Tuesday, 15 July 2025

مذہبی رواداری : ایک نیا سوشل کانٹریکٹ، کیا سمجھوتہ ممکن ہے؟

یہ تحریر پہلی بار 12 مارچ 2017 کو فیس بک کے پیج کے لیے لکھ گئی تھی یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر کی جا رہی ہے۔

سندھ میں پیپلز پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقعہ پر ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں سند ھ کی ہندو برادری نے بھی شرکت کی۔ پیپلز پارٹی کے منتظمین نے انتہائی دانشمندانہ سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ضیافت کے اہتمام میں مذہبی رواداری کے طور پہ کوئی گوشت کی ڈش شامل نہیں کی۔یہ ایک ایسا عمل تھا جسے بہت زیادہ سراہے جانے کی ضرورت تھی مگر ہمارے میڈیاکو اقدار کی نمائش میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔دو روز قبل بھارت میں ایک اور مسلمان کو گائے کے ذبحہ کرنے کے جرم میں مار دیا گیا اور یہ بات ہندو انتہا پسندانہ جنون کے مظہر کے طور پہ پیش کی گئی۔ کیا ہم کبھی سجھوتہ کرنے کی سوچ کو پروان چڑھتا دیکھ سکیں گے؟

عمل اور ردعمل مقدار میں برابر اور سمت میں مخالف ہوتے ہیں یہ بات شاید کسی غیر مسلم سائنسدان نے بیان کی تھی اس لیے اس پہ کبھی ہم نے غور و فکر کر کے اپنے مسائل کا حل نہیں ڈھونڈا۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں مذہبی رواداری کی حد بیان کرتے ہوئے اسلام کے پیرو کاروں کو ارشاد فرماتا ہے کہ" تم جھوٹے خداووں کو بھی گالی مت دو " وجہ بھی اس کی خود ہی بیان فرما دی کہ " کہیں اس کے جواب میں وہ تمہارے سچے رب کو گالی نہ دے دیں " یعنی کسی کے خدا کا جھوٹا ہونا بھی اس کی تحقیر کا باعث نہیں بن سکتا۔
نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا "کم بخت ہے وہ شخص جو اپنے ماں باپ کو گالی دیتا ہے" صحابہ اکرام نے عرض کی یا رسول اللہ ایسا کون ہو سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا؛ جو دوسرے کے ماں باپ کو گالی دے اور بدلے میں اپنے ماں باپ کو گالی کا باعث بنے"قرآن مجید کی مندرجہ بالا آیت اور نبی مکرم ﷺ کے اس فرمان کو اگر مذہبی رواداری کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہم ایک انتہا پسند انہ رویے کو صدیوں سے پروان چڑھاتے نظر آئیں گے۔
توہین رسالت ﷺ ، توہین مذہب ، یا توہین اشعار مذہب کے ارتقاب پر موت کی سزا ہماری دینی غیرت ہے ۔ تو کیا یہ حق دوسرے مذاہب کو حاصل نہیں ہو سکتا؟ اگر مقدس ہستیوں کی توہین پہ اتنی بڑی سزا دی جا سکتی ہے تو کسی مذہب کے خدا کو ذبحہ کرنے پہ امن کی توقع کرنا کسی طور پہ منصفانہ عمل ہے؟
کیا کسی کے کے مذہبی جذبات کی قدر کیے بغیر اپنے جذبات کی قدر کا مطالبہ کسی طور بھی قابل فہم ہے؟
برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کا مشہور مقدمہ علم الدین شہید بھی اسی طرز کے سوچ سے جنم لیا کیونکہ وہ کتاب جس میں نبی کریم ﷺ کی زندگی پہ کیچڑ اچھالنے کی مذموم کوشش کی گئی تھی جس کے بدلے میں اس کتاب کا پبلشر راجپال قتل ہوا تھا علم الدین شہید سے قبل عبدالعزیز اور خدا بخش نامی دو مسلمانوں نے بھی اسے قتل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ بچ گیا تھا عبدالرحمان نامی ایک شخص نے غلط شناخت ہونے پر کسی اور شخص کو قتل کر دیا تھا پہلے دونوں مسلمانوں کو سات سات سال جبکہ بعد والے کو چوداں سال قید کی سزا سنائی گئی۔ یہ سب واقعات ایمان کی روح کو تازہ کرنے کے لیے سنائے جاتے ہیں لیکن کبھی کسی محفل کی زینت یہ گفتگو نہیں بنی کی اس کتاب کے چھاپنے کا محرک کیا تھا؟ وہ کتاب بھی قرآن پاک کے اسی اصول سے انحراف کرنے کی صورت میں دیکھنے کو ملی کیونکہ وہ کتاب ایک ردعمل تھا ۔ کسی مسلمان نے ہندووں کے خدا رام کی بیوی سیتا کو بازاری اور بدکار عورت ثابت کرنے کے لیے ایک کتابچہ لکھا جس کا نام تھا ”سیتا کا چینالا“ ۔ اس وقت کے علما نے اسے معمولی بات سمجھ کر نطر انداز کردی اور بعض نے اسے منہ کا چسکا سمجھا۔ لیکن یہ بھول گئے کہ ردعمل کس ہستی پہ آئے گا اور کتنے دل ٹوٹیں گے۔

