے لوگ بغاوت میں شریک نہ ہوئے ہوں۔
بہار کے ضلع مظفر پور میں پہلی جنگ آزادی کے شعلوں کو سب سے پہلے اس وقت محسوس کیا گیا جب اسسٹنٹ مجسٹریٹ ، رابرٹسن نے 23 جون ، 1857 کو پولیس کے ایک جمعدار ، وارث علی کو گرفتار کیا۔ وارث علی کافی دنوں سے مجسٹریٹ آفس میں چھٹی کے لئے درخواست دے رہا ہے۔ چھٹی پہ اصرار کے باعث یہ انگریز کی شک کی سوئی اس پہ اٹک گئی۔
23 جون کو رابرٹسن نے اسے اس وقت گرفتار کیا جب وہ گایا (بہار ہی کا دوسرا علاقہ) کی طرف گھوڑے پر سوار تھا۔ اس کے قبضے سے ایک دوسرے مقامی آزادی کے لیے لڑنے والے زمیندار علی کریم کے ساتھ ہونے والی خط و کتابت پائی گئی۔ کریم علی نے ان خطوں میں وارث سے کہا تھا کہ وہ گایا میں فوری طور پہ اس کے ساتھ شامل ہوں کیونکہ تمام ’تیاریاں‘ مکمل ہوگئی ہیں۔ ایک اور خط میں ، وارث نے جواب دیا کہ وہ نیشنلسٹ افواج میں شامل ہونے کے لئے اپنی ملازمت ، جائیداد اور کنبہ کے پیچھے چھوڑنے کے لئے تیار ہے۔
رابرٹسن نے اسے انگریزوں کے خلاف سازش کرنے پر گرفتار کیا۔ وہ ہندوستانی قوم پرستوں کے رہنماؤں میں سے ایک سمجھا جاتا تھا اور اسی وجہ سے وہ ایک 'خطرناک' شخص تھا۔ رابرٹسن پر پھانسی دینے پر اسے میجر ہومز کے پاس بھیج دیا۔ اس کے معاملے کو دیکھ کر میجر نے سوچا کہ وارث علی باغی گروہ کا لیڈر ہے اس لیے اس سے پوری تفتیش ہونی چاہیے۔ یہ محض انگریزوں کی خام خیالی ثابت ہوئی کہ وہ وارث علی سے قوم پرستوں کے منصوبوں کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل کر لیں گے۔
اس مقصد کے لیے وارث علی کا معاملہ دنیا پور کے مجسٹریٹ کے سپرد کیا گیا جہاں اسے بے رحمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا لیکن اس نے اپنے منہ سے ایک لفظ تک ادا نہ کیا
مزید معلومات حاصل کرنے کی ان کی کوششوں سے مایوس ہوکر انگریزوں نے وطن کے اس عظیم بیٹے کو 6 جولائی ، 1857 کو پٹنہ میں پھانسی دے دی۔
جب اسے پھانسی کے پھندے کے پاس لایا گیا تو وارث علی نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ،
"اگر یہاں آزادی کا کوئی حقیقی عقیدت مند ہے تو اسے مجھے آزاد کرنے دو!"
یہ بتانے کی ضرورت نہیں ، تماشائی اتنے جرات مند نہیں تھے جتنا وارث علی تھا اور اس محب وطن نے قومی آزادی کی پہلی جنگ کے دوران اپنی زندگی وطن پہ قربان کر دی۔


نانا صاحب دھونڈو پنت: 1857 کی جنگ کا نامور کردار

 

