Saturday, 30 May 2026

 

۔غزہ کے مظلوموں کی امداد: فقہ الاولویات اور مقاصد شریعہ کی روشنی میں ترجیح

غزہ کی پٹی میں جاری تنازع نے ایک بے مثال انسانی بحران کو جنم دیا ہے، جہاں لاکھوں افراد خوراک، پانی اور طبی امداد کی شدید قلت کے باعث زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔ یہ ہنگامی صورتحال اسلامی فقہ میں "حفظ نفس" (جان کا تحفظ) کے مقصد کے تحت "ضروریات" (Daruriyyat) کے زمرے میں آتی ہے۔ چونکہ اسلام امت مسلمہ کو ایک جسم کی مانند قرار دیتا ہے جہاں ایک عضو کی تکلیف پورے جسم کو بے چین کر دیتی ہے، اس لیے غزہ کے مظلوموں کی امداد محض نفلی عمل نہیں بلکہ ایک بنیادی اجتماعی فریضہ (فرض کفایہ) بن جاتا ہے۔
اس تحریر کا مقصد فقہ کے دو اہم اصولوں، فقہ الاولویات اور مقاصد شریعہ کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ واضح کرنا ہے کہ غزہ کے مظلوموں کی فوری امداد موجودہ حالات میں حج اور قربانی جیسی عبادات پر کیوں مقدم ہے۔
اسلامی فقہ میں ترجیحات کا اصول: فقہ الاولویات اور مقاصد شریعہ
فقہ الاولویات سے مراد ہر معاملے کو اس کی اصل ترتیب اور اہمیت کے مطابق رکھنا ہے، تاکہ جب دو اہم چیزیں ٹکرائیں تو زیادہ اہم کو ترجیح دی جائے۔ شریعت کے مقاصد کو تین سطحوں میں تقسیم کیا گیا ہے:
ضروریات (Daruriyyat): جن کے بغیر بقا ممکن نہیں (دین، جان، عقل، نسل، مال کا تحفظ)۔
حاجیات (Hajiyyat): جو زندگی میں آسانی پیدا کریں۔
تحسینیات (Tahsiniyyat): جو زندگی کو بہتر اور خوبصورت بنائیں۔
ترجیح کا اصول یہ ہے کہ ضروریات کو حاجیات پر، اور اجتماعی فائدے والے اعمال کو انفرادی اعمال پر ترجیح دی جاتی ہے۔ نیز، فقہی قاعدہ ہے کہ "نقصان کو دور کرنا فائدے کے حصول پر مقدم ہے"۔ چونکہ غزہ میں انسانی زندگی کا تحفظ ایک "ضروریہ" ہے، اس لیے یہ اصول جان بچانے والی امداد کو ان عبادات پر ترجیح دینے کی مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے جو اس کے مقابلے میں کم درجے کی ہوں۔
مقاصد شریعہ کا بنیادی مقصد انسانی فلاح و بہبود (مصلحت) کو یقینی بنانا ہے۔ امام غزالی کے مطابق ان میں "حفظ نفس" (جان کا تحفظ) کو بحرانی حالات میں اولین ترجیح حاصل ہے کیونکہ جان ہی دیگر تمام عبادات کی بنیاد ہے۔ غزہ کے عالم ڈاکٹر سلمان الضحایہ کا فتویٰ کہ "انسانی زندگی اللہ کے نزدیک مکہ سے زیادہ قیمتی ہے"، اسی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ جب لاکھوں جانیں خطرے میں ہوں تو مصلحتِ عامہ (Public Interest) کا تقاضا یہی ہے کہ اجتماعی فلاح کو انفرادی مصلحت پر ترجیح دی جائے۔
تاریخی و فقہی تناظر اور حج و قربانی کی شرائط
غزہ میں جنگ اور فاقہ کشی کی شدت کو عبداللہ بن مبارکؒ کے مشہور واقعے سے سمجھا جا سکتا ہے، جنہوں نے حج پر جاتے ہوئے ایک انتہائی غریب اور مجبور خاندان کی حالت دیکھ کر حج کے اخراجات انہیں دے دیے اور واپس لوٹ گئے۔
اگرچہ حج اسلام کا رکنِ اعظم ہے جو استطاعت (مالی و جسمانی) اور محفوظ راستے کی شرط کے ساتھ فرض ہوتا ہے، اور قربانی بھی ایک مستقل عبادت (سنتِ مؤکدہ یا واجب) ہے جس کی رقم عام حالات میں صدقہ کرنا جائز نہیں، لیکن سلف صالحین کے عمل سے ثابت ہے کہ نفلی عبادات پر ضرورت مندوں کی مدد مقدم ہے۔ امام احمد بن حنبلؒ کے مطابق: "حج کے اخراجات بھوکے لوگوں پر صدقہ کرنا نفلی حج سے بہتر ہے"۔
جہاں تک فرض حج اور واجب قربانی کا تعلق ہے، روایتی طور پر انہیں چھوڑ کر رقم صدقہ کرنا جائز نہیں؛ تاہم موجودہ شدید بحران میں فقہ الاولویات کا وسیع فہم لچک پیدا کرتا ہے۔ اگر کسی پر حج ابھی فوری فرض نہ ہوا ہو، یا کسی کے پاس صرف اتنی رقم ہو کہ وہ یا تو واجب قربانی کرے یا کسی کی جان بچائے، تو حفظِ نفس کا تقاضا اسے جان بچانے کی طرف راغب کرے گا۔

اسلامی تاریخ میں اجتماعی مصلحت کو انفرادی عبادت پر ترجیح دینے کی واضح مثالیں موجود ہیں:
عام الرمادۃ (قحط کا سال): حضرت عمر فاروقؓ نے قحط کے دوران مسلمانوں کی جانیں بچانے کے لیے حج کا سفر تک مؤخر فرما دیا۔
دفاعی ضروریات: امت کو اجتماعی خطرہ لاحق ہونے پر  جہاد کے لیے حج یا عمرہ کا التوا عمل میں لایا جاتا رہا ہے۔  
:
شریعت کے اصولوں کے مطابق، غزہ میں جاری بحران "حفظِ نفس" کا معاملہ ہونے کی وجہ سے اولین ترجیح کا تقاضا کرتا ہے۔ نفلی حج و قربانی کے مقابلے میں بھوکوں کو کھانا کھلانا اور مظلوم کی مدد کرنا بالاتفاق مقدم ہے۔ فرض و واجب عبادات کے معاملے میں بھی غیر معمولی حالات اور جان بچانے کی ناگزیریت انفرادی فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ لہٰذا امتِ مسلمہ پر لازم ہے کہ وہ غزہ کے مظلوموں کی امداد کو اپنی اولین ترجیح بنائے، جو کہ اس وقت کا سب سے بڑا اخلاقی اور شرعی فریضہ ہے۔


0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home