کچھ بر س قبل ایک امریکی عیسائی پادری ٹیری جونز نے ایک بند کمرے میں قرآن مجید کو جلا دیا۔ اس نے قرآن جلاتے ہوئے ویڈیو بھی ریکارڈ کی اور اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پہ وائرل کر دیا۔ وہ ویڈیو آج بھی یو ٹیوب پہ موجود ہے۔ اس نے اپنے اس عمل کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ مسلم ممالک میں مظاہروں کے دوران امریکی پرچم کو نظر آتش کیا جاتا ہے جو کہ ایک غیور قوم کی عظمت کی علامت ہے اس کے ردعمل کے طور پہ میں ان کی مقدس کتاب جلا رہا ہے ہوں ۔ قرآن جلانے کے اس عمل پر امت مسلمہ میں غم و غصے کی ایک لہر دوڑ گئی اور کئی ممالک میں یو ٹیوب پہ پابندی تک لگا دی گئی اور امریکہ مخالف مظاہروں میں مذید شدت آ گئی۔ لیکن کسی نے ایک لمحے کے لیے بھی نہ سوچا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فرمان کے مطابق کہیں نہ کہیں ہم بھی اس قرآن جلانے کے واقعہ کے ذمہ دار ہیں ۔ پاکستان کی تمام مذہبی جماعتیں اپنی ملی ذمہ داری سمجھتے ہوئے امریکی پرچم نظر آتش کرنا فرض عین سمجھتی ہیں ۔تو کیا ان میں سے کوئی قرآن جلانے کے واقعے کے عمل کو اپنے عمل کا رد عمل ماننے کو تیارہے؟

دنیا میں مسلمانوں کی آبادی کے تقریباََ برابر آبادی ہندوں کی بھی ہے۔ ہندو مذہب میں گائے کو خدا کا درجہ حاصل ہے ۔ ہم صدیوں ساتھ رہے اس مسئلے پر کوئی باہمی اتفاق رائے پیدا نہ کر سکے اس کی ایک وجہ شاید یہ تھی کہ مسلمان اقلیت میں ہونے کے باوجود حکمران تھے تو انہیں سرکاری سرپرستی میں کچھ بھی کرنے کا پرمنٹ حاصل ہوتا تھا۔ لیکن پھر وقت نے کروٹ لی اور مسلمان اپنی عیاشی کی بدولت محکوم ہوئے مگر اطوار بدستور حکمرانہ رکھے۔اللہ پاک نے جس مذہبی رواداری کا درس دیا کیا اس پہ عمل درامد کا سوچنا بھی آج کے معاشرے میں ممکن ہے؟ کیا یہ انتہا پسندی نہیں ؟

صرف گائے ہی کی قربانی کا حکم تو کسی طور ہمارے مذہب نے نہیں دیا۔ کئی حلا ل جانور ایسے ہیں جنہیں ذبحہ کر کے گوشت کی ضرورت کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم اجتماعی طور پہ کم و بیش 80کروڑ کے لگ بھگ ہندووں کے مذہبی جذبات کی قدر کرتے ہوئے گائے کی قربانی نہ کرنے کا اعلان کر دیں ۔ ؟ ایسا کرنے سے مسلمانوں کے مثبت امیج کو ابھرنے میں مدد ملے گی ۔ امام خانہ کعبہ کو جرات کو ثبوت دیتے ہوئے خطبہ حج میں اسے بین الاقوامی مذہبی رواداری کے تناظر میں گائے کی قربانی سے منع کر دیں ۔
اگر گائے کی کی ذبحہ پہ کسی ہندو کے ہاتھوں کوئی ہندوستانی مسلمان مارا جائے تو یہ عمل جنو نی انتہا پسندانہ ہو گا۔ اسی وقت کسی مسلمان کا کسی توہین کر دینے والے کو قتل کر دینا کیسے احسن ہو سکتا ہے؟کیوں کہ مذہب چاہے کسی کا بھی ہو وہ ایک جیسی ہی کمٹمنٹ مانگتا ہے۔اپنی اپنی جگہ دونوں عمل ہی درست ہوں گے۔ایک نئے سوشل کنٹریکٹ کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے جس میں رواداری کی بنیاد پہ معاشرے کو از سرے نو تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ مذہب کوئی بھی انتہا پسندی کا درس نہیں دیتا مگر اس کی تشریح جو کہ خالصتاََ انسانی عقل کا شاہکار ہوتی وہ اس عنصر سے خالی نہیں ہو سکتی۔ اس لیے محض عقلی تشریح کی بنیاد پر معاشرے کو مذہب کا غلام بنا دینا معاشرتی موت سے ہرگز کم نہیں ہے۔اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے زیادہ مذہب کی جانچ کسی کو نہیں ہے اگر اللہ اور اس کے رسول ﷺمذاہب کے مابین تصادم کی بجائے لکم دین والیدین کہہ کر مذہب ہر ایک کا نجی معاملہ قرار دیں تو ہمیں بھی اسی اسوہ حسنہ پہ چلتے ہوئے مذہبی رواداری کو اپنا شعار بنائیں اور ایک دوسرے سے سمجھوتا کرنا سیکھ جائیں.

 

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home