نانا صاحب دھونڈو پنت: 1857 کی جنگ کا نامور کردار
تحریر: ابو بکر صدیق

نانا صاحب، جسے دھونڈو پنت کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ایک ہندوستانی آزادی پسند تھے جو برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف 1857 کی بغاوت میں اپنے باغی کردار کے لیے مشہور ہوئے۔ وہ ایک مراٹھا رئیس اور پیشوا خاندان کے رہنما باجی راؤ II کے لے پالک بیٹے تھے۔ نانا صاحب شمالی وسطی ہندوستان میں کانپور کے قریب بیتھور میں 1824 میں ایک مراٹھی بولنے والے گھرانے میں پیدا ہوئے۔۔ نانا صاحب کے والد بابا گنگادھر راؤ ایک برہمن تھے۔ اس کی ماں گنگا بائی باجی راؤ کی بیویوں میں سے ایک تھی جس کا تعلق دفر خاندان سے تھا۔نانا صاحب نے انگریزی میں تعلیم حاصل کی اور وہ مراٹھا افواج کے فوجی کمانڈر تھے۔ انہیں 1857 کے ہندوستانی بغاوت کے دوران کانپور کے محاصرے میں باغیوں کی قیادت کے لئے یاد کیا جاتا ہے۔ آخرکار انہیں اور ان کی افواج کو انگریزوں کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ شکست کے بعد نانا صاحب غائب ہو گئے اور ان کی قسمت آج تک ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔
نانا صاحب پڑھے لکھے تھے فارسی، ہندی اور سنسکرت سیکھ رکھی تھی۔ وہ 1857 کی ہندوستانی بغاوت کے رہنما بن گئے اور اسی سال جون میں خود کو مراٹھا سلطنت کا پیشوا قرار دیا۔ اس نے کانپور میں انگریزوں کے خلاف بغاوت کی قیادت کی جسے اس نے جون 1858 میں شکست دی۔
نانا صاحب مراٹھا سلطنت کے آخری پیشوا باجی راؤ II کے لے پالک بیٹے تھے۔ اسے 1827 میں گود لیا گیا اور اس کے بعد نانا صاحب پیشوا کے نام سے جانا جانے لگا۔ پیشوا کے لے پالک بیٹے کے طور پر نانا صاحب کو پیشوا کی جاگیروں کا کافی حصہ وراثت میں ملا۔ وہ مراٹھا سلطنت کے آٹھ سبھاوں میں سے چار بشمول بندہ، کالپی، جھانسی، اور ساگر کی آمدنی کا بھی حقدار تھا۔ نانا صاحب کو ہندوستان کے علاقے دکن میں کئی محلات اور دیگر جائیدادیں بھی وراثت میں ملی تھیں۔ مزید برآںپیشوا نے نانا صاحب کے لیے ایک بڑی رقم مختص کر رکھی تھی، جسے وہ اپنے شاہانہ طرز زندگی کو سہارا دینے کے لیے استعمال کر سکتے تھے۔
نانا صاحب ایک بااثر رئیس تھے جو 1857 کے ہندوستانی بغاوت کے دوران نمایاں ہوئے تھے۔ جیسے جیسے بغاوت برصغیر پاک و ہند میں پھیل گئی، نانا صاحب بغاوت کے سب سے زیادہ بااثر رہنماؤں میں سے ایک کے طور پر ابھرے۔ اس نے ہندوستانی ریاست اودھ میں انقلاب کی قیادت کی اور اس کی افواج نے کانپور شہر پر قبضہ کر لیا۔
بغاوت میں نانا صاحب کا کردار سپاہیوں یا ہندوستانی سپاہیوں کو اکٹھا کرنا اور انہیں برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت کی طرف لے جانا تھا۔ انہوں نے باغیوں کو قیادت اور رہنمائی فراہم کی اور وہ ہندوستان کی آزادی کی علامت سمجھے جانے لگے تھے۔ اس نے کانپور کے دفاع کو منظم کیا اور اس کی افواج نے برطانوی فوجیوں کے خلاف زبردست جنگ کی۔ اس نے خود کو مراٹھا سلطنت کا پیشوا بھی قرار دیا اور خطے میں ہندوستانی حکمرانی کو بحال کرنے کی کوشش کی۔ نانا صاحب کی افواج کو بالآخر انگریزوں نے شکست دے کر فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔ وہ 1859 میں مر گیا، لیکن اس کی میراث زندہ ہے. وہ برطانوی حکمرانی کے خلاف ہندوستانی مزاحمت کی علامت ہیں، اور بغاوت میں ان کا کردار ہندوستانی تاریخ میں سب سے اہم ہے۔
نانا صاحب 1857 کے ہندوستانی بغاوت میں اپنی بہادری اور قیادت کے لیے جانے جاتے ہیں۔ وہ ہندوستان میں برطانوی راج کے خلاف مزاحمت کی علامت تھے۔ جس نے اپنے ملک اور اس کی آزادی کے لیے جدوجہد کی، لیکن اس کی کوششیں بالآخر ناکام ہوئیں۔ تاہم، ان کی میراث زندہ ہے، اور وہ ہندوستان کے عظیم قومی ہیرو ہیں۔

