"مولوی تمیز الدین کا مقدمہ: بیوروکریسی بمقابلہ پارلیمنٹ— کیا پاکستان کی عدلیہ نے پہلی فوجی بغاوت کا راستہ خود ہموار کیا؟"
جب اکتوبر 1954ء میں گورنر جنرل ملک غلام محمد نے پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کو غیر آئینی طور پر تحلیل کیا تو یہ صرف ایک سیاسی بحران کا آغاز نہیں تھا بلکہ یہ ایک نوزائیدہ جمہوریہ میں پارلیمانی بالادستی اور بیوروکریٹک آمریت کے درمیان ہونے والی پہلی فیصلہ کن آئینی جنگ تھی۔ اس جنگ کا مرکز تھا مولوی تمیز الدین کیس، جس کے فیصلے نے آئینی حکمرانی کے لیے ایک تباہ کن نظیر قائم کیا اور آئندہ فوجی مداخلتوں کے لیے 'نظریہ ضرورت' کا ہتھیار فراہم کر کے جنوبی ایشیا کی تاریخ میں مسلم ملک میں جمہوریت کے سب سے بڑے تجربے کو پامال کر دیا۔
ملک غلام محمد کی پس پردہ قیادت دراصل
ایک ایسا 'بیوروکریٹک
انقلاب' تھا جس کا مقصد مغربی طرز کی
پارلیمانی جمہوریت کو ختم کرنا تھا۔ سابق وزیر خزانہ کے طور پر غلام محمد ایک پیشہ
ور بیوروکریٹ تھے جو نو آزاد ملک کی سست رفتار اور پیچیدہ جمہوری سیاست سے بیزار
تھے۔ 1953ء میں وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو برطرف کرنے کا ان کا متنازعہ اقدام
جنہیں پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل تھی پہلا
بڑا قانون شکنی کا جھٹکا تھا۔
ایما ڈو رابرٹسن اپنی شاہکار تصنیف 'پاکستان: ایک نئی تاریخ' میں واضح کرتی ہیں کہ غلام محمد کی اس جارحیت نے سویلین
حکمرانی کو کمزور کیا اور اس تاثر کو تقویت دی کہ عوامی مینڈیٹ کے بجائے طاقتور
اشرافیہ (بیوروکریسی اور فوج)ہی ملک کے اصل مقتدر ہیں۔ اس پس منظر میں، جب
دستور ساز اسمبلی اپنے آخری مراحل میں تھی اور اس نے گورنر جنرل کے صوابدیدی
اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش کی تو غلام محمد نے اسے اپنی اتھارٹی کے خلاف حتمی
سازش سمجھا۔ انہوں نے 24 اکتوبر 1954ء کو اسمبلی کو "عوام کی نمائندگی
میں ناکامی" کا الزام لگا کر تحلیل کر دیا اور ایک نئی 'کابینہ آف ٹیلنٹس' (Cabinet of Talents)تشکیل
دی، جس میں بیوروکریٹ اسکندر مرزا اور کمانڈر ان چیف جنرل ایوب خان
کو شامل کیا گیا۔ یہ اقدام، جیسا کہ ڈاکٹر حسن عسکری رضوی 'دی سولجر اینڈ دی سٹیٹ' میں تجزیہ کرتے ہیں، بیوروکریٹک-فوجی اتحاد کا باقاعدہ
نقطہ آغاز تھا جس نے ملک کی سیاست کو ہائی جیک کر لیا۔
دستور ساز اسمبلی کے اسپیکر مولوی
تمیز الدین خان نے ملک کی جمہوری روح کو بچانے کے لیے اکیلے ہی اس طغیانی کے
خلاف کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے سندھ چیف کورٹ (سندھ ہائی کورٹ) میں گورنر
جنرل کے غیر آئینی حکم کے خلاف رٹ دائر کی۔سب سے پہلے انہیں ریاستی قوت سے عدالت
جانے سے روکنے کی بھرپور کوشش کی۔ انہیں برقعہ پہن کر اپنی شناخت کو چھپا کر سندھ
