Saturday, 12 September 2026

پاکستان کی حدود میں آخری اضافہ

پاکستان کی حدود میں آخری اضافہ

تحریر: ابوبکر صدیق
​1867ء کا ایک سرد اور اداس دن تھا۔ امریکی وزیر خارجہ ولیم سیوارڈ نے روسی سفیر ایڈورڈ ڈی اسٹوئکل کے ساتھ ایک ایسے معاہدے پر دستخط کیے جس نے پورے واشنگٹن میں کہرام مچا دیا۔ روس معاشی بدحالی اور کریمین جنگ کے زخم چاٹ رہا تھا، اُسے پیسے چاہییں تھے، چنانچہ اُس نے اپنا 6 لاکھ مربع میل پر پھیلا ہوا برفانی خطہ امریکا کے ہاتھ محض 72 لاکھ ڈالر میں بیچ دیا۔
​اگلے دن امریکی اخبارات سیوارڈ کے پیچھے پڑ گئے۔ ایڈیٹرز نے اسے "سیوارڈ کی حماقت" اور "اینڈریو جانسن کا قطبی ریچھوں کا باغ" قرار دیا۔ ناقدین چیخ چیخ کر پوچھ رہے تھے، "ہمیں اس بنجر، منجمد برف کے ڈھیر کی کیا ضرورت تھی؟ کیا ہماری معیشت اتنی امیر ہو چکی ہے کہ ہم برف خریدیں؟" سیوارڈ خاموش رہا۔ وہ تاریخ کا طالب علم تھا، وہ جانتا تھا کہ وقت سب سے بڑا منصف ہوتا ہے۔
​اور پھر دنیا نے دیکھا، چند دہائیوں بعد اسی الاسکا سے اربوں ڈالر کا سونا نکلا، پھر دنیا کا سب سے بڑا تیل اور قدرتی گیس کا خزانہ دریافت ہوا، اور آج وہی الاسکا امریکا کو دنیا کی واحد آرکٹک سپر پاور بناتا ہے۔ جن 72 لاکھ ڈالرز پر واشنگٹن کی پارلیمنٹ بلبلا اٹھی تھی، آج الاسکا کے صرف ایک تیل کے کنویں سے روزانہ اس سے کہیں زیادہ ڈالر نکل آتے ہیں۔
​یہی المیہ 1803ء میں فرانس کے ساتھ پیش آیا تھا۔ نپولین بونا پارٹ کو جنگوں کے لیے رقم کی ضرورت تھی۔ صدر تھامس جیفرسن نے آگے بڑھ کر فرانس سے لوزیانا کا 8 لاکھ 20 ہزار مربع میل کا خطہ صرف ڈیڑھ کروڑ ڈالر میں خرید لیا۔ امریکی تاریخ گواہ ہے، اس سودے نے امریکا کو ایک جھٹکے میں دوگنا کر دیا اور یہی وہ رقبہ تھا جس نے امریکا کو صنعتی اور زرعی انقلاب کی معراج پر پہنچایا۔ 1819ء میں اسپین سے پانچ ملین ڈالر میں فلوریڈا خریدا گیا، اور 1853ء میں میکسیکو سے جنوبی ریلوے لائن کے لیے بنجر صحرا خریدا گیا۔
​دنیا کی باشعور قومیں صدیوں بعد کا منظر دیکھتی ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ کرنسی ایک فانی کاغذ ہے، مگر جغرافیہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ پیسہ کل بھی راکھ بن جائے گا، مگر زمین ابد تک نسلوں کو پالتی ہے۔
​اب ذرا تاریخ کے ورق الٹائیے اور 8 ستمبر 1958ء کے پاکستان میں تشریف لائیے۔
​کراچی کے وزیر اعظم ہاؤس میں ایک سنجیدہ اور فکرمند چہرہ فائلوں کے ڈھیر پر جھکا بیٹھا تھا۔ یہ پاکستان کے سویلین وزیر اعظم ملک فیروز خان نون تھے۔ برطانوی تسلط، مسقط اور عمان کی طویل اور پیچیدہ سفارت کاری کے بعد بالآخر ایک تاریخی لمحہ آ پہنچا تھا۔ سلطانِ عمان نے اعلان کیا کہ گوادر کا خطہ، جو کبھی خان آف قلات نے بطور تحفہ دیا تھا، اب باقاعدہ طور پر پاکستان کے حوالے کیا جاتا ہے۔ پاکستان نے اس سودے کے لیے عمان کو ساڑھے پانچ ارب روپے (تقریباً 30 لاکھ پاؤنڈز) ادا کیے۔ اس رقم کا ایک بڑا حصہ سر آغا خان نے اپنی جیب سے ادا کر کے اس ریاست پر احسانِ عظیم کیا۔