Friday, 3 July 2026

آزادی کا پہلا ہیرو: ٹیپو سلطان


آزادی کا پہلا ہیرو: ٹیپو سلطان 

تحریر ابوبکر صدیق

ہندوستان کی آزادی کے دن تک آزادی کی خاطر اپنی جان دینے والے مٹی عظیم فرزندوں کے تذکرے کا سلسلہ شروع کرنے کا عزم کیا دعا ہے کہ اللہ استقامت دے۔ آزادی کے ان قدرے گمنام ہیروز کے سلسلے کا آغاز نہایت کی نامور ہستی کے ذکر سے شروع کرتے ہیں۔
اس سلسلے کا پہلا پڑاو ہے ٹیپو سلطان۔ سرکاری سطح پہ ناگواری کے باجود یہ نام عوام میں ہر دل عزیز ہے۔ اسے کہتے ہیں جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے اور دشمن بھی اسے روک نہ سکے۔
سلطان فتح علی خاں بہ معروف ٹیپو سلطان ایک عظیم مرد مجاہد، عادل و رعایا پرور، مستقبل شناس، مساوات و مذہبی رواداری کا علمبر دار، روشن خیال اور بار بار معاف کرنے والے نرم گو حکمراں تھے۔ سلطنت خداداد کی مدت سترہ سال 1782ء تا 1799ء رہی۔ اگر وہ چاہتے تو دوسرے ریاستی نوابین اور راجگان کی طرح انگریزوں کے آگے سرخم تسلیم کرکے اس کی معیاد میں اضافہ کرسکتے تھے۔ لیکن ٹیپو سلطان نے نہ صرف اپنے والد سلطان حیدر علی کی وراثت کو آگے بڑھایا بلکہ فرنگیوں کو مادر ہند سے باہر نکالنے کا اپنی زندگی کا پہلا وآخری مقصد بنا لیا۔
تاریخ شاہد ہے تاجران فرنگ میدان جنگ میں راست مقابلے کے بجائے مکروفریب اور پس پردہ سازشیں رچنے کے ماہر کھلاڑی رہے ہیں۔ ان کی فتحیابی ان کے زور بازؤں سے زیادہ ان کے پیادوں کی کرتوتوں کا نتیجہ ہے۔ حیدر علی اور ٹیپو سلطان کے ہاتھوں متعدد مرتبہ ہار کا منھ دیکھنے کے بعد خصوصاً سن1780ء بمقام پولی لور نزد مدارس ذلت آمیز شکست سے ہندوستان تک انگلستان صف ماتم بچھ گئی۔ چنانچہ شاطر انگریز رزم گاہ کو لہو سے گرمانے کے بجائے اپنی روایتی شعبدہ بازی کے ہتھیار کو بروئے کار لائے۔ جنہوں نے ٹیپو سلطان کی انصاف پسندی و رحم دلی کے سبب کیفر کردار سے بچنے والے دشمن عناصر کو تلاش کیا۔ جو ٹیپو سلطان کے تئیں دل میں دبی خلش، حرص وطمع اور جوش انتقام کو ٹھنڈا کرنے کے لیے انگریزوں کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن گئے۔
مگر ٹیپو بھی فرنگیوں کی ریشہ دوانیوں اور آستین کے سانپوں کی جال سازیوں سے نابلند نہیں تھا۔ اس نے انہیں متنبہ کیا تھا کہ ’’ایسی بات نہیں کہ ہم تمہاری غداری سے واقف نہیں، تم اپنی اس بے وفائی کا جلد ہی مزا چکھوگے، تمہاری آئندہ آنے والی نسلیں تمہارے ان سیاہ کارناموں کی نحوست سے ایک ایک دانے کی محتاج ہوں گی‘‘۔
قابل ذکر امر ہے کہ ٹیپوسلطان اپنے والد امجد کے برخلاف رحم دل اور نرم مزاج شخصیت کے پیکر تھے۔ حیدر علی کو حکم عدولی، بغاوت اور دغابازی ناقابل برداشت تھی جو دشمنوں کو ان کے افعال کی سزا دیئے بغیر چین سے نہیں بیٹھتے تھے جبکہ ٹیپو سلطان بغیر شواہد اور تحقیق کے کسی نتیجہ پر نہیں پہنچتے تھے وہ حریفوں کو معافی مانگنے پر نہ صرف معاف کر دیتے تھے بلکہ انہیں سابقہ عہدوں پر مامور بھی کر دیتے تھے جو سانپ کو دودھ پلانے کے مماثل تھا۔ سلطنت خداداد کے خاتمہ کی سب سے بڑی وجہ ٹیپو سلطان کی رحم دلی رہی۔ حیدر علی نے انتقال سے قبل وصیت کی تھی کہ میر صادق، میر غلا م علی لنگڑا اور پورنیا کے بارے میں اطمینان نہیں ہے، میرے بعد تم ان کو قتل کر دینا۔ لیکن ٹیپو سلطان نے حیدر علی کی وصیت پر عمل آوری نہ کرنے کا خمیازہ اپنی جان دے کر چکایا۔
