مسجد صوفیہ: سلطان محمد فاتح بمقابلہ محمد الرسول اللہ
نوٹ: یہ آرٹیکل 2021 میں فیس بک پیج کے لیے لکھا گیا تھا یہاں پہ نشر مکرر کے طور پہ شئیر کیا جا رہا ہے۔
مسجد صوفیہ: سلطان محمد فاتح بمقابلہ محمد الرسول اللہ
سینٹ
کیتھرائن کے متولی کچھ راہب بارگاہ رسالت میں داخل ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے انکی میزبانی میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ متولیوں نے رحمت دو عالم سے
گزارش کی کہ ہمیں خطرہ ہے کہ مسلمان طاقت حاصل کرنے کے بعد ان کی ہمیں قتل اور
ہماری عبادت گاہوں کو اپنے قبضہ تصرف میں لے لیں گے یا تباہ کر دیں۔ آپ نے ارشاد
فرمایا کہ آپ لوگ میری امت سے محفوظ رہیں گے تو متولیوں نے عرض کیا ہم لوگ جب بھی
کسی سے معاہدہ کرتے تو لکھ لیتے ہیں۔
آپؐ
بھی ہمیں اپنا عہد تحریر فرما کر عنایت کر دیں تا کہ ہم مستقبل میں آپؐ کے امتیوں
کو آپؐ کی یہ تحریر دکھا کر امان حاصل کر سکیں‘ آپؐ نے تحریر لکھوائی‘ تصدیق کے
لیے کاغذ پر اپنے دست مبارک کا نشان لگایا اور عہد نامہ ان کے حوالے کر دیا‘ یہ
دنیا کی واحد تحریر ہے جس پہ سرکار دوعالم کے انگوٹھے کا نشان ثبت ہے۔
نبی
اکرمؐ سے منسوب یہ خط مبارک آج بھی مصر کے صحرائے سینامیں موجود سینٹ کیتھرین چرچ
میں موجود ہے‘ خط پر آپؐ کے دست مبارک کا نشان ہے‘ عیسائی اس خط کو نبی اکرمؐ کا Testament Covenant جب کہ مسلمان عہد نامہ کہتے ہیں۔۔اس خط کا
ترجمہ ملاحظہ فرمائیں.
’’یہ
خط رسول اللہ ﷺ ابن عبداللہ کی جانب سے تحریر کیا گیا جنھیں اللہ کی طرف سے مخلوق
پر نمایندہ بنا کر بھیجا گیا تا کہ خدا کی طرف کوئی حجت قائم نہ ہو‘ بے شک اللہ
قادر مطلق اور دانا ہے‘ یہ خط اسلام میں داخل ہونے والوں کے لیے ہے‘ یہ معاہدہ
ہمارے اوردور و نزدیک‘ عربی اور عجمی‘ شناسا اور اجنبی اور عیسائیوں اور حضرت
عیسیٰ ؑ کے پیروکاروں کے درمیان ہے‘ یہ خط ایک حلف نامہ ہے اور جو اس کی خلاف ورزی
کرے گا‘ وہ کفر کرے گا‘ وہ اس حکم سے روگردانی کا راستہ اختیار کرے گا‘ معاہدے کی
خلاف ورزی کرنے والا خدا اور اس کے حکم کا نافرمان ہو گا‘ اس (خط ) حکم کی
نافرمانی کرنے والا بادشاہ یا عام آدمی خدا کے قہر کا حق دار ہو گا‘ جب کبھی
عیسائی عبادت گزار اور راہب ایک جگہ جمع ہوں ‘ چاہے وہ کوئی پہاڑ ہو یا وادی‘ غار
ہو یا کھلا میدان‘ کلیساء ہو یا گھر میں تعمیر شدہ عبادت گاہ ہو تو بے شک ہم
(مسلمان) ان کی حفاظت کے لیے ان کی پشت پر کھڑے ہوںگے‘ میں‘ میرے دوست اور میرے
پیروکار ان لوگوں کی جائیدادوں اور ان کی رسوم کی حفاظت کریں گے‘ یہ (عیسائی) میری
رعایا ہیں اور میری حفاظت میں ہیں‘ ان پر ہر طرح کا جزیہ ساقط ہے جو دوسرے ادا
کرتے ہیں‘ انھیں کسی طرح مجبور‘ خوف زدہ‘ پریشان یا دبائو میں نہیں لایا جائے گا‘
ان کے قاضی اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں‘ ان کے راہب اپنے مذہبی احکام اور اپنی
رہبانیت کے مقامات میں آزاد ہیں‘ کسی کو حق نہیں یہ ان کو لوٹے‘ ان کی عبادت گاہوں
اور کلیسائوں کو تباہ کرے اور ان (عمارتوں) میں موجود اشیاء کو اسلام کے گھر میں
لائے‘ جو ایسا کرے گا وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے حلف کی خلاف ورزی کرے گا‘ ان کے
قاضی‘ راہب اور عبادت گاہوں کے رکھوالوں پر بھی جزیہ نہیں ‘ ان سے کسی قسم کا