​8 ستمبر کی صبح جب گوادر پر پہلی بار سبز ہلالی پرچم لہرایا، تو یہ محض ایک پرچم کشائی نہیں تھی، یہ پاکستان کے عرب دور کا خاتمہ اور دنیا کی سب سے بڑی گہرے پانیوں کی قدرتی بندرگاہ کا پاکستان کے جغرافیے میں باضابطہ ادغام تھا۔ یہ پاکستان کی سرحدوں میں ہونے والا آخری جغرافیائی اضافہ تھا۔
​لیکن اس کے بعد کیا ہوا؟
​وہی ہوا جو ہر تیسری دنیا کے کم نظر معاشرے میں ہوتا ہے۔ ملک فیروز خان نون پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی گئی۔ راولپنڈی کے کمانڈ ہیڈکوارٹرز اور بیوروکریسی کے بند کمروں میں سرگوشیاں ہونے لگیں، "ایک غریب، نوزائیدہ اور قرضوں میں جکڑے ملک کا سویلین وزیر اعظم اربوں روپے بنجر پہاڑوں اور ریت پر کیوں لٹا رہا ہے؟ ہم ماہی گیروں کی بستی کا کیا کریں گے؟" اس وقت کی طاقتور ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے اس خریداری کو معیشت پر ناقابلِ برداشت بوجھ قرار دیا۔ سویلین حکومت کو ناکارہ اور فضول خرچ ثابت کیا گیا اور ٹھیک ایک ماہ بعد، 7 اکتوبر 1958ء کو اس ملک پر پہلا مارشل لاء مسلط کر کے ملک فیروز خان نون کو گھر بھیج دیا گیا۔
​کیا کمال کا المیہ ہے۔
​جس شخص نے آپ کو مستقبل کی دنیا کا تجارتی دہانہ لا کر دیا، آپ نے اسے گھر بھیج دیا! آج دنیا کی سپر پاور چین اپنے وجود اور بقا کے لیے اسی گوادر پر کھربوں ڈالر کا سی پیک تعمیر کر رہی ہے۔ دنیا کے تیل کا سب سے بڑا بحری راستہ، آبنائے ہرمز، گوادر کے بالکل سامنے سے گزرتا ہے۔ وسطی ایشیا سے لے کر کاشغر تک، ہر ملک سمندر کے جس راستے کا محتاج ہے، وہ گوادر ہے۔
​تاریخ کا سبق بہت بے رحم ہوتا ہے۔ دنیا میں خریدی گئی زمین کبھی مہنگی نہیں ہوتی، چاہے وہ 1626ء میں ڈچوں کی خریدی گئی مین ہٹن کی دلدلی زمین ہو یا 1958ء میں خریدا گیا گوادر۔ زمین کا کوئی سودا خسارے کا نہیں ہوتا، خسارہ صرف اُن حکمرانوں کی سوچ میں ہوتا ہے جو زمین تو خرید لیتے ہیں مگر اُس پر کھڑے ہو کر دنیا کو تسخیر کرنے کا وژن نہیں خرید پاتے۔ گوادر آج بھی وہیں کھڑا ہے، سمندر کی لہریں آج بھی اُسی کنارے سے ٹکراتی ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ ہم ساٹھ سال بعد بھی اس کے ماتھے پر تزویراتی فتح کا تاج سجائیں گے یا صرف مارشل لاؤں کی فائلیں الٹتے رہیں گے؟ فیصلہ بہرحال ہمارے ہاتھ میں ہے۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home