ویسے تو سلطنت خداداد کو مٹانے والے غداروں کی طولانی فہرست ہے لیکن یہاں چار قابل ذکر بغلی دشنمنوں کا تذکرہ ملاحظہ کیجئے جنہوں نے سلطنت خداداد کو مٹا کر میسور کو انگریزوں کی جھولی میں ڈال دیا۔ جس میں پہلا نام میرصادق کا آتا ہے۔
میر صادق: ٹیپو کو ایک مرتبہ میر صادق دیوان کی بدعنوانی کا علم ہوا، چھاپے کے دوران اس کے گھر سے دس لاکھ روپے اور ایک لاکھ اشرفیاں محمد شاہی برآمد ہوئیں۔ جس کے بعد وہ کھلی دشمنی پر اتر آیا۔ سلطان تک کوئی خبر پہنچنے نہیں دیتا تھا۔ فیصلہ کن موڑ پر سپاہیوں سے کہا کہ وہ جا کر اپنی تنخواہیں وصول کر لیں۔ اس سے ٹیپو سلطان کا دفاع کمزور ہوا۔ مزید برآں جس وقت گھمسان کی جنگ ہو رہی تھی اور سلطان ڈیوڑھی سے دروازے سے باہر نکلا تو اس نے دروازے کو اندر سے بند کرا دیا۔ لیکن خدا کا کرشمہ دیکھئے کہ اسے اگلے دن کا سورج بھی دیکھنا نصیب نہیں ہوا۔
پنڈت پورنیا: پنڈت پورنیا نے فرانسیسیوں اور سلطان ٹیپو کے مابین ہونے والے فوجی معاہدہ کی نقل میسور کی رانی لکشمی امانی کو پہنچائی تھی جس نے بعد میں اس کی اطلاع انگریز افسر جنرل ہارس کو پہنچائی۔ اس کی پالیسی کی وجہ سے کمپنی نے اس کو میسور کا دیوان منتخب کیا۔ پورنیا کی غداری آخر وقت تک بے نقاب نہیں ہوئی۔ جب اسے پوری طرح یقین ہو گیا تو اعلانیہ نمک حرامی کرتا ہے یعنی شگاف اور جنوبی فصیل کی متعینہ فوج کو تنخواہ کے بہانے سے مسجد اعلیٰ کے پاس بلاکر انگریزی فوج کو قلعہ پر چڑھ آنے کی سہولت فرا ہم کرتا ہے۔
مہاتما گاندھی پورنیا کی غداری کے بار ے میں یوں اظہارِ افسوس کرتے ہیں کہ ’عظیم سلطان کا وزیر اعظم ہندو تھا، یہ کتنے شرم کی بات ہے کہ اس نے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل کر آزادی کے عظیم عاشق کے ساتھ غداری کی۔“
میرغلام علی عرف لنگڑا (مشیراعلیٰ): قلعہ جات اور افواج کا ناظم اعلیٰ تھا۔ جسے سفیر بناکر سلطان ترکی کے دربار اور دیگر مقامات پر بھیجا گیا۔ جب وطن واپس لوٹا تو اس کے خلاف خرد برد کی شکایت ہوئی، جو تحائف سلطان ترکی نے ٹیپو سلطان کے لیے بھیجے تھے اس نے چھپا لیا ہے، خانہ تلاشی کی گئی تو سامان برآمد ہوگیا۔ جس پر غلام علی کو نظر بند کردیا گیا۔ معافی کے بعد سلطان نے رہا کرکے وزیر بحر بنا دیا۔
راجہ خان: راجہ خاں سلطان کے ذاتی عملہ میں شامل تھا لیکن سکّوں کی کھنک دیکھ کر ایمان بیچنے میں دیر نہ کی۔ آخری ایام تک اس کے اوپر شک کی انگلی تک نہیں اٹھی۔ اس نے ہی شہادت سے پہلے سلطان کو خود سپردگی کا مشورہ دیا تھا۔ ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد ان کے گلے سے موتیوں کا قیمتی ہار بھی اس نے ہی چرایا تھا۔ میسور کی سلطنت میں بخشی کا عہدہ دیا گیا۔
حقیقت یہ ہے کہ ٹیپو سلطان نے بر طانوی نو آبادیاتی نظام کے خلاف نبرد آزمائی کرتے ہوئے جس دلیری، شجاعت اور سپہ سالاری کا ثبوت دیا وہ کسی اورحکمراں کے حصے میں نہیں آیا۔ علامہ اقبال نے ٹیپو سلطان کی عظمت وحرمت پر اپنے خیالات کا اظہار یوں کیا ہے کہ ”ٹیپو کی عظمت کو تاریخ کبھی فراموش نہ کرسکے گی، وہ مذہب وملت اور آزادی کے لیے آخری دم تک لڑتے رہے، یہاں تک کہ اس راہ میں وہ شہید ہوگئے۔“

