Tuesday, 30 June 2026

یذید بن معاویہ کو کوئی معمولی نہ سمھجا جائے

 یذید بن معاویہ کو کوئی معمولی نہ سمھجا جائے۔

سیدناسعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا کہ جو شخص اہل مدینہ کیلئےبری سوچ سوچے گا تووہ ایسے گل سڑ کر تباہ ہوجائیگا جس طرح نمک پانی میں گل جاتاہے ۔

حوالہ: بخاری :1870۔فضائل المدینۃ۔ باب حرم المدینۃ، مسلم:1370الحج۔ باب ۔فضل المدینۃ

یہ حدیث اہل مدینہ کے لیے محض بری سوچ رکھنے والے کے انجام سے اگاہ کر رہی ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی بری سوچ کو سر انجام دے دے تو کیا اسے امیر المومنین، رضی اللہ عنہ یا رحمتہ اللہ کہا جا سکتا ہے؟ 

"امیر الفاسقین"، "امیر الظالمین" اور "امیر المزللین" نے کربلا میں اپنی فتح کے بعد حرم نبی مدینہ منورہ پہ چڑھائی کر دی۔ جہاں یذیدی فوج کے کمانڈر مسلم بن عقبہ کو فتح کے بعد تین تک مدینہ کی حرمت کو پامال کرنے کی سرکاری چھوٹ دی گئی جس دوران انصار اور مہاجرین اصحاب نبوی کو بے دریغ قتل کیا ہے۔ خواتین کی عصت کو پامال کیا گیا۔ گھروں کو لوٹ لیا گیا اور کئی مکانات منہدم کر دئیے گئے۔ 

جی وہی مدینہ جس کے بارے میں سیدناابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ: سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ معظمہ کو حرم قرار دیااورمیں مدینہ کو دوپہاڑوں کے درمیان حرم قرار دیتا ہوں اس میں نہ خون بہا یا جائے نہ لڑائی کیلئے اسلحہ اٹھایا جائے اورنہ درخت کاٹا جائے مگر گھاس اورچارہ کاٹنے کی اجازت ہے ۔

جلال الدین سیوطی نے اپنی تاریخ میں نقل کیا کہ یزیدی لشکر نے مسجد نبوی کے تقدس کو پامال کیا مسجد نبوی میں تین روز تک اذان اور نماز روک دی اور مسجد نبوی اور ریاض الجنہ میں گھوڑے باندھے۔ جی یہ وہی بارگاہ ہے جس کے بارے میں اللہ قرآن میں ارشاد فرماتا کہ اپنی آوازوں کو بھی پست رکھو نہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ اس بے ادبی کے باعث تمہارے اعمال غارت ہو جائیں اور تمہیں اس کا شعور تک نہ ہو۔

ہمارے ہاں دفاع صحابہ کے نام پہ چلنے والی ہر تحریک نے یذید کے لیے احترام کا رشتہ برقرار رکھا ہے حالانکہ جتنے صحابہ اکرام کو یذید نے شہید کروایا تھا اتنے صحابہ مکمل دور نبوت کی تمام اسی سے زائد جنگوں میں بھی شہید نہیں ہوئے تھے۔ دفاع صحابہ کی تحریک کو ایک سطر میں یہ بھی ساتھ لکھ دینا چاہیے یہاں اصحاب بنو امیہ مراد ہے۔ 

یہ لشکر یہاں سے فتح یاب ہو کر سرکاری احکامات کے تحت مکہ پہ حملہ کرنے کے لیے بڑھ رہا تھا کہ لشکر کا کمانڈر مسلم بن عقبہ راستے میں ہی مر گیا مورخین کے مطابق اسے پیٹ میں شدید درد کے باعث بخار ہوا اور جسم کمزوری کے باعث جہنم واصل ہو گیا۔ 

اس لشکر کو مدینہ منورہ پہ حملہ کرنے کا حکم دینے والے امیر الظالمین یزید بن معاویہ بھی چند ہفتوں بعد اسی طرح کی بیماری کا شکار ہوا اسے پیٹ میں شدید درد اٹھا اور جہنم واصل ہوا۔ جس وقت یہ مرا اس وقت اس کی افواج خانہ کعبہ پہ منجنیق سے گولہ باری کر رہی تھی جس کے باعث خانہ کعبہ منہدم ہو گیا اور غلاف کعبہ کو آگ لگ گئی۔ حرم مکہ، جسے اللہ تعالیٰ نے امن کی جگہ قرار دیا تھا، وہاں یزید کے لشکر نے شدید بمباری اور تیر اندازی کی، جس سے کئی لوگ حدودِ حرم کے اندر شہید ہوئے۔کیا ہی بری موت کا انتخاب کیا ہے اس بد بخت نے۔ 

کربلا کے معاملے میں یذید کو شک کے فوائد پہنچانے کی کوشش میں ہمیشہ اس کے نمک خوار کوشاں رہے ہیں کہ یہ ابن زیاد کا ذاتی فعل تھا یا یہ اہل کوفہ نے خود قتل کر دیا یا کسی ڈاکو نے انہیں قتل کر دیا یذید نے تو ایسا کیا ہی نہیں۔ لیکن مدینہ کو تاراج کرنے والے اپنا انجام بد جلد ہی پا گئے۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home