Thursday, 17 July 2025

برصغیر کا پہلا مسلم حکمران جو لاہور میں آسودِ خاک ہے

یہ آرٹیکل پہلی بار 17 جولائی 2023 کو فیس بک پیج کے لیے لکھا گیا یہاں نشر مکرر کے طور پ شئیر کیا جا رہا ہے

انار کلی سے میو ہسپتال جانے والی سٹرک پہ واقعہ یہ مقبرہ برصغیر کے پہلے مسلمان حکمران قطب الدین ایبک کا ہے۔ چند دن قبل جانا ہوا یہ مقبرہ کسی طور ایک عظیم شہنشاہ کی شان شیان نہیں لگا لیکن پھر بھی قبر کے آثار باقی ہیں یہ ہی کافی ہے۔

مولانا عبدالحلیم شرر اپنی کتاب اسلامی ہندوستان میں قطب الدین ایبک کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ وہ برصغیر میں مستقل مسلمان حکومت کا پہلا بادشاہ تھا، جس نے دہلی کو اپنی سلطنت کا دارالحکومت بنایا۔ ان کی قائم کردہ حکومت بعد ازاں دہلی سلطنت کے نام سے مشہور ہوئی، جس نے نہ صرف برصغیر میں اسلامی نظام کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں بلکہ کئی صدیوں تک حکومت کی۔ قطب الدین ایبک نسلاً ترک تھا اور غلامی کی حالت میں ترکستان سے نیشاپور لایا گیا، جہاں ایک تاجر نے اسے قاضی فخرالدین عبدالعزیز کے ہاتھ فروخت کیا۔ ضیاء الدین برنی نے تاریخ فیروز شاہی میں اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بعد ازاں قاضی نے اس غلام کو سلطان شہاب الدین محمد غوری کی خدمت میں پیش کیا، جو اپنے عہد کا سب سے طاقتور اسلامی حکمران تھا۔ سلطان نے قطب الدین کی ذہانت، اطاعت اور جنگی چابکدستی دیکھ کر اسے خرید لیا۔ اگرچہ اس کی ظاہری صورت متاثر کن نہ تھی اور ایک انگلی بھی ٹیڑھی تھی، جس کے باعث اُسے "ایبک شِل" (خستہ انگشت) کہا جاتا تھا، لیکن اس کے کردار اور ہنر میں جو اعلیٰ صلاحیتیں چھپی تھیں، وہی اس کے عروج کا باعث بنیں۔

مولانا شبلی نعمانی نے المامون اور عباسی خلفاء کے تناظر میں غلاموں کی ترقی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اسلامی تاریخ میں کئی غلام اپنی قابلیت، وفاداری اور کردار کی بنیاد پر تخت و تاج تک پہنچے، اور قطب الدین ایبک اس کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ حسن نظامی نے اپنی معرکۃ الآرا تصنیف تاج المعاصر میں لکھا ہے کہ 1192ء میں سلطان محمد غوری نے ہندو راجہ پرتھوی راج چوہان کو ترائن کی دوسری جنگ میں شکست دے کر دہلی اور اجمیر پر قبضہ کیا، اور قطب الدین کو ان علاقوں کا گورنر مقرر کیا۔ اگلے ہی برس سلطان نے قنوج پر لشکر کشی کی، جس میں ایبک نے بے مثال وفاداری اور عسکری مہارت کا مظاہرہ کیا۔ سلطان نے اس کی خدمات کے اعتراف میں نہ صرف اُسے فرزند کا خطاب دیا بلکہ ایک سفید ہاتھی بھی عطا کیا، جو اس دور میں شاہی وقار و امتیاز کی علامت تھا۔ مولانا سید سلمان ندوی اپنے تاریخی خطبات میں لکھتے ہیں کہ قطب الدین کی فتوحات محض عسکری نوعیت کی نہ تھیں بلکہ ان کا تعلق سیاسی استحکام، اقتصادی ترقی اور اجتماعی فلاح سے بھی تھا۔