جیل میں شیشے کے برتن استعمال کرنے کا مریم نواز کا دعویٰ اور قانون

 جیل میں شیشے کے برتن استعمال کرنے کا مریم نواز کا دعویٰ اور قانون

تحریر : ابو بکر صدیق
پنجاب کی چیف منسٹر مریم نواز صاحبہ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپنی جیل کے ایام میں سے ایک واقعہ کا ذکر کیا جس کا مقصد جیل کے دوران ان پہ کی جانیوالی سختی کو بیان کرنا تھا اور ساتھ ہی یہ بتانا بھی مقصود تھا کہ انہوں نے جیل مصائب بھری زندگی گزاری ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ دوران جیل ایک مرتبہ ان کا شوگر لیول ڈاون ہو گیا تو انہوں نے اپنی مدد کے لیے سب کو پکارا مگر کسی نے ان کی کوئی مدد نہ کی۔ پھر ان کے پاس شیشے کی بوتل میں گُڑ پڑا ہوا تھا جسے وہ پکڑنے لگیں تو بوتل ٹوٹ گئی اور انہیں زمین سے اٹھا کر وہ گُڑ کھانا پڑا۔
پہلی بات یہ ہے کہ ہم مریم نواز صاحبہ کے اس دعوی کو جھٹلا نہیں رہے عین ممکن ہے کہ ایسا ہی ہوا ہو لیکن ہم اسے اگر قانون کی نگا ہ سے دیکھا جائے تو اس دعویٰ میں کئی سقم موجود ہیں۔ پاکستان کے جیل قوانین کا بنیادی ڈھانچہ پرزنس ایکٹ 1894 (The Prisons Act, 1894) اور پاکستان پرزنز رولز 1978 (Pakistan Prisons Rules, 1978) پر مبنی ہے۔ ان قوانین کے مطابق شیشے یا کانچ کی اشیاء کو بیرکوں میں رکھنے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی۔
پرائزنز ایکٹ 1894 کی دفعہ 42 اور 45 کے تحت جیل کے اندر ایسی اشیاء لانا یا قیدیوں کو دینا سخت ممنوع ہے جنہیں قانون "ممنوعہ اشیاء" (Contraband) قرار دے۔پاکستان پرزنز رولز 1978 کے رول نمبر 690 (Rule 690 - List of Prohibited Articles) میں ممنوعہ اشیاء کی ایک باقاعدہ فہرست (List) دی گئی ہے۔ اس قانون کا اصل متن واضح کرتا ہے:
"All arms and weapons and articles which are capable of being used as weapons of whatever description."
ترجمہ: "ہر قسم کے ہتھیار اور ایسی تمام اشیاء جنہیں کسی بھی طرح ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہو (وہ ممنوعہ اشیاء میں شامل ہیں)۔"
چونکہ شیشے یا کانچ کی بوتل، جار اور برتن کو توڑ کر انتہائی تیز دھار ہتھیار بنایا جا سکتا ہے، اس لیے جیل حکام رول 690 کے تحت اسے جیل کی سیکیورٹی کے لیے ایک پوشیدہ ہتھیار (Potential Weapon) تصور کرتے ہوئے قیدیوں کو دینے سے منع کرتے ہیں۔
جب کوئی قیدی جیل میں داخل ہوتا ہے تو قانون جیل انتظامیہ کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ اس کے پاس موجود ہر ایسی چیز ضبط کر لے جو سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہو۔پاکستان پرزنز رولز 1978 کے رول نمبر 18 (Rule 18 - Search of Prisoners) کے مطابق
"Every prisoner shall be searched on admission and all prohibited articles, or articles which are considered dangerous or inexpedient to be left in the possession of a prisoner, shall be taken from him."
