مسلمان معاشرے جدت پسندی کیوں نہیں اپناتے؟
یہ تحریر پہلی بار 17
جولائی 2023کو فیس بک پیج کے لیے لکھی گئی تھی جو یہاں نشر مکرر کے طور پہ شئیر کی
جا رہی ہے۔
مسلمانوں کی زندگی بہت
ہی مشکل ہے۔ سال کا کچھ حصہ میلاد النبی ﷺ کے منانے کے جواز یا عدم جواز کی بحثوں
میں گزر جاتا ہے۔ وہی پرانے دلائل، وہی کتابیں، وہی فتاویٰ—نہ کوئی نئی روشنی، نہ
کوئی نئے زاویے۔ تھوڑا سا سکون ملے بھی تو معراج النبی ﷺ کی روحانیت یا جسمانیت پر
بحث شروع ہو جاتی ہے جیسے دین کی بقاء اسی ایک نکتے پر موقوف ہو۔
اگر صرف اتنا ہی ہوتا
تو شاید غنیمت تھالیکن سال کا ایک لمبا، اعصاب شکن سیشن اہل بیت سے محبت کا
"سرٹیفکیٹ" جاری کرنے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دفاع کے لیے وقف
کر دیا جاتا ہے۔ وہ بھی سوشل میڈیا کے قاضی القضاۃ حضرات کے روبرو، جہاں ہر شخص یا
تو منکر حسین ہوتا ہے یا دشمن صحابہ۔ اعتدال؟ وہ تو بیچ میں رُل گیا۔
پھر جیسے ہی تھوڑا بہت
ذہنی سکون میسر آتا ہے، کوئی فرانسیسی گستاخانہ خاکہ، کوئی ڈینش کتاب، یا امریکی
فلم نمودار ہو جاتی ہے۔ اور بیچارے مسلمان جنہیں اسکول، اسپتال، معیشت، ٹیکنالوجی،
ماحولیات، تعلیم، انسانی حقوق یا عالمی پالیسی جیسے معاملات میں حصہ ڈالنا چاہیے
تھاوہ سفارتخانوں کے سامنے مظاہروں، جھنڈوں کے جلاؤ، اور فیس بک پر
"Unfriend if you hate Islam" جیسے سلوگنوں تک محدود ہو جاتے ہیں۔
اور اگر رمضان آ جائے
تو روزے رکھ کرآرام کرنے سے جو تھوڑا بہت
وقت بچتا ہے وہ اکثر سحر و افطار کے اشتہارات، کون سا قاری زیادہ "رقت
آمیز" تلاوت کرتا ہے، یا کس مسجد میں کتنی دیر کا قیام ہوا—ان مباحث میں کھپ
جاتا ہے۔
تعلیمی اداروں میں جدید
علوم کے مقابلے میں "فقہی اختلافات کا تحقیقی جائزہ" جیسے موضوعات تحقیق
کا محور بن جاتے ہیں گویا پوری دنیا بس اس بات کی منتظر ہے کہ ہم طلاق ثلاثہ پر
امام مالکؒ کا موقف کس انداز سے پیش کرتے ہیں۔
ایسے میں جب دنیا بایئو
انجینیئرنگ، اسپیس ٹیکنالوجی، اور گرین انرجی پر سیمینار کر رہی ہوتی ہے، ہمارے
علما اس بات پر مجلس منعقد کر رہے ہوتے ہیں کہ اذان میں "الصلاة خیر من
النوم" کس وقت کہنا بہتر ہے۔
جب دنیا گلوبل وارمنگ
پر پالیسی بنا رہی ہوتی ہے، ہم ایئرکنڈیشنڈ ہالز میں بیٹھ کر گرمیوں میں موزے
پہننے کے فقہی مسائل کا حل تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔
یہ قوم جو قرآن میں
"خیر امت" کہلائی جو دنیا کی رہبری کے لیے چنی گئی وہ اب گروہی فتووں،
سوشل میڈیا مباحث، اور یوٹیوب کے وائرل کلپس کی اسیر ہو چکی ہے۔
اور نتیجہ؟ ہماری
نوجوان نسل دو انتہاؤں میں بٹ گئی ہے: ایک طرف شدت پسند جذباتیت اور دوسری طرف
مکمل بیگانگی۔ وہ نوجوان جو کسی زمانے میں عباسی و عثمانی علوم کا وارث ہوتا تھا،
اب یا تو مولویوں کے فتووں کا اسیر ہے یا مغرب کے نقالوں کا۔
ایسے میں سوال یہ پیدا
ہوتا ہے کہ یہ بیچاری امت کیسے دنیا کے جدید چیلنجز--- خلائی دوڑ، ماحولیاتی
تباہی، ڈیجیٹل غلامی، یا عالمی معیشت—کے حل میں کردار ادا کرے گی؟
جب کہ اس کے اپنے
"رولے" ہی ختم نہیں ہوتے۔
یہ سچ ہے کہ محبت اہل
بیت اور دفاع صحابہ ایمان کا جزو ہیں، لیکن جب یہی ایمان صرف بحث و مباحثہ،
مناظرے، اور فتووں میں گم ہو جائے اور کردار، علم، ترقی، عدل، خدمت خلق، اور
اجتماعی شعور سے خالی ہو جائے تو وہ امت بس ماضی کی عظمتوں کی تصاویر سجائے بیٹھ
جاتی ہے۔


0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home