Wednesday, 1 July 2026

حضرت معاویہ کے اصول قصاص سے انحراف

حضرت معاویہ کا اصول قصاص سے انحراف 

تحریر: ابوبکر صدیق 

 شام کے گورنر حضرت معاویہ کا سارا مقدمہ حضرت عثمان کے قصاص پہ تھا وہ اس بات خلافت کے مدعی بھی بنے کہ چونکہ قصاص ایک اللہ کی قائم کردہ حد ہے جسے موقوف نہیں کیا جا سکتا۔ 

چلیں اسی اصول پہ حضرت معاویہ کو خود دیکھتے ہی۔ حضرت عثمان ہی کی طرز پہ ایک صحابی رسول حضرت طلحہ بھی ہیں۔ یہ حضرت عثمان کی طرز پہ سابقون الاولون بھی تھے اور مہاجر بھی۔ انہوں نے نبی کریم (ص) کے ساتھ ہر جنگ میں شرکت کی اور نبی کریم (ص) اپنی ظاہری حیات میں ان سے خوش گئے۔ یہ عشرہ مبشرہ میں شریک تھے۔ 

حضرت طلحہ (رض) نے بھی حضرت عائشہ صدیقہ (رض) اور حضرت زبیر بن العوام (رض) کے ہمراہ حضرت عثمان (رض) کے قصاص کے لیے لشکر اکٹھا کیا لیکن حضرت علی (رض) کے ساتھ بات چیت کے بعد انہوں نے اپنے موقف سے رجوع کر لیا اور واپس لوٹ گئے۔ 

یہی وہ مقام ہے جہاں مروان بن الحکم نے ان پہ وار کیا اور انہیں شہید کر دیا۔ یہ مروان وہی شخصیت ہے جس کو اس کے والد حکم بن العاص کے ساتھ نبی کریم (ص) نے شرانگیزیوں کے باعث مدینہ منورہ سے نکال دیا تھا۔ حضرات ابوبکر صدیق اور عمر فاروق (رض) ادوار میں حضرت عثمان (رض) نے ان کی واپسی کی کوشش کی لیکن پہلے دونوں خلفا نہیں مانے لیکن اپنے دور خلافت میں انہوں نے نہ صرف انہیں مدینہ واپس بلا لیا بلکہ مروان کو اپنا داماد بھی بنا لیا۔

یہ وہی مروان ہے جس پہ حضرت عثمان (رض) اعتماد کرتے تھے اور مہر خلافت اسی کے پاس رہتی تھی اسی نے گورنر مصر کو وہ خط خلیفہ کی جانب سے لکھا تھا جس میں نئے گورنر محمد بن ابوبکر کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا حضرت عثمان(رض) نے اس عمل سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔

بات ہو رہی تھی قصاص جیسے عظیم حکم ربی کی۔ حضرت طلحہ جیسے عظیم المرتبت صحابی رسول کے قاتل کو بعد ازاں حضرت معاویہ نے اپنے اسی اصول قصاص کے تحت قتل کرنے کی بجائے مدینہ منورہ کا گورنر بنا دیا۔ ان کے اس عمل سے ان کے گزشتہ مطالبہ قصاص پہ شکوک و شبہات پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے۔ 

حضرت حجر بن عدی الکندی (رض) رسول اللہ ﷺ کے فاضل صحابی اور زاہد عابد انسان تھے۔ امیر معاویہ (رض) کے دورِ حکومت میں 51 ہجری میں جب کوفہ کے گورنر زیاد بن ابیہ نے ان پر بعض سیاسی و مذہبی اختلافات کی بنا پر بغاوت کا الزام لگایا، تو انہیں دمشق کے قریب "مرج عذراء" کے مقام پر ساتھیوں سمیت شہید کر دیا گیا۔ ان کی شہادت پر ام المومنین حضرت عائشہ (رض) نے شدید رنج کا اظہار کیا تھا۔ لیکن اس وقت حاکم مطلق حضرت معاویہ نے ابن زیاد سے کسی طرح کا کوئی قصاص نہیں لیا۔

حضرت عمر بن الحمق الخزاعی (رض) بیعتِ رضوان میں شامل صحابیِ رسول تھے۔ حضرت معاویہ کے دورِ حکومت میں سن 50 میں زیاد بن ابیہ کے خوف سے یہ موصل (عراق) چلے گئے، جہاں انہیں گرفتار کر کے شہید کر دیا گیا اور ان کا سر کاٹ کر دمشق بھیجا گیا۔ تاریخِ اسلام میں یہ پہلا سر تھا جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا گیا۔

ان واقعات کو صحابہ اکرام کے آپسی معاملات نہیں کہا جا سکتا یہ وہ معاملات ہیں جن پہ ریاست کے سربراہ کے دیدہ دانستہ شریعت کے حکم قصاص کو موقوف کر دیا گیا تھا۔

اب حضرت معاویہ کے سیاسی عروج کی بنیاد اسلام کے حکم قصاص پہ رکھی گئی تھی لیکن آپ نے خود اپنے دور حکومت میں جلیل القدر صحابہ اکرام کے ریاستی نمائندوں اور ان کے رشتہ داروں کے ہاتھوں قتل ہوئے مگر انہوں نے اس سے طوطا چشمی برتی تو اس کے بعد ان پہلے دعویٰ اخلاص پہ شکوک ابھرنا فطری امر ہے۔