"ہر قیدی کی جیل میں داخلے کے وقت تلاشی لی جائے گی اور تمام ممنوعہ اشیاء، یا ایسی اشیاء جنہیں قیدی کے پاس چھوڑنا خطرناک یا نامناسب سمجھا جائے، اس سے واپس لے لی جائیں گی۔"
اس قانون کے تحت جیل کا سپرنٹنڈنٹ یا انچارج عملہ اپنے صوابدیدی اختیار (Discretionary Power) کا استعمال کرتے ہوئے شیشے کے برتنوں یا بوتلوں کو "خطرناک یا نامناسب" (Dangerous or Inexpedient) قرار دے کر قیدی کے پاس رکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔
جیل انتظامیہ پر قانونی طور پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قیدی کی جان کی حفاظت کرے۔ پاکستان پرزنز رولز کے رول 428 اور متعلقہ سیکیورٹی گائیڈ لائنز کے تحت قیدیوں کو ایسی کسی بھی چیز تک رسائی نہیں دی جا سکتی جس سے وہ خودکشی (Suicide) یا خود کو زخمی (Self-harm) کر سکیں۔ شیشے کے ٹکڑے خودکشی کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں، اسی لیے ان پر پابندی سخت ہے۔
اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کیا اس میں کوئی قانونی استثنا (Exceptions) ہے؟اگر کسی قیدی کو مینوئل کے رول 225 سے 245 کے تحت "کلاس اے یا بی" (بامشقت یا بہتر رہائشی کلاس) ملی ہوئی ہو، تو رول 262 کے تحت انہیں کچھ ذاتی اشیاء اور برتن رکھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، لیکن اس کی شرط بھی قانون میں واضح ہے:
کوئی بھی ایسی رعایت جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی حتمی منظوری اور سیکیورٹی کلیئرنس سے مشروط ہوتی ہے۔ عملی طور پر سیکیورٹی مینوئل کی رو سے وی آئی پی قیدیوں کو بھی کانچ کے بجائے پولی کاربونیٹ (ان بریک ایبل پلاسٹک) یا اسٹین لیس اسٹیل کے برتن ہی فراہم کیے جاتے ہیں۔
قانون کے الفاظ کے مطابق ہر وہ چیز جو ہتھیار بن سکتی ہے یا قیدی کے پاس رکھنا خطرناک ہے (بشمول کانچ/شیشہ)، وہ رول 690 اور رول 18 کے تحت ممنوع ہے۔ اب مریم نواز صاحبہ کے دعویٰ کی قانونی حیثت کو کافی مشکوک ہے لیکن اگر ایک لمحے کے لیے تسلیم کر لیا جائے کہ ان تک شیشے کے جار یا برتن کی رسائی تھی تو پھر یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ ایک استثنائی قید کاٹ رہی تھیں جہاں جیل کا عملہ ان کی ہر ممکن مدد کر رہا تھا۔ یعنی پھر کہانی کا وہ حصہ سوالیہ نشان کی زد میں آ جائے گا جس میں جیل کے دوران سختیاں اور مظالم بیان کرنا مقصود تھا۔

Wednesday, 1 July 2026

حضرت معاویہ کے اصول قصاص سے انحراف

حضرت معاویہ کا اصول قصاص سے انحراف 

تحریر: ابوبکر صدیق 

 شام کے گورنر حضرت معاویہ کا سارا مقدمہ حضرت عثمان کے قصاص پہ تھا وہ اس بات خلافت کے مدعی بھی بنے کہ چونکہ قصاص ایک اللہ کی قائم کردہ حد ہے جسے موقوف نہیں کیا جا سکتا۔ 

چلیں اسی اصول پہ حضرت معاویہ کو خود دیکھتے ہی۔ حضرت عثمان ہی کی طرز پہ ایک صحابی رسول حضرت طلحہ بھی ہیں۔ یہ حضرت عثمان کی طرز پہ سابقون الاولون بھی تھے اور مہاجر بھی۔ انہوں نے نبی کریم (ص) کے ساتھ ہر جنگ میں شرکت کی اور نبی کریم (ص) اپنی ظاہری حیات میں ان سے خوش گئے۔ یہ عشرہ مبشرہ میں شریک تھے۔ 

