بانی پاکستان آزاد متحدہ بنگال، خود مختار پنجاب اور قلات چاہتے تھے
قیامِ پاکستان کے موقع پر قائداعظم محمد علی جناح کی
سیاسی حکمت عملی صرف ایک مسلم ریاست کے قیام پر منتج نہ تھی بلکہ انہوں نے برصغیر
کی پیچیدہ نسلی، مذہبی، لسانی اور جغرافیائی حقیقتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے مختلف
علاقوں کے لیے متنوع حل تجویز کیے۔ ان میں سب سے زیادہ نمایاں آزاد بنگال، ریاست
قلات اور متحدہ پنجاب کے لیے مخصوص پیشکشیں تھیں۔ ان تجاویز کا مقصد فقط سیاسی
مفادات کا حصول نہ تھا بلکہ خونریزی سے بچاؤ، اخلاقی قیادت کا مظاہرہ اور برطانوی استعمار
کے بعد ایک پُرامن سیاسی نقشہ بنانا بھی مقصود تھا۔ مگر ان میں سے اکثر کوششیں
کامیاب نہ ہو سکیں، جس کی وجوہات داخلی، خارجی، نظریاتی اور تاریخی تھیں۔
آزاد بنگال کی تجویز
قائداعظم کی ایک نہایت اہم حکمت عملی تھی۔ جسونت سنگھ اپنی کتاب Jinnah:
India, Partition, Independence کے صفحہ 216 پر
لکھتے ہیں کہ جناح نے آزاد بنگال کو عملی اور اخلاقی دونوں لحاظ سے قابل قبول تصور
کیا۔ ان کے مطابق، اگر بنگال متحد رہے تو وہ چاہے ہندوستان میں شامل ہو یا پاکستان
میں یا بالکل آزاد ہو، جناح کو اعتراض نہ تھا۔ سہروردی اور سبھاش چندر بوس کے
بھائی سرت چندر بوس نے بھی اس تجویز کی حمایت کی۔ لیونارڈ موزلے نے The Last
Days of the British Raj میں لکھا ہے کہ
قائداعظم نے یہ تسلیم کر لیا تھا کہ متحدہ بنگال اگر خودمختار ریاست بننا چاہے تو
وہ اس میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔
آزاد بنگال کی تجویز کی پشت پر ایک مکمل سیاسی فلسفہ
کارفرما تھا جسے تاریخ دان مارک ٹُلی India:
The Road Ahead میں بین الاقوامی سفارت کی روشنی میں
دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق، جناح چاہتے تھے کہ بنگال کو ایک ایسا ماڈل بنایا جائے جو
فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی عملی تصویر ہو۔ تاہم یہ تجویز نہرو اور کانگریس کے لیے
ناقابل قبول تھی کیونکہ وہ ایک مسلم اکثریتی آزاد ریاست کو پاکستان کا بالواسطہ
حلیف تصور کرتے تھے۔ مزید برآں ہندو اکثریتی علاقے اور سکھ قیادت بھی بنگال کو
مسلمانوں کے تسلط میں دینے کے مخالف تھے۔
اس کی ناکامی کے پسِ منظر میں انگریز راج کا بھی کردار
تھا۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اسے ناقابل عمل قرار دیا کیونکہ اس سے برطانوی انخلا کی
رفتار متاثر ہوتی۔ ڈاکٹر تنوی مدن Fateful Triangle: How China Shaped
US-India Relations میں لکھتی ہیں کہ برطانوی قیادت نے اس وقت
صرف جلدی انخلا پر زور دیا اور پیچیدہ وفاقی تجربات کو مسترد کر دیا۔ اس سے اندازہ
ہوتا ہے کہ جناح کی اصولی لچک بھی مخالفین کی سخت گیر سیاسی حکمت عملی کے آگے بے
بس ہو گئی۔
اسی طرح ریاست
قلات کے معاملے میں بھی قائداعظم نے غیر معمولی تدبر کا مظاہرہ
کیا۔ مارٹن ایکزمین Back to the Future: Kalat and Baloch Nationalism میں
لکھتے ہیں کہ 4 اگست 1947 کو قلات اور پاکستان کے درمیان Standstill Agreement ہوا۔ یہ معاہدہ دراصل ایک عارضی
خودمختاری کی ضمانت تھا جس کے ذریعے قلات کو بطور مساوی ریاست تسلیم کیا گیا۔ آیئن
ٹالبٹ Pakistan:
A Modern History میں اس معاہدے کو جناح کی سیاسی حکمت عملی
قرار دیتے ہیں تاکہ بلوچ قیادت کو اعتماد دیا جا سکے۔
مگر یہ پیشکش جلد ہی ناکامی سے دوچار ہوئی۔ وجہ یہ تھی
کہ ریاست قلات کے سردار، خاص طور پر خان قلات، اپنے اقتدار میں مداخلت کو پسند نہ
کرتے تھے جبکہ پاکستان دفاع، خارجہ اور مواصلات جیسے اہم شعبے اپنے کنٹرول میں
رکھنا چاہتا تھا۔ بھارت کی تیز رفتار ریاستی انضمام کی مہم نے پاکستان کو بھی جلد بازی پر مجبور کیا۔