ہائی کورٹ جانا پڑا۔ یہ عمل نہ صرف سیاسی
عزم کی نشانی تھی بلکہ ایک ایسے آئینی اصول پر پختہ یقین کی عکاسی بھی تھی جسے
دنیا کی ہر جدید جمہوری ریاست میں تسلیم کیا جاتا ہے یعنی پارلیمنٹ کی
خودمختاری۔
یہ جنگ دو بنیادی اصولوں کے گرد لڑی
جا رہی تھی پہلا تھا اختیارات
کی تقسیم۔ یعنی کیا گورنر
جنرل، جو برطانوی بادشاہ کا ایک رسمی آئینی جانشین تھا منتخب اسمبلی کے اختیارات
کو منسوخ کر سکتا تھا؟ اور دوسرا منظوری (Assent) کا مسئلہ یعنی مولوی تمیز الدین کے وکلاء نے دلیل دی
کہ انڈین انڈیپینڈنس ایکٹ 1947ء کے تحت، آئین ساز اسمبلی ایک خودمختار
ادارہ تھی اور اس کے آئینی قوانین کو گورنر جنرل کی رسمی منظوری (Assent) کی ضرورت نہیں تھی۔ اس کے برعکس، فیڈریشن نے دلیل دی کہ تمام
قوانین، بشمول آئینی قوانین، گورنر جنرل کی منظوری کے بغیر قانون نہیں بن سکتے
تھے۔ برطانوی آئینی ماہر ڈی این پرٹ نے مولوی تمیز الدین کے مقدمے کی
بلامعاوضہ معاونت کی ۔ کیوں کہ مولوی تمیز الدین کے پاس اچھے وکیل کو فیس دینے کے
وسائل نہ تھے۔
سندھ چیف کورٹ کے مولوی تمیز الدین کے
حق میں فیصلے کے بعد گورنر جنرل نے اس کے خلاف اس وقت کی ملک کی اعلیٰ ترین عدالت فیڈرل
کورٹ (سپریم کورٹ) میں اپیل دائر کر دی۔ چیف جسٹس محمد منیر کی سربراہی
میں اس کیس کی سماعت ہوئی۔ مار چ 1955ء میں فیڈرل کورٹ نے 4-1 کی اکثریت سے گورنر جنرل کی اپیل منظور کر لی۔یعنی سندھ چیف
کورٹ کے فیصلے کو رد کر دیا۔
اکثریتی رائے کا فیصلہ چیف جسٹس
محمد منیر نے لکھا جس میں انہوں نے "نظریہ ضرورت"
(Doctrine of Necessity)
کو متعارف کرایا۔ یہ وہ قانونی اصول
تھا جس نے آئینی جمہوریت کو پہلی کاری ضرب لگائی۔جسٹس منیر کا استدلال تھا کہ گو
اسمبلی کو توڑنے کا عمل آئینی طور پر متنازعہ ہو سکتا ہے، لیکن "ضرورت ایک ایسا قانون بناتی ہے جو
بصورت دیگر قانون نہیں ہوتا"۔ یہ فیصلہ
دراصل A.G. vs. Altmark کیس اور رومن قانون کے اصولوں کی غلط تشریح پر مبنی
تھا۔
عالمی سطح پر قانون دانوں نے اس اصول کو انتہائی تنقید کا
نشانہ بنایا۔ آئینی قانون کے ماہرین نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ
ایک جمہوری ریاست کی اعلیٰ ترین عدالت نے 'استحکام' کو 'آئینی اصول' پر ترجیح دی
ہے۔مشہور پاکستانی قانون دان اے کے بروہی نے اس فیصلے کو "آئینی بدعت" قرار دیا، جس نے ملکی قوانین کو کمزور کیا اور غیر آئینی
اقدامات کے لیے عدالتی دروازہ کھولا۔فیصلے سے اختلاف کرنے والے واحد جج جسٹس
ایلون رابرٹ کارنیلیس (A.R. Cornelius) نے اپنے اختلافی نوٹ میں آئینی اصولوں کا بھرپور دفاع کیا جو
بعد میں پاکستانی عدلیہ میں اصول پسندی کی علامت بن گیا۔
جسٹس کارنیلیس نے واضح کیا کہ گورنر
جنرل کا کردار ایک آئینی بادشاہ
(Constitutional Monarch)