حضرت طلحہ (رض) نے بھی حضرت عائشہ صدیقہ (رض) اور حضرت زبیر بن العوام (رض) کے ہمراہ حضرت عثمان (رض) کے قصاص کے لیے لشکر اکٹھا کیا لیکن حضرت علی (رض) کے ساتھ بات چیت کے بعد انہوں نے اپنے موقف سے رجوع کر لیا اور واپس لوٹ گئے۔ 

یہی وہ مقام ہے جہاں مروان بن الحکم نے ان پہ وار کیا اور انہیں شہید کر دیا۔ یہ مروان وہی شخصیت ہے جس کو اس کے والد حکم بن العاص کے ساتھ نبی کریم (ص) نے شرانگیزیوں کے باعث مدینہ منورہ سے نکال دیا تھا۔ حضرات ابوبکر صدیق اور عمر فاروق (رض) ادوار میں حضرت عثمان (رض) نے ان کی واپسی کی کوشش کی لیکن پہلے دونوں خلفا نہیں مانے لیکن اپنے دور خلافت میں انہوں نے نہ صرف انہیں مدینہ واپس بلا لیا بلکہ مروان کو اپنا داماد بھی بنا لیا۔

یہ وہی مروان ہے جس پہ حضرت عثمان (رض) اعتماد کرتے تھے اور مہر خلافت اسی کے پاس رہتی تھی اسی نے گورنر مصر کو وہ خط خلیفہ کی جانب سے لکھا تھا جس میں نئے گورنر محمد بن ابوبکر کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا حضرت عثمان(رض) نے اس عمل سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔

بات ہو رہی تھی قصاص جیسے عظیم حکم ربی کی۔ حضرت طلحہ جیسے عظیم المرتبت صحابی رسول کے قاتل کو بعد ازاں حضرت معاویہ نے اپنے اسی اصول قصاص کے تحت قتل کرنے کی بجائے مدینہ منورہ کا گورنر بنا دیا۔ ان کے اس عمل سے ان کے گزشتہ مطالبہ قصاص پہ شکوک و شبہات پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے۔ 

حضرت حجر بن عدی الکندی (رض) رسول اللہ ﷺ کے فاضل صحابی اور زاہد عابد انسان تھے۔ امیر معاویہ (رض) کے دورِ حکومت میں 51 ہجری میں جب کوفہ کے گورنر زیاد بن ابیہ نے ان پر بعض سیاسی و مذہبی اختلافات کی بنا پر بغاوت کا الزام لگایا، تو انہیں دمشق کے قریب "مرج عذراء" کے مقام پر ساتھیوں سمیت شہید کر دیا گیا۔ ان کی شہادت پر ام المومنین حضرت عائشہ (رض) نے شدید رنج کا اظہار کیا تھا۔ لیکن اس وقت حاکم مطلق حضرت معاویہ نے ابن زیاد سے کسی طرح کا کوئی قصاص نہیں لیا۔

حضرت عمر بن الحمق الخزاعی (رض) بیعتِ رضوان میں شامل صحابیِ رسول تھے۔ حضرت معاویہ کے دورِ حکومت میں سن 50 میں زیاد بن ابیہ کے خوف سے یہ موصل (عراق) چلے گئے، جہاں انہیں گرفتار کر کے شہید کر دیا گیا اور ان کا سر کاٹ کر دمشق بھیجا گیا۔ تاریخِ اسلام میں یہ پہلا سر تھا جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا گیا۔

ان واقعات کو صحابہ اکرام کے آپسی معاملات نہیں کہا جا سکتا یہ وہ معاملات ہیں جن پہ ریاست کے سربراہ کے دیدہ دانستہ شریعت کے حکم قصاص کو موقوف کر دیا گیا تھا۔

اب حضرت معاویہ کے سیاسی عروج کی بنیاد اسلام کے حکم قصاص پہ رکھی گئی تھی لیکن آپ نے خود اپنے دور حکومت میں جلیل القدر صحابہ اکرام کے ریاستی نمائندوں اور ان کے رشتہ داروں کے ہاتھوں قتل ہوئے مگر انہوں نے اس سے طوطا چشمی برتی تو اس کے بعد ان پہلے دعویٰ اخلاص پہ شکوک ابھرنا فطری امر ہے۔