قطب الدین ایبک کی قیادت میں اسلامی افواج نے راجپوتانہ، گجرات، گنگا جمنا کا دوآبہ، بہار اور بنگال تک فتوحات کا سلسلہ دراز کیا۔ ان فتوحات کے ذریعے شمالی ہند میں اسلامی اقتدار کو مستحکم بنیادیں فراہم ہوئیں۔ جب سلطان محمد غوری 15 مارچ 1206ء کو جہلم کے قریب گکھڑوں کے حملے میں قتل ہوا، تو قطب الدین نے جون 1206ء میں لاہور میں خود کو خود مختار حکمران قرار دیا۔ اگرچہ اس نے رسمی طور پر سلطان کا لقب اختیار نہ کیا، مگر اس کے احکامات، فوجی نظم، مالیات اور سفارتی اقدامات سب اس کی بادشاہی حیثیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ضیاء الدین برنی نے اس اعلان کو سیاسی بصیرت قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ غوری سلطنت کے ٹوٹتے ڈھانچے میں قطب الدین کی خودمختاری دراصل ایک فطری اور بروقت اقدام تھا۔

قطب الدین ایبک کا شمار اُن مسلمان حکمرانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف عسکری میدان میں کامیابیاں حاصل کیں بلکہ عدل و انصاف، علم و ادب، صوفیاء کرام سے تعلق اور عوامی فلاح کے کاموں میں بھی نام کمایا۔ عبدالحلیم شرر نے لکھا ہے کہ ایبک اپنے زمانے کے علما، شعرا اور صوفیائے کرام کا قدردان تھا۔ وہ علمی محافل کا انعقاد کرتا، علما کو وظائف عطا کرتا اور شعرا کو جاگیریں دیتا۔ اسی وجہ سے اُسے "لکھ بخش" یعنی بے دریغ عطا کرنے والا کہا جانے لگا۔ اس کی سخاوت اور عوام دوستی اس کے عہد کو دیگر حکمرانوں سے ممتاز کرتی ہے۔

اس کا ایک اور قابل ذکر کارنامہ قطب مینار کی بنیاد رکھنا ہے، جو آج بھی دہلی میں اس کی یاد تازہ کرتا ہے۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے مطابق قطب مینار کی تعمیر کا آغاز قطب الدین ایبک نے کیا، اور اس کے بعد شمس الدین التمش نے اسے مکمل کیا۔ یہ مینار محض ایک یادگار نہیں بلکہ اُس دور میں اسلامی فنِ تعمیر اور سیاسی عظمت کی نمائندگی کرتا ہے۔ ایبک کے دور کی تعمیرات اور نظم و نسق نے دہلی کو سیاسی، مذہبی اور علمی مرکز بنا دیا، جس نے بعد کے مسلمان سلاطین کو ایک مستحکم بنیاد فراہم کی۔

بدقسمتی سے قطب الدین ایبک کا انجام ایک حادثے کی صورت میں ہوا۔ مرزا حیدر دوغلات نے تاریخ رشیدی میں لکھا ہے کہ چوگان (پولو) اس زمانے کا ایک شاہی کھیل تھا جس میں حکمران اور امرا حصہ لیتے تھے۔ نومبر 1210ء میں لاہور میں اسی کھیل کے دوران ایبک گھوڑے سے گر کر شدید زخمی ہوا اور دسمبر میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔ اُس کی تدفین لاہور کے علاقے انارکلی کے ایک کوچے میں ہوئی، جو بعد میں ایبک روڈ کہلایا۔

اس مقبرے کی حالت بعد ازاں بگڑتی چلی گئی۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں یہ ایک سکھ خاندان کی ملکیت میں چلا گیا اور انگریز دور میں مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔ تاہم قیام پاکستان کے بعد محترم حفیظ جالندھری نے صدر ایوب خان سے اس تاریخی ورثے کی مرمت کی درخواست کی۔ حفیظ جالندھری کے مطابق صدر نے ان کی گزارش کو شرفِ قبولیت بخشا، اور یوں مجاہدِ اسلام کا مقبرہ دوبارہ تعمیر ہوا۔ آج یہ مقبرہ لاہور کے وسط میں کھڑا ہے، اور ایک غلام سے بادشاہ بننے والے عظیم فاتح کی یاد کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔

 

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home