کیا اعزاز انسان کو عظیم بناتا ہے؟
کیا اعزاز انسان کو عظیم بناتا ہے؟
عمومی طور پہ اعزاز کسی بھی شخص کی عظمت کا اعتراف ہوتا ہے۔ لیکن اصل عظمت یہ ہے کہ انسان کو خود اپنے کارنامے کا ادراک ہو۔ تاریخ میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جب کسی ادیب، سماجی کارکن، سیاسی رہنما یا عسکری شخصیت کو کوئی ایوارڈ دیا گیا تو انہوں نے یہ کہہ کر لینے سے انکار کیا کہ وہ اس کے حقدار نہیں ہیں۔ یہ انکار ان کی عظمت کا اصل اعتراف ہوتا ہے۔ یہ انکار کسی بھی ایوارڈ کی چمک کو دھندلا دیتا ہے۔
فرانسیسی فلسفی، ادیب اور سیاسی کارکن ژاں پال سارتر کو 1964 میں ادب کے نوبل انعام کے لیے منتخب کیا گیا۔ تاہم، انہوں نے یہ اعزاز قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کے انکار کی وجوہات بہت گہری اور اصولی نوعیت کی تھیں۔
سارتر کا ماننا تھا کہ ایک ادیب کو ریاست یا اداروں کی طرف سے دیے گئے اعزازات سے دور رہنا چاہیے تاکہ وہ آزاد اور غیر جانبدار رہ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ادب کو کسی مخصوص نظریے یا حکومت سے جوڑنا ادب کی روح کے خلاف ہے۔ اگرچہ ان کا انکار زیادہ تر فلسفیانہ اصولوں پر مبنی تھا، مگر وہ اس بات کے بھی قائل تھے کہ انعامات ان کی اصل جدوجہد کی عکاسی نہیں کرتے۔ یہ انکار نہ صرف دنیا بھر میں زیرِ بحث رہا، بلکہ آج تک ایک نظریاتی مثال کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔
روس کے مشہور ادیب لیو ٹالسٹائی، جن کی تخلیقات "وار اینڈ پیس" اور "آنا کارینینا" کو دنیا کی عظیم ترین ادبیات میں شمار کیا جاتا ہے، نے کبھی بھی نوبل انعام کی خواہش نہیں کی۔ وہ کئی مرتبہ نامزد ہوئے، لیکن خود ہی یہ خواہش ظاہر کی کہ انہیں انعام نہ دیا جائے۔ ٹالسٹائی دولت، شہرت اور انعامات کو سماجی ناہمواری کی علامت سمجھتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ انعامات انسان کو مغرور بنا سکتے ہیں، اور اصل عظمت خلقِ خدا کی خدمت میں ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ٹالسٹائی کے مداحوں اور قارئین نے ان کے اس اقدام کو ان کی عظمت کی سب سے بڑی دلیل قرار دیا۔
ایم ایف حسین، ہندوستان کے عالمی شہرت یافتہ مصور، جنہیں جدید بھارتی مصوری کا بانی بھی کہا جاتا ہے، نے ابتدائی دنوں میں بھارتی حکومت کا ایک بڑا اعزاز "پدم شری" قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ ان سے بہتر اور زیادہ مستحق فنکار موجود ہیں، جنہیں یہ اعزاز دیا جانا چاہیے۔حسین کا ماننا تھا کہ فن کی قدر اس کے اثر سے ہونی چاہیے، نہ کہ سرکاری اعزازات سے۔
سر ایڈورڈ میگس ماناکن پہلی جنگ عظیم میں برطانوی فضائیہ کے اس پائلٹ تھے جنہوں نے 61 دشمن طیارے مار گرائے، جو اس دور میں ایک ناقابلِ یقین کارنامہ تھا۔ انہیں برطانیہ کے سب سے بڑے فوجی اعزاز وِکٹوریا کراس کے لیے نامزد کیا گیا۔
ماناکن ایک نڈر انسان تھے، لیکن ان کا دل حساس تھا۔ انہوں نے بارہا کہا کہ وہ صرف اس صورت میں اعزاز قبول کریں گے جب ان کے تمام ساتھی پائلٹ، خصوصاً وہ جو شہید ہو گئے، کو بھی مساوی عزت دی جائے۔ انہوں نے وصیت کی کہ
"میں اکیلا ہیرو نہیں ہوں۔ اگر میرے دوست جنہوں نے جانیں دے دیں، انہیں کوئی تمغہ نہیں ملا، تو میں بھی اسے پہننے کا حق نہیں رکھتا۔"
ہیروشی کاٹو جاپان کا باوقار نیول سپوت تھا دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی نیوی کا ایک کمانڈر، جس نے کئی خطرناک بحری مشنز کی قیادت کی اور دشمنوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ انہیں آرڈر آف دی رائزنگ سن (Order of the Rising Sun) دیا گیا، جو جاپان کا ایک تاریخی اعزاز ہے۔ جب انہیں یہ تمغہ پیش کیا گیا تو انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا:
"میری وردی پر یہ تمغہ اس وقت تک بوجھ ہے جب تک میرے وہ ساتھی جو سمندر کی گہرائیوں میں دفن ہو گئے، بے تمغہ رہیں۔"
یہ بیان محض ایک جذباتی اظہار نہیں، بلکہ ایک زندہ ضمیر کی گواہی ہے۔ یہ فوجی شعور اور احترامِ شہداء کی ایسی مثال ہے جو نسلوں تک یاد رکھی جائے گی۔
ایسی مثال ہمسائیہ ملک کے کیپٹن گوپی ناتھ نے بھی قائم کی جب کارگل کی جنگ میں انتہائی خطرناک مورچے سنھبالنے اور کامیابی حاصل کرنے پہ بھارت کا اعلی فوجی اعزاز دیاگیا تو انہوں نے یہ کہہ کر اعزاز لینے سے انکار کر دیا کہ
"میری بہادری تو وہ تھی کہ میں زندہ واپس آ گیا، مگر اصل اعزاز تو ان کا ہے جو وطن کی مٹی میں دفن ہو گئے۔"
انہوں نے اعزاز لینے سے انکار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ "جنگ صرف میری نہیں تھی، پوری پلٹن کی تھی۔"
میں ایسی درجنوں مثالیں اور بھی دے سکتا ہوں لیکن بات مختصر رہے اس لیے یہی پہ ختم کرتا ہوں۔ فیلڈ مارشل سے اوپر اگر کوئی درجہ وہ بھی آپ رکھ لیں لیکن اگر آپ اس اعزاز کے حقدار ہیں تو اعزاز کے بغیر بھی تاریخ میں ژندہ رہیں گے۔ جبکہ دوسری صورت میں تاریخ کے قبرستان میں آپ کے کئی پیش رو بے گور و کفن پڑے ہیں اور ہمارے لیے عبرت ہیں۔
(باقی ساری باتیں چھوڑیں آپ فیلڈ مارشل تو کیا مارشل لاء کے بھی حقدار ہیں اوپر درج باتوں پہ کان دھرنے کی ضرورت نہیں)


0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home