جرمانہ یا ناجائز ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا‘ بے شک میں ان سے وعدے کی پاس داری
کروں گا‘ چاہے یہ زمین میں ہیں یا سمندر میں‘ مشرق میں ہیں یا مغرب میں‘ شمال میں
ہیں یا جنوب میں‘ یہ میری حفاظت میں ہیں‘ ہم اپنے مذہبی خدا کی عبادت میں زندگی
وقف کرنے والوں (راہبوں) اور اپنی مقدس زمینوں کو زرخیز کرنے والوں (چرچ کے زیر
انتظام زمینوں) سے کوئی ٹیکس یا آمدن کا دسواں حصہ (عشر) نہیں لیں گے‘ کسی کو حق
نہیں کہ وہ ان کے معاملات میں دخل دے یا ان کے خلاف کوئی اقدام کرے‘ ان کے زمین
دار‘ تاجر اور امیر لوگوں سے لیا جانے والا ٹیکس 12 درہم سے زائد نہیں ہو گا‘ ان
کو کسی طرح کے سفر (نقل مکانی) یا جنگ میں حصہ لینے (فوج میں بھرتی) پر بھی مجبور
نہیں کیا جائے گا‘ کوئی ان سے جھگڑا یا بحث نہ کرے‘ ان سے قرآن کے احکام کے سوا
کوئی بات نہ کرو ’’اور اہل کتاب سے نہ جھگڑو مگر ایسے طریقے سے جو عمدہ ہو‘‘ (سورۃ
العنکبوت آیت 46) پس یہ مسلمانوں کی جانب سے ہر طرح کی پریشانی سے محفوظ ہیں‘ چاہے
یہ عبادت گاہ میں ہیں یا کہیں اور ‘کسی عیسائی عورت کی مسلمان سے اس کی مرضی کے
خلاف شادی نہیں ہو سکتی‘ اس کو اس کے کلیساء جانے سے نہیں روکا جا سکتا‘ ان کے
کلیسائوں کا احترام ہو گا‘ ان کی عبادت گاہوں کی تعمیر یا مرمت پر کوئی پابندی
نہیں ہو گی اور انھیں ہتھیار اٹھانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ ہر مسلمان پر لازم
ہے کہ وہ قیامت تک اور اس دنیا کے اختتام تک اس حلف کی پاس داری کرے‘‘۔
امت
مسلمہ میں ایک کل سے ایمان کی روح دوڑ رہی ہے اس کو اس خط میں درج نبی کریم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امان کے کنٹیکسٹ میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے لیے ہدایت
اللہ کے کلام میں سنت رسول میں ہے جس کا اظہار خلفاء راشدین کے دور میں ہوا اس سے
ہم ہدایت کے سکتے بعد کے تمام حکمران اپنے نفس کی خواہشات کے غلام تھے ان کے کسی
عمل کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی مخالفت میں ایسے سیلیبریٹ کرنا
یہ بات ظاہر کرتا کہ آج ہمارے اکابرین کے دین نے دین محمدی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ
وسلم کو ریپلیس کر دیا ہے۔ بلاشبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس امان کے
بعد اس مسجد کی پہلی تبدیلی ہی غلط تھی جب اسے سلطان محمد فاتح نے کلیسا سے مسجد
میں تبدیل کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سخت کرین مذمت کا مستحق تھا
وہ بجائے اسے درست کیا جاتا پہلے تو اسکی حیثیت میں تبدیلی میوزیم بنایا جانا تھا
اور اب جب سیاسی مقاصد کے لیے مذہب کارڈ کھیلا گیا تو میوزیم کو مسجد میں کرکے ترکوں
نے غلطی در غلطی کی روش کو برقرار رکھا۔ اردگان کی جماعت دو دہائیوں سے برسر
اقتدار ہے وہ خود اسی شہر میں لمبا عرصہ مئیر رہے لیکن ایسی کوشش نہیں کی۔ پچھلے
سال صوبائی انتخابات میں ہوئی شکست سے اپنی سیاسی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے
مذہب کو گھسیٹنے سے گریز کرنا چاہیے تھا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
جنگ کرنے والوں کی فہرست میں کھڑا ہونے کے مترادف تھا۔


0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home