ڈاکٹر انوار ساجد اپنی کتاب بلوچستان
کا قضیہ میں لکھتے ہیں کہ 1948 میں پاکستان کو قلات کے اندر جاری خانہ
جنگی اور قبائلی تنازعات نے الحاق کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہ دیا۔ 27 مارچ 1948
کو قلات کا الحاق ہوا مگر بلوچ قوم پرست آج تک اسے ایک جبری الحاق سمجھتے ہیں۔
قائداعظم کی سب سے زیادہ اخلاقی جرأت پر مبنی پیشکش سکھ
قیادت کو کی گئی۔ ڈاکٹر عائشہ جلال The Sole Spokesman میں
لکھتی ہیں کہ جناح نے گیانی کرتار سنگھ اور بلدیو سنگھ جیسے رہنماؤں سے ملاقات کی
اور یقین دہانی کرائی کہ اگر وہ پاکستان میں شامل ہونے پر آمادہ ہوں تو انہیں
مذہبی، تعلیمی، ثقافتی اور سیاسی تحفظ دیا جائے گا حتیٰ کہ ایک نیم خودمختار ریاست
کا درجہ بھی ممکن تھا۔ گپال سنگھ A History of the Sikhs میں
لکھتے ہیں کہ جناح نے سکھوں کو
“nation within a nation” کا تصور پیش کیا۔
معروف بھارتی محقق کلدیپ نائر اپنی خودنوشت Beyond
the Lines
میں
لکھتے ہیں کہ جناح نے “سکھوں کے ساتھ وہ وعدے کیے جو کانگریس کبھی سوچ بھی نہ سکتی
تھی مگر وقت ان وعدوں کے حق میں نہ تھا۔” سکھ قیادت کانگریس کے ساتھ پرانی سیاسی
وابستگی رکھتی تھی اور مسلمانوں کی اکثریت والے پاکستان میں اپنے تحفظ سے خائف
تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ کانگریس نے مشرقی پنجاب میں سکھوں کو سیاسی اثرورسوخ دینے کا
وعدہ کیا جس نے سکھوں کی ہمدردی کا رخ کانگریس کی طرف موڑ دیا۔ قیامِ پاکستان کے
وقت کے خونریز فسادات نے سکھوں اور مسلمانوں کے درمیان اعتماد کا رشتہ مکمل طور پر
توڑ دیا۔
قائداعظم کی
ان تمام تجاویز کے پیچھے ایک ہی اصول کارفرما تھا — خونریزی کی روک تھام اور پرامن
سیاسی حل کی جستجو۔ وی پی مینن The Story of the
Integration of the Indian States میں لکھتے ہیں کہ جناح کا طرزِ عمل صرف اقتدار کے حصول پر مبنی نہ
تھا بلکہ وہ ایک ایسا حل چاہتے تھے جس میں سب کو عزت، خودمختاری اور تحفظ حاصل ہو۔
برطانوی وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے تقسیم ہند کو جلد از جلد انجام دینے کی
پالیسی اپنائی جس نے قائداعظم کو مجبور کر دیا کہ وہ بھی عملی سیاست کے سخت فیصلے
کریں۔
آخری دنوں میں جناح کے اس نقطہ نظر کو بھی اقلیتوں کے
خدشات اور کانگریس کی اکثریتی سیاست نے کچل دیا۔ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی The
Struggle for Pakistan میں لکھتے ہیں کہ
جناح ایک ایسے سیاسی ماڈل کے حامی تھے جس میں تنوع کے لیے گنجائش ہو، مگر کانگریس
نے اپنے آپ کو صرف ہندو اکثریتی ریاست کی صورت میں ڈھالنا شروع کر دیا تھا۔
آخرکار، قائداعظم کی یہ حکمت عملی مکمل طور پر کامیاب
نہ ہو سکی۔ ان کی بصیرت، اصول پسندی اور اخلاقی قیادت ناقابلِ تردید تھی مگر ان کے
سامنے ایک ایسا سامراجی اور قومی سیاسی ماحول تھا جس میں لچکدار حل کی کوئی جگہ نہ
تھی۔ نہرو، پٹیل اور ماؤنٹ بیٹن کی مثلث نے ایسی تیزی سے فیصلے کیے جن میں جناح کی
اخلاقی دعوتوں کی گنجائش ختم ہو گئی۔ آزاد بنگال، قلات کی خودمختاری اور سکھوں کی
خود ارادیت جیسے منصوبے صرف کتابوں میں محفوظ رہ گئے۔
یہی وہ تاریخی لمحے تھے جن سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ
سیاست میں نیت اور بصیرت کافی نہیں ہوتیں بلکہ حالات، وقت اور مخالف قوتوں کی
چالاکی کو سمجھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ جناح نے تاریخ کے اس موڑ پر جو موقف اپنایا
وہ صرف ایک ریاست کے بانی کا نہیں بلکہ ایک انسان دوست مدبر کا موقف تھا — اور یہی
ان کی تاریخ میں انفرادیت کی ضمانت ہے۔





0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home