کا ہے نہ کہ ایک مطلق العنان حکمران
کا۔ انہوں نے کہا:"میں
تسلیم نہیں کر سکتا کہ آئینی حکومت کے اصولوں کو 'ضرورت' کی دلیل پر پامال کیا
جائے۔ یہ فیصلہ جمہوریت کے تابوت میں پہلی کیل ہے۔" انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عدلیہ
کا کام آئینی اصولوں کی حفاظت کرنا ہے نہ کہ سیاسی خلاء یا ہنگامی صورتحال کے نام
پر حکومت کی غیر قانونی خواہشات کو پورا کرنا۔
مولوی تمیز الدین کے وکیل، برطانوی
ماہر قانون ڈی این پرٹ (D.N Pritt) نے، اس
فیصلے کے بعد شدید رنج و غم کا اظہار کیا۔"یہ فیصلہ پاکستان میں قانون کے اصولوں
کی روح پر براہ راست حملہ ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ طاقت اور ڈکٹیٹرشپ، قانون اور
انصاف پر فوقیت لے گئی۔"انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان نے اپنی
آزادی کے ابتدائی برسوں میں ہی برطانوی مشترکہ قانون کے بنیادی جمہوری اصولوں کو
رد کر دیا۔
مولوی تمیز الدین کیس کے فیصلے نے
پاکستان کی آئینی تاریخ پر تباہ کن اور مستقل نقوش چھوڑے۔ یہ فیصلہ
ایک ایسا آئینی لائسنس بن گیا جس نے ہر غیر جمہوری حکمران کو طاقت کے بل
بوتے پر آئین توڑنے کی ترغیب دی۔ ڈاکٹر عائشہ جلال اپنی تحقیقی کتابوں میں
ثابت کرتی ہیں کہ جنرل ایوب خان کا 1958ء کا مارشل لاء براہ راست اس فیصلے
کا مرہون منت تھا۔ اس فیصلے نے عدلیہ کا یہ مزاج بنا دیا کہ ہر بڑے سیاسی بحران
میں وہ ملک کو 'بچانے' کے نام پر غیر منتخب حکمرانوں کے ساتھ کھڑی ہو جائے۔
اس نظریہ کی بدولت، ملک میں آئینی
حکومت کی بجائے اقتدار میں موجود شخص یا ادارے کی مرضی کو فوقیت مل گئی۔ یہ
فیصلہ پاکستان میں " Rule of Law" کے تصور کو گہرا زخم دے گیا۔مولوی تمیز الدین کیس دراصل وہ نقطہ
آغاز تھا جہاں سے پاکستان نے جمہوری راستے سے انحراف کیا۔ گورنر جنرل غلام
محمد کے غیر آئینی اقدام اور پھر چیف جسٹس منیر کے نظریہ ضرورت کے نفاذ نے
ملک کو مستقل طور پر غیر منتخب حکمرانوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ معروف آئینی
مورخین کے مطابق، یہ فیصلہ ایک نوزائیدہ جمہوریہ کو بیوروکریٹک-فوجی گٹھ جوڑ
کی طرف دھکیلنے کا ایک حتمی عدالتی اعتراف تھا۔
آج بھی جب پاکستان یا دنیا کے کسی بھی
حصے میں کوئی عدلیہ سیاسی مصلحت پسندی یا عارضی استحکام کی دلیل کو آئینی اصولوں
پر فوقیت دیتی ہے تو مولوی تمیز الدین کیس اور اس کے نظریہ ضرورت کو ایک ابتدائی
انحرافی داستان کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ یہ مقدمہ
آج بھی دنیا بھر کی جمہوری تحریکوں کے لیے ایک تلخ مگر ضروری یاد دہانی ہے
کہ بیوروکریسی کی سیاسی مداخلت اور عدالتی مصلحت پسندی اور جمہوری اداروں کی صحت کے لیے کتنی مہلک ثابت ہو
سکتی